یادار خیر المرسلین ومن بہ ھدی الانام وخص بالایات
عندی لاجلک لوعۃ وصبابۃ وتشوق متوقد الجمرات
وعلیّ عہد ان ملأت محاجری من تلکم الجدرات والعرصات
لاعفرن مصون شیبی بینھا من کثرۃ التقبیل والرشفات ۱؎
(خیر المرسلمین جہاں کے ہادی اور معجزات والے کی رہائش گاہ میرے ہاں ۤاپ کی وجہ سے درد، عشق اور اظہار جس سے کنکریاں جل رہی ہیں جس وقت میں ان دیواروں اور میدانوں کی زیارت سے اپنی نگاہوں کو سیراب کروں تو بوسے اور چوسنے کی کثرت سے اپنی سفیدریش کو ضرور مٹی سے ملوث کروں گا۔ ت)
(۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۲/ ۴۶)
اس سے بھی ارفع واعلٰی واضح وجلی یہ ہے کہ طبقۃ فطبقۃ شرقا وغربا عجما عربا علمائے دین و ائمہ معتمدین نعل مطہر وروضہ معطر حضور سید البشر علیہ افضل الصلٰوۃ واکمل السلام کے نقشے کاغذوں پر بناتے، کتابوں میں تحریر فرماتے آئے اور انھیں بوسہ دینے والی انکھوں سے لگانے سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے۔ علامہ ابوالیمن ابن عساکر شیخ ابواسحق ابراہیم بن محمد بن خلف سلمی وغیرہما علماء نے اس باب میں مستقل تالیفیں کیں اور علامہ احمد مقری کی فتح المتعال فی مدح خیر النعال اس مسئلہ میں اجمع وانفع تصانیف ہے۔
(اللہ تعالٰی ان کو جزاء حسن اور اس بہتر نعال شریف کی برکت سے امن وسکون عطا فرمائے آمین۔ ت) محدث علامہ فقیہ ابوالربیع سلیمن بن سالم کلاعی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: ؎
یاناظر اتمثال نعل نبیہ قبل مثل النعل لامتکبرا ۲؎
(اے اپنے بنی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نقشہ نعل مبارک دیکھنے والے! اس نقشہ کو بوسہ دے بے تکبر کے)
(۲؎ جواہر البحار ومنہم الامام احمد المقری لالخ مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۶۳)
قاضی شمس الدین صیف اللہ رشیدی فرماتے ہیں: ؎
لمن قدمس شکل نعال طٰہ جزیل الخیر فی یوم الحسان
وفی الدنیا یکون بخیر عیش وعز فی النھاء بلا ارتیاب
فبادروا لثم الاثار منھا بقصدالفوز فی یوم حسان ۳؎
نقش نعل طٰہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مس کرنے والے کو قیامت میں خیر کثیر ملے گی اور دنیا میں یقینا نہایت اچھے عیش وعزت وسرور میں رہے گا تو روز قیامت مراد ملنے کی نیت سے جلد اس اثر کریم کو بوسہ دے)
شیخ فتح اللہ بیلونی حلبی معاصر علامہ مقری نعل مقد سے عرض کرتے ہیں ؎
فی مثلک یانعال اعلی النجبا اسرار بیمنھا شھدنا العجبا
من مرع خدہ بہ مبتھلا قدقام لہ ببعض ماقدوجب ۱؎
(اے سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نعل مبارک! تیرے نقشہ میں وہ اسرار ہیں جن کی عجیب برکتیں ہم نے مشاہدہ کیں جو اظہار عجز ونیاز کے ساتھ اپنا رخسار اس پر رگڑے وہ بعض حق اس نقشہ مقدسہ کے جوا اس پر واجب ہیں ادا کرے)
وہی فرماتے ہیں :
مثال نعل بوطی المصطفٰی سُعدا فامد الی لثمہ بالذل منک یدا
واجعلہ منک علی العینین معترفا بحق توقیرہ بالقلب معتقدا
