تاسعا دونوں ہاتھ سے مصافحہ مسلمانوں میں صدہا سال سے متوارث، ائمہ دین کی عبارتیں اوپر گزریں اور اس کا زمانہ تبع تابعین میں ہونا بھی معلوم ہولیا۔ خود ائمہ تبع تابعین نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ تمام بلاد اسلام مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ سے ہندو سندھ تک علماء وعوام اہل اسلام دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں اور جو بات مسلمانوں میں متوارث ہو بے اصل نہیں ہوسکتی۔
امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
انہ المتوارث ومثلہ لایطلب فیہ سند بخصوصہ ۲؎۔
وہ متوارث ہے اور ایسی چیز کے لئے کوئی خاص سند درکار نہیں ہوتی۔
(۲؎ فتح القدیر کتاب السرقہ فصل فی کیفیۃ القطع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۱۵۳)
محقق علائی دمشقی شرح تنویر میں فرماتے ہیں :
ان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۳؎۔
بے شک یہ امرمسلمانوں میں متوارث ہے تو ان کااتباع ضرور ہوا۔
(۳؎ درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۷)
عاشراً حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خالقواالناس باخلاقھم اخرجہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین ۱؎۔
لوگوں سے وہ برتاؤ کرو جس کے وہ عادی ہورہے ہیں (اس کو حاکم نے روایت کیا اور اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا۔ ت)
(۱؎ المغنی عن حمل الاسفار مع احیاء العلوم کتاب آداب السماع والوجد مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ /۳۰۵)
یہ حدیث عسکری نے کتاب الامثال میں یوں روایت کی :
خالطوا الناس باخلاقھم ۲؎۔
لوگوں کے ساتھ ان کی عادتوں سے میل کرو۔
(۲؎ کنز العمال بحوالہ العسکری فی الامثال حدیث ۵۲۳۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۳ /۱۹)
ولہذا ائمہ دین ارشاد فرماتے ہیں لوگوں میں جو امررائج ہو جب تک اس سے صریح نہی ثابت نہ ہو ہر گز اس میں اختلاف نہ کیا جائے بلکہ انھیں کی عادات واخلاق کے ساتھ ان سے برتاؤ چاہئے۔ شریعت مطہرہ سنی مسلمانوں میں میل پسند فرماتی ہے اور ان کو بھڑ کانا۔ نفرت دلانا۔ اپنا مخالف بنانا، ناجائز رکھتی ہے۔ بے ضرورت تامہ لوگوں کی راہ سے الگ چلنا سخت احمق جاہل کا کام ہے۔
امام حجۃ الاسلام قدس سرہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں :
الموافقۃ فی ہذہ الامور من حسن الصحبۃ والعشرۃ اذ المخالفۃ موحشۃ وکل قوم رسم ولا بد من مخالطۃ الناس باخلاقھم کما ورد فی الخبر لاسیما اذا کانت اخلاقا فیھا حسن العشرۃ والمجاملۃ وتطیب القلب بالمساعدۃ ۳؎۔
ان امور میں لوگوں سے موافقت صحبت ومعاشرت کی خوبی سے ہے اس لئے کہ مخالفت وحشت دلاتی ہے اور ہرقوم کی ایک رسم ہوتی ہے اور بالضرورۃ لوگوں کے ساتھ ان کی عادات کا برتاؤ کرنا چاہئے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا، خصوصا وہ عادتیں جن میں اچھا برتاؤ اور نیک سلوک اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہے۔
(۳؎ احیاء العلوم کتاب آداب السماع الوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ /۳۰۵)
یہاں تک کہ فرمایا :
کذالک سائر انواع المساعدات اذا قصد بھا تطییب القلب واصطلح علیھاجماعۃ فلا باس بمساعدتھم علیھا بل الاحسن المساعدۃ الافیما ورد فیہ نھی لایقبل التاویل ۱؎۔
ایسے ہی مساعدت کی ساری قسمیں جبکہ اس سے دل خوش کرنا منظور ہو اور کچھ لوگوں نے وہ ردش قرار دے لی ہو تو ان کے موافق ہو کر اس پر عمل کرنا کچھ مضائقہ نہیں رکھتا۔ بلکہ موافقت کرنا ہی بہترہے۔ مگر جس امر میں شرع سے ایسی نہی آگئی ہو جو قابل تاویل نہیں۔
(۱؎ احیاء العلوم کتا ب آداب السماع والوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ /۳۰۵)
عین العلم میں ہے :
الاسرار بالمساعدۃ فیما لم ینہ عنہ و صارمعتادا بعد عصرھم حسنۃ وان کان بدعۃ ۲؎۔
جس امر میں شرع سے نہی نہ آئی اور صدر اول کے بعد معمول ہو اس میں موافقت کرکے لوگوں کو خوش کرنا اچھا ہے اگر چہ بدعت ہی سہی۔
(۲؎ عین العلم الباب التاسع فی الصمت الخ مطبع اسلامیہ لاہور ص۲۰۶)
فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ نے رسالہ
جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلٰوۃ فی النعال
میں یہ مضمون یہت حدیثوں سے ثابت کیااور بیشک مقصود شرع کے یہی مطابق ہے مگر جن لوگوں کو مقاصد شریعت سے کچھ غرض نہیں اپنی ہوائے نفس کے تابع ہیں وہ خواہی نخواہی ذرا ذرا سی بات میں مسلمانوں سے الجھتے اور ان کی عادات و افعال کو جن پر شرع سے اصلا ممانعت ثابت نہیں کرسکتے ممنوع وناجائز قرار دیتے ہیں۔ حاشا کہ ان کی غرض حمایت شرع ہو_____ حمایت شرع چاہئے تو جن امور کی تحریم وممانعت میں کوئی آیت وحدیث نہ آئی خواہ مخواہ بزور زبان انھیں گناہ ومذموم ٹھہرا کر شرع مطہر پر افتراء کیوں کرتے۔
قال اﷲ تعالٰی : ولاتقولو الماتصف السنتکم الکذب ہذا حلال وھذا حرام لتفترواعلی اﷲ الکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون ۳؎۔
اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو، بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶)
بلکہ صرف مقصود ان حضرات کا عوام مسلمین میں تفرقہ ڈالنا اور براہ تلبیس وتدلیس اپنے لئے ایک جدا روش نکالنا اور اس کے ذریعہ سے اپنی شہرت کے سامان جمع کرنا ہے کہ اگر وہی مسائل بیان کریں جو تمام علماء اسلام فرماتے ہیں تو ان جیسے اور ان سے بہتر ہزاروں لاکھوں ہیں۔ یہ خاص کرکے کیوں کر گنے جائیں۔ ہاں جب یوں فتنہ ڈالیں اور نیا مذہب نکالیں گے تو آپ ہی نزدیک ودور معروف ومشہور ہوجائیں گے۔ آخر نہ دیکھا کہ امام علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرمایا کہ امام اجل قاضی عیاض رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا :
خروجہ عن العادۃ شہرۃ ومکروہ ۱؎۔
یعنی جس جگہ جو طریقہ لوگوں میں ر ائج ہے اس کی مخالفت کرنا اپنے آپ کو مشہور بنانا شرعا مکروہ وناپسند ہے۔
(۱؎ الحدیقہ الندیہ الباب الثانی ا لصنف التاسع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۸۲)
اسی طرح مجمع بحار الانوار میں منقول :
ھو علی عادۃ البلدان فالخروج عنہا شہرۃ ومکروہ ۲؎۔
یہ علاقوں کی عادت پر ہے جس سے خروج نری شہرت اور ناپسندیدگی ہے۔ (ت)
(۲؎)
اسی کو مولانا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی شرح مشکوۃ میں ناقل کہ :
خروج از عادت واہل بلد موجب شہرت است ومکروہ است ۔
علاقہ والوں کی عادت سے خروج شہرت کے لیے ہوتا ہے اور یہ ناپسند بات ہے۔(ت)
(۳؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من لبس ثوب شہرۃ البسہ اﷲ یوم القیمۃ ثوب مذلۃ ثم یلھب فیہ النار ۔ رواہ ابوداؤد۴؎ وابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمرر ضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند حسن۔
جو شہرت کالباس پہنے اللہ تعالٰی اسے روز قیامت ذلت کاکپڑا پہنائے پھر اس میں آگ بھڑکادی جائے۔ (اس کو ابوداؤد و ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے بسند حسن روایت کیا۔ ت)
(۴؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۲)
(سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۶)
جب دوہاتھوں سے مصافحہ اب تمام مسلمانوں میں رائج اور تم کسی حدیث سے اس کی ممانعت ثابت نہیں کرسکتے تو بلا وجہ عادت مسلمین کا خلاف کرنا سوا اپنی شہرت چاہنے نکو بننے اور اس وعید شدیدکے مستحق ہونے کے اور کس غرض پر محمول ہوسکتاہے ____ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو توفیق رفیق عنایت فرمائے (آمین!)
یہ چند جملے ہیں کہ بطور اختصار برسبیل ارتجال زبان قلم سے سیرزدہوئے اور وہ مباحث نفیسہ واصول جلیلہ جن کی طرف ضمن کلام میں جابجا اشارہ ہوا اگر ان کی تحقیق تام وتنقیح تمام پر آئیں تو مبسوط کتابیں لکھنا چاہئے جسے بیان کافی وارشاد شافی پر اطلاع منظور ہو کتب علماء مثل
اذاقۃ الاثام و اصول الرشاد وغیرہما
تالیف طیبات امام المحققین سراج المدققین حضرت والد قدس سرہ الماجد کی طرف رجوع کرے۔ امید کرتا ہوں کہ اس مسئلہ مصافحہ بالیدین میں یہ مباحث رائقہ وابحاث فائقہ خاص علم فقیر کا حصہ ہوں۔
والحمدﷲ رب العلمین والصلٰوۃ والسلام علی سید المرسلین والہ وصحبہ اجمعین۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفٰی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم