| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ) |
باز اگر بالفرض ہیچ نبودی تا از قبیل اعمال علماء و مشائخ ہست رحمہ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کہ بغرض زیادت روشنائی بصریحا آوردہ وبحسن نیت وصدق طویت ببرکت او فائدہ حاصل کردہ اندا امام سخاوی رحمہ اللہ تعالٰی از جمعی کثیر از علماء وصلحاء نقلش نمود، علامہ طاہر فتنی علیہ رحمۃ الغنی درمجمع بحار الانوار فرمودہ روی تجربۃ ذٰلک عن کثیرین ۱؎ ودرہمچوں مقام زنہار بورود تصریح درقرآن وحدیث حاجت نیست علماء راسلفاء وخلفاء اجماع عملی وسکوتی قائم ست کہ درامثال امور بہر جلب سرور سلب شرور گوناگو اعمال و اوفاق واذکار اوراد وادعیہ ونقوش ورقی وتعاویز برآرند وخود خوانند ونویسند وبکار برند وبہ دیگراں تعلیم کنند واجازت دہند وبریں معنی از ہیچ معتمدی انکار نشوند و درمواہب اللدنیہ ومنح فعتمدی انکار نشوندو درمواہب للدنیہ ومنح محمدیہ امام قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری و مدارج النبوۃ شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہما چیزہا ازیں باب مذکور ست ،
پھر بالفرض اگر کوئی روایت بھی نہ ہو تو کم ازکم علماء ومشائخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے اعمال اور وظائف میں یہ شامل ہے کہ وہ انکھوں کی بینائی میں اضافہ کے لئے یہ وظیفہ کرتے چلے آئے ہیں اور اپنی حسن نیت اور صدق عزم سے اس وظیفہ سے فائدہ حاصل کرتے ہیں امام سخاوی رحمہ اللہ تعالٰی نے کثیر علماء وصلحاء کی جماعت سے نقل فرمایا ہے۔ علامہ طاہر فتنی علیہ الرحمۃ مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں کثیر بزرگوں سے اس کا مجرب ہونا مروی ہے۔ ایسے مقام میں قرآن وحدیث کی تصریح کی کوئی حاجت نہیں علماء کرام کا سلفا خلفا اجماع عملی اور سکوتی چلا آرہا ہے کہ خوشی کے حصول شر کے دفعیہ کے لئے گونا گو اعمال اذکا ر اوراد، دعائیں، تعویذ ونقوش کرتے خود لکھتے اور پڑھتے اور دورسروں کو تلیم دیتے اور اجازتیں دیتے چلے آرہے ہیں ان امور میں کسی بھی معتمد علیہ شخصیت کا انکار ثابت نہیں۔ مواہب اللدنیہ و منح امام محمدیہ امام قسطلانی شارح بخاری اور مدارج النبوت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہما میں ایسے بہت سے امور مذکور ہیں
(۱؎ مجمع بحار الانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الاسن الخ مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۵/ ۲۳۴)
واینک علامہ ابن الحاج مکی مالکی صاحب کتاب المدخل کہ تشدیدے بلیغ وارد درانکار بدع و موادث اوخویشتن درہمیں کتاب اعمال جدیدہ بہر غرض عدیدہ ذکر کردہ وازسیدی عارف باللہ ابومحمد مرجانی وغیرہ مشائخ واساتذہ خود آورد کہ ہر گز چیزے از آنہا ازحضرت رسالت علیہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ بلکہ از صحابہ وتابعین ہم روئے ثبوت ندیدہ است بلکہ چیز ہابینی کہ خود دارمختراعا ایں علماء باشد ہم ازیں باب ست عمل جدی یعنی مرض چیچک کہ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی در تفسیر سورۃ بقرۃ ذکر نمود وخود از قول الجمیل وغیرہ تصانیف شاہ ولی اللہ دہلوی چہ پرسی کہ از انجا ازیں قبیل تو دہ مخترعات ومحدثات تواں یافتہ شاہ صاحب مذکور درہوامع شرح حزب البحر سپید گفت کہ ''اجتہاد را در اختراع اعمال تصریفیہ راکشادہ ست مانند استخراج اطباء نسخہائے قرابادیں را ایں فقیر معلوم شد است کہ در وقت طلوع رامعلوم شدہ است کہ دروقت طلوع صبح صادق باسفار مقابل صبح نشستن وچشم رابآن نور دوختن و ''یانور'' راگفتن تاہزار بار کیفیت ملکیہ راقوت میدہد ۱؎ الخ،
علامہ ابن الحاج مکی مالکی رحمہ اللہ تعالٰی جو کہ بدعات کے رد میں شدت فرماتے ہیں نے اپنی کتاب المدخل میں متعدد واغراض کے لئے جدید اعمال ذکر فرمائے ہیں اور انھوں نے اپنے اساتذہ ومشائخ مثلا عارف باللہ ابومحمد مرجانی وغیرہ سے یہ اعمال ذکر فرمائے ہیں اور خود فرمایا کہ یہ جدید وظائف واعمال حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام بلکہ صحابہ کرام وتابعین تک سے ہر گز ثابت نہیں بلکہ آپ کو معلوم ہے کہ تمام اعمال ان علماء کے ایجاد کردہ ہیں۔ انہی امور میں سے چیچک کے لئے ایک عمل تفسیر عزیزی میں حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالٰی نے سورۃ بقرہ میں ذکر فرمایا اس معاملہ میں شاہ ولی اللہ تعالٰی محدث دہلوی کی کتاب قول الجمیل وغیرہ تصانیف کا کیا کہنا ان میں جگہ جگہ اس قسم کے جدید ایجاد کردہ اعمال کاذ کر موجود ہے۔ حضرت شاہ صاحب نے ہوامع شرح حزب البحر میں فرمایا کہ ''اعمال تصریفیہ میں اجتہاد کو اختراع اعمال میں کافی دخل ہے جسطرح کہ اتباع حضرات قرابا دین کے نسخوں میں استخراج کرتے ہیں چنانچہ اس فقیر (شاہ ولی اللہ صاحب) کو معلوم ہے کہ صبح صادق کے طلوع کے وقت مطلع کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھنا اور اپنی آنکھوں کو صبح کی روشنی کے سامنے کھلا رکھنا اور ہزا ربار ''یانور'' کا ورد کرنا ملکی قوت میں اضافہ کی کیفیت پیدا کرتا ہے الخ۔
(۱؎ ہوامع شاہ ولی اللہ)
بالجملہ درجواز ایں فعل اصلا مجال مقال ومحل شبہ واحتمال نیست وہیچ ولیلی از دالائل شرع مرمنع وتحرمیش دلالت ندارد وفقیر غفراللہ تعالٰی دریں مسئلہ رسالہ عافلہ کافلہ مسمی بنام تاریخی منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین تصنیف کردہ ام وآنجا بحول اللہ تعالٰی کلام را باقصی مراتب نقد وتحقیق رسانیدہ ہر کرا ہوائے اطلاع برقول فیصل وفصل مفصل درسرشت گو خویش ببادبسوئے آن رسالہ مراجعت اینجا جواب سائل راہمیں قدر پسند ست کہ چیزے کہ حرمتیں از شرع مطہر ثابت نیست ہرکہ حرامش گوید افترا برشرع مطہر میکنند وافتراء برخدا ورسول وآسان کارے ست والعیاذباللہ سبحانہ وتعالٰی،
خلاصہ یہ کہ اس تقبیل ابہامین کے عمل کے جواز میں کسی اعتراض یا شبہہ کی گنجائش نہیں ہے، اور اس کے منع پرکوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔ اس فقیر (مصنف علیہ الرحمۃ) کا اس مسئلہ میں ایک مستقل جامع رسالہ مسمٰی بہ اسم تاریخ ''منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین'' تصنیف کردہ ہے جس میں اللہ تعالٰی کی مدد سے کلام کو انتہائی مرتبہ تک پہنچانے میں تحقیق وتنقیح سے کام لیا ہے، جس کو اس معاملہ میں قول فیصل پر اطلاع کاشوق ہو تو وہ اس رسالہ میں قول فیصل پراطلاع کا شوق ہو تو وہ اس رسالہ کی طرف رجوع کرے، یہاں سائل کے لئے جواب میں اتنا ہی کافی ہیے۔ کہ جس چیز کی حرمت شرعا ثابت نہیں اس کو حرام کہنا شریعت پر افتراء ہے اور اللہ تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء کیا آسان کام ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
قال ربنا تبارک قدس
ولاتقولوالماتصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ۱؎ o
ایناں کہ اصول کا سدہ وفروع فاسدہ دردین اختراع کردہ صدہا مباحات شرعیہ بلکہ مستحبات قطعیہ بلکہ سنن ثابتہ رابدعت شنیعہ وحرام شدید بلکہ مخل اصل ایمان وشرک صریح وواجب العقاب وقطعی الوعید میگویند قطعا برخدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ سلم دروغ می بند ند و درمغاک ہلاک فقد باء باحد ھما ۲
