Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
66 - 146
منسک متوسط میں ہے :
ثم یأتی الملتزم ویأتی الباب ویقبل العقبۃ ویدعو  ود خل البیت ۱؎ الخ۔
طواف کرنیوالا ملتزم پر آئے اور دروازے پر آکر چوکھٹ کو بوسہ دے اور دعا کرکے اندر داخل ہو الخ (ت)
 (۱؎ المنسک المتوسط مع ارشاد الساری     فصل فی صفۃ طواف الوداع         دارالکتب العربی بیروت    ص۱۷۰)
مسلک متقسط میں ہے :
ان یدخل المسجد من باب السلام حافیا وزاد فی کنز العباد ویقبل عتبتہ ۲؎ (ملخصا)
مسجد حرام میں باب السلام سے ننگے پاؤں داخل ہو، کنز العباد میں یہ لفظ زائد ہے اور بوسہ دے چوکھٹ کو، ملخصا (ت)
(۲؎ المسلک المتقسط     فصل یستحب ان یدخل المسجد من باب السلام الخ   دارالکتب العربی بیروت  ص۷۸)
اور شک نہیں کہ آستانہ بوسی عرفا انحائے تعظیم سے ہے اور شرعا اس سے منع ثابت نہیں تو حکم جوا زچاہئے،
اقول وباﷲ التوفیق
 (میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) مگریہاں ایک دقیقہ انیقہ اور ہے جس پر اطلاع نہیں ہوتی مگر بتوفیق حضرت عزت عزجلالہ شرع مطہرہ کا قاعدہ عظیمہ وجلیلہ معروفہ ومشہورہ ہے کہ
"الامور بمقاصد ھا"
 (امور میں مقاصد کا اعتبار ہے۔ ت)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما الاعمال بالنیات وانکا لکل امری مانوی ۳؎۔
اعمال نیات کے ساتھ ہیں اور ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے۔ (ت)
 (۳؎ صحیح البخاری   کتاب الایمان باب ماجاء ان الاعمال بالنیۃ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۳)
انحنا یعنی جھکنے او رپیٹھ دوہری کرنے سے کسی کی تعظیم شرعا مکروہ ہے اور جب بقدر رکوع یا اس سے زائد ہو تو کراہت سخت واشد ہے۔
حدیث میں ہے :
قال رجل یارسول اﷲ الرجل منا یلقی اخاہ اوصدیقہ اینحنی لہ قال لا الحدیث، رواہ الترمذی ۴؎ وابن ماجۃ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ایک صحابی نے عرض کی یا رسول اﷲ! ہم اپنے کسی بھائی یا دوست کو ملتے ہیں تو کیا ملاقات میں اس کے لئے جھکا جائے تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ الحدیث، اس کو ترمذی نے اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۴؎ جامع الترمذی     ابواب الادب باب ماجاء علی الجالس فی الطریق     امین کمپنی دہلی        ۲/ ۹۷)
عالمگیری میں ہے :
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس کذا فی جواھر الاخلاطی، ویکرہ الانحناء عندالتحیۃ وبہ وردالنھی کذا فی التمرتاشی، تجوز الخدمۃ لغیرہ اﷲ تعالٰی بالقیام واخذ الیدین والانحناء و لایجوز السجود الا ﷲ تعالٰی کذا فی الغرائب ۱؎ انتہٰی قلت وکان محمل ھذا علی ما اذا لم یبلغ الرکوع فیکرہ تنزیھا وھو یجامع الجواز کما نصوا علیہ واﷲ تعالٰی اعلم۔
سلطان وغیرہ کے لئے جھکنا مکروہ ہے کیونکہ یہ عمل مجوس کے فعل کے مشابہ ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے۔ اور سلام کے وقت جھکنا مکروہ ہے اس پر نہی وار دہے۔ جیسا کہ تمرتاشی میں ہے۔ غیر اللہ کی تعظیم کے لئے قیام، مصافحہ، اور جھکنا جائز ہے ہاں سجدہ سوائے اللہ تعالٰی کے کسی کےلئے جائز نہیں ہے۔ یوں غرائب میں ہے  اھ میں کہتاہوں اس قیام کا محمل وہ قیام ہے جو رکوع کی حدتک نہ ہو کیونکہ یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ یہ کراہت جواز کوجامع ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پر نص فرمائی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ     الباب الثامن والعشرون     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۶۹)
مگر محل ممانعت یہی ہےکہ نفس انحاء ہے مقصود اصل غرض تعظیم ہو۔
