| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ) |
پس بیش از جواب امرے ضروری ومہم تر باید شنید خیر البشر وخیرالناس وافضل الخلق واکرم البریہ جناب سید المرسلین خاتم النبیین محمد رسول رب العلمین ست صلی اللہ تعالٰی علیہ علیہم وعلی الہ وصحبہ اجمعین کافہ مسلمین بریں معنی اجماع دارند فقیر غفرلہ اللہ المولٰی القدیر در تفضیل مطلق حضور افضل برحق صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رسالہ مبسوط گرد آوردہ ام مسمی بہ ''قلائد نحور الحور من فرائد بحورالنور''ملقب بنام تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین ۱۳۰۵ھ'' صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اجمعین آنجا بہ دہ آیت وصد حدیث نقش حق برکرسی تحقیق نشاندہ ام کہ ہیچ یکے از انبیائے مرسلین وخلق اللہ اجمعین بکمال رفیع وجلال منیع حضور سید العالمین اکرم الاولین والآخر ین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نمیر سد ، ماناکہ قلم سائل طغیان کردد بجائے ابوالبشر خیر البشر سرزد او ارادہ الخیریۃ الجزئیۃ من جھۃ الابوۃ متاؤلا لبعض مایذکر فی الباب والاول اسلم بل ھو المفرع ان سائد الواقع وﷲ بذات الصدور اعلم حق آنست کہ ہمچو عبارت احتراز واجب ولازم وفرض متحتم ست واﷲ الھادی،
پس جواب سے قبل ایک ضروری بات اور اھم امر سن لینا چاہئے کہ افضل الخلق اور اکرم الناس اور خیرا لبشر اور اکرم البریۃ جناب سیدالمرسلین خاتم النبیین محمد رسول رب العالمین ہیں آپ پر اور آپ کی آل واصحاب سب پر دورد وسلام ہوتمام مسلمانوں کا اس معنی پر اجماع ہے۔ فقیر غفرلہ اللہ المولٰی القدیر (مصنف علیہ الرحمۃ) نے حضور افضل برحق صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی فضیلت مطلقہ پر مبسوط رسالہ مسمٰی بہ'' قلائد نحورا لحور من فوائد بحور النور'' ملقب بنام ''تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین ۱۳۰۵ھ'' صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اجمعین لکھا ہے۔ اس میں دس آیات کریمہ اور سو حدیث شریف سے حق کو اجا کر گیا ہے کہ کوئی حدیث شریف سے حق کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کوئی بھی انبیاء ومرسلین اور تمام مخلوق میں سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے مرتبہ کمال بلند وبالاکو نہ پہنچا، ہوسکتا ہے کہ سائل کا قلم پھسل گیا ہو ابوالبشر کی جگہ آدم علیہ السلام کی خیر البشر لکھنا سرزد ہوگیا ہو یا سائل نے تاویل سے کام لے کر ابوت والی جزوی فضیلت کی بناء پر آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو خیر البشر کہہ دیا ہو۔ جیسا کہ بعض مقامات پر ایسی تاویل سے کام لیا جاتاہے لیکن پہلااحتمال اگر واقع میں ایسا ہو تو اس میں احتیاط ہے اللہ تعالٰی دلوں کا حال بہتر جانتا ہے حق یہی ہے کہ ایسی عبارت سے پرہیز لازم بلکہ اہم فرض ہے۔ اللہ تعالٰی ہدایت کا مالک ہے۔
اکنوں بجواب مسئلہ پروازیم آرے دریں باب از خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سیدنا صدیق اکبر و یحانہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امام حسن مجتبٰی وحضرت سیدنا ابوالعباس خضر علیہ الصلٰوۃ والسلام وغیرہم حدیثہا اور کتب علماء مرویست کہ امام شمس الدین سخاوی درمقاصد حسنہ بتفصیل برخے از انہاپرداخت ومحط کلام محدثین کرام محققین اعلام کہ در صحیح و تضعیف وجرح وتوثیق راتساہل وتشدید سپردہ اند آنست کہ دریں باب حدیثے از حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بدرجہ صحت فائز نشدہ درمقاصد فرمود لا یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ ۱؎ درمضوعات کبیر ست مایروی فی ھذا فلا یصح رفعہ البتہ ۲؎ در ردالمحتار علامہ اسمعیل جراحی نقل فرماید لم یصح فی المرفوع من ھذا شیئ ۳؎۔
