Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
54 - 146
ودرحدیث ست کہ زنے از شوئے خودش گلہ پیش حضور پر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلی الہ آورد حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود آیا تو اورادشمن می داری؟ عرضہ داد بلی۔ حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مر او را وشوھر او رافرمود سرہائے خود نزدیک کنید ہمچناں کردند سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پیشانی زن بر پیشانی مرد نہادہ دعا کرد کہ خدا یا بامیاں ایناں الفت نہ ویکے رامحبوب دیگرے کن بازآں زن بخدمت انور رسید وبوسہ بردہن وپائے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم چید سرور جہانیاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سید کہ حالا تو و شوے توبرچہ حالا عرضہ داد کہ ہیچ نو وکہن وہیچ پسر نیز مر از وے محبوب تر نیست سید اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمود من گواہی می دہم کہ من رسول خدا یم، عمرر ضی اللہ تعالٰی عنہ گفت ومن گواہی می دہم کہ تو رسول خدا فقیر گوید ومن فقیر یکے ازسگان کوئے شما گواہی می دہد کہ واللہ العظیم تو رسول خدائے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلی الک و صحبک وبارک وکرم۔ البیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما ان امرأۃ شکت زوجھا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اتبغضیہ قالت نعم فقال النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ادنیارؤسکما فوضع جبھتھا علی جبھۃ زوجھا ثم قال اللھم الف بینہما وحبب احد ھما الی صاحبہ ثم لقیتہ المرأۃ بعد ذٰلک فقبلت رجلیہ فقال کیف انت وزوجک قال ماطارف ولا تالد ولا ولد احب الی منہ فقال اشہد انی رسول اﷲ فقال عمروانا اشھد انک رسول اﷲ ۱؎ ۔
حدیث پاک میں ہے کہ ایک عورت نے حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے شوہر کے خلاف شکایت کی۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس عورت سے دریافت فرمایا کہ تو اس کو (یعنی اپنے خاوند کو) پسند نہیں کرتی؟ اس نے جواب ہاں میں دیایعنی مجھے شوہر پسند نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے اس سے اور اس کے شوہر سے فرمایا کہ تم دونوں اپنے اپنے سر میرے قریب کرو۔ جب دونوں نے اپنے اپنے سر آپ کے بالکل قریب کردئیے تو آپ نے عورت کی پیشانی مرد کی پیشانی پر رکھی اور دعا فرمائی۔ اے اللہ! ان دونوں کے درمیان الفت و محبت رکھ دے انھیں ایک دوسرے کا محبوب بنادے۔ پھر اس عورت نے ایک دفعہ حاضر ہو کر آپ کے چہرہ انور اور آپ کے پاؤں مبارک کو بوسہ دیا۔ سردار دوجہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اب اپنے شوہر کے

بارے میں تمھاری کیا کیفیت ہے ؟ اس نے جوابا عرض کیا کوئی جوان کوئی بوڑھا اور کوئی لڑکا مجھے اس سے زیادہ محبوب نہیں، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں گواہی دیتاہوں کہ میں اللہ تعالٰی کا رسول ہوں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: میں بھی گواہی دیتاہوں کہ آپ اللہ تعالٰی کے رسول ہیں۔ فقیر کہتاہے میں بندہ محتاج آپ کی گلی کے کتوں میں سے ایک کتا بھی گواہی دیتاہے کہ اللہ العظیم کی قسم آپ اللہ تعالٰی کے سچے رسول ہیں آپ پر۔آپ کی آل پر اور آپ کے ساتھیوں پر اللہ تعالٰی کی رحمت وبرکت اور کرم فرمائے، امام بیہقی نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اپنے شوہر کے خلاف شکوہ کیا آپ نے فرمایا: کیا تو اس سے بغض رکھتی ہے؟ اس نے جواب دیا۔ جی ہاں۔ آ پ نے فرمایا : تم دونوں اپنے سر میرے قریب کرو۔ پھر آپ نے عورت کی پیشانی اس کی شوہر کی پیشانی پر رکھی اور فرمایا: اے اللہ! ان دونوں میں الفت پیدا کردے اور انھیں ایک دوسرے کا محبوب بنادے پھر اس کے بعد اس عورت کی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کے پاؤں مبارک چومے، آپ نے اس سے فرمایا : تمھارے شوہر کا کیا حال ہے؟ تو اس نے کہا: اب مجھے اس سے زیادہ کوئی جوان، بوڑھا اور بچہ محبوب نہیں۔ آپ نے فرمایا: میں گواہی دیتاہوں کہ یقینا میں اللہ تعالٰی کا رسول ہوں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایاٰ میں بھی گواہی دیتاہوں کہ آپ بلا شبہ اللہ تعالٰی کے رسول ہیں۔