کما ھو مفاد قولہ اینحنی لہ، وفحوی قولھم عندا لتحیۃ، ویعطیہ الحصر فی قولھم بہ وردالنھی۔
جیسا کہ سائل کے قول ''کیا اس کے لئے جھکے'' اور فقہاء کے قول ''عندالتحیۃ''سے مفاد اور ان کے قول ''بہ وردالنھی'' نے اس کا حصر دیا ہے۔ (ت)
اور اگر مقصود کوئی اور فعل ہے اور انحناء خود مقصود نہیں بلکہ اس فعل کا محض وسیلہ وذریعہ ہے تو ہر گز ممانعت نہیں
وھو اظھر من ان یظھر
 ( یہ ظاہر سے اظھر ہے۔ ت) عالم دین یا سلطان عادل کی خدمت کے لئے اس کا گھوڑا باندھنا یا کھول کر حاضر لانا یا بچھونا کرنا، یا وضو کرانا، پاؤں دھلانا یا اس کا جوتا اٹھانا یا مجلس سے اٹھتے وقت اس کی جوتیاں سیدھی کرنا،یہ سب افعال تعظیم وتکریم ہی ہیں اور ان کے لئے جھکنا ضرور مگر انحناء زنہار ممنوع نہیں کہ مقصود ان افعال سے تعظیم ہے نہ جھکنے سے، یہاں تک کہ اگر بے جھکے یہ افعال ممکن ہو جھکنا نہ ہوگا۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بستر مبارک بچھانا، وضو کرانا، حضور جب مجلس میں تشریف رکھیں نعلین اقدس اٹھاکر اپنے پاس رکھنا جب تشریف لے چلے حاضر لاکر سامنے رکھنا، یہ دونوں جہان کی عزتیں مبارک، معزز خدمتیں بارگاہ رسالت ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سپرد تھی، بخاری شریف میں حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
اولیس عندکم ابن ام عبد صاحب النعلین والوسادۃ والمطھرۃ ۱؎۔
کیا تمھارے ہاں نعلین اور بستر، طہارت والے ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) موجود نہیں۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب المناقب     مناقب عمار وحذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہما     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۵۲۹)
مرقاۃ میں ہے :
قال القاضی یرید بہ انہ کان یخدم الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویلازمہ فی الحالات کلھا فیصاحبہ فی المجالس ویأخذ نعلہ ویضعھا اذا جلس وحین نھض ویکون معہ فی الخلوات فیسوی مضجعہ ویضع وسادتہ اذا ارادان ینام ویھی لہ طہورہ ویحمل معہ المطھرۃ اذا قام الی الوضوع ۲؎۔ اھ
قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا : مراد یہ ہےکہ حضرت عبداللہ ابن مسعود حضور کی خدمت میں تمام وقت حاضر رہتے تو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مجلسوں میں ساتھ رہ کر آپ کے نعل مبارک اٹھاتے اور رکھتے جب تشریف فرما ہوتے اور مجلس سے اٹھتے اور تخلیہ میں آپ کے ساتھ رہتے آپ کے بستر مبارک کو درست بچھاتے اور تکیہ رکھتے جب آپ نے آرام فرمانا ہوتا اور طہارت کا انتظام کرتے اور آپ کے ہمراہ لوٹا لے جاتے جب آپ قضائے حاجت کے لئے باہر تشریف لے جاتے (ت)
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح     کتاب المناقب   باب جامع المناقب  الفصل الاول   تحت حدیث   ۶۲۰۰  مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱۰/ ۵۷۰)
اور سب سے اظہر وازہر وہ حدیثیں ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کا حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قدم مبارک چومنا وارد فقیر نے یہ حدیثیں اپنے فتاوٰی میں جمع کردی ہیں، از انجملہ حدیث وفد عبدالقیس کہ امام بخاری نے ادب مفرد اور ابوداؤد نے سنن میں حضرت زارع بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
فجعلنا نتبادر فنقبل ید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورجلہ ۳؎۔
ہم ایک دوسرے سے بڑھ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے (ت)
 (۳؎ سنن ابی داؤد     کتاب الادب باب قبلۃ الرجل     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۵۳)

