Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
59 - 146
رسالہ

ابرالمقال فی استحسان قبلۃ الاجلال (۱۳۰۸ھ)

(بوسہ تعظیمی کے مستحسن ہونے میں درست ترین کلام)
بسم اللہ الرحمن الرحیم  نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۴۰ : از سورت کٹھور مسجد پرب مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب از علیگڑھ مدرسہ مولانا مولوی محمد لطیف اللہ صاحب مرسلہ مولوی سندی صاحب طرفہ ایں کہ از ہردوجابوقت واحد سوال آمد (طرفہ یہ کہ ایک ہی وقت دونوں جگہوں سے سوال آیا۔ ت) ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ شہر موریس میں قبلہ رخ کی دیوار کے ساتھ محراب کے متصل بیت اللہ شریف کے غلاف کا ٹکڑا دوگز لمبا او رسوا گز چوڑا لٹکا ہوا ہے اور وہاں کے باشندے میمن وغیرہ سب سوداگر خاص وعام بعد پنچگانہ اس ٹکڑے کو بوسہ دیتے ہیں اور بعد نماز جمعہ کے تو بوجہ کثرت نمازیوں کے بوسہ دینے میں بہت ہی ہجوم کرتے ہیں۔ کوئی چاربوسے دیتاہے کوئی زیادہ کوئی کم، جیسا کسی کا موقع لگاویسا ہی اس نے کیا، اور کوئی ہجوم اور کثرت کی وجہ سے محروم بھی رہ جاتاہے۔ اور اس امر میں اس کو معظم چیز سمجھا کر کمال کوشش کرتے ہیں۔ کسی قدر جاننے والے لوگ تو تعظیم کا بوسہ دیتے ہیں۔ او ر عوام کا حال معلوم نہیں کہ وہ کیا سمجھ کر بوسہ دیتے ہیں لیکن ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اس میں بہت مبالغہ کرتے ہیں۔ آیا یہ امر شرعا موجب ثواب ہے یا کسی امر خارجی کی وجہ سے مستوجب عذاب ہے؟ بینوا توجروا (بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب  

بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ، ونصلی علی رسولہ الکریم
بوسہ تعظیم شرعا وعرفا انحاء تعظیم سے ہے اسی قبیل سے ہے بوسہ آستانہ کعبہ وبوسہ مصحف و بوسہ نان وبوسہ دست وپائے علماء واولیاء۔
وکل ذٰلک مصرح بہ فی الکتب کالدرالمختار ۱؎من معتمدات الاسفار ۔
درمختار جیسی دیگر معتمد کتب میں اس تمام کی تصریح کی گئی ہے۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار     کتا ب الحظروا ولاباحۃ     فصل فی الاستبراء وغیرہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۲۵)
خودا حادیث کثیرہ میں صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کادست وپائے اقدس حضور پر نور سید یوم المنشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ومہر نبوت کو بوسہ دینا وارد۔
کما فصلنا بعضہ فی کتابنا البارقۃ الشارقۃ علی المارقۃ المشارقۃ۔
جیسا کہ ہم نے بعض کو اپنے کتاب
البارقۃ الشارقۃ علی المارالمشارقۃ
میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (ت)
اور مانحن فیہ سے اقرب واوفق حدیث عبداللہ بن عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما ہے کہ انھوں نے منبر انور سرور اطہر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے موضع جلوس اقدس کو مس کرکے اپنے چہرے سے لگایا
رواہ ابن سعد فی طبقاتہ ۲؎
 (ابن سعد نے اپنی طبقات میں اسے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد     ذکر منبر رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم     دارصادر بیروت    ۱/ ۲۵۴)
اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم سے مروی کہ رمّانا اعطر کو جو مزار اقدس وازہر پر ہے یعنی اس کے بازو پر جوگول شکل کا ایک کنگرہ سابنا دیتے اسے دہنے ہاتھ سے مس کرکے دعا مانگا کرتے، امام قاضی عیاض رتعت روحہ فی الریاض شفا شریف میں فرماتے ہیں :
قال نافع  کان ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما یسلم علی القبور اٰتیہ مائۃ مرۃ واکثر یجیئ الی القبر فیقول السلام علی النبی، السلام علی ابی بکر ثم ینصرف ورُئِیَ (بمعنی ابصر) واضعا یدہ علی مقعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من المنبر ثم وضعہا علی وجہہ وعن ابن قسیط والعتبی کان اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا اخلا المسجد حسوا رمانۃ المنبر التی تلی القبر بیامنہم ثم استقبلوا القبلۃ یدعون ۱؎۔
حضرت نافع رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما جب حجرہ پا ک کی قبروں پر سلام کرنے حاضر ہو کر سو سے زائد مرتبہ کہتے ''حضور علیہ الصلوٰہ والسلام پر سلام حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر سلام'' پھر پلٹتے ہوئے منبر شریف پرحضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بیٹھنے کی جگہ کو ہاتھ سے مس کرکے اپنے چہرے پر لگاتے۔ ابن قسیط اور عتبٰی سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم جب مسجد نبوی سے نکلتے تو قبر انور کے کناروں کو اپنے داہنے ہاتھ سے مس کرتے اور پھرقبلہ رو ہوکر دعا کرتے (ت)
(۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی  فصل فی حکم زیارۃ قبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلکم     عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان    ۲/ ۷۰)
غرض شرعا وعرفا معلوم ومعروف کہ جس چیز کو معظم شرعی سے شرف حاصل ہو اس کا وہ شرف بعد انتہائے مماست بھی باقی رہتا ہے اور اس کی تعظیم اس کی معظم کی انحائے تعظیم سے گنی جاتی ہے اور معاذاللہ اس کی توہین اس معظم کی توہین تاج سلطان کو مثلا زمین پر ڈالنا صرف اسی وقت اہانت سلطان نہ ہوگا جبکہ وہ اس کے سر پر رکھا ہی بلکہ جدا ہونے کی حالت میں بھی ہر عاقل کے نزدیک یہی حکم ہے یونہی تعظیم۔
شفاء شریف میں ہے :
من اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعظام جمیع اسبابہ واکرام مشاھدہ وامکنتہ من مکۃالمدینۃ ومعاھدہ ومالمسہ علیہ الصلٰوۃ والسلام او عرف بہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تعظیم میں سے یہ ہے کہ آپ کے تمام اسباب تمام مشاہد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آپ کے تمام مکانات، متعلقہ اشیاء اور جن چیزوں کو آپ نے مس فرمایا یا جو آپ سے معروف ہیں کی تعظیم وتکریم بجالانا ہے۔ (ت)
(۲؎الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی      فعلک ومن اعظامہ واکبارہ الخ       عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان   ۲/ ۴۴)
اور بیشک تعظیم، منسوب بلحاظ نسبت تعظیم منسوب الیہ ہے۔ اور بیشک کعبہ شعائر اللہ سے ہے توتعظیم غلاف تعظیم کعبہ وتعظیم شعائر اللہ شرعا مطلوب۔
ومن یعظم شعائر اﷲ فانھامن تقوی القلوب ۱؎۔
اور جو شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقوٰی ہے۔ (ت)
 (۱؎القرآن الکریم      ۲۲/ ۳۲)
بلکہ نظر ایمان سے مس ولمس کی بھی تخصیص نہیں جس شے کو معظم شرعی سے کسی طرح نسبت سے واجب التعظیم ومورث محبت ہے ولہذابلدۃ طیبہ مدینہ طیبہ سکینہ علی صاحبہا الصلٰوۃ والتحیۃ کے درودیوار کو مس کرنا اور بوسہ دینا اہل حب وولاکا دستور اور کلمات ائمہ وعلماء میں مسطور، اگر چہ ان عمارات کا زمانہ اقدس میں وجود ہی نہ ہو شرف مس سے
تشرف درکنار وللہ در من قال
 (اللہ تعالٰی کے لئے خوبی جس نے کہا) ؎
آمرُ علی الدیار دیار لیل     اقبل ذالجدار وذواالجدارا

وصاحب الدیار شغفن قلبی     ولکن حب من سکن الدیارا  ۲؎
 (میں دیار لیلٰی سے گزرتے ہوئے دیواروں اور دیواروں کو بوسہ دے رہا تھا اور میرے دل میں اس دیار والی رچی بسی ہے لیکن اس دیار کے باسیوں سے محبت ہے۔ ت)
 (۲؎ شفاء السقام     الباب الرابع         مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ص۷۳)

(جواہرالبحار     ومنہم امام المقری فمن جواہر فرح المتحال فی مدح النعال النبویہ     مصطفی البابی مصر    ۳/ ۱۷۷)

(نسیم الریاض     فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ     دارالفکر بیروت    ۳/ ۴۳۴)
شفاء شریف میں ہے :
وجدیرلمواطن اشتملت تربتھا علی جسد سید البشر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مدارس ومشاھد وموافقت ان تعظم عرصاتھا وتنستسم نفحاتھا و تقبل ربوعھا وجد راتھا ۳؎ اھ ملخصا۔
جن مقامات کی مٹی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے جسد پاک کو لگی ہے ان راستوں، مشاہد اور مواقف کے میدانوں کی تعطیم، فضاؤں کی تکریم، ٹیلوں اور دیواروں کو بوسہ دینا مناسب ہے۔ اھ ملخصا۔ (ت)
 (۳؎ الشفاء بتعریف المصطفٰی   فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ   عبدالتوب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان     ۲/ ۴۵ و ۴۶)
Flag Counter