مسئلہ ۱۴۴: مرسلہ محمد صدیق بیگ صاحب مراد آباد ازبریلی
کافر کو سلام کرنا چاہئے یانہیں؟
الجواب:حرام ہے۔
واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب واﷲ یرجع الیہ ماٰب
(اور اللہ تعالٰی ٹھیک بات کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اور اللہ تعالٰی ہی ہر چیز کا مرجع اور ٹھکانا ہے۔ ت)
مسئلہ ۱۴۵: ازنجیب آباد ضلع بجنور مسئولہ جناب احمد حسین صاحب ۷ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
سلام کے متعلق جملہ مسائل کیا ہیں؟
الجواب: سلام کے متعلق بہت مسائل ہیں جو خاص بات دریافت کرنی ہو کیجئے ۔ غالبا آپ کی مراد یہ ہوگی کہ کس کس کو سلام کرنا منع ہے۔ ہاں بدمذہب کو سلام کرنا حرام ہے۔ فاسق کو سلام کرنا ناجائزہے۔ جو برہنہ ہو یا استنجا کررہا ہو اسے سلام نہ کرے۔ جو کھانا کھار ہا ہو اسے سلام نہ کرے۔ جو اذان یا تلاوت یا کسی ذکر میں مشغول ہو اسے سلام نہ کرے۔ کافریا مبتدع یا فاسق کو سلام کرنے کی صحیح ضرورت پیش آئے تولفظ سلام نہ کہے بلکہ ہاتھ اٹھانے یا کوئی لفظ کہ نہ سلام ہو نہ تعظیم کہنے پر قناعت کرے یا مجبور ہو تو آداب کہے یعنی آمیرے پاؤں داب، یاآداب شریعت کہ تو نے اپنے فسق سے ترک کردئے ہیں۔ بجالا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۶: از گورکھپور کااحاطہ مسئولہ حافظ رسول بخش صاحب ۲۱ محرام الحرام ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص طالب یا مرید یا عام مسلمان فرط ارادت وجوش محبت سے بنابر حصول برکت تعظیما تکریما کسی بزرگ عالم یا صوفی کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دے آنکھوں سے لگائے تو آیا یہ جائز ہے یاناجائز؟ سلف سے یہ طریقہ جاری وساری رہا اور محمود سمجھا گیا ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :اولیاء وعلماء ومعظمان دین کے ہاتھ پاؤں چومنا مستحب ہے بلکہ مسنون ہے۔ صحابہ کرام بلکہ خود زمانہ رسالت سے رائج ہیں جس پر بکثرت حدیثیں ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷ و ۱۴۸: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱) قرآن شریف پڑھنے کے وقت سلام کرنا یا لینا کیسا ہے؟
(۲) کن شخصوں کی تعظیم کے لئے تلاوت قرآن مجید کی موقوف کرسکتاہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)قرآن شریف پڑھنے والے پر سلام کرنا ناجا ئز ہے اور اسے اختیار ہے کہ جواب نہ دے، اور قرآن پڑھنے والے کو دوسرے پر سلام کرنے کی اجازت ہے جبکہ وہ معظیم دینی ہو یا اسے سلام نہ کرنے میں، اندیشہ مضرت ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) قرآن شریف پڑھنے میں کسی کی تعظیم کوقیام جائز نہیں مگر باپ یا علم دین کا استاذ یا پیر ومرشد یا عالم دین یا بادشاہ اسلام یا بمجبوری اس کے لئے کہ اگر قیام نہ کرے تو اس سے ضرر پہنچنے کا ظن غالب ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹: مسئولہ محمود حسن صاحب از بمبئی پوسٹ بائی کھلا ۲۰ صفر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے اندر نماز سے تمام فارغ ہونے کے بعد مصافحہ کے سوا پاؤں پڑنا جائز ہے یانہیں؟ بحوالہ کتب معتبرہ والہ مع ثبت دو تین علماء ومہر رقم فرمائیں۔ بینوا توجروا ۔
الجواب : پاؤں پڑنا بایں معنی کہ پاؤں پر سر رکھنا ممنوع ہے۔ اور پاؤں کو بوسہ دینا اگر کسی معظم دینی کی تعظیم دینے کے لئے ہو تو جائز بلکہ سنت ہے احادیث کثیرہ اس پر ناطق ہیں ۔
کمابیناھا فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے ان سب مسائل کو اپنے فتاوٰی میں بیان فرمایا ہے۔ ت) اور اگر کسی مالدار کی دنیوی تعظیم کے لئے ہو تو مطلقا ناجائز ہے۔
