مسئلہ ۱۳۰: ازکٹرہ پرگنہ منورہ ضلع گیا مکان سید ابوصالح صاحب خاں بہادر مرسلہ مولوی کریم رضا خاں صاحب ۲۴ صفر ۱۳۱۴ھ
مصافحہ بعد نماز جمعہ وعیدین وصبح وعصر بعد وعظ کے اور یہ معانقہ بعد عیدین کے جائز ہے یا نہیں اور جو کوئی اس فعل کے کرنیوالے کو جہنمی اور مردود اور رافضی کہے اس کا کیاحکم ہے:؟ بینواتوجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت )
الجواب : مصافحہ ومعانقہ مذکورہ جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہوں جائز ہیں۔ اور بہ نیت محمود مستحب ومندوب اس فعل پر جہنمی ومردود ورافضی کا حکم لگانے والا خود ان الفاظ کا مستحق اور ضال ومضل وفاسق ہے۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰ علیہ وسلم سباب المسلم فسق ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الآداب باب ماینہی عن السباب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۹۳)
غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درروغرر میں ہے :
المصافحۃ سنۃ عقب الصلوات کلھا و عند کل لقی ولنا فیہا رسالۃ سمیتھا سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلٰوۃ والسلام۔ ۲؎
مصافحہ کرنا تمام نمازوں کے بعد اورہر ملاقات کے موقع پر سنت ہے۔ اسی موضوع پر ہمارا ایک رسالہ ہے جس کا نام سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلٰوۃ والسلام رکھا ہے۔ (یعنی درود وسلام پڑھنے کے بعدمصافحہ کرنے میں مسلمانوں کے لئے سعادت ہے)۔ (ت)
(۲؎ غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ الدررالحکام باب الصلٰوۃ العیدین میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۲)
حاشیۃ الکنز لعلامۃ السید الازہری میں ہے:
من المستحب (ای یوم العید) اظہار الفرح والبشاشۃ والتھنیۃ والمصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا ۳؎۔
عید کے دن خوشی فرحت اور مبارکباد کا اظہار کرنا اور باہم ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا مستحب ہے بلکہ ہر نماز کے بعد مصافحہ سنت ہے۔ (ت)
(۳؎ فتح المعین شرح الکنز لملامسکین باب الصلٰوۃ العیدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۲۵)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
کذا تطلب المصافحۃ فھی سنۃ عقب الصلٰوۃ کلھا ۴؎۔
یوں ہی مصافحہ کی طلب کی جائے کیونکہ یہ ہر نماز کے بعد سنت ہے۔ (ت)
(۴؎ حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام العیدین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۸۹)
شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی شرح مؤطا میں لکھتے ہیں :
قال النووی اعلم ان المصافحۃ مستحبۃ عند کل لقاء واما ما اعتادہ الناس من المصافحۃ بعد صلوۃ الصبح و العصر فلا اصل لہ فی الشرع علی ہذا الوجہ ولکن لاباس بہ فان اصل المصافحۃ سنۃ و کونھم حافظوا علیہا فی بعض الاحوال لایخرج ذٰلک البعض من کونہ من المصافحۃ التی ورد الشرع باصلھا اقول ھکذا ینبغی ان یقال فی المصافحۃ یوم العید ۱؎۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا یہ جان لیجئے کہ ہر میل ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب ہے لیکن نماز فجر اور نماز عصر کے بعد عام لوگوں نے مصافحہ کرنے کی جوعادت بنالی ہے شریعت میں اس طریقے کی کوئی اصل نہیں مگر ایسا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں اس لئے کہ اصل مصافحہ سنت ہے لیکن لوگوں کا بعض حالات میں اس کی محافظت کرنا اس بعض کو اس مصافحہ سے نہیں نکالتا کہ جس کی اصل شریعت میں وارد ہوئی ہے۔ میں کہتاہوں کہ اسی طرح مناسب ہے کہ عید کے دن مصافحہ کرنے کو کہا جائے۔ (ت)
(۱؎ مسوی مصفی شرح موطا امام مالک باب یستحب المصافحۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۴۱)
خو د مولائے وہابیہ معلم ثانی نجدیہ منکرین زمانہ کے امام الائمہ میاں اسمعیل صاحب دہلوی اپنی تقریر ذبیحہ میں اصول وہابیت کو یوں ذبح فرماتے ہیں:
