Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
62 - 146
مسئلہ ۱۴۱:: اکثر مخلوق خداکا یہ طریقہ ہے کہ وقت اذان اور وقت فاتحہ خوانی یعنی پنچایت پڑھنے کے وقت انگوتھے چومتے ہیں اور علماء بھی درست بتلاتے ہیں اور حدیث شریف سے ثابت کرتے ہیں آیا یہ قول درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : اذان میں وقت استمال نام پاک صاحب لولاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انگوٹھی کے ناخن چومناانکھوں پر رکھنا کسی حدیث صحیح مرفوع سے ثابت نہیں یہ جو کچھ اس میں روایت کہا جاتاہےکلام سے خالی پس جو اس کے لئے ایسا ثبوت مانے یا اسے مسنون ومؤکد جانے یا نفس ترک کوباعث زجر وملامت کہے وہ بیشک غلطی پر ہے۔ 

ہاں بعض احادیث ضعیفہ مجروحہ میں تقبیل وارد۔
اخرجہ الدیلمی مسند الفردوس و اوردہ الامام السخاوی فی المقاصد الحسنہ ۱؎ والعلامۃ خیر الدین الرملی فی حواشی البحرالرائق وذکرہ العلامۃ الجراحی فاطال وبداللتیا والتی قال لم یصح فی المرفوع من ہذا شیئ کما اثرہ المحقق الشامی فی رد المختار ۲؎
اس کو دیلمی نے مسند الفردوس میں امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں خیر الدین رملی نے بحرالرائق کے حاشیہ میں اور علامہ جراحی نے طویل بیان فرمایا اور بحث کے بعد فرمایا اس بارے میں مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے جیسا کہ محقق علی شامی نے ردالمحتار میں نقل فرمایا ہے (ت)
 (۱؎ المقاصد الحسنہ     حدیث ۱۰۲۱     دارالکتب العلمیہ بیروت    ص۳۸۴)

(۲؎ ردالمحتار         کتاب الصلٰوۃ باب الاذان     دارحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۲۶۷)
اور بعض کتب فقہ م یں مثل جامع الرموز شرح نقایہ وفتاوٰی صوفیہ وکنزالعباد وشامی حاشیہ درمختار کے کہ اکثر ان میں مستندات علماء طائفہ اسمعیلیہ سے ہیں وضع ابہامین کو مستحب بھی لکھ دیا۔ فاضل قہستانی شرح مختصر وقایہ میں لکھتے ہیں:
واعلم انہ یستجب ان یقال عند سماع الاولٰی من الشہادۃ الثانیۃ صلی اﷲ تعالٰی علیک یا رسول اﷲ وعند سماع الثانیۃ منہا قرۃ عینی بک یا رسول اﷲ ثم یقال اللھم متعنی بالسمع والبصر بعد وضع ضفری الابھامین علی الیعینین فانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یکون قائد الہ الی الجنۃ کما فی کنز العباد انتہی ۳؎
جان لو بیشک اذان کی پہلی شہادت کے سننے پر صلی اللہ تعالٰی علیک یا رسول اللہ اور دوسری شہادت کے سننے پر قرۃ عینی بک یا رسول اللہ کہنا مستحب ہے۔ پھر اپنے انگوٹھو ں کے ناخن چھوم کر اپنی آنکھوں پر رکھے اورکہے
اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ والْبَصَرِ
تو حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایسا کرنے والے کو اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے جیسا کہ کنز العباد میں ہے انتہی (ت)
 (۳؎ جامع الرموز     کتاب الصلٰوۃ فضل الاذان     مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/ ۱۲۵)
ردالمحتار حاشیہ درمختار میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں:
ونحوہ فی الفتاوی الصوفیۃ ۱؎الخ
ایسے ہی فتاوٰی صوفیہ میں ہے الخ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلٰوۃ     باب الاذان     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۲۶۷)
پس حق اس میں اس قدر کہ جو کوئی بامید زیادت روشنائی بصر مثلا از قبیل اعمال مشائخ جان کر یا بتوقع فضل ان کتب پر لحاظ اور ترغیب وارد پرنظر رکھ کر بے اعتقاد سنیت وفعل وصحت حدیث وشناعت ترک اسے عمل میں لائے اس پر بہ نظر اپنے نفس فعل واعتاد سنیت کے خیر کچھ مواخذہ بھی نہیں کہ فعل پر حدیث صحیح نہ ہونا اس فعل سے نہی ومنع کہ مستلز نہیں
کما صرح بہ الفاضل علی القاری فی شرح الاربعین وہذا ظاھر جدا
 (جیساکہ فاضل علی قاری نے شرح الاربعین میں اس کی وضاحت کی اوعر یہ خوب طاہر ہے۔ ت) اور صیغہ اعمال میں تصرف استخراج مشائخ کو ہمیشہ گنجائش ہے جیسا کہ تصانیف شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی سے ظاہر اور خود یہ نفس حکم تجویز استخراج بھی ان کے کلام میں مصرح ہوا مع میں لکھتے ہیں:
اجہتاد رادراختراع اعمال تصریفیہ راہ کشادہ است مانند استخراج اطبانسخہائے قرابا دین فقیر رامعلوم شدہ است کہ دروقت طلوع صبح صادق باسفار مقابل صبح نشستن وچشم را بآں نور دختن ویار نورا گفتن تاھزار بار کیفیت ملکیہ راقوت میدہد ۲؎ الخ۔
جاری اعمال میں اجتہاد سے اختراع کا راستہ کشادہ ہے جیسا کہ طبیب حضرات کے ہاں قرابادین کے نسخوں میں ہے اس فقیر کو معلوم ہےکہ از صبح صادق تا روشنی بیٹھنا اور منہ مشرق کی طرف کرنا اور آنکھوں کو صبح کے نور پر لگانا اور یانور ہزار بارتک پڑھنے سے قوت ملکیہ حاصل ہوتی ہے (ت)
 (۲؎ ہوامع لشاہ ولی اللہ)
اور اسی میں ہے :
چند نواع از کرامت از ہیچ ولی الاماشاء اللہ منفک نمی شود از انجملہ منامات صادقہ کشف و اشراف بر خواطر واز انجملہ ظہور تاثیر ودردعائے او  ورقی واعمال تصریفیہ او تاعاملے بقیض او منتفع شوند ۳؎ الخ
چند کرامتیں ایسی ہیں جو کسی ولی سے جدا نہیں ہوپاتیں جن میں ایک سچی خوابیں اور دلوں کی خواہشوں پر اطلاع اور انہی میں سے دعاؤں کی تاثیر اور دم وغیرہ جاری اعمال اس سے عامل کو فیض حاصل ہوتاہے الخ ّ(ت)
 (۳؎ہوامع لشاہ ولی اللہ  )
البتہ اسمعیلیہ کا حکم لزومی والتزامی کہ یہ فعل اور اس کے امثال محض حرام وسخت بدیدینی ومثل شرک مخل اصل ایمان اور زنا وقتل ومومن سے بد ترجس کے صغرٰی یعنی فعل ابتداع پر اسمعیلیہ کو خود اقرار اور کبرٰی تصریحات وتفویۃ الایمان سے آشکاراگرچہ علمائے اسمیعلیہ بنظر مصلحت اس سے تنزل کیا کریں محض باطل ومردود ومخذول ومطرود ہے۔
    وعلیہم اثباتہ بالبرھان ولنا رد علیھم باوضع بیان ان شاء اﷲ الرحمٰن المستعان۔
اور ان پر شرک اور حرام کو ثابت کرنا لازم ہے اور ہمیں ان کا رد کرنا واضح دلائل سے ان شاء اللہ لازم ہے۔ (ت)

