Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
65 - 146
ایں بیبا کان زبان بتکفیر مسلماناں کشادن وبکمترین چیزے حکم شرک و کفر سردادن ست وھم لؤلون عنہ یوم الجزاء وعلیہم لخروج عن عہدتہ فی دارالقضاء حذر باید کہ خصلت شنیعہ وشنعت قطعیہ ایں مبتدعان بخود سرایت نکند وباللہ العصمۃ ارے اگر بظواہر احادیث صحیحہ مثل باء بھا بعدھما وحار علیہ وکفر بتکفیرہ ۱؎ ، کہ زا عاظم ائمہ محدثین مثل امام مالک و احمد وبخاری  ومسلم وابوداؤد وترمذی وابن حبان درصحاح ومسانید وسنن وخود شان از حضرات عبداللہ بن عمرو وابوھریرہ وابوذر وابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہم روایت نمودند نظر کردہ آید خاصہ کہ ایں جہولان رابزعم خودشان ہم بعمل بر ظواہر احادیث جمعہ ونام ست یابفتوائے امام فقیہ ابوبکر اعمش وسائر ائمہ بلخ وبسیاری از ائمہ بخارا کہ مکفر مسلم را مطلقا کافر گویند عمل نمودہ شود بلکہ ہم بر مذہب مصحح ومعتمد ومختار للفتوٰی کہ اگر تکفیر مسلم نہ بروجہ شتم بلکہ بطور اعتقاد وجزم ست کافر گردد و در درمختار ست بہ یفتی ۲؎، ودر شرح نقایہ قہستانی انہ المختار ۱؎۔ ودرذخیرہ واحکام واجواہرا خلاطی وفصول عمادی وشرح درر  وغرر  وشرح نقایہ برجندی وشرح وہبانیہ علامہ ابن الشحنہ ونہر الفائق وحدیقہ ندیہ وفتاوٰی ہندیہ وردالمحتار وغیرہا انہ المختار للفتوٰی ۲؎ بالقطع والیقین بریں طائفہ مکفرہ مسلمین حکم کفر واتداد بلاریب لازم ست چنانکہ من فقیر در رسالہ مسمی بنان تاریخ النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ مفصل گفتہ ام امابحمداﷲ تعالٰی مارا ہنوز احتیاط درکاراست واز کفارایں اہل اکفار اجتناب وانکار کمابینتہ ایضا فیھا وفی غیر ھا من تصانیفی وفتاوی واﷲ الھادی انہ مولائی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ بدبخت لوگ ہیں جو مسلمانوں کو اپنی زبانوں سے کفر میں مبتلا کرتے ہیں اور معمولی معمولی باتوں پر ان کو مشرک اور کافرکہتے ہیں یہ قامت کے روز جوابدہ ہوں گے اور ان کو فیصلہ کے وقت اس الزام کا جواب دینا ہوگا، بہت احتیاط کرنی ضروری ہے تاکہ ان لوگوں کی خصلت قبیحہ اور قطعیہ بدبختی کاارتکاب لازم نہ آئے، ہاں کافر ومشرک کہنے کی بناء پر کفر دونوں میں کسی کی  ایک پر ضرور عائد ہوتا ہے اور ہلاک کرتا ہے اور کسی کی بلاوجہ تکفیر پرکفر کا حکم لازم ہوتا ہے۔ احمد ، بخاری، مسلم ابودواؤد، ترمذی، اور ابن حبابن نے صحاح مسانید، سنن میں حضرت عبداللہ بن عمر، ابوہریرہ ابوذر اور ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت فرمائی ہیں، یہ جاہل لوگ جو کہ ظاہر حدیث  پر عمل بزعم خواہش لازم کہلاتے ہیں اور اہل حدیث کہلاتے ہیں  ان کوغور کرنا چاہئےکہ ان روایات کا مصداق ہیں یانہیں اور کیا امام فقیہ ابوبکر اعمش اور تمام ائمہ بلخ اور بہت سے ائمہ بخارا کا فتوٰی ہے کہ کسی مسلمان کی تکفیر سے ا نسان مطلقا کافرہوجاتاہے  پر عمل لازم آتا ہے بلکہ معتمد اور صحیح مذہب پر فتوی ہےکہ کسی مسلمان کو بطور اعتقاد جازم کافر قرار دینے سے انسان کافر ہوجاتاہے اور درمختار میں ہے اسی پر فتوٰی ہے اور شرح نقایہ قہستانی میں ''انہ المختار'' ذخیرہ احکام جواہر الاخلاطی فصول عمادی۔ شرح دررغرر، شرح نقایہ برجندی، شرح وہبانیہ، علامہ ابن الشحنہ، نہر الفائق ، حدیقہ ندیہ فتاوٰی ہندیہ اور ردالمحتار وغیرہا کتب میں انہ المختار للفتوٰی بالقطع والیقین فرمایا ہے تومسلمانوں کو کافر کہنے والے اس طائفہ پر ان فتاوٰی پر ان فتاوٰی کی روشنی میں کفر وارتداد کاحکم بلا شک وشبہہ لازم آتاہے،جیسا کہ اس فقیر (مصنف علیہ الرحمۃ) نے اپنے رسالہ مبارکہ مسمٰی باسم التاریخ ''النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید'' میں مفصل بحث ذکر کی ہے تاہم ہمیں بحمدہٖ تعالٰی ابھی احتیاط لازم اور ضروری ہے اور ان کا فر بتانے والوں کو کافر کہنے سے اجتناب کریں گے جیسا کہ میں نے اسی رسالہ میں اور دیگر تصانیف میں بیان کیاہے۔ اللہ تعالٰی ہدایت دینے والا اور وہی میرا مولٰی ہے واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۹۰۱)

(صحیح مسلم     کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۵۷)

(۲؎ درمختار     کتاب الحدود     باب التعزیر      مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۲۷)

(۱؎ جامع الرموز    کتاب الحدود فصل فی القذف     مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران    ۴/ ۵۳۵)

(۲؎ ردالمحتار        کتاب الحدود     باب التعزیر         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۱۸۳)
مسئلہ ۱۴۳ : ازبہار شریف محلہ شیخانہ متصل عیدگاہ مرسلہ محمد یسین ومحمد حسین طالبان علم ۹ شوال ۱۳۱۶ھ

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ بزرگوں کی قبر پر جانے کے وقت دروازے کی چوکھٹ چومنا اور پھر باوجود تعظیم اس پر پیر رکھ کے اندر جانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب : اصل کلی یہ ہے کہ تعظیم ہر منتسب بارگاہ کبریا علی الخصوص محبوبان خدا انحائے تعظیم حضرت عزت جل وعلا ہے۔
قال اللہ تعالٰی : ومن یعظم حرمت اﷲ فھو خیر لہ عندربہ ۱؎۔
جو اللہ تعالٰی کی حرمتوں کی تعظیم کرے تووہ بہتر ہے اس کے لئے اس کے پروردگار کے یہاں۔
 (۱؎القرآن الکریم ۲۲/ ۳۰)
وقال تعالٰی : ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب ۲؎۔
جو اللہ کے شعاروں کی تعظیم کرے وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔
 (۲؎القرآن الکریم    ۲۲/ ۳۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القراٰن غیر الغالی فیہ والجافی عنہ واکرام ذی السطان المقسط ۲؎۔ رواہ ابوداؤد عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
یعنی بوڑھے مسلمان اور عالم باعمل اور حاکم عادل کی تعظیمیں اللہ تعالٰی کی تعظیم سے ہیں۔ (اسے ابوداؤد نے ابوموسٰی الاشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ ت)
 (۳؎ سنن ابی داؤد     کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۰۹)
اور علمائے کرام قدیما وحدیثافقہا وحدیثا تصریحات فرماتے ہیں کہ
حرمۃالمسلم حیا ومیتا سواء،
مسلمانو زندہ ومردہ کی حرمت یکساں ہے، ولہذا علماء نے وصیت فرمائی کہ قبر سے اتنا ہی قریب ہوجتنا زندگی دنیامیں صاحب قبر سے قریب ہوسکتا ہے اس سے زیادہ آگے نہ جائے،
عالمگیریہ میں ہے :
فی التہذیب یستحب زیارۃ القبور وکیفیۃ الزیارۃ کزیارۃ ذٰلک المیت فی حیاتہ من القرب والبعد کذا فی خزانہ الفتاوٰی ۳؎۔
تہذیب میں ہے زیارت قبورمستحب ہے۔ زیارت کی کیفیت یہ ہے کہ  جتنا قرب وبعد میت کی زندگی میں اس کی زیارت کے لئے ہوتا تھا بعد مرگ بھی اتناہی ہو، خزانہ الفتاوٰی میں یونہی ہے۔(ت)
 (۴؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ الباب السادس عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۰)
اور شک نہیں کہ تعظیم وتوہین کا مدار عرف وعادت پر ہے
کما حققہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ فی اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد
( جیسا کہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ نے
''اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد'' میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) تو جس کی تعظیم شرعا مطلوب ہے وہاں جو جو افعال وطرق حسب عرف وعادت قوم کئے جاتے ہیں اسی مطلوب شرعی کی تحت میں داخل ہوں گے جب تک کسی خاص فعل سے نہی شرعی نہ ثابت ہو، جیسے سجدہ یا قبر کی طرف نماز کہ یہ شرعا ممنوع ہیں۔
و لہذا امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر،  پھر علامہ ابن سندھی نے لباب میں اور ان کے سوا اور علمائے کرام نے زیارت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں فرمایا :
کلمہ کان ادخل فی الادب والاجلال کان حسناً۱؎
جو کچھ تعظیم واجلال میں زیادہ داخل ہوں خوب ہے۔
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الحج مسائل منشورۃ     المقصد الثالث     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/ ۹۴)

(لباب المناسک مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین فصل ولوتوجہ الی الزیادۃ     دارالکتب العربی بیروت    ص۳۳۶)
ابن حجر مکی نے جوہر منظم میں فرمایا :
تعظیم النبی صلی تعالٰی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیہا مشارکۃ اﷲ تعالٰی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نور اﷲ ابصارھم ۲؎۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ان جمیع اقسام تعظیم کے ساتھ جس میں حضرت عزت سے الوہیت ہیں شریک کرنا لازم نہ آئے امرمستحسن ہے ان سب کے نزدیک جن کی آنکھیں اللہ تعالٰی نے روشن کی ہیں یعنی جنھیں نور ایمان بخشا ہے۔
ومن لم یجعل اﷲ لہ نورا فمالہ من نور ۳؎۔
اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں۔ (ت)
(۲؎ الجواہر النظم     الفصل الاول     المکتبۃ القادریۃ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۱۲) 

(۳؎ القرآن الکریم    ۲۴/ ۴۰)
جب یہ اصل کلی معلوم ہو ہوگئی حکم صو ر مسئلہ منکشف ہوگیا آستانہ بوسی پر یہ اعتراض کہ اول چومیں گے پھر پاؤں رکھ کر جائیں گے محض نادانی ہے کعبہ معظمہ ومسجد حرام شریف میں بھی یہی صورت ہے اور ضرورت ایک دوسرے کے منافی نہیں۔
Flag Counter