ہمہ اوضاع از قرآن خوانی وفاتحہ خوانی و طعام خورانیدن سوائے کندن چاہ و امثالہ دعا واستغفار واضحیہ بدعت ست گوبدعت حسنہ بالخصوص ست مثل معانقہ روز عید ومصافحہ بعد نماز صبح یاعصر۔۲؎
قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کے تمام طریقے یوں ہی کھانا کھلانا، یہ سب کام بدعت ہیں گو کہ بدعت حسنہ ہیں جیسے عید کے دن بغلگیر ہونا اور نماز فجر یا عصر کے بعد مصافحہ کرنا (ہاں البتہ میت کے ایصال ثواب کے لئے )کنواں کھودنا اور اسی طرح کا کوئی اور عمل کرنا مثلا دعا، استغفار اور قربانی کرنا یہ سب کام جائز ہیں۔ (ت)
(۲؎ زبدۃ االنصائح (رسالہ نذور))
حضرات منکرین جوش پاسداری مذہب میں ائمہ وعلمائے سابقین کو جو چاہیں کہیں اور شاید بکمال جرأت شاہ ولی اللہ صاحب سے بھی آنکھ پھرلیں، مگر کیا اپنے بڑے پیشوا میاں اسمعیل صاحب کو بھی جہنمی مردود رافضی مان لیں گے
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اللہ تعالٰی کی توفیق سے جو بلند مرتبہ اور ذی شان ہے۔ ت) تفصیل اسی مسئلہ کی ہمارے رسالہ
وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید
(گلے میں ہار عید کے دن بغلگیر ہونے کے جواز میں۔ت) میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۱: از کٹرہ پرگنہ منورہ ضلع گیامکان سید ابوصالح صاحب خان بہادرمرسلہ مولوی عبدالکریم خاں صاحب ۲۴ صفر ۱۳۱۴ھ
کسی عالم یا کسی دوسرے بزرگ کا ہاتھ چومنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب: ہاں جائز ہے بلکہ مستحب ومندوب ومسنون ومحبوب ہے جبکہ بہ نیت صالحہ محمودہ ہو، امام بخاری ادب مفرد میں اور ابوداؤد وبیہقی زارع بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
فجعلنا نتبادر فنقبل ید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورجلہ ۱؎۔
پھر ہم جلدی کرنے لگے تاکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ کر ان کے ہاتھ اور پاؤں چومیں (ت)
(۱؎ الادب المفرد باب ۴۴۵ تقبیل الرجل ص ۳۵۳ والسنن الکبرٰی کتاب النکاح ۷ /۱۰۲)
(سنن ابی داؤد کتاب الآداب باب قبلہ الرجل آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۳)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
لاباس بتقبیل ید الرجل العالم والمتورع علی سبیل التبرک درر ونقل المصنف عن الجامع انہ لاباس بتقبیل یدالحاکم المتدین و السلطان العادل وقیل سنۃ مجتبٰی ۲؎۔
کسی عالم اور پارسا شخص کے بطور تبرک ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں (درر) مصنف نے الجامع سے نقل فرمایا کہ دیندار حاکم اور عادل بادشاہ کے ہاتھوں کو بھی بوسہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ سنت ہے (مجتبٰی)۔ (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتائی دہلی ۲ /۲۴۴)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ وقیل سنۃ ای تقبیل ید العادل والسلطان العادل قال الشرنبلالی وعلمت ان مفاد الاحادیث سنیتہ اوند بہ کما اشار الیہ العینی ۱؎۔
مصنف کا قول'' کہا گیا کہ یہ سنت ہے '' (یعنی عالم اور عادل بادشاہ کے ہاتھوں کو بوسہ دینا) علامہ شرنبلالی نے فرمایا کہ حدیثوں کا مفاد سنیت یا استحباب ہے جیسا کہ علامہ عینی نے اس کی طرف اشارہ کیاہے۔ (ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ با ب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۵)
اسی میں ہے :
قدم عن الخانیۃ والحقائق ان التقبیل علی سبیل البربلا شہوۃ جائز بالاجماع ۲؎۔
فتاوٰی قاضی خاں اور الحقائق کے حوالے سے پہلے بیان کیا گیا کہ نیکی کے انداز پربغیر شہوت بوسہ دینا بالاتفاق جائز ہے۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ با ب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۵)
درمختارمیں ہے :
اما علی وجہ البر فجائز عند الکل خانیۃ ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
بھلائی کے طریقے پر بوسہ دینا سب کے نزدیک جائز ہے۔ فتاوٰی قاضیخان اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ با ب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۴)