فتاوٰی ملتقط، فتاوٰی عالمگیری، درمختار اوران کے علاوہ باقی کتب فقہ میں بھی ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی تواضع کرنا حرام۔ (ت)
(۱؎فتاوی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۶۸)
مگر جبکہ صحیح مجبوری شرعی ہو کہ اس کے ترک میں ضرر پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہو تو اپنے بچاؤ کےلئے اجازت ہوگی
فان الضرورات تبیح المحظورات
(انسانی ضرورتیں ممنوع کاموں کو مباح کردیتی ہیں۔ ت) مگر قلب میں اس کی کراہت رکھنا لازم ہے
فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف لایمان
(اگر کسی گناہ کے کام کو ہاتھ سے نہ روک سکے تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰: مسئولہ افتخار الزاہدین صاحب از بمبئی عقب مارکیٹ پولیس کمشنر صاحب آفس ۱۱ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے متین اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو جوکہ آپس میں عزیز داری رکھتے ہیں اتفاقا زید ایک راستہ عمرو دوسرے راستہ سے جارہے تھے ایک جا پر دونوں صاحبوں کی ملاقات ہوگئی زید نے بدیدن عمرو فورا السلام علیکم کہا بجواب اس کے کہ عمرو وعلیکم السلام کہے جواب دیا کہ تم بہت جھونٹے آدمی ہو تمھارا سلام لینا درست نہیں جواب سلام علیکم نہیں دیا یعنی وعلیکم السلام نہیں کہا، کیا عمرو اللہ پاک اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم برحق کے نزدیک گنہگار ہوا یا نہیں؟ اگر ہوا تو کیا صدقہ یا کیا معذرت خدا اور رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے چاہئے کہ اس کا دفعیہ ہوجائے؟ بینوا توجروا۔
الجواب : زید اگر شرعا ان الفاظ اور اس طریقہ عمل کا مستحق نہ تھا، جو عمرو نے کہے اور برتا تو عمرو ضرور گنہگار اور حق اللہ و حق العبد دونوں میں گرفتار ہوا، حق اللہ تو یہ کہ اس کے حکم کا خلاف کیا، اس کا ارشاد ہے:
اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اوردوھا ۲؎۔
(لوگو!) جب تمھیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر جواب دیا کرو یا وہی الفاظ لوٹادیا کرو۔ (ت)
(۲؎ا لقرآن الکریم ۴/ ۸۶)
اور دوسرا اس سے اشد، حق اللہ تعالٰی یہ کہ شریعت مطہرہ پر افتراء کیا کہ تیرا سلام دینا درست نہیں او ر حق العبد یہ کہ بلاوجہ شرعی زید نے مسلم کو ایذا دی، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی۱؎ فی الکبیر عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جس نے بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (اس کو طبرانی نے کبیر میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ ت)
اس پر فرض ہے کہ اپنی ان حرکات شنیعہ سے رب العزۃ کے حضور توبہ کرے اور زید سے اپنے قصور کی معافی چاہے۔ اور اگر واقع میں زید اس کا مستحق تھا مثلا وہابی یا رافضی یا غیر مقلد یا قادیانی یا نیچری یا چکڑالوی تو عمرو پر کچھ الزام نہیں اس نے بہت اچھا کیااور ایسا ہی چاہئے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں کسی نے ایک شخص کاسلام پہنچایا فرمایا:
لاتقرأہ منی السلام فانی سمعت انہ احدث ۲؎۔
اسے میرا سلام نہ کہنا کہ میں نے سنا ہے اس نے بدمذہبی نکالی ہے۔ (ت)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب القدر باب ماجاء فی الرضاء بالقضاء امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۸)
جب ایک بدعتی کا یہ حکم ہے کہ تو پھر کافروں کا کیا حکم ہوگا ان فاجروں بدکاروں کی طرح کہ اللہ تعالٰی جلدی انھیں آگ میں پہنچائے۔ اللہ تعالٰی سب سے بڑا زیادہ غالب اور بہت بڑے بخشنے والے کی پناہ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)