اور پنجائت کے وقت اس فعل کا ذکر کسی کتاب میں نہ دیکھا گیا اور فقیر کے نزدیک یہاں پر بنائے مذہب ارجح واصح غالبا ترک زیادہ انسب والیق ہونا چاہئے۔
والعلم بالحق عن الملک العلام الجلیل۔
مسئلہ ۱۴۲ :  از اوجین علاقہ گوالیار مرسلہ محمدیعقوب علی خان از مکان میر خادم علی اسسٹنٹ ۳ ربیع ا الثانی ۱۳۰۷ھ

چہ میفرمایند علمائے شریعت محمدی وفضلائے طریقہ احمدی دریں مسئلہ کہ مس ابہامین ونہادن علی العینین دروقت اذان موذن وغیرہ فعل وطریقہ انیقہ مستحب صحابہ کرام وسنت خیر البشر آدم علیہ السلام ست او ر اعلمائے ظواہر غیر مقلدین بہ سبب حقارت واستخاف و اہانت وحرام گویند مرتد وکافر می شوند یا نہ؟ بیان فرمایند بسند کتاب اجر یابند روز حساب رحمۃ اللہ علیکم اجمعین۔
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وفضلائے طریقت اس مسئلہ میں کہ مؤذن کی اذان کے وقت اپنی آنکھوں پر انگوٹھے چوم کر لگانا یہ فعل و طریقہ صحابہ کرام اور سنت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے اس عمل کو غیر مقلدین فرقہ کے لوگ حقارت کے طورپر حرام کہتے ہیں کیا وہ کافر اور مرتد ہوں گے یانہیں؟ کتاب کے حوالہ سے بیان فرمائیں اللہ تعالٰی اجر عطا فرمائے قیامت کے روز۔ تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں۔ (ت)
الجواب : قال سیدنا اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من رأی منکم منکر ا فلیغرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذٰلک اضعف الایمان ۱؎ ہر کہ از شماامر نا روابیند باید کہ بدست خویش تغیرش دہد واگر نہ تواند پس بزبان واگر نتواند پس بدل وآں ضعیف ترین الایمان ست رواہ الائمۃ احمد والستۃ الاالبخاری عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنہ ونیز در حدیث آمد النصح لکل مسلم ۲؎ دین آنست کہ ہر مسلمان راخیر خواہی کنند اصلہ عند احمد والشیخین و ابی داؤد والنسائی عن تمیم الداری والترمذی والنسائی ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ۔
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :  تم میں سے جب کوئی برائی دیکھے تو ہاتھ سے اسے روکے اور اگر اس کی طاقت نہیں تو زبان سے منع کرے اوراگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ اس کو ائمہ سنۃ میں سے بخاری کے علاوہ سب نے اور امام احمد نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ نیز حدیث میں ہے ہر مسلمان کی خیرخواہی دین ہے، اس کو امام احمد، شیخین، ابوداؤد اور نسائی نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۵۱)

(مسند احمد بن حنبل     عن ابی سعید الخدری     المکتب الاسلامی بیروت    ۳/ ۴۹ و ۵۲)

(۲؎ مسند احمد بن حنبل   حدیث جریر بن عبداللہ   المکتب الاسلامی بیروت     ۴/ ۶۶۔ ۳۶۵)

(صحیح البخاری  کتا ب الایمان باب قول النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحۃ الخ   قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۳)

(صحیح مسلم   کتا ب الایمان    باب الدین النصیحۃ   قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۵۵۔ ۵۴)
Flag Counter