Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
50 - 146
درجہ پنجم: الطف واہم، ان سب سے گزر ئیے بفرض ہزار در ہزار باطل تمام جہاں کی اگلی پچھلی سب کتب حدیث آپ کی الماری میں بھری ہیں اور ان سب کے آپ پورے حافظ ہیں آنکھیں بند کرکے ہر حدیث کا پتا دے سکتے ہیں پھرحافظ جی صاحب یہ تو طوطے کی طرح حق اللہ تعالٰی پاک ذات اللہ کی یاد ہوئی۔ فہم حدیث کا منصب ارفع واعظم کدھر گیا۔ لاکھ بار ہوگا کہ ایک مطلب کی حدیث انھیں احادیث  میں ہوں گی جو آپ کو برزبان یاد ہیں اور آپ کی خواب میں بھی خطرہ نہ گزرے گا کہ ا س سے وہ مطلب نکلتا ہے۔ آپ کیا اور آپ کے علم وفہم کی حقیقت کتنی۔ اکابر اجلہ محدثین یہاں آکر زانوٹیک دیتے ہیں اور فقہائے کرام کا دامن پکڑتے ہیں۔ حفظ حدیث فہم حدیث کو مستلزم ہوتا تو حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے کیا معنٰی تھے:
رُبِّ حَامِلِ فِقْہٍ الٰی مَنْ ہُوَاَفْقَہُ مِنْہُ وَرْبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٖ ۱؎ رواہ الائمۃ الشافعی والاحمد والدارمی و ابوداؤد 

والترمذی وصححہ والضیاء فی المختارۃ والبیہقی فی المدخل عن زید بن ثابت والدارمی عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہما ونحوہ لاحمد و الترمذی وابن حبان عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بسند صحیح وللدارمی عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
بہتیرے حاملان فقہ ان کے پاس فقہ لے جاتے ہیں جو ان سے زیادہ اس کی سمجھ رکھتے ہیں اور بہتیرے وہ کہ فقہ کے حامل وحافظ وراوی ہیں مگر خود اس کی سمجھ نہیں رکھتے۔ اس کی روایت ائمہ شافعی ، احمد، دارمی، ابوداؤد اور ترمذی نے کی اور اسے صحیح قراردیا۔ اور ضیاء نے مختارہ میں اور بیہقی نے مدخل میں حضرت زید ابن ثابت سے اور دارمی نے حضرت جبیر ابن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی۔ اور اسی طرح احمد و ترمذی اور ابن حبان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند صحیح رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی، اورحضرت دارمی کی روایت جو مروی ہے حضرت ابودرداء سے انھوں نے رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب العلم     باب ماجاء فی البحث علی تبلیغ السماع     امین کمپنی کراچی    ۲/ ۹۰)

(سنن ابی داؤد         کتاب العلم باب فضل نشر العلم     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۵۹)

(مسند احمد بن حنبل    ۲/ ۲۲۵ و ۳/ ۸۰ و ۸۲    المکتب الاسلامی بیروت    )

(سنن الدارمی         باب الاقتداء بالعلماء     حدیث ۲۳۴     دارالمحاسن القاھرۃ    ۱/ ۶۵)
ذرا خدا کے لئے آئینہ لے کر اپنا منہ دیکھئے اور امام اجل سلیمن اعمش کا علم عزیز وفضل کبیر خیال کیجئے جو خود حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شاگردجلیل الشان اور اجلہ ائمہ تابعین اور تمام ائمہ حدیث کے اساتذہ الاساتذہ سے ہیں۔ امام ابن حجر مکی شافعی کتاب خیرات الحسان میں فرماