علامہ سندھی تلمیذ امام ابن الہمام نے لباب المناسک میں فرمایا :
اذا وقع بصرہ علی طیبۃ المطیبۃ واشجارھا العطرۃ دعا بخیرالدارین وصلی وسلم علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والاحسن ان ینزل عن راحلتہ بقربھا، ویمشی باکیا حافیا ان اطاق تواضعا ﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکلما کان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا بل لو مشی ھناک علی احداقہ و بذل المجھود من تذللہ وتواضعہ کان بعض الواجب بل لم یف بمعشار عشرہ ۲؎۔ اللھم صلی وسلم وبارک علیہ وعلی الہ وصحبہ کما ینبغی لاداء حقہ العظیم اٰمین۔
یعنی جب مدینہ طیبہ او اس کے مہکتے ہوئے درختوں پر نظر پڑے دونوں جہان کی بھلائی مانگے، اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے صلٰوۃ سلام عرض کرے اور بہتر یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے قریب سواری سے اترے اور ہوسکے تو روتا ہوبرہنہ پاچلے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے واسطے تواضع کے لئے اور جو کچھ ادب و تعظیم میں زیادہ دخل رکھے خوب ہے بلکہ وہاں آنکھوں کے بل چلے اور تذلل وفروتنی میں پوری کوشش خرچ کردے تو واجب کا ایک حصہ ہو بلکہ سوواں بھی ادا نہ ہو۔ یا اللہ! صلوٰۃ وسلام اور برکت ہوآپ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کی آل واصحاب پر کما حقہ۔ آمین۔
(۲؎ لباب المناسک مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین فصل ولو توجہ الی الزیارۃ دارالکتاب بیروت ص۳۶۔ ۳۳۵)
امام احمد قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری مواہب شریف میں امام حافظ الحدیث فقیہ علامہ ابوعبداللہ محمد بن رشید سے نقل فرماتے ہیں : سفر مدینہ طیبہ میں میرے رفیق ابوعبداللہ وزیر ابن القاسم بن الحکم ساتھ تھے ان کی آنکھیں دکھتی تھیں جب میقات مدینہ طیبہ پرآئے ہم سواریوں سے اتر لئے، پیادہ چلتے ہیں انھیں آثار شفا نظر آئے، فورا حسب حال ارشاد کیا: ؎
وبالتراب منہا اذا کحلنا جفوننا شفینا فلا بأ سا نخاف ولا کربا
نسح سجال الدمع فی عرصاتہ ونلثم من حب لواطئہ الترابا ۱
جب اس کی خاک کا ہم نے سر مہ لگایا شفاء پائی تو اب کسی شدت وتکلیف کا اندیشہ نہیں ہم آنسوؤں کے ڈول اس کے میدانوں میں بہاتے ہیں اور اس زمین پر چلنے والے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت میں خاک کو چومتے ہیں۔
پھر خود اپنے حال میں فرماتے ہیں جب ہم مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے اور سب اہل قافلہ پیادہ ہوئے میں نے کہا: ؎
اتیتک زائرا ووددت انی جعلت سواد عینی امتطیہ
ومالی لا اسیر علی المآتی الی قبر رسول اﷲ فیہ ۲؎
میں زیارت کے لئے حضور میں حاضر ہوا اور تمنا تھی کہ اپنے آنکھ کی پتلی پر اس راہ میں چلوں اور کیوں نہ چلوں آنکھوں کے بل اس مزار پاک کی طرف جس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جلوہ فرمائیں۔
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد: ؎
فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت فامدد یدیک لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۱؎۔
یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کربھیجتے ،جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
''میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی، اور اب باری بدن کی ہے۔ کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب ا س بسے ہرا پائیں۔ کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو۔
(۱؎ نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۴۲)
علامہ احمد بن مقری فتح المتعال میں فرماتے ہیں جب امام اجل علامہ تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی سبکی ملک شام میں بعد وفات امام اجل ابو زکریا مدرسہ جلیلہ اشرفیہ میں دارالحدیث کےدرس دینے پر مقرر ہوئے فرمایا:
وفی دارالحدیث لطیف معنی الی بسط لھا اصبو واٰوی
لعلی ان امس بحر وجھی مکانا مسہ قدم النواوی ۲؎
''دارالحدیث میں ایک معنی لطیف ہے میں اس کے بستروں کی طرف میل کرتااور قرار پکڑتاہوں شاید میرا چہرا لگ جائے اس جگہ پر جہاں امام نوری کے قدم چھوگئے ہوں۔
(۲؎ فتح المتعال)
خلاصہ امر یہ قرار پایا کہ اگر آستانہ بلند ہو کہ بے جھکے بوسہ دے سکے تو بلا شبہ اجازت ہے۔ اور اگر پست خصوصا زمین دوز ہو تو اگر ولی زندہ یا مزار سامنے ہے اس کے مجرے کی نیت سے جھک کر بوسہ دیا تو ناجائز ہے۔ اور اگر محض بنظر تبرک وحب اپنے ہی نفس انحنا سے تعظیم مقصود نہ ہو تو کچھ حرج نہیں،
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق
(یوں تحقیق چاہئے اللہ تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے۔ ت) پھر بھی عالم متقدا اور اسی طرح پیر اور اس شخص کو جس کے کچھ اتباع ہوں کہ اس کے افعال کا اتباع کریں اسے مناسب ہے کہ اپنے عوام متبعین کے سامنے نہ کرے مبادا وہ فرق نیت پر آگاہ نہ ہوں اور اس کے فعل کو سند جان کر بے محل بجالائیں، ایسی حالت میں صرف اس قدر کافی ہے کہ آستانہ کو ہاتھ لگا کر اپنی آنکھوں اور منہ پھیرلے جس طرح عبداللہ بن عمر غیرہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم منبر انور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھے،
شفاء شریف میں ہے :
روی ابن عمرو اضعایدہ علی مقعبد النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم المنبر ثم وضعھا علی وجہ، وعن ابن قسیط والعتبی کان اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا خلا المسجد حسوا امّانۃ المنبر التی تلی القبر بمیامنھم ثم استقبلوا القبلۃ یدعون ۱؎۔
مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما منبر پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیھٹنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھتے پھر اپنے چہرے پر ہاتھ کو رکھتے۔ ابن قسیط او رعتبی سے مروی ہے۔ کہ صحابہ کرام جب مسجد نبوی میں داخل ہوتے تو قبر انور کے کناروں کو اپنے دائیں ہاتھ سے مس کرتے اور پھر قبلہ رو ہوکر دعا کرتے۔ (ت)
(۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فی حکم زیارۃ قبرہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۲/ ۷۰)
یہ دونوں حدیثیں امام ابن سعد نے کاب الطبقات میں روایت کیں
کما فی مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء
(جیسا کہ مناہل الصفا فی احادیث الشفا میں ہے۔ ت)
علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
وھذا یدل علی جوز التبرک بالانبیاء والصالھین واٰثارھم ومایتعلق بھم مالم یؤد الی فتنۃ اوفساد عقیدۃ و علی ھذا یحمل ماروی عن ابن عمر (عہ) رضی اﷲ تعالٰی عنہ من انہ قطع الشجرۃ التی واقعت تحتھا البیعۃ لئلا یفتتن بھا الناس لقرب عھدھم بالجاھلیۃ فلامنافاۃ بینھما ولاعبرۃ بمن انکر مثلہ من جھلۃ عصر نا وفی معناہ انشدوا ؎
امر علی الدیار لیلٰی اقبل ذاالجدار وذاالجدارا
وصاحب الدیار شغفن قلبی ولکن حب من سکن الدیارا ۱؎
واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ واقعہ اس بات پر دال ہے کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام اور صلحاء اور ان کے آثار اور متعلقات سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے جبکہ فتنہ اور عقیدے کے فسا د کا احتمال نہ ہو اسی معنی پر محمول ہے جو عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے بیعت رضوان والے درخت کو کاٹ دیا تاکہ نومسلم لوگ اس درخت کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں تو تبرک کے جواز اور درخت کٹوانے میں منافات نہیں ہے اور ہمارے زمانے کے جاہلوں کا جو ایسے امور کا انکار کرتے ہیں کوئی اعتبار نہیں اہل محبت آثار کے متعلق شعر کہتے ہیں:
میں خاص دیار پر جو لیلٰی کا دیا رہے گزرتاہوں، میں اس کی دیوار اور اس دیوار کو بوسہ دیتاہوں، دیار والے میرے دل میں گھر کر چکے ہیں لیکن دیار میں رہنے والوں سے محبت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: کما ھو فی نسختی النسیم وصوابہ عن عمر ۱۲ منہ
(۱؎ نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۳۴)
رسالہ
""ابرالمقال فی استحسان قبلۃ الاجلال ""
ختم شد