(الادب المفرد    باب تقبیل الرجل     مطبع اثریہ سانگلہ ہل    ص۳۵۳)
ظاہر ہے کہ پاؤں چومنے کے لئے تو زمین تک جھکنا ہوگا مگر سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جائز رکھا کہ مقصود بوسہ قدم سے تعظیم ہے نہ کہ نفس انحناء، یہی سر نفیس ہے کہ علماء کرام نے تحیت ومجرا کےلئے زمین بوسی کو حرام بتایا کہ اس میں جھکنے ہی سے تعظیم کی جاتی ہے یہاں تک کہ زمین کو منہ لگادیا۔
عالمگیریہ میں ہے :
من سجد للسطان علی وجہ التحیۃ او قبل الارض بین یدیہ لایکفر ولکن یاثم لارتکابہ الکبیرۃ وھوالمختار کذا فی جواہر الاخلاطی وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضی، اثم کذا فی التاتارخانیہ،وتقبیل الارض بین یدی العلماء والزھاد فعل الجھال والفاعل والراضی اٰثمان کذا فی الغرائب ۱؎ انتہی باختصار،
جس نے سلطان کی سلامی کے لئے سجدہ کیا یا زمین کو بسہ دیا کافر نہ ہوگا، لیکن کبیرہ گناہ کے ارتکاب کی بناء پر گنہگار ضرور ہوگا پس یہی مختار ہےجیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے۔ اور جامع صغیر میں ہے عظیم (سلطان) کے سامنے زمین کو بوسہ دینا حرام ہے۔ جبکہ یہ کام کرنے ولا او ر اس پر خوش ہونے والا گنہگار ہوگا، یوں تاتارخانیہ میں ہے  اور علماء اور زاہد لوگوں کے سامنے زمین کو بوسہ دینا جہالت ہے۔ ایسا کرنے والے اور اس پر خوش ہونے والے سب گنہگار ہوں گے جیسا کہ غرائب میں ہے انتہی باختصار (ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ     الباب الثامن  والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور   ۵/ ۶۹۔ ۳۶۸)
اور علماء کبار بے تکیرہ وانکار زمین مدینہ طیبہ کو بوسہ دینے اور اس کی خاک پرمنہ اور رخسار ملنے کی قسمیں کھاتے ہیں اور ممکن ہو تو وہاں آنکھوں اور سر سے چلنے کی تمنائیں فرماتے ہیں اور اسی کو واجب بلکہ پوردے واجب سے بھی کم بتاتے ہیں کہ یہاں تعظیم بالانحناء مقصود نہیں بلکہ براہ محبت بطور تبرک اس زمین پاک کو بوسہ دینا اس کی خاک سے چہرہ نورانی کرنا بن پڑے تو پاؤں رکھنے سے اس عظمت والے مقام کو بچانا،
اما م اجل قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں :
وجدیرلمواطن اشتملت تربتھا علی جسد الشریف ومواقف سید المرسلین و متبوأ خاتم النبیین واول ارض مس جلد المصطفٰی ترابھا ان تعظم عرصاتھا وتتنسم نفحاتھا وتتقبل ربوعھا و جدارتھا ؎

 وعلیّ عھد ان ملات محاجری

من تلکم الجدرات والعرصات

لاعفرن مصون شیبی بینھما

 من کثرۃ التقبیل والرشفات ۱؎

اھ مختصرا۔
یعنی لائق ہے ان موضع کو جن کی زمین جسم پاک سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر مشتمل ہے۔ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قیام گاہیں خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جائے قرار اور پہلی وہ زمین جس کی مٹی نے جسم پاک مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مس کیا گیا کہ اس کے میدانوں کی تعظیم کی جائے اور  اس کی مہکتی ہوئی خوشبوئیں سونگھی  جائیں اور منزلیں اور دیواریں چومی جائیں۔ اور مجھ پر عہد ہے کہ اپنی آنکھوں کے گوشے ان دیواروں اور میدانوں سے بھروں گا، خدا کی قسم میں اپنی سفید داڑھی کہ گرد وغبار سے بچائی جاتی ہے ان میدانوں میں کثرت بوسہ بازی سے ضرور خاک الودہ کروں گا اھ مختصرا۔
 (۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی     فصل ومن اعظامۃ واکباررہ الخ     عبدالتواب اکیڈمی ملتان    ۲/ ۴۶۔ ۴۵)
Flag Counter