Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
58 - 146
ہاں لفظ سلام کے ساتھ ہاتھ کا اشارہ بھی ہو تو مضائقہ نہیں۔
اخرج الترمذی قال حدثنا سوید نا عبداﷲ بن المبارک نا عبدالحمید بن بھرام انہ سمع شہر بن حوشب یقول سمعت اسماء بنت یزید تحدث ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مرفی المسجد یوما وعصبۃ من النساء قعود فالوی بیدہ ھذا حدیث حسن ۱؎ الخ۔ قال الامام النووی وھو محمول علی انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جمع بین اللفظ والاشارۃ ویدل علی ھذا ان اباداؤد روی ھذا الحدیث وقال فی روایتہ فسلم علینا اھ ، قال العلامۃ القاری بعد نقلہ قلت علی تقدیر عدم تلفظہ علیہ الصلٰوۃ والسلام بالسلام لامحذور فیہ لانہ ماشرع السلام علی من مرعلی جماعۃ من النسوان وان مامرعنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام مما تقدم علی السلام المصرح فھو من خصوصیاتہ علیہ الصلٰوۃ والسلام فلہ ان یسلم ولا یسلم وان یشیر و لایشیر علی انہ قد یراد بالاشارۃ مجرد التواضع من غیر قصد السلام ۱؎ الخ
امام ترمذی نے تخریج کیا اور فرمایا ہم سے سوید نے بیان کیا ہے۔ ان سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ۔ وہ فرماتے ہیں ہم سے عبدالحمید بن بہرام نے بیان کیا کہ اس نے شہر بن حوشب کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے اسماء دختر یزید سے سنا کہ وہ بیان کرتی تھیں کہ ایک دن مسجدمیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا گزر ہوا جبکہ کچھ عورتوں کی ایک جماعت وہاں موجود تھی آپ نے ہاتھ مبارک سے اشارہ فرمایا۔ یہ حدیث حسن ہے الخ۔ امام نووی نے فرمایا یہ اس بات پر محمول سمجھا جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ نے لفظ سلام اور اشارہ دونوں کو بیک وقت جمع کرکے استعمال کیا (یعنی زبان مبارک سے انھیں سلام کہا اور ہاتھ مبارک سے انھیں متوجہ کرنے کے لئے اشارہ فرمایا جوجائز اور درست اقدام ہے۔ مترجم) اور اس پر دلیل یہ ہے کہ امام ابوداؤد نے اس حدیث کی روایت میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اھ۔ حضر ت ملا علی قاری نے اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایا میں کہتاہوں اس تقدیر پر کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی زبان مبارک سے لفظ سلام نہ بولا ہو تو پھر کوئی شرعی محذور (خلاف ورزی) نہیں کیونکہ جو کوئی عورتوں کے گروہ کے پاس سے گزرے اس کے لئے انھیں سلام کرنا مشروع نہیں۔ اور اگر آپ نے زبان مبارک سے مستورات کی جماعت کوسلام کیاہو جیسا کہ گزشتہ حدیث میں سلام کرنے کی تصریح موجود ہے تو پھر اس کا جواب یہ ہے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی دیگر خصوصیات کی طرح یہ بھی آپ کی خصوصیت ہو لہذا آپ کی مرضی پرمنحصر ہے کہ مستورات کے گروہ کو سلام کریں یا نہ کریں۔ اشارہ فرمائیں یا نہ فرمائیں۔ (گویا آپ کی ذات پر کسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ مترجم) علاوہ یہ کہ کبھی اشارہ سے بغیر قصد سلا م کے صرف تواضع مرادہوتی ہے الخ
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب النکاح باب ماجاء فی من یتزوج الخ     امین کمپنی دہلی        ۱ /۱۳۳)

(۲؎ التیسیر للامام المناوی     تحت حرف للام     مکتبہ الامام الشافعی الریاض        ۲ /۳۲۹)

(۱؎ جامع الترمذی     ابواب الاستیذان باب ماجاء فی التسلیم علی النساء     امین کمپنی دہلی        ۲ /۹۴)
اقول: مبنی کلہ علی انہ لم یرد السلام ولایظھر فرق بین ماذکر اولا ومازاد فی العلاوۃ سوی انہ ذکر فیہا للاشارۃ محملاوھو التواضع وہذہ شاھدۃ الواقعۃ سیدتنا اسماء رضی اﷲ تعالٰی عنہا شاھدۃ بانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سلم فان لم یحمل علی التلفظ لزم ان تکون نفس الاشارۃ تسلیما وھو معلوم الانتفاء من الشرع فوجب الحمل علی الجمع تأمل لعل لکلامہ محملا لست احصلہ۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اقول:  (میں کہتاہوں) اس سب کی بنیاد اس پر ہے کہ آپ نے ارادہ سلام نہ فرمایا ہو۔ لہذا پہلے مذکورہ کلام اور اس کے علاوہ اضافی کلام میں کوئی فرق ظاہر نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ اس دوسری توجیہ میں اشارہ کا محل تواضع بیان کردیا گیا۔ اور اس واقعہ کی عینی گواہ سیدہ اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا ہیں جو چشم دید واقعہ بیان فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عورتوں کو سلام کیا (لہذا اس کا محمل تلفظ ہے۔ مترجم) اوراگر اس کوتلفظ پر حمل نہ کیا جائے توپھر نفس اشارہ کا سلام ہونا لازم آئے گا اور شریعت میں اس کی نفی معلوم ہی ہے۔ پھر لامحالہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے طریقہ مذکورہ کو سلام اوراشارہ دونوں کے جمع پر حمل کرنا واجب (ضروری ) ہوا۔ یہاں اچھی طرح غور وفکر کرلیجئے شاید ان کے کلام کا کوئی اور قابل قدر محمل بھی ہوجو میں نہیں حاصل کرسکا، اور اللہ تعالٰی پاک۔ برتر سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ (ت)
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح     کتاب الآدب الفصل الثانی     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۸/ ۴۳۱)
مسئلہ ۱۳۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بالالتزام بعد صلٰوۃ فجر مصافحہ کرنا مسنون ہے یا مستحب؟ یاعبث یا مکروہ؟
بینوا للہ توجروا عنداللہ
 (اللہ تعالٰی کےلئے بیان فرماؤ تاکہ اس کے ہاں اجر وثواب پاؤ۔ت ) فقط۔
الجواب : مباح ہے۔
فی نسیم الریاض الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب
 (نسیم الریاض میں ہے کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایسی بدعت ہے جو مباح ہے۔ اور اللہ تعالٰی ہی اچھی طرح راہ صواب کا عالم ہے۔ ت)
(۲؎ نسیم الریاض     فی شرح الشفاء     الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     ۲/ ۱۳)
مسئلہ ۱۳۵ تا ۱۳۹: مرسلہ عبدالمجید خاں ضلع ہگلی ڈاکخانہ ریشٹراسرکاری

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں بعد مصافحہ زید نے بکر کا ہاتھ چومہ آنکھوں سے لگایا جائز ہے یانہیں؟

(۲) مرید اپنے پیر کا ہاتھ بعد مصافحہ چومنا ایک ضروری امر اپنے لئے سمجھے جائز ہے یانہیں؟