 (۱؎ دلائل النبوۃ للبیہقی     باب ماجاء فی دعائہ لزوجین احد ہما یبغض الاٰخر بالالفہ     دارالکتب العلمیہ بیروت     ۶ /۲۲۹)
ونیز درحدیث ست کہ مردے حاضر خدمت شدہ عرضہ داشت کہ یا رسو ل اللہ! مراچیزے بنما کہ باویقینم فزاید فرمود بسوئے ایں درخت رفتہ او  را بخواں رفت گفت کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ترامیخواند درخت ہماندم آمد وبرسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سلام گفت بازگرد بازگشت سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم آن صحابی را پروانگی داد تابوسہ برسر مبارک وہر دو پائے اقدس زد، الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد ان رجلا اتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ علمنی شیئا ازداد بہ یقینا فقال اذھب الی تلک الشجرۃ فادعھا فذہب الیھا فقال ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یدعوک فجاءت حتی سلمت علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم قال لھا ارجعی فرجعت قال ثم اذن لہ فقبل راسہ ورجلیہ وقال لوکنت امرااحدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎،
حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی: اے اللہ تعالی کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز دکھاؤجس سے میرے یقین میں اضافہ ہو۔ ارشاد فرمایا: اس درخت کے پاس جاؤاور اسے کہو کہ تمھیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلاتے ہیں: وہ شخص اس درخت کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلارہے ہیں وہ درخت اسی وقت بار گاہ اقدس میں حاضر ہوگیا اور آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ واپس اپنی جگہ پرچلے جاؤ۔ چنانچہ وہ درخت واپس چلا گیا۔ اس صحابی نے آپ کے سرمبارک اور مبارک ومقدس پاؤں کو بوسہ دینے کی اجازت چاہی توآپ نے اجازت دے دی، اور اس نے بوسہ دیا۔ حاکم نے المستدرک میں روایت کی اور فرمایا اس کی سند صحیح ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اس نے عرض کی اے اللہ تعالٰی کے رسول: مجھے کوئی ایسی چیز دکھائیں جس سے میرے یقین میں ترقی (زیادتی ) ہو، فرمایا اس درخت کے پاس جاؤ اور اسے میرے ہاں بلا لاؤ۔ پھر وہ اس درخت کے پاس گیااور اس سے کہا تجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلارہے ہیں چنانچہ وہ درخت بارگاہ نبوی میں حاضر ہوگیا اور اس نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا، پھر آپ نے اس سے ارشاد فرمایا کہ لوٹ جاؤ، وہ حسب ارشاد لوٹ گیا۔ راوی فرماتے ہیں پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس شخص کو اجازت دی تو اس نے آپ کے سر مبارک اور دونوں پاؤں کو بوسہ دیا اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی کے آگے سجدہ کرنے کاحکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
 (۱؎ المستدرک للحاکم     کتاب البروالصلۃ باب حق الزوج علی الزوجۃ     دارالفکر بیروت    ۴ /۱۷۲)
امام اجل سیدنا جعفر صادق وامام سفیان ثوری ومقاتل بن حیان وحماد بن سلمہ وغیرہم ائمہ مجتہدین پیش امام اعظم سیدنا اما م ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ وعنہم آمدہ گفتند بمارسیدہ است کہ تو درمسائل قیاس بکثرت میکنی امام باایشاں مناظرہ کرد ومذہب خود پیش نمود وگفت کہ پیش از ہمہ عمل بقرآن عظیم میکنم باز بحدیث بازباجماع باز باقوال صحابہ وچوں دریں ہمہ نیابم آں گاہ براہ قیاس شتابم ایں مناظرہ درمسجد جامع کو فہ روز جمعہ از آغاز نہار تاوقت زوال جاری بود آخر ہا ہمہ ائمہ مذکورین برخاستند وبوسہ برسرو زانوئے امام اعظم دادند وگفتند تو سردار علمائے پیش از یں انچہ نادانستہ بحق تو گفتہ بودیم بما عفو کن امام گفت حق جل وعلا ماوشمار ہم را مغفرت کند الامام العارف الشعرانی قدس  سرہ فی المیزان کان ابومطیع یقول کنت یوما عندالامام ابی حنیفۃ فی جامع الکوفۃ فدخل علیہ سفین الثوری ومقائل بن حیان وحماد بن سلمۃ وجعفر الصادق وغیرہم من الفقہاء فکلموا الامام اباحنیفۃ وقالوا قد بلغنا انک تکثر من القیاس فی الدین وانانخاف  علیک منہ فان اول من قاس ابلیس فناظر ھم الامام من بکرۃ نہار الجمعۃ الی الزوال وعرض علیہم مذہبہ وقال انی اقدم العمل بالکتاب ثم بالسنۃ ثم باقضیۃ الصحابۃ مقدما مااتفقوا علیہ علی مااختلفوا فیہ وحینئذ اقیس فقاموا کلھم وقبلوا یدیہ ورکبتہ وقالوا لہ انت سیدالعلماء فاعف عنافیما مضی منا من وقیعتنا فیک بغیر علم فقال غفر اﷲ لناولکم اجمعین ۱؎ انتھی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
امام کبیر سیدنا امام جعفر صادق، امام سفیان ثوری، مقاتل بن حیان اور حماد بن سلمہ اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ درجہ اجتہاد پر فائز ہونے والے امام اعظم سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں گئے اور امام صاحب سے فرمانے لگے کہ ہمیں یہ اطلاع پہنچی ہے آپ مسائل شرعی میں بہت زیادہ قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں۔ اما م صاحب نے ان سے مناظرہ کیا اور وضاحت سے اپنا مذہب (نظریہ) پیش کیا اور فرمایا میں تو سب سے پہلے قرآن پر عمل کرتاہوں اس کےبعد حدیث پھر اجماع امت، پھر اقوال صحابہ کرام پر، جب ان سب میں کوئی مسئلہ نہ پاؤں تو پھر قیاس سے کام لیتا ہوں، یہ مناظرہ جامع مسجد کوفہ میں جمعہ کے دن صبح سے لے کرزوال کے وقت تک جاری رہا۔ بالآخر مذکورہ تمام امام اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے حضرت امام اعظم رحمۃاللہ تعالی علیہ کے سر اور زانوؤں پربوسہ دیا اور فرمایا کہ آپ علماء کرام کے سرخیل ہیں اور ہم اس سے پہلے بے خبری میں آپ کے متعلق جو سنی سنائی کہتے رہے وہ ہمیں معاف کردیں۔ امام صاحب نے فرمایا: اللہ تعالٰی بزر گ وبرتر مجھے اورآپ سب کو معاف کردے۔ امام عارف عبدالوہاب شعرانی ''المیزان'' میں فرماتے ہیں حضرت ابومطیع فرمایا کرتے تھے کہ میں جامع مسجد کوفہ میں امام صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس سفیان ثوری، مقاتل بن حیان حماد بن سلمہ، امام جعفر صادق اور بعض دیگر فقہائے کرام تشریف لائے اور امام صاحب سے گفتگو کرنے لگے کہ ہمیں اطلاع پہنچی کہ آپ دین میں زیادہ ترقیاس سے کام لیتے ہیں لہذا ہم اس طرز عمل سے خوف محسوس کرتے ہیں کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ شیطان تھا۔ ان کی یہ مناظرانہ گفتگو جمعہ کے روز فجر سے لے کر سورج ڈھلنے تک ہوتی رہی۔ امام صاحب نے اپنا مذہب ومؤقف ان کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: میں عمل کرنے میں کتاب اللہ کو سب سے مقدم سمجھتاہوں، پھر سنت کو، پھر صحابہ کرام کے متفق فیصلوں کو ان کے اختلافی فیصلوں سے مقدم سمجھتاہوں، اور جب قرآن حدیث اور اجماع صحابہ سے کسی مسئلہ میں براہ راست واضح ہدایت اور مثال نہ مل سکے تو پھر اس وقت قیاس کے ذریعے مسئلے کا حل ڈھونڈتاہوں، یہ سننے کے بعد تمام علماء وفقہاء نے اٹھ کر امام صاحب کے ہاتھوں اور گھٹنوں کو بوسہ دیا اور کہا آپ تو سید العلماء ہیں ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ ہم بلاوجہ بغیر کسی تحقیق کےآپ کے پیچھے پڑے رہے آپ ہماری کوتاہی اور خطا معاف فرمادیں آپ نے فرمایا: اللہ تعالٰی ہمیں اور آپ سب کو معاف فرمائے، اللہ تعالٰی پاک برتر اور سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
 (۱؎ میزان الشریعۃ الکبرٰی  فصل فی بیان ضعف قول من نسب الامام اباحنیفہ الی انہ یقدم القیاس الخ     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۶۶ و ۶۵)
Flag Counter