مسئلہ ۱۲۸ : ازسیتاپور منشی مشرف احمد صاحب سررشتہ دار کلکٹری سیتاپور ۲۹ صفر ۱۳۱۳ھ
عالی جناب مولانا صاحب مخدوم ومطاع نیاز کیشاں زاد مجدکم وافضالکم بعد بجا آوری تسلیم عرض یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اور جناب سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ''جب گھر میں داخل ہو تو سلام کرے'' حدیث شریف میں ہے کہ باعث برکت ہے۔ اگر گھر میں سوا اہلیہ کے نہ ہو تو زوجہ پر سلام علیک کرے یانہیں؟ ایک صاحب اس بارہ میں حجت کرتے ہیں کہ ازواج مطہرات پر سلام علیک کرنا کہیں حدیث سے ثابت نہیں ہوا ہے حالانکہ سیاق اس امر پر وارد ہے کہ اہلیہ پر بھی سلام علیک کرنا چاہئے۔ اس کا جواب ان آیات واحادیث سے جن میں گھر جانے کے وقت سلام کرنے کا حکم ہے اور جن سے حضور اقد س صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سلام ازواج مطہرات سے کرنا ثابت ہو ارقام فرمائیں۔ فقط۔
الجواب:قال اﷲ عزوجل
فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عنداﷲ مبرکۃ طیبۃ ۱؎۔
( اللہ عزوجل نے فرمایا) جب تم گھروں میں جاؤ تو سلام کرو اپنی جانوں پر ملتے وقت کی اچھی دعا اللہ کی طرف سے برکت والی پاکیزہ۔
(۱؎القرآن الکریم ۲۴ /۶۱)
معالم التنزیل میں ہے :
ای یسلم بعضکم علی بعض ھذا فی دخول الرجل بیت نفسہ یسلم علی اھلہ ومن فی بیتہ وھو قول جابر وطاؤس والزھری وقتادہ والضحاک وعمرو بن دینار قال قتادہ اذا دخلت بیتک فسلم علی اھلک فھم احق من سلمت علیہ ۲؎۔
یعنی تمھارے بعض بعض کو (ایک دوسرے کو) سلام کیاکریں۔ یہ اس وقت کے لئے ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں جائے تو گھر میں موجود اپنوں اور دیگر وہاں حاضرین کو سلام دے۔ جابر، طاؤس، زہری، قتادہ، ضحاک اورعمرو بن دینار کا یہی قول ہے۔ اور حضرت قتادہ نے فرمایا جب تم اپنے گھر میں جاؤ تو اپنے گھر والوں کو سلام پیش کیا کرو، جن کو تم سلام دیتے ہو ان سے زیادہ حق گھروالے رکھتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر خازن تحت آیۃ ۲۴/ ۶۱ مصطفی البابی مصر ۵ /۹۱)
حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا:
یاابنی اذادخلت علی اھلک فسلم یکون برکۃ علیک وعلی اھل بیتک، رواہ عنہ الترمذی وقال حسن غریب ۱؎۔
اے میرے بیٹے! جب تو اپنے اہل پر داخل ہو تو سلام کر، وہ برکت ہوگا تجھ پر اور تیرے اہل خانہ پر (امام ترمذی نے اس کو حضرت انس سے روایت کیا اور فرمایا حدیث حسن غریب ہے۔ ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الاستیذان والآداب باب فی التسلیم اذا دخل بیتہ امین کمپنی دہلی ۲ /۹۵)
دوسری حدیث میں ہے حضور پر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلی آلہ نے فرمایا:
اذا دخلتم بیوتکم فسلموا علی اھلھا فان الشیطان اذا سلم احدکم لم یدخل بیتہ، رواہ الخرائطی فی مکارم ۳؎ الاخلاق عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جب تم اپنے گھر وں میں جاؤ تو اہل خانہ پر سلام کرو کہ جب تم میں کوئی گھر میں جاتے سلام کرتا ہے تو شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا (خرائطی نے مکارم الاخلاق میں اس کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۲؎ اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ خرائطی فی مکارم الاخلاق کتاب آداب الاخوۃ والصحبۃ الباب الثالث دارالفکر بیروت ۶ /۲۷۴)
علامہ مجدد الدین فیروز آبادی صراط مستقیم میں فرماتے ہیں :
کان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا جاء الی البیت بلیل سلم سلاما یستمعہ المستیقظون ولاینتبہ منہ الراقدون ۳؎۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب رات کو مکان میں تشریف فرما ہوتے ایسی آواز سے سلام فرماتے کہ جاگنے والے سن لیتے اور سوتے نہ جاگتے۔
(۳؎ شرح سفر السعادۃ(صراط مستقیم) فصل در اسلام وآداب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص۴۱۰)