وقبلہ واعلن بالصلاۃ علی خیرالانام وکرر ذاک مجتھدا ۲؎
(یہ نقشہ اس نعل مبارک کا جو مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قدم سے ہمایوں ہوئے تو اس کے بوسہ دینے کو تذلل کے ساتھ ہاتھ بڑھا اور زبان سے اس کے وجوب وتوقیر کا اقرار اور دل سے اعتقاد کرتا ہوا اسے آنکھوں پر رکھ اور بوسہ دے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر باعلان درود بھیج اور کوشش کے ساتھ اسے بار بار بجالا)
سید محمد موسٰی حسینی مالکی معاصر علامہ ممدوح فرماتے ہیں: ؎
(مصطفی ا شرف الخلق صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نقشہ نعل اقدس میں وہ مقام حضور ہے جس سے تو نے رجوع نہ چاہے تو اسے یقین او رسچی نیت کے ساتھ چہرہ سے لگا دل کی مراد پائے گا)
محمد بن سبتی فرماتے ہیںـ: ؎
فمی قبلتھا مثل نعل کریمۃ بتقبیلھا یشفی سقام من اسمہ استشفٰی ۱؎
اے میرے منہ اسے بوسہ دے یہ نعل کریم کا نقشہ ہے اس کے بوسہ سے شفا طلب کر مرض دور ہوتاہے)
علامہ احمد بن مقری تلمسائی صاحب فتح المتعال میں فرماتے ہیں: ؎
اکرم بتمثال حکی نعل من فاق الوری بالشرف الباذخ
طوبی لمن قبلہ منباء یلثمہ عن حبہ الراسخ ۲؎
(کس قدر معزز ہے ان کی نعل مقدس کا نقشہ جو اپنے شرف عظیم میں تمام عالم سے بالا ہیں خوشی ہو اسے جو اسے بوسہ دے اپنی راسخ محبت ظاہر کرتاہوا)
(۲؎ فتح المتعال)
علامہ ابوالیمن ابن عساکر فرماتے ہیں: ؎
الثم ثری الاثر الکریم فحبذا ان غزت منہ بلثم ذا التمثال ۳؎
نعل مبارک کی خاک پر بوسہ دے کر اس کے نقشے ہی کا بوسہ دینا تجھے نصیب ہو تو کیا خوب بات ہے)
علامہ ابوالحکم مالک بن عبدالرحمن بن علی مغربی جنھیں علامہ عبدالباقی زرقانی نے شرح مواہب شریف میں احدالفضلاء المغاربۃ (فضلائے مغرب میں سے ایک ۔ ت) کہا۔ اپنی مدحیہ میں فرماتے ہیں: ؎
مثل نعل من احب ھویتہ فھا انا فی یوم ولیلی الثمہ ۴؎
(میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نعلین مبارک دوست رکھتااور رات دن اسے بوسہ دیتاہوں)
(۴؎ شرح الزرقانی علی المواھب نعلہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مصر ۵/ ۵۷)
امام ابوبکر احمد ابن امام ابومحمد بن حسین انصاری قرطبی فرماتے ہیں: ؎
( اس نعل مبارک کے جلال انور سے ہم نے اس کے لئے خضوع کیا اور جب تک ہم اس کے حضور جھکیں گے بلند رہیں گے تو اسے بالائے سر رکھ کہ حقیقت میں تاج اور صورت پر نعل ہے)
شرح مواہب میں ان امام کا ترجمہ عظیمہ جلیلہ مذکور اور ان کا فقیہ محدث وماہر و ضابط ومتین الدین و صادق الودع وبے نظیر ہونا مسطور ا مام علامہ احمد بن محمد خطیب قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری نے مواہب اللدنیہ ومنح محمدیہ میں ان امام کے یہ اشعار ذکر نقشہ نعل اقدس میں انشاد کئے اور مدحیہ علامہ ابوالحکم مغربی کو ما احسنھا۲؎ (کیا ہی اچھا ہے۔ت) اور نظم علامہ ابن عساکر سے ﷲ درہ ۳؎ (اللہ اکیلے اس کی بھلائی ہے) فرمایا۔