ومن اظلم ممن افترٰی علی اﷲ کذبا ۱
وغیرہ ذٰلک من المھالک می افتند وایں معنی ایشاں بجہت رانہ ہمیں برفسق وارتکاب کبیرہ مقتصرہ دارد بلکہ بجہت عقد قلب واتخاذمذہب بفسق عقیدہ وضلالت بعیدہ وبدعت طریدہ کشد وآنہمہ احکام خلل اصل ایمان و وجوب عذاب وقطیعت عقاب بحکم حدیث انا عند ظن عندی بی ۲؎ ۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: ''اللہ تعالٰی پر افتراء کرتے ہوئے اپنی زبانوں سے جھوٹ مت بتاؤ کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے جو لوگ اللہ تعالٰی پر افتراء کرتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے'' ان لوگوں نے دین میں من گھڑت اصول اور فاسد مسائل کا اختراع کرکے صدہا شرعی مباہات بلکہ مستحبات کو بلکہ سنن ثابتہ کو بدعت سیئہ اور حرام بلکہ اصل ایمان کے لئے مخل اور صریح شرک اور واجب العقاب والوعید قرار دیا ہے یہ اللہ تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں اور ہلاکت کا راستہ اپناتے ہیں اورمتعد آیات وعید کا مصداق بنتے ہیں۔ ان لوگوں کایہ عمل ان کو نہ صرف فسق وگناہ کبیرہ میں مبتلا کرتا ہے بلکہ ان کے دل عقیدہ اور مذہب کی بنا پر فسق عقیدہ ۔ ضلالت وگمراہی شدیدہ سے بڑھ کر ان کے اصل ایمان میں خلل اور عذاب کی قطعیت کی طرف ان کو ڈالتا ہے۔''میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوں'' حدیث کے حکم کی وجہ سے کہ جیسا کہ عقیدہ ویسا نتیجہ پائیں گے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶) (۲صحیح البخاری کتاب الادب باب من کفر اخاہ بغیر تاویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱) (صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷) (۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۲۱) (۲؎صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالٰی ویحذرکم اللہ نفسہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۰۱) (صحیح مسلم کتاب التوبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۵۴)
وقاعدہ عقلی ونقلی اقرار مرد آزار مردہم بروئے ایشاں برگردد وحکم تیر بازگشت پیدا کنند اماہیات کفر چیزے عظیم ست وزنہار آدمی رابربیارد، از دائرہ اسلام مگر انکار امرے کہ درآوردہ بودش اقرارش ورود فعل اینکار از حضرت ابوالبشر یادیگر انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام ہنوز بپایہ صحت نرسید است پس کجاتواتر پس گجابودنش از ضروریات دین وخود انکار واستحقاق ایشاں مبنی برآنست کہ ثابت ندانند نہ آنکہ ثابت کہ گویند وراہ اہانت پویند پس تکفر رازنہار مساعی نیست وخود از عظم خطایائے ۔
اور عقلی ونقلی قاعدہ ہے۔ کہ اپنے اقرار پر آدمی پھنس جاتا ہے تاہم کسی پر کفر کا حکم بہت بڑا معاملہ ہے۔ دائرہ اسلام سے کسی شخص کو خارج نہیں کرتا مگر اسلام میں داخل کرنے والے امر کا انکار جبکہ بتقبیل کا عمل حضرت آدم علیہ السلام یا دیگر انبیاء علیہم السلام سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچا چہ جائیکہ درجہ تواتر کو پہنچے اور ضروریات دین کے درجہ میں ہوجائے ان لوگوں کا اس عمل سے انکار صرف اس بات پر مبنی ہے کہ یہ عمل ثابت نہیں نہ کہ ثابت مان کر ازراہ اہانت انکار کرتے ہیں لہذا اس بناء پر ان کو کافر کہنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ اس بناء پر کافر کہنا کی کوئی وجہ نہیں بلکہ اس بناء پر کافر کہنا خودخطرنکاک معاملہ ہے۔