Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
53 - 146
مسئلہ ۱۲۴: از ضلع سورت اسٹیشن سائیں مقام کٹھور مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ۴جمادی الاولٰی ۱۳۰۹ھ

فجر کی نماز کے بعد مصافحہ لیتے ہیں سو جائز ہے یانہیں ہر روز؟
الجواب : جو لوگ بعد قیام جماعت یا شروع تکبیر آکر نماز میں شامل ہوئے کہ امام ودیگر مقتدین سے قبل نماز

ملاقات نہ کرنے پائے انھیں تو ان سے بعد سلام مصافحہ کرنا قطعا سنت۔
لانہا سنۃ لانھا عند ابتداء کل لقاء و ھذا ابتداء لقائھم ھذا۔
کہ ہر ملاقات پر مصافحہ کرنا سنت ہے (یعنی ملاقات کا آغاز مصافحہ کرنا مسنون ہے)۔ (ت)

اور وہ جو بے لحاظ اس تخصیص کے مصافحہ بعد فجر وعصر یابعد عصر ومغرب مطلقا صدہا سال سے مسلمین میں معتادومرسوم، اس بارے میں اصح یہی ہے کہ جائز ومباح ہے۔
کما حققہ المولی المحقق سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی بعض فتاواہ وذکرھھنا المولی الفاضل زینۃ عصرنا محب الرسول عبدالقادر القادری فی رسالتہ المناصحۃ فی تحقیق المصافحۃ تحقیقا جمیلا یتضح بہ الصواب توفیقا انیقا یندفع بہ الاضطراب۔
جیسا کہ ہمارے والد بزرگوار قدس سرہ الماجد نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق فرمائی، یہاں ہمارے دور کی ایک نفیس اور خوبصورت ہستی عاشق زار رسول والاتبار مولانا فاضل عبدالقادر قادری نے اپنے رسالہ المناصحہ فی تحقیق مسائل المصافحۃ (یعنی باہم خیر خواہی کرناہاتھ ملانے کے احکام کی تحقیق بیان کرنے میں) تحقیق پیش فرمائی ہے اور خوبصورت موافقت پیدا کی ہے جس سے حقیقت واشگاف ہوتی ہے۔ اور اضطراب دور ہوتا ہے۔ (ت)
علامہ شہاب الدین مصری شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:ـ
الاصح انھا مباحۃ ۱؎
 (زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مصافحہ کرنا مباح ہے۔ت)
 (۱؎ نسیم الریاض فی شرح الشفاء  للقاضی عیاض  الباب الثانی     فصل فی نظافۃ جسمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۱۳)
ہاں جہاں مداومت سے خوف ہو کہ جہال اس خصوصیت خاصہ کو واجب یا سنت بخصوصہا نہ سمجھنے لگیں وہاں اہل علم کو مناسب کہ ان اوقات میں کبھی کبھی ترک بھی کردیں۔
ہذا ھو الانصاف فی امثال الباب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب
 (اس قسم کے باب میں یہی انصاف ہے۔ اللہ تعالٰی راہ صواب کو اچھی طرح جانتاہے۔ ت)
مسئلہ ۱۲۵: ۱۸ محرم الحرام     ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بوقت سننے اسم پاک حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے انگوٹھے چومنے ضرور ہیں یانہیں۔ اگر ہیں تو کس کس موقع اور کون کون محل پر۔ بینوا توجروا
الجواب : ضرور بمعنی فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ تو اصلا نہیں۔ ہاں اذان سننے میں علمائے فقہ نے مستحب رکھا ہے۔ اور اس خاص موقع پر کچھ احادیث بھی وارد جو ایسی جگہ قابل تمسک ہیں
کما حققناہ فی رسالتنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین
 (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین یعنی آنکھوں کو روشن کرنا انگوٹھے چومنے کے عمل سے میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) مگر نماز میں یا خطبہ یا قرآن مجید سنتے وقت نہ چاہئے، نماز میں اس کی ممانعت تو ظاہر ، اور استماع خطبہ وقرآن کے وقت یوں کہ اس وقت ہمہ تن گوش ہو کر تمام حرکات سے بازرہنا چاہئے۔ پنچایت کے وقت جو آیہ کریمہ
ماکان محمد ابااحد من رجالکم ۱؎
پر اس قدر کثرت سے انگوٹھے چومے جاتے ہیں گویا صدہا چڑیاں جمع ہوکر چہک رہی ہیں یہاں تک کہ دور والوں کو قرآن  عظیم کے بعض الفاظ کریمہ بھی اس وقت اچھی طرح سننے میں نہیں آتے۔ یہ فقیر کو سخت ناپسند وگراں گزرتا ہے صرف انگوٹھے لبوں سے لگا کر آنکھوں پر رکھنے میں اس وقت کوئی حرج نہ بھی ہو تو بوسہ تعظیم میں آواز نکلنے کا خود حکم نہیں۔ جیسے بوسہ سنگ اسود وآستانہ کعبہ وقرآن عظیم ودست و پائے علمائے وصلحاء نہ کہ ایسی آوازیں کہ چڑیاں بسیرالے رہی ہیں۔
واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۳۳/ ۴۰)
مسئلہ ۱۲۶: از بلگرام شریف محلہ میدانپورہ مرسلہ سید ابراہیم صاحب ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جواب سلام کفار وہنادک کن الفاظ میں دیا جائے؟ اور خود بھی ضرورت اور بے ضرورت ان کو سلام کرے تو کس طور سے؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب : کافر کو بے ضرورت ابتداء بسلام ناجائز ہے
نص علیہ فی الحدیث والفقہ
 (حدیث پاک اور فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ت) اور ہندوستان میں وہ طرق تحیت جاری ہیں کہ بضرورت بھی انھیں سلام شرعی کرنے کی حاجت نہیں مثلا یہی کافی کہ لالہ صاحب، بابو صاحب، منشی صاحب، یا بے سر جھکائے سر پر ہاتھ رکھ لینا وغیر ذٰلک، کافر اگر بے لفظ سلام سلام کرے تو ایسے ہی الفاظ رائجہ جواب میں بس ہیں۔ اور بلفظ سلام ابتداء کرے تو علماء فرماتے ہیں جواب میں وعلیک ہے مگر یہ لفظ یہاں مخصوص باہل اسلام ٹھہرا ہواہے۔ اور وہ کافر بھی اسے جواب سلام نہ سمجھے گا بلکہ اپنے ساتھ استہزاءخیال کرے گا تو جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے اگرچہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہہ کر۔
فقد نص محمد انہ ینوی فی الجواب السلام فافھم ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بیشک امام محمدر حمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے تصریح فرمائی کہ جواب میں سلام کی نیت کی جائے۔ اور اللہ تعالٰی بڑا عالم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۲۷: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں بستم ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ

چہ مے فرمایند علمائے راہ شریعت وطریقت و مفتیان مطاع حقیقت ومعرفت دریں مسئلہ کہ مرشدان چند مریدان خود راہدایت سخت بپابوسی بدہن کنانیدہ می بوسانند می گوینند کہ ایں درست ست وبرمزار بزرگان دین رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم اجمعین خم شدہ سلام نمایند وبرقبر بوسہ می دہند مانند روافض این فعل درشریعت وطریقت درست است یا اشد شرک وکفر ؟ بیان فرمایند بعبارت کتب کہ عنداللہ ماجور وعندالناس مشکور خواہند شد۔
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وطریقت و مفتیان راز داران معرفت وحقیقت اس مسئلہ میں کہ بعض شیوخ ومرشدین نے اپنے کچھ مریدین کو ہدایت وتاکید کررکھی ہے کہ وہ ان کے پاؤں کو بوسہ دیا کریں یعنی چوما کریں۔ بزرگان دین رحمہم اللہ تعالٰی کے مزارات پر جھک کر سلام کیا کریں اور ان کی قبور کو روافض کی طرح بوسہ دیا کریں بقول ان کے ایسا کرنا جائزہے۔ کیا واقعی شریعت وطریقت میں ایسا کرنے کی اجازت ہے اور یہ شرک وکفرنہیں ہے؟ کتب اسلامی کے حوالے سے بیان فرمائیں تاکہ اللہ تعالٰی کے ہاں ماجور ہوں اور لوگوں کے ہاں مشکور (ت)
الجواب : بوسہ قبر بمذہب راجح ممنوع است فی شرح عین العلم لعلی قاری ولا یمس ای القبر ولا التابوت والجدار فوردالنھی عن مثل ذٰلک بقبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فکیف بقبور سائر الانام ولایقبل فانہ زیادۃ علی المس فھو اولی بالنھی ۱؎ ہمچناں خم شد سلام دادن فی حدیث انس رضی اﷲتعالٰی عنہ عند الترمذی قال اینحنی لہ قال لا ۲؎،
صحیح اور قابل ترجیح مذہب میں کسی بھی قبر کو بوسہ دینے یعنی چومنے کی اجازت نہیں بلکہ ممانعت ہے۔ چنانچہ محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شرح عین العلم میں ہے کہ قبر ، تابوت اور دیوا رکو ہاتھ نہ لگایا جائے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قبر اطہر کے بارے میں اس طرح کرنے سے روکا اور منع کیا گیا ہے پھر باقی لوگوں کی قبور کے ساتھ یہ معاملہ کیسے روا ہوسکتاہے اور قبر کو بوسہ نہ دیا جائے کیونکہ یہ تو ہاتھ لگانے سے کہیں بڑھ کر ہے لہذا اس کے لئے نہی بطریق اولٰی ہے۔ اسی طرح جھک کر سلام کرنا منع ہے چنانچہ امام ترمذی نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے یہ حدیث روایت کی ہے، انھوں نے استفسارکیا کیا اسکے آگے جھک جائے، ارشاد فرمایا: نہیں،
 (۱؎شرح عین العلم     لمنلا علی قاری         البا ب الثامن     مطبع الاسلامیہ لاہور    ص۱۶۷)

(۲؎ جامع الترمذی     کتاب الاستیذان     باب ماجاء فی المصافحۃ     امین کمپنی دہلی        ۲ /۹۷)
اما چیزے ازینہا شرک وکفرنتواں بود این غلو وہابیہ ضالہ است ودست و پائے اولیائے وعلماء رابوسہ دادن زنہار ممنوع ھم نیست بلکہ ثابت ودرست ست،وفد عبدالقیس رضی اللہ تعالٰی عنہم چوں بخدمت اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم رسیدند واز دور نگاہ شان بر جمال جہاں آرائے حضور اقدس سید المحبوبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم افتاد بے تابانہ خود را ازپشت سوار یہا افگندند ودواں دواں بحضور رسیدہ بوسہ بردست وپائے اقدس دادند سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انکار نفرمودہ امام بخاری درادب مفرد وامام ا بوداؤد درسنن وبیہقی از زارع بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کنند فجعلنا نتبادر فنقبل یدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورجلہ ۱؎
مگر واضح رہے کہ ان میں سے کوئی کام بھی کفرو شرک نہیں ہوسکتا۔ یہ گمراہ کرنے والے وہابیوں کا غلو ہے۔ جہاں تک اولیاء کرام اور علمائے عظام کے ہاتھ پاؤں کو بوسہ دینے کا تعلق ہے تویہ عمل ہر گز منع نہیں بلکہ جائز اور ثابت ہے، چنانچہ وفد عبدالقیس رضی اللہ تعالٰی عنہم کے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچنے کے بارے میں یہ روایت مذکور ہے کہ جب دور سے ان کی نگاہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے جمال جہاں پر پڑی تو وہ بے تاب ہوکر اپنی اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور دوڑ کر بارگاہ اقدس میں پہنچے اور آپ کے مبارک ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دیا اورحضو ر علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان کو منع نہیں فرمایا (جو بلا شبہ دلیل جواز ہے) امام بخاری الادب المفرد میں امام ابوداؤد وسنن میں اور امام بیہقی یہ سب حضرت زارع بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ پھر ہم لوگ (خدمت اقدس میں پہنچنے کے لئے) جلدی کرنے لگے پھر ہم (وہاں پہنچ کر) حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے مبارک ہاتھ پاؤں کو چومنے لگے۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الادب باب قبلۃ الرجل الخ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۵۳)

(السنن الکبرٰی         کتا ب النکاح باب ماجاء فی قبلہ الجسد     المعارف النعمانیہ حیدرآباد دکن    ۷ /۱۰۲)

(الادب المفرد         باب ۴۴۵     تقبیل الرجل     المکتبہ الاثریہ سانگلہ ہل    ص۲۵۳)
Flag Counter