فعل تو جواز کے لئے دلیل ہوتا ہے اور نہ کرنے سے منع کرنا نہیں سمجھا جاتا۔
(۲؎ المواہب اللدنیہ)
شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے ہیں:
نہ کردن چیزے دیگر است ومنع فرمودن چیزے دیگر ۳؎۔
نہ کرنا اور چیز ہے اور منع کرنا اور چیز۔پھر کیسی جہالت ہے کہ نہ کرنے کو منع کرنا ٹھہرا رکھاہے۔
(۳؎ تحفہ اثنا عشریہ باب دہم درمطا عن خلفائے ثلثہ الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۶۹)
سابعامصافحہ امو رمعامشرت سے ایک امر ہے جس سے مقصود شرع باہم مسلمانوں میں ازدیاد الفت اور ملتے وقت اظہار انس ومحبت ہے حدیث میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تصافحوا یذھب الغل عن قلوبکم ۴؎۔ اخرجہ ابن عدی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما ونحوہ ابن عساکر عن ابی ھریرۃ اولہ تھادوا وتحابوا ونحوھذا اخرجہ مالک فی المؤطا ۱؎ بسند جید عن عطاء الخراسانی مرسلا ۔
آپس میں مصافحہ کرو تمھارے سینوں سے کینے نکل جائیں گے۔ (ابن عدی نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے اس کی تخریج کی ہے اور اس کی مثل ابن عساکر نے ابوہریرہ سے روایت کیا جس کی ا بتداء ان الفاظ سے ہے ہدیہ لینا دینا چاہئے تم آپس میں محبت کروگے اورا س کی مثل امام مالک نے مؤطا میں جید سند کے ساتھ مراسل طریقہ پر عطاء خراسانی سے روایت کی ہے۔ (ت)
(۴؎ الکامل لابن عدی ترجمہ محمد بن ابی زعیزعۃ الخ دارالفکر بیروت ۶/ ۲۲۱۱)
(کنز العمال بحوالہ عد عن ابن عمر حدیث ۲۵۳۴۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۱۳۰)
(الترغیب والترھیب بحوالہ مالک عن عطاء الخراسانی الترغیب فی المصافحۃ مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۳۴)
(۱؎ مؤطا امام مالک باب ماجاء فی المہاجرۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۷۰۷)
(کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۱۵۰۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۱۱۰)
مصافحہ اور مرحبا فلان کو، اور آنے والے سے معانقہ جیسے امور میں محبت اور خوشی زیادہ ہوتی ہے اور ان سے وحشت اور اجنبیت ختم ہوتی ہے۔ (ت)
(۳؎حجۃ اللہ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ /۱۹۸)
اسی میں ہے :
التحابب فی الناس خصلۃ یرضا ھااﷲ تعالٰی وافشاء السلام اٰلۃ صالحۃ لانشاء المحبۃ وکذالک المصافحۃ وتقبیل الید ونحوذلک ۳؎۔
لوگوں میں محبت وہ خصلت ہے جو اللہ تعالٰی کی رضا کا باعث ہے اور سلام کی عادت محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور یوں ہی مصافحہ اور دست بوسی وغیرہ بھی (ت)
(۲؎ حجۃ اللہ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ /۱۹۷)
اور بیشک یہ امور عرف وعادت قوم پر مبنی ہوتے ہیں جو امر جس طرح جس قوم میں رائج اور ان کے نزدیک الفت وموانست اور ا س کی زیادت پر دلیل ہو وہ عین مقصود شرع ہوگا جب تک بالخصوص اس میں کوئی نہی وارد نہ ہو وجہ یہ کہ اس کی کسی خصوصیت سے شرع مطہر کی کوئی خاص غرض متعلق نہیں۔ اصل مقصود سے کام ہے جس ہیئت سے حاصل ہو۔ آخر نہ دیکھا کہ انھیں امور میں جو وقت ملاقات بغرض مذکور مشروع ہوئے ایک مرحبا کہنا تھا کہ اس سے بھی خوشدلی اور اس شخص کے آنے پر فرحت ظاہر ہوتی ہے۔
حدیث براء ابن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے گزرا کہ حضور صلی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لایلقی مسلم مسلما فیر حب بہ ویأخذ بیدہ الاتناثرت الذنوب بینھما ۱؎۔ الحدیث۔
جو مسلمان مسلمان سے مل کر مرحبا کہے اور ہاتھ ملائے ان کے گناہ جھڑ جائیں۔
(۱؎ نصب الرایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء نوریہ رضویہ لاہور ۴ /۵۶۶)
(شعب الایمان حدیث ۸۹۵۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۴۷۵)
پھر بلاد عجمیہ میں اس کا رواج نہیں، فارس میں اس کی جگہ خوش آمدی کہتے ہیں۔ اور ہندوستان میں آئیے آئیے تشریف لائیے، اورا س کی مثل کلمات ____ اب کوئی عاقل اسے مخالفت حدیث ومزاحمت سنت نہ جانے گا، رات دن دیکھا جاتا ہے کہ خود حضرات منکرین میں دوستوں کے ملتے وقت اسی قسم کے الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ کیوں نہیں بدعت وممنوع وخلاف سنت قرار پاتے۔ تو وجہ کیا کہ اصل مقصود شرع وہی اظہار خوشدلی بغرض ازدیاد محبت ہے۔ یہ مطلب عر ب میں لفظ مرحبا سے مفھوم ہوتا تھا۔ یہاں ان لفظوں سے ادا کیا جاتاہے۔ تو غرض شریعت کی ہر طرح حاصل ہے۔ خود مصافحہ بھی شرع مطہر کا اپنا وضع فرمایا ہوا نہیں بلکہ اہل یمن آئے انھوں نے اپنے رسم ورواج کے مطابق مصافحہ کیا، شرع نے اس رسم کو اپنے مقصود یعنی ایتلاف مسلمین کے موافق پاکر مقرر رکھا۔ اگر رسم کسی اور طریقے سے ہوتی اور اسکی خصوصیت میں کوئی محذور شرعی نہ ہوتا تو شرع اسے مقرر رکھتی اور ایسے ہی وعدہائے ثواب اس پر فرماتی۔ ہاں! وہ بات جس میں کسی طرح مقاصد شرع سے مخالفت ہوبے شک ناپسند ہوگی اگر چہ کسی قوم میں اس کی رسم پڑی ہو۔ جیسے سلام کے عوض بلا ضرورت شرعیہ انگلی یا ہتھیلی کا اشارہ کہ بوجہ مشابہت یہود ونصارے اس سے ممانعت آئی، حدیث ضعیف میں ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ـ
لیس منامن تشبہ بغیرنالاتشبہوا بالیہود ولابالنصارٰی فان تسلیم الیھود الاشارۃ بالاصابع وان تسلیم النصاری بالاکف ۲؎ رواہ الترمذی والطبرانی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال الترمذی ھذا حدیث اسنادہ ضعیف۔
ہم میں سے نہیں جو ہمارے غیر سے مشابہت پیدا کرے۔ یہودونصارٰی سے تشبہ نہ کرو کہ یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور نصارٰی کا سلام ہتھیلیوں سے ہے (اس کو ترمذی اور طبرانی نے عمرو بن شعیب سے انھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے اپنے دادا سے روایت کیا۔ ترمذی نے کہا اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے۔ ۲؎
(۲؎ جامع الترمذی کتاب الاستیذان باب ماجاء فی فضل الذی بیدأ بالسلام امین کمپنی دہلی ۲ /۹۴)
ثامنا جو امر نوپیدا کہ کسی سنت ثابتہ کی ضد واقع اور اس کا فعل فعل سنت کا مزیل ورافع ہو وہ بیشک ممنوع ومذموم ہے جیسے السلام علیکم کی جگہ آج کل عوام ہند میں آداب مجرا کو رنش، بندگی کا رواج ہے ____اگر غریب بندے بعض معززوں سے بطریق سنت مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم السلام علیکم کہیں اپنے حق میں گویا گالی سمجھیں، اس احداث نے ان سے سنت سلام اٹھادی۔ یہ بیشک ذم وانکار کے لائق ہے بخلاف دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے کہ بالفرض اگر سنت میں ایک ہی ہاتھ کا رواج تھا تو دو ہاتھ سے مصافحہ سے وہ بھی ادا ہوئی اور اس کے ساتھ ایک اور امر زائد ہوا جو کسی طرح اس کے منافی نہ تھا، اس میں سنت ثابتہ کا اصلا رد ورفع نہیں پھر ممنوع ومذموم ٹھہرا نا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔
امام حجۃ الاسلام محمد غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
انما البدع المذمومۃ ماتصادم السنن الثابتۃ ۱؎۔
بدعت مذمومہ وہی ہے جو سنن ثابتہ کا ردکرے۔
(۱؎ احیاء العلوم کتاب آداب السماع والوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۲/ ۳۰۵)
یہاں مصافحے کی نظیر تلبیہ حج ہے کہ صحاح ستہ میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اسی قدر منقول :
لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک۔
پھر خود حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما با آں شدت اتباع سنت اس میں یہ لفظ بڑھایا کرتے:
اوریہ زیادت امیر المومنین فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی فرماتے
کما اخرجہ مسلم ۲؎۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الحج باب التلبیۃ وصفتہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۵)
اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لبیک عددالتراب زیادہ کیا
اخرجہ اسحق بن راھویۃ فی مسندہ ۳؎۔
(۳؎ نصب الرایۃ بحوالہ اسحق بن راہویہ کتاب الحج باب الاحرام نوریہ رضویہ لاہور ۳ /۲۹)
اور سید نا امام حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے
لبیک ذاالنعماء والفضل الحسن بڑھایا اخرجہ ابن سعد فی الطبقات ۴؎
(۴؎ نصب الرایۃ بحوالہ ابن سعد فی الطبقات کتاب الحج باب الاحرام نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۳۰)
ہمارے علماء اس کی وجہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
ان المقصود الثناء واظہار العبودیۃ فلایمنع من الزیادۃ علیہ۔ قالہ الامام برھان الدین علی ابوالحسن الفرغانی قدس اﷲ تعالٰی سرہ الصمد انی فی الہدایۃ ثم الامام فخر الدین الزیلعی فی تبیین ۱؎ الحقائق شرح کنز الدقائق وغیرھمافی غیرھما۔
تلبیہ سے مقصود اللہ تعالٰی کی تعریف اور بندگی کا اظہار ہے تو اس پر اور کلمات بڑھانا ممنوع نہیں (اسے برہان الدین علی ابوالحسن فرغانی قد س سرہ الصمدانی نے ہدایہ میں پھر امام فخر الدین زیلعی نے تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں اور دیگر حضرات نے اپنی کتابوں میں فرمایا۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الحج باب الاحرام المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۲۱۷)
(تبیین الحقائق کتاب الحج باب الاحرام المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۲ /۱۱)
یونہی جبکہ مصافحے سے اظہار محبت وازدیاد الفت مقصود تو دوسرے ہاتھ کی زیادت کہ ہر گز اس کے منافی نہیں بلکہ بحسب عرف بلد مؤیدومؤکد ہے۔ زنہار ممنوع نہیں ہوسکتی۔