Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
57 - 146
مسئلہ ۱۳۲: ۱۶ رجب ۱۳۱۶ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ  کہ مصافحہ صبح کے وقت بعد نماز کرنا  مسنون ہے یا نہیں اور اگر کسی نے بعد نماز صبح کے مصافحہ کیا تو وہ بدعت ہے یا سنت؟بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب

اگر نماز سے پیشتر آج ملاقات نہ ہوئی تھی بعد نماز ملے یہ مصافحہ خاص مسنون ہے
  لکونھا عند اول اللقاء
 (اس لئے کہ یہ مصافحہ پہلی ملاقات کے وقت ہواہے۔ ت) اور اگر پہلے مل چکے تھے تو اب بعد نماز کے گویابعد غیبت ملاقات جدیدہ ہے مصافحہ مذہب اصح میں مباح ہے۔
کما حققہ فی المرقاۃ وقال فی نسیم الریاض انہ الاصح ۴؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
جیسا کہ مرقات شرح مشکوٰۃ میں اس کی تحقیق فرمائی گئی، او ر نسیم الریاض میں فرمایا: یہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
 (۴؎ نسیم الریاض فی شرح الشفاء     الباب الثامن فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۱۳)
مسئلہ ۱۳۳: ۲۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص ایک جگہ پر بیٹھے ہوں اور ایک شخص نے آکر کہا اسلام علیکم اس کے جواب میں انھوں نے جواب دیا: آداب عرض یا تسلیمات یا بندگی۔ یا ان میں سے ایک شخص نے اپنا ہاتھ ماتھے تک اٹھایا اور منہ سے کچھ جواب نہ دیا۔ پس کفایہ اشخاص مذکورہ اس صورت میں اٹھ گیا یانہیں؟ اس صورت میں کیا حکم ہے؟
الجواب : نہ۔ اور سب گنہگار رہے۔ جب تک ان میں سے کوئی وعلیکم السلام ، وعلیک یا اسلام علیکم نہ کہے کہ الفاظ مذکورہ بندگی، آداب، تسلیمات وغیرہا الفاظ سلام سے نہیں ہیں۔ اور صرف ہاتھ اٹھادینا کوئی چیز نہں جب تک اس کے ساتھ کوئی لفظ سلام نہ ہو۔
ردالمحتار میں ظہیریہ سے ہے:
لفظ السلام فی المواضع کلھا السلام علیکم اوسلامٌ علیکم بالتنوین وبدون ھذین کما یقول الجھال لایکون سلاما ۱؎ اھ
سب مقامات پر لفظ سلام (بصورت) السلام علیکم (بغیر تنوین معرف بہ لام ذکر کرنا) یا دوسری صورت تنوین کے ساتھ ذکر کرنا ہے سلامٌ علیکم ان دونوں صورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت اختیار کرنا جائز نہیں جیسے جہلاء کا طریقہ ہے لہذا وہ سلام تصور نہیں ہوگا۔
 (۱؎ ردالمحتار     کتا ب الحظروالاباحۃ  فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۷)
اقول: فلا یکون جوابا لان جواب السلام لیس الا بالسلام اما وحدہ او بزیادۃ الرحمۃ والبرکات لقولہ تعالٰی
اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا او ردوھا ۲؎۔ ،
ومعلوم ان مااخترعوامن الالفاظ اوالاجزاء بالایماء اما ان یکون تحیۃ اولا علی الثانی عدم براء ۃ الذمۃ ظاہر لان الماموربہ التحیۃ وعلی الاول لیس عین السلام وھو ظاہر ولا احسن منہ فان المخترع لایمکن ان یکون احسن من الوارد فخرج عن کلاالوجہین وبقی الواجب الکفائی علی کل عین۔
اقول: (میں کہتاہوں) کہ اس کا مفھوم یہ ہے کہ وہ سلام کا جواب نہ ہوگا کیونکہ لفظ سلام کاجواب اسی لفظ سے ہوسکتاہے یا صرف یہی لفظ جواب میں کہا جائے یا اس کے ساتھ رحمت اور برکات کا اضافہ کیا جائے اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ جب تمھیں سلام کیا جائے توتم اس سے بہتر جواب دو اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم وہی لوٹا دو (یعنی اگر کوئی شخص تمھیں اسلام علیکم کہے تو اسے اضافی الفاظ کے ساتھ یوں جواب دو وعلیکم السلام ورحمۃاﷲ وبرکاتہ،۔ اور اگریہ نہ ہوسکے تو پھر اتنا ہی جواباً کہہ دو علیکم السلام) اسی سے معلوم ہوا کہ سلام کا جواب فقط سلام ہی سے ہوسکتا ہے اوریہ معلوم ہی ہےکہ لوگوں نے جو الفاظ یاطریقے سلام کے لئے اشارہ وغیرہ کی صورت میں از خود گھڑلئے ہیں ان کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ وہ تحیہ ہویعنی سلام تصور ہو اور دوسرے یہ کہ وہ تحیہ یعنی سلام نہ ہو۔ بصورت ثانی ذمہ داری پوری نہ ہونا (عدم براءت ذمہ) ظاہر ہے کیونکہ جس بات کاحکم دیا گیا (مامور بہ) وہ تحیہ یعنی سلام ہے اور پہلی صورت میں نہ تو وہ بعینہٖ سلام ہے جیسا کہ ظاہر ہے اور نہ اس سے بہتر (احسن)۔ اس لئے کہ خود ساختہ اور بناوٹی چیز منقول اور وارد شدہ سے کسی طرح اچھی قرار نہیں دی جاسکتی۔ پس دونوں صورتوں میں سلام کا جواب نہ ہوا۔ لہذا واجب کفایہ  بذمہ ہر فرد باقی رہا اور ادا نہ ہوا۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۴ /۸۶)
مرقاۃ شریف میں ہے :
قد صح بالاحادیث المتواترۃ معنی ان السلام باللفظ سنۃ وجوابہ واجب کذٰلک ۱؎۔
جو احادیث تواتر معنی کے درجے تک پہنچی ہوئی ہیں ان سے بصحت ثابت ہے کہ سلام دینا اس کے الفاظ کے ساتھ سنت ہے اور اس کا جواب دینا بھی اسی لفظ سے واجب ہے۔ (ت)
 (۱؂مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ المصابیح     کتا ب الاداب     الفصل الثانی     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۸ /۴۳۱)
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من تشبہ بغیرنا لاتشبہوا بالیھود ولابالنصاری فان تسلیم الیہود الاشارۃ بالاصابع وتسلیم النصارٰی الاشارۃ بالکف، رواہ الترمذی عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما وقال اسنادہ ضعیف ۲؎ قال العلامۃ القاری لعل وجہہ انہ من عمرو بن شیعب عن ابیہ عن جدہ وقد تقدم الخلاف فیہ وان المعتمد ان سندہ حسن لاسیما وقد اسندہ السیوطی فی الجامع الصغیر الی ابن عمرو فارتفع النزاع وزال الاشکال ۱؎ اھ،
ہمارے گروہ سے نہیں جو ہمارے غیروں کی شکل بنے، نہ یہود سے مشابہت پیدا کر نہ نصارٰی سے کہ یہود کا سلام انگلی سے اشارہ کرنا ہے اور نصارٰی کا سلام ہتھیلی سے اشارہ (امام ترمذی نے اس کو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے ۔ ملا علی قاری نے فرمایا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت مذکورہ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند کے ساتھ مذکور ہے اور اس میں پہلے اختلاف گزر چکا ہے۔ لیکن معتمد یہ ہے کہ اس کی سند حسن ہے خصوصا جبکہ امام سیوطی نے جامع صغیر میں اس کو ابن عمرو کی طرف منسوب اور حوالے کیا ہے۔ لہذا نزاع ختم اور اشکال زائل ہوگیا۔ اھ
 (۲؎ جامع الترمذی     ابواب الاستیذان والآداب باب ماجاء فی فضل الذی یبدأ الخ     امین کمپنی دہلی    ۲ /۹۴)

(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح     کتا ب الادب     الفصل الثانی     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۸/ ۴۳۱)
اقول: رحم اﷲ مولانا القاری انما حالہ الامام السیوطی علی ت یعنی الترمذی ففیم یرتفع النزاع ویزول الاشکال ثم لیس تضعیف الترمذی لما ظن فان الجمھور ومنھم الترمذی علی الاحتجاج بعمروبن شعیب وبروایتہ عن عن ابیہ عن جدہ بل الوجہ انہ من روایۃ ابن لھیعۃ اذیقول الترمذی، حدثنا قتبیۃ نا ابن لھیعۃ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فذکرہ قال الترمذی ہذا حدیث اسنادہ ضعیف وروی ابن المبارک ہذا الحدیث عن ابن لھیعۃ فلم یرفعہ اھ ۲؎ وقد قال فی کتاب النکاح باب ماجاء فی من یتزوج المرأۃ ثم یطلقھا قبل ان یدخل بھا رواہ بعین السند  ثم قال ہذا حدیث لایصح ابن لہیعۃ یضعف فی الحدیث ۱؎ اھ مختصرا۔ وکذا ضعفہ فی غیر ہذا المحل فالیہ یشیرھنا نعم الاظھر عندی ان حدیث ابن لھیعۃ لاینزل عن الحسن وقد صرح المناوی فی التیسیر ان حدیثہ حسن ۲؎۔
اقول: (میں کہتاہوں ) اللہ تعالٰی ملا علی پر رحم فرمائے کہ امام سیوطی نے تو اسے ''ت'' یعنی ترمذی کے حوالے کیا ہے پھر نزاع کیسے ختم اور اشکال کیسے زائل ہوسکتا ہے پھر امام ترمذی کا ضعیف کہنا بھی ملا علی قاری کے خیال اور زعم کے مطابق نہیں اس لئے کہ جمہور نے (جن میں امام ترمذی بھی شامل ہیں) عمرو بن شعیب بروایتہ عن ابیہ عن جدہٖ سے روایت کرنے سے استدلال کیا ہے (لہذا یہ وجہ ضعف نہیں ہوسکتی) بلکہ وجہ ضعف یہ ہے کہ حدیث مذکور ابن لہیعہ کی روایت ہے اس لئے کہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا (اس نے کہا ) ہم سے ابن لہیمہ نے بیان کیاا س نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر پوری حدیث ذکر فرمائی (اس کے متعلق )امام ترمذی نے فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن مبارک نے حدیث ابن لہیعہ سے غیر مرفوع روایت فرمائی اھ ۔ اور امام ترمذی نے کتاب النکاح میں یہ باب ذکر فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اور پھر ہمبستری سے پہلے ہی اسے طلاق دے دے ( توکیاحکم ہے امام ترمذی نے بالکل بعینہٖ اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح نہیں (کیونکہ اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی ہے جسے حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیا جاتاہے اھ مختصرا۔ یونہی اس مقام کے علاوہ بھی امام ترمذی نے اس کی تضعیف کی ہے لہذا امام ترمذی یہاں اسی طرف اشارہ فرماتے ہیں (یعنی ابن الہیعہ کے ضعف کی طرف ) ہاں البتہ میرے نزدیک زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ابن لہیعہ کی روایت درجہ حسن سے کم نہیں چنانچہ علامہ مناوی نے ''التسیر '' میں تصریح فرمائی کہ اس کی حدیث حسن ہے۔ (ت)
 (۲؎ جامع الترمذی     ابواب الاستیذان با ب ماجاء فی فصل الذی یبدأ بالسلام     امین کمپنی دہلی        ۲ /۹۴)
Flag Counter