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں :
سلام سنت ست نزد درآمدن درخانہ براہل خانہ ۴؎۔
گھر میں داخل ہونے پرگھرواہوں کو سلام کرناسنت ہے۔ (ت)
(۴؎ شرح سفرالسعادۃ (صراط مستقیم) فصل در اسلام وآداب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص۴۱۰)
صحیح مسلم وسنن ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا دخل بیتہ بدا بالسواک ۱؎۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب کاشانہ اقدس میں تشریف فرما ہوتے پہلے مسواک فرماتے
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب السواک قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸)
(سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب السواک نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷)
(سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواک آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸)
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
لاجل السلام علی اھلہ فان السلام اسم تشریف فاستعمل السواک للاتیان بہ ۲؎۔
یہ مسواک اپنے اہل پاک پر سلام فرمانے کے لئے تھی کہ سلام معظم نام ہے تو اس کے ادا کو مسواک فرماتے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
(۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث کان اذا دخل الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۲۴۸)
اس بات کاحکم دیا گیا ہے کہ جب اپنے گھر میں داخل ہوں تو گھروالوں کو سلام کریں تاکہ شیطان ان کے ساتھ داخل نہ ہوسکے اھ ملخصا (ت)
(۳؎ عین العلم الباب الثامن مطبع السلامیہ لاہور ص۱۵۴)
عالمگیری میں محیط سے ہے :
اذا دخل الرجل فی بیتہ یسلم علی اھل بیتہ ۴؎۔
جب آدمی اپنے گھر میں جائے تو اپنے گھر والوں کو سلام پیش کرے (ت)
(۴؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۵)
صیر فیہ پھر تتارخانیہ پھر ہندیہ میں ہے:
ویسلم فی کل دخلۃ ۵؎
(گھر میں ہر بار داخل ہوتے وقت سلام کیاجائے۔ ت)بالجملہ یہ سنت قرآن وحدیث سب سے ثابت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (اور اللہ تعالٰی خوب جانتاہے۔ ت)
(۵؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۵)
مسئلہ ۱۲۹: از شہرمذکور بواپسی ڈاک بعد بجا آوری تسلیم دست بستہ گزارش ہے فتوٰی عطیہ حضور ملا، وہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ کسی حدیث میں خاص تصریح ہے کہ حضورسرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ازواج مطہرات پر سلام کیا، زیادہ بجز آں کیا عرض کروں۔ خاکسار۔
الجواب: صحیح مسلم شریف کتاب النکاح، باب فضیلۃ اعتاق امتہ ثم یتزوجہا حدیث طویل انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نکاح ام المومنین صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وام المومنین زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا میں ہے:
فجعل یمر علی نسائہ فیسلم علی کل واحدۃ منھن سلام علیک کیف انتم یا اھل البیت ۱؎۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات پر گزرنا شروع فرماتے ان میں ہر ایک پر سلام فرماتے اور سلام علیکم کے بعد مزاج پرسی کرتے۔
(۱؎صحیح مسلم کتاب النکاح باب فضیلۃ اعتاقہٖ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۶۱ ۔ ۴۶۰)
دوسری روایت میں ہے :
فخرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واتبعتہ فجعل یتبع حجر نسائہ یسلم علیھن ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور میں سایہ دار ہمراہ تھا ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے جاتے اور انھیں سلام فرماتے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب النکاح باب فضیلۃ اعتاقہٖ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۶۱ ۔ ۴۶۰)