الثم التراب الذی حصل لہ النداوۃ من اثر النعل الکریمۃ ان امکن ذٰلک والا فقبل مثالھا ۴؎۔
اگر ہوسکے تو و اس خاک کو بسہ دے جسے نعل مبارک کے اثر سے نم حاصل ہوئے ورنہ اس کے نقشہ ہی کو بوسہ دے۔
(۴؎ شرح الزرقانی علی المواہب ذکر نعلہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۵/ ۴۸)
علامہ تاج الدین فاکہانی نے فجر منیر میں ایک باب نقشہ قبور لامعۃ النور کا لکھا اور فرمایا :
من فوائد ذٰلک ان من لم یمکنہ زیارۃ الروضۃ فلیزر مثالھا ولیلثمہ مشتاقا لانہ ناب مناب الاصل کما قدناب مثال نعلہ الشریفۃ مناب عینھا فی المنافع والخواص بشھادۃ التجربۃ الصحیحۃ ولذا جعلوالہ من الاکرام ولااحترام مایجعلون للمنوب عنہ ۱؎ الخ۔
یعنی اس نقشہ کے لکھنے میں ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ عالیہ کی زیارت نہ ملی وہ اس کی زیارت کرلے اور شوق سے اسے بوسہ دے کہ یہ مثال اس اصل کے قائم مقام ہے جیسے نعل مقد س کا نقشہ منافع وخواص میں یقینا یہ اس کا قائم مقام ہوا جس پر تجربہ صحیحہ گواہ ہے ولہذا علمائے دین نے نقشہ اعزاز واحترام وہی رکھا ہے جو اصل کا رکھتے ہیں الخ۔
(۱؎الفجر المنیر)
سیدی علامہ محمد بن سلیمن جزولی قدس سرہ، صاحب دلائل الخیرات نے بھی علامہ مذکور کی پیروی کی اور دلائل شریف میں نقشہ روضہ مبارک کا لکھا اور خود اس کی شرح کبیر میں فرمایا :
انما ذکرتھا تابعا للشیخ تاج الدین الفاکھانی فانہ عقد فی کتابہ ''الفجر المنیر'' بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ وقال ومن فوائد ذٰلک ۲؎ الخ۔
میں نے شیخ تاج الدین فاکہانی کی اتباع میں اس کو ذکر کیا انھوں نے اپنی کتاب الفجر المنیر میں قبور مقدسہ کا باب قائم کیا اور فرمایا اس کے فوائد سے یہ ہے الخ ّ(ت)
(۲؎ شرح دلائل الخیرات للجزولی)
اسی طرح علامہ محمد بن احمد بن علی فاسی نے مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات میں فرمایا :
حیث قال اعقب المؤلف رحمہ اﷲتعالٰی ورضی عنہ ترجمۃ الاسماء بترجمۃ صفۃ الروضۃ المبارکۃ والقبور المقدسۃ وموافقافی ذٰلک وتابعا للشیخ تاج الدین فاکھانی فانہ عقد فی کتابہ الفجر المنیر بابافی صفۃ القبور المقدسۃ ومن فوائد ذٰلک ان یزورالمثال من لم یتمکن من زیارۃ الروضۃ ویشاھدہ مشتاقا ویلثمہ ویزداد فیہ حبا و قد استنابوا مثال النعل عن النعل وجعلوا لہ من الاکراہ والاحترام ماللمنوب عنہ وذکر وا لہ خواصا و برکات وقد جربت ۱؎ الخ۔
جہاں انھوں نے فرمایا مؤلف رحمہ اللہ تعالٰی نے اسماء کے عنوان کے بعد روضہ مبارک اور قبور مقدسہ کے بیان کے لئے باب قائم فرمایا شیخ تاج الدین فاکہانی کی موافقت کرتےہوئے کیونکہ انھوں نے اپنی کتاب ''الفجر المنیر'' میں قبور مقدسہ کے بیان کے لئے عنوان قائم فرمایا اور اس کے فوائد میں یہ بھی ہے کہ جس کا اصل روضہ پاک کی زیارت نصیب نہ ہو تو وہ نقش نعل کی زیارت کرے اور بوسہ دے اور خوب محبت کا مظاہر ہ کرے علماء نے نعل کے نقشہ کو نعل کے قائم مقام قرار دے کر اس کے لئے وہی اکرام واحترام اقرار دیا جو اصل نعل شریف کے لئے ہے اور انھوں نے اس کے خواص وبرکات ذکر کئے جن کا تجربہ ہوچکا ہے۔ (ت)
(۱؎ مطالعات المسراقات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۴۴)
دیکھو علمائے کرام کے یہ ارشادات نقشوں کے باب میں ہیں جو خود عین منتسب بھی نہیں بلکہ اس کی مثال وتصویر ہیں تو غلاف کعبہ معظم شرعی یعنی کعبہ معظمہ سے خاص نسبت مس رکھتا ہے اس کی نسبت بہ نیت تعظیم وتبرک ان افعال کے جواز میں شک وشبہہ کیا ہے،
قال المقتضی فی العموم موجود والمانع فی الخصوص مفقود وذٰلک کاف فی حصول المقصود والحمد ﷲ العلی الودود
عموم کا تقاضا ہے جبکہ خاص کے لئے کوئی مانع نہیں ہے مقصد کے حصول کے لئے یہ کافی ہے۔ اللہ تعالٰی بلند وذات کے لئے حمد ہے۔ (ت)
رہا لوگوں کا اس پر ہجوم کرنا یہ بھی آج کی بات نہیں قدیم سے آثار متبرکہ پر اہل محبت وایمان یونہی ہجوم کرتے آئے۔ صحیح بخاری شریف وغیرہ کتب حدیث میں ہے جب عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ تعالٰی عنہ سال حدیبیہ قریش کی طرف سے خدمت اقدس حضور پر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ میں حاضر ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو دیکھا۔
انہ لایتوضا الا ابتدروا وضوءہ و کادوایقتلوان علیہ ولا یبصق بصاقا ولایتنخم نخامۃ الا تلقوھا باکفھم فدلکوابھاوجوھھم واجسادھم الحدیث ۱؎
