Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
69 - 146
مسئلہ ۱۵۱: از بنارس محلہ کچی باغ مرسلہ مولوی خلیل الرحمن ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بوسہ دینا قبر اولیاء کرام اور طواف کرنا گرد قبر کے اور سجدہ کرنا تعظیما از روئے شرع شریف موافق مذہب حنفی جائز ہے یانہیں؟
بینوا بالکتاب وتوجروا یوم الحساب
 (کتاب کے حوالے سے بیان فرماؤ اور روز حساب (روز قیامت) اجرو ثواب پاؤ۔ ت)
الجواب: بلاشبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے۔ اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے۔ اور بوسہ قبر میں علماء کو اختلاف ہے۔ اور احوط منع ہے۔ خصوصا مزارات طیبہ اولیاء کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہویہی ادب ہے پھر تقبیل کیونکر متصور ہے یہ وہ ہے جس کا فتوٰی عوام کودیاجاتاہے۔ اور تحقیق کا مقام دوسرا ہے۔
لکل مقام مقال ولکل مقال رجال ولکل رجال مجال ولکل مجال ماٰل نسأل اﷲ حسن مال وعندہ علم بحقیقۃ کل حال۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہر جگہ کے لئے ایک مناسب گفتگو ہے اور ہر گفتگو کے لائق کچھ خاص مرد ہیں اور ہر مرد کے لئے کچھ کہنے کی گنجائش ہے۔ اور ہر گنجائش کے لئے ایک انجام ہے لہذا ہم اللہ تعالٰی سے اچھا انجام چاہتے ہیں کیونکہ اسی کے پاس ہر حال کا حقیقی علم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۲: از بنارس محلہ پتر کنڈا مرسلہ مولوی محمد عبدالحمید صاحب پانی پتی ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

ہمارے سنی حنفی علماء کثرہم اللہ تعالٰی وابقاہم الی یوم الجزاء (اللہ تعالٰی انھیں زیادہ کرے اور روزقیامت تک انھیں باقی رکھے۔ ت) اس میں کیا فرماتے ہیں کہ زید سے خالد نے سوال کیا کہ کسی مقبول بارگاہ رب العزت جل جلالہ کی قبر شریف کے طواف کوبعض علماء حرام بلکہ شرک کہتے ہیں اور بعض جائز فرماتے ہیں پس ان میں صحیح قول کس کا ہے۔ زید نے جواب دیاکہ اس زمانہ میں جو لوگ اپنے کو حنفی کہتے ہیں ان میں تین فرقے ہیں:
 (۱) اسحاقیہ، شاہ اسحاق کا پیرو۔

(۲) اسمعیلیہ، مولوی اسمعیل دہلوی کا متبع۔

(۳) سنی حنفی، حضرت مولانا فضل رسول بدایونی علیہ الرحمۃ اور حضر ت مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی دام ظلہ کا مطیع۔
پس (۱) اور (۲) کے نزدیک بالاتفاق غیر کعبہ شریف کا طواف مثل سجدہ تحیہ کے ہے لیکن اس کے حکم میں دونوں میں اختلاف ہے پہلے فرقہ کے نزدیک حرام ہے۔ اور دوسرے کے نزدیک شرک چنانچہ مائۃ مسائل اور مسائل اربعین اور تقویۃ الایمان دیکھنے والے پر یہ بات ظاہر ہے۔ حالانکہ بغیر دلیل قطعی کے یہ حرام اور شرک کہنا خود انھیں کے گھرمیں آگ لگانا ہے کہ ان کے بزرگوار شاہ ولی اللہ کو مرتکب حرام اور مشرک بنانا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب انتباہ میں اس کے کرنے کاحکم کیا اور (۳) فرقے اعنی سنی حنفی کے نزدیک مطلقا مثل  تعریف اعنی نقل وقوف عرفات کے ہے۔ چنانچہ محقق بدایونی حضرت مولانا فضل رسول صاحب
تغمدہ اللہ تعالٰی بغفرانہ واسکنہ بحبوحۃ جنانہ
 ( اللہ تعالی انھیں اپنی بخشش سے ڈھانپ دے اور وسط جنت میں انھیں بسائے۔ ت) 