اب سوال کے جواب کی طرف متوجہ ہوتاہوں، یہ درست ہے کہ اس مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پھول حضرت امام حسن مجتبٰی اور حضرت سیدنا ابوالعباس خضر علیہ الصلٰوۃ والسلام وغیرھم سے علماء کی کتب میں مرویات موجود ہیں جبکہ امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ روایات کی تصحیح وتضعیف اور جرح وتوثیق میں سختی اور نرمی سے کام لینے والے محدثین ومحققین کے کلام کا ماحاصل یہ ہے کہ اس مسئلہ میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کوئی مرفوع حدیث درجہ صحت کو نہ پہنچی، مقاصد حسنہ میں فرمایا اس مسئلہ کے متعلق کوئی حدیث مرفوع صحت کو نہیں پہنچی۔ موضوعات کبیر میں ہے اس مسئلہ میں مرویات کا مرفوع ہونا یقینا صحیح نہیں ہے۔ ردالمحتار میں علامہ اسمعیل جراحی سے منقول ہے کہ اس میں کوئی مرفوع روایت صحیح نہیں ہے۔
(۱؎ المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۱۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۸۵) (۲؎ اسرار المرفوعۃ حدیث ۸۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۱۰) (۳؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الاذان دارحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۶۷)
وبرخادم حدیث مخفی نیست کہ دراصطلاح محدثین نفی صحت نفی حسن ہم نمی کند تابہ نفی صلاح وتماسک و صلاح تمسک یادعوٰی وضع چہ رسد،قال القاری فی الموضوعات قال ابوالفتح الازدی لایصح فی العقل حدیث قالہ ابوجعفر العقیلی وابو حاتم بن حبان انتہی و لایلزم من عدم الصحۃ وجود الوضع کما لایخفی ۱؎ اھ ملخصا۔ امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام قدس سرہ، فرمود قول من قال فی حدیث انہ لم یصح ان سلم لم یقدح لان الحجۃ لایتوقف علی الصحۃ بل الحسن کاف ۲؎۔ باز درفضائل اعمال حدیث ضعیفہ باجماع ائمہ مقبول ست نص علیہ غیر واحد من الحفاظ منھم الامام النووی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ۔ باز چوں نیک درنگری کلمات مذکورہ علمائے محدثین ظاہر ست درآنکہ نفی صحت ہمیں باحادیث مرفوعہ مخصوص ست وایں جاخود درآثار موقوفہ کفایتے ست کافیہ وحجتے وافیہ،
کسی بھی خادم حدیث پر مخفی نہیں ہے۔ کہ محدثین کی اصطلاح میں کسی حدیث کی صحت کا منتفٰی ہونا اس کے حسن کے انتفاء کو مستلزم نہیں کہ اس سے استدلال کی نفی لازم آئے چہ جائیکہ وہاں حدیث کے موضوع ہونے کا دعوٰی کیا جائے، ملا علی قاری نے موضوعات میں فرمایا کہ ابوالفتح الازدی نے فرمایا ہے کہ عقل کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں۔ یہ بات ابوجعفر عقیلی اور ابوحاتم بن حبان نے فرمائی ہے اھ اور اس عدم صحت سے حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا جیسا کہ واضح ہے اھ ملخصا۔ محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین محمد بن الہمام نے فرمایا کسی حدیث کےمتعلق عدم صحت کا قول اگر تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس سے حدیث کی حجیت ختم نہ ہوگی کیونکہ حجیت محض صحت پر موقوف نہیں بلکہ حدیث کا حسن ہونا بھی حجیت کے لئے کافی ہے۔ نیز اعمال کے فضائل میں ضعیف احادیث بھی اجماع ائمہ کے مطابق مقبول ہے۔ یہ بات کئی ائمہ وحفاظ حدیث سے منصوصہ ان میں امام نووی رحمۃ اللہ تعالٰی بھی شامل ہیں اور پھر یہ کہ اس مسئلہ میں علمائے حدیث کے الفاظ کو غور سے دیکھا جائے تو انھوں نے یہاں صرف مرفوع حدیث کی صحت کی نفی فرمائی ہے جبکہ موقوف روایات یہاں حجت کے لئے کافی ہیں،
(۱؎ الاسرار المرفوعۃ تحت حدیث ۱۲۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۱۸) (۲؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الموضوئ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۸)
لاجرم علامہ علی قاری مکی رحمہ اللہ تعالٰی درکتاب مذکور بعد قول مسطور لایصح رفعۃ البتۃ ۳؎ میفرد ماید قلت و اذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ فیکفی للعمل بہ لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین ۱؎ یعنی چوں اسناد ایں فعل بجانب جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ بہ پایہ ثبوت رسید درعمل بسند ست زیرا کہ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ لازم باد برشماسنت من وسنت خلفائے راشدین من رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین درکنزا لعباد وشرح نقایہ علامہ شمس ہروی وفتاوٰی صوفیہ وردالمحتار حاشیہ درمختار وغیرہا اسفار کہ ایں ہمہ از مستندات کبرے مانعین ست باستحباب ایں عمل تصریح رفت سیدی خاتمۃ المحققین امین الدین محمد عابدین شامی قدس سرہ السامی فرماید یستحب ان یقال عند سماع الاولٰی من الشہادۃ الثانیۃ صلی اﷲ علیک یا رسول اﷲ وعند الثانیۃ منھا قرۃ عینی بک یار سول اﷲ ثم یقول اللھم متعنی بالسمع والبصر بعد وضع ظفری الابھا مین علی العینین فانہ علیہ الصلٰوۃ والسلام یکون قائدا لہ الی الجنۃ کما فی کنز العباد اھ قہستانی ونحوہ فی الفتاوٰی الصوفیۃ ۲؎ الخ
چنانچہ ملا علی قاری نے اپنے قول مذکور ''یہ روایت بطور مرفوع صحیح نہیں ہے'' کے بعد لکھا ہے قلت( میں کہتاہوں کہ) جب اس روایت کا رفع حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ تک ثابت ہے تو اس پر عمل کے لئے یہ کافی دلیل ہے کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا : تم پرمیری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت پر عمل لازم ہے یعنی چونکہ اس فعل کی اسناد جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پائیہ ثبوت کو پہنچتی ہیں اس لئے عمل کے لئے سند ہے کیونکہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ ''تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سنت پر عمل لازم ہے'' کنز العباد، شرح نقایہ، علامہ شمس ہروی، فتاوٰی صوفیہ، ردالمحتارحاشیہ درمختار وغیرہا کتب جومانعین حضرات کے بڑوں کی مستند کتابیں ہیں یہ تمام اس عمل کے استحباب پر متفق ہیں سید محمد عابدین شامی قدس سرہ، نے فرمایا : اذان میں پہلی بار شہادت سن کر صلی اللہ علیک یا رسول اللہ اور دوسری بار سن کر قرۃ عینی بک یا رسول اللہ کہہ کر آنکھوں پر انگوٹھے رکھ کر کہے اے اللہ! مجھے سمع وبصر سے فائدہ عطا فرما(اس عمل کی برکت سے)حضور علیہ اصلٰوۃ والسلام اس کے لئے جنت لے جانے میں قیادت فرمائیں گے، جیسا کہ کنز العباد میں ہے اھ قہستانی فتاوٰی صوفیہ میں اسی طرح کی عبارت ہے الخ۔
(۳؎ الاسرار المرفوعۃ تحت حدیث ۸۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۱۰) (۱؎ سنن ابی داؤد کتا ب السنۃ باب فی لزوم السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۷۹) (۲؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ والسلام باب الاذن داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۶۷)