(۳) پیر کو اپنے مرید سے اپنا ہاتھ چوموانا چاہئے یانہیں؟

(۴) ہاتھ چومنا کسی کا بزرگ سمجھ کر جائز ہے یاناجائز؟

(۵) ہاتھ چومنا سنت ہے یا فعل بزرگان دین یا فعل تابعین یا فعل صحابہ کرام؟ جواب ازروئےفقہ و حدیث نہ رسوم شیوخ پابند طریق۔
الجواب : بزرگان دین مثل پیر مہتدی وعالم سنی کے ہاتھ چومنا جائز بلکہ مستحب بلکہ سنت ہے ہاں کسی دنیادار کا ہاتھ دنیا کےلئے چومنا منع ہے۔ درمختارمیں ہے:
لاباس بتقبیل یدالعالم والمتورع علی سبیل التبرک ۱؎۔
کچھ حرج نہیں کہ کسی عالم اور زاہد کے ہاتھوں کو حصول برکت کے لئے بوسہ دیا جائے۔ (ت)
 (۱؎درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۴)
ردالمحتارمیں ہے:
قال الشرنبلالی وعلمت ان مفاد الاحادیث سنیتہ اوند بہ کما اشارالیہ العینی ۲؎۔
علامہ شرنبلالی نے فرمایا: تو نے یہ سمجھ لیا کہ حدیثوں کا مفاد (اس کام کا) سنت یا مستحب ہونا ہے جیسا کہ علامہ عینی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار       کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۴۵)
درمختارمیں ہے:
فی المحیط ان التعظیم اسلامہ واکرامہ جاز وان لنیل الدنیا کرہ ۳؎۔
محیط میں ہے اس کی تعظیم اورعزت افزائی کی خاطر (ایسا کرنا) جائز ہے لیکن حصول دنیا کے لئے (ایسا کام کرنا ) مکروہ ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار       کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ    مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۲۴۵)
مگر ہاتھ چومنا بایں معنی ضروری نہیں کہ فرض یا واجب ہے۔ ہاں رسم وعرف مسلمین میں اس کی دست بوسی شائع ہو تو اسکا ایک فعل مسنون یا مستحب ہے۔ احتراز کرکے مسلمانوں کی عادت کا خلاف کرنا اور وحشت دلانا یہ جائز نہیں حدیقہ ندیہ وغیرہا میں ہے:
خروجہ عن العادۃ شھرۃ ومکروہ ۱؎۔
لوگوں کی مقرر عادت سے باہر ہونا(اور اس کا خلاف کرنا) ایک گونہ شہرت (نمائش) اورمکروہ ہے۔ (ت)
 (۱؎ الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ محمدیہ     الصنف التاسع     تتمۃ الاصناف التسعۃ     نوریہ رضویہ     ۲/ ۵۸۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولا تنفروا ۲؎۔
خوشخبری سناؤاور (لوگوں کو) نفرت نہ دلاؤ۔ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری     کتاب العلم     باب ماکان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یتخولھم بالموعظۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۶)
اور پیر کا اپنے مریدوں سے ہاتھ چوموانا بایں معنی کہ وہ چومنا چاہیں تویہ منع نہیں کرتا بلکہ ہاتھ بڑھادیتاہے کوئی حرج نہیں رکھتا بلکہ اگر قدم چومنا چاہیں اور یہ منع نہ کرے جب بھی جائزہے۔
درمختارمیں ہے:
طلب من عالم اوزاھد ان یدفع الیہ قدمہ ویمکنہ من قدمہ لیقبلہ اجابہ و قیل لا ۳؎۔
کسی عالم یا کسی زاہد (پرہیز گار) سے کسی نیاز مند نے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے پاؤں اس کے حوالے کردے اور ان پر اسے تسلط اور قابو پانے کا اختیار دے تاکہ وہ انھیں بوسہ دے تو عالم اور زاہد اس کی درخواست قبول فرمائے، (یعنی پاؤں چومنے کی اجازت دے) اور (ایک ضعیف روایت میں) کہا گیا کہ ایسا کرنے کی اجازت نہ دے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء وغیرہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۵)
ردالمحتارمیں ہے:
لما اخرجہ الحاکم ان رجلااتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاذن لہ فقبل رجلیہ ۴؎۔
اس لئے محدث حاکم نے اس روایت کی تخریج فرمائی کہ ایک صاحب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے (انھوں نے آپ کے پاؤں چومنے کی درخواست کی)تو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں اجازت دی تو انھوں نے آپ کے قدم چومے واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۴؎ ردالمحتار   کتاب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء وغیرہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۴۵)
Flag Counter