بوارق محمدیہ میں فرماتے ہیں:
وحق آنست کہ طواف درحکم سجدہ تحیۃ نیست مثل تعریف است متقارب بتقبیل ۱؎ اھ بلفظ الشریف۔
حق یہ ہے کہ طواف سجدہ تعظیمی کے حکم میں نہیں بلکہ ) وہ تعریف (ف) کی طرح (مانند) بوسہ دینے کے قریب ہے یعنی اس کا حکم ا س کے قریب ہے شریف الفاظ مکمل ہوگئے۔ (ت)
 (۱؎ البوارق المحمدیہ      باب اول در عقائد نجدیہ     مطبع سویل ملیٹری اپرفنج     ص۴۶)
ف: ذوالحجہ کی ۹ تاریخ کو اہل عرفات کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے اجتماعی صورت میں کسی جگہ کھڑا ہونے کوائمہ فقہ ''تعریف'' کانام دیتے ہیں۔ مترجم،
اور تعریف کے باب میں علامہ حلبی نے تو شرح منیہ میں مطلقا
لیس بشیئ مندوب ولا مکروہ ۲؎
اس میں کوئی کام مستحب اور مکروہ نہیں۔ ت) فرماکر آخر بحث میں عطا خراسانی علیہ الرحمۃ کا قول۔
ان استطعت ان تخلو بنفسک عشیۃ عرفۃ فافعل ۳؎۔
اگر تو یوم عرفہ پچھلے پہر اپنے آپ کو خلوت گزیں بناسکتا ہے تو بنا ڈال۔ (ت)
دال برندب نقل کرکےاسی کو معتمد بتایا۔ چنانچہ فرمایا:
وہذا ھو المعتمد واﷲ تعالٰی سبحنہ اعلم۔ ۴؎
اوریہی قابل اعتما دہے۔ اور اللہ پاک اور  برتر سب سے اچھا جانتاہے ۔ (ت)
 (۲؎ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی     فروع خروج الی المصلی    سہیلی اکیڈمی لاہور    ص۵۷۳)

 (۳؎،۴؂ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی     فروع خروج الی المصلی    سہیلی اکیڈمی لاہور    ص۵۷۴)
لیکن قول باقلانی علیہ الرحمۃ :
لواجتمعوا لشرف ذٰلک الیوم لسماع الوعظ بلا وقوف وکشف راس جاز بلاکراہۃ اتفاقا ۱؎۔
اگر لوگ اس دن (یعنی روز عرفہ (۹ ذوالحجہ) اس کی شرافت وبزرگی اور وعظ ونصیحت سننے کےلئے کسی جگہ جمع ہوجائیں بشرطیکہ وقوف عرفات کی نیت اور سرننگانہ ہو بالاتفاق بغیر کراہت جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الصلوٰۃ     باب العیدین         مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۱۶)
سے جس کا حاصل علامہ شامی نے:
ان المکروہ ھوالخروج مع الوقوف و کشف الراس بلا سبب موجب کاستسقاء امامجردا لاجتماع فیہ علی طاعۃ بدون ذٰلک فلایکرہ ۲؎۔
مکروہ یہ ہے کہ وقوف اہل عرفات کے ساتھ تشبہ اور بغیر کسی وجہ سرننگا کرکے نکلے جیسے استسقاء یعنی بارش کی دعا مانگتے وقت سر برہنہ ہوتے ہیں۔ یا کچھ نہ ہو بلکہ صرف طاعت وفرمانبرداری کے لئے اجتماع ہو تو مکروہ نہیں۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   کتا ب الصلوٰۃ     باب العیدین          داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۵۶۲)
فرمایا، معلوم ہوتاہے کہ تعریف کی دو صورتیں ہیں:

(۱) وہ جو کہ اہل عرفہ کی نیت اور صورت اعنی اور کشف رؤس کے ساتھ ہو۔

(۲) وہ جو کہ ایسی نہ ہو بلکہ کسی اورہی غرض مثل اس روز کے شرف اور وعظ کے سماع کے لئے اور بغیروقوف اور کشف رؤس کے ہو۔

اور پہلی بقول صحیح مکروہ تحریمی اور دوسری بالاتفاق بلا کراہت جائز۔ پس طواف کی بھی دو صورتیں ہوں گی۔

(۱) وہ جو کہ طائفین بیت اللہ عزوجل کی نیت اور صورت کے ساتھ ہو۔
 (۲) وہ جو کہ ایسی نہ ہو بلکہ اور صورت اور کسی اور ہی غرض مثلا محض افاضہ کے لئے جیسے علی مافی صحیح البخاری حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خرما کے ڈھیر کا طواف فرمایا ۳؎ یا محض استفاضہ کے لئے جیسے کسی ولی کے مزار شریف کا طواف یا محض کسی اور ایسی ہی غرض سے ہو جیسے
علی مافی الشفاء للقاضی عیاض علیہ الرحمہ
کا حلاق کے سرمبارک کو حلق کرنے کے وقت کسی موئے مبارک کے زمین پر گرنے نہ دینے کی غرض سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا طواف کرنا ۴؎۔
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب المغازی باب قولہ تعالٰی اذھمت طائفتان منکم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/ ۵۸۰)

(۴؎ الشفاء بتعریف حقو ق المصطفٰی  فصل عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ    ۲ /۳۳)
اوریہ ظاہر ہے  کہ بعض اعمال کی صورت ایک ہوتی ہے لیکن نیت کے اختلاف سے حکم مختلف ہوجاتا ہے جیسے سجدہ تحیت اور سجدہ عبادت کہ صورت دونوں کی ایک ہے مگر حکم مختلف کہ پہلا حرام موجب فسق اور دوسرا شرک پس پہلی صورت تو ہم سنی حنفیوں کے نزدیک بھی بالاتفاق ناجائز ہے۔ اور صاحب بحر اورنہر وغیرہما کا عدم جواز کا قول اسی صورت پر محمول ہے اور دوسری صورت میں اختلاف ہے بعض غیر حسن فرماتے ہیں اوربعضے مستحسن کہتے ہیں۔
Flag Counter