یعنی حب حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وضو فرماتے ہیں حضور کے آب وضو پر بیتابانہ دوڑتے ہیں قریب ہے کہ آپس میں کٹ مریں اور جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لعاب دہن مبارک ڈالتے یا کھکھارتے ہیں اسے ہاتھوں میں لیتے اور اپنے چہروں اور بدنوں پر ملتے ہیں۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشرط فی الجہاد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۹)
(الشفاء الشریف حقوق المصطفٰی فصل فی عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ الخ عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۲/ ۳۱)
کادوایقتلون علیہ
کی حالت کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے خود حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مواجہہ عالیہ میں ثابت
کادوایکونون علیہ لبد
اسے کہ یہاں سوال میں مذکور جہا زائد ہے یونہی بوسہ سنگ اسود پر ہجوم وتزاحم قدیم سے ہے بالجملہ اس نفس فعل کا جواز یقینی اور جب نیت تبرک وتعطیم شعائر اللہ ہے تو قطعا مندوب اور شرعا مطلوب مگر پنجگانہ نماز کے بعد علی الدوام اس کی زیارت وتقبیل کاالتزام اور جمعہ کے دن عام عوام کے بیقیدانہ ہجوم واژدحام میں اگر اندیشہ بعضم فاسد دینیہ ہو تو اس تقیید والتزام واطلاق اژدحام سے بچنا چاہئے اور خود ہروقت پیش نظر معلق رہنا باعث اسقاط حرمت ہوتاہے ولہذا حرمین طیبین کی مجاورت ممنوع ہوئی، امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ بعد حج تمام قوافل پر درہ لئے دروہ فرماتے اور ارشاد کرتے اے اہل یمن یمین کوجاؤ۔ اے اہل شام! شام کا راستہ لو۔ اے اہل عراق! عراق کو کوچ کرو کہ اس سے تمھارے رب کے بیت کی ہیبت تمھاری نگاہوں میں زیادہ رہے گی'' راہ اسلم وطریق اقوم یہ ہے کہ اسے کسی صندوقچہ میں ادب وحرمت کے ساتھ رکھیں اور احیانا خواہ مہینے میں کچھ دن قرار دے کر بروجہ اجلال حسن واعظام مستحسن اس کی زیارت مسلمین کو کرادیا کریں جس طرح سلطان اشرف عادل نے شہر دمشق الشام کے مدرسہ اشرفیہ میں خاص درس حدیث کے لئے ایک مکان مسمی بدارالحدیث بنایا اور اس پر جائداد کثیر وقف فرمائی اور اس کی جانب قبلہ مسجد بنائی اور محراب مسجد سے شرق کی طرف ایک مکان نعل مقدس حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے تعمیر کیا اور اس کے دروازے پرمسی کواڑ رز سے ملمع کرکے لگائے کہ بالکل سونے کے معلوم ہوتے تھے۔ اور نعل مبارک کو آبنوس کے صندوق میں بادب رکھا اور بیش بہا پردوں سے مزین کیایہ دروازہ ہر دوشنبہ وپنچشنبہ کو کھولا جاتا اور لوگ فیض زیارت سر اپا طہارت سے برکات حاصل کرتے۔
کما ذکر العلامۃ المقری فی فتح المتعال وغیرہ وغیرہ
(جیسا کہ علامہ مقری نے فتح المتعال میں اور ان کے علاوہ دیگر علماء نے دیگر کتابوں میں ذکرکیاہے) یہ مدرسہ ودارالحدیث مذکور ہمیشہ مجمع ائمہ وعلمار ہے امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم اس میں مدرس تھے پھر امام خاتم المجتہدین ابوالحسن تقی الدین علی بن عبدالکافی سبکی صاحب شفاء السقام ان کے جانشین ہوئے یونہی اکابر علماء درس فرمایاکئے۔ سلطان موصوف کے اس فعل محمود پر کسی امام سے انکار وماثور نہ ہوا بلکہ امید کی جاتی ہے کہ خود وہ اکابر اس کی زیارت میں شریک ہوتے اور فیض وبرکت حاصل کرتے ہوں، محدث علامہ حافظ برہان الدین حلبی رحمہ اللہ تعالٰی نور النبراس میں فرماتے ہیں قال شیخنا الامام المحدث امین المالکی :
وفی دارالحدیث لطیف معنی وفیھا متنہی اربی وسؤلی
احادیث الرسول علی تتلی وتقبیلی لاثار الرسول ۱؎
(یعنی ہمارے استاذ امام محدث امین الدین مالکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں مدسہ دارالحدیث میں ایک لطیف مقصدہے اور اس میں میرامقصد اورمطلوب بروجہ کامل حاصل ہے حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ پر پڑھی جاتی ہے اور حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آثار شریفہ کا بوسہ مجھے نصیب ہوتاہے)
(۱. نورالنبراس حافظ برہان الدین حلبی)
غرض طریقہ زیارت تو یہ رکھیں پھر جسے یہ ادب وحرمت بے دقت وزحمت شرف بوس مل سکے فبہا ورنہ صرف نظر پر قناعت کرے بوسہ سنگ اسود کہ سنت مؤکدہ ہے۔ جب اپنی یاغیر کی اذیت کا باعث ہو ترک کیا جاتا ہے تو اس بوسہ کا توپھر دوسرا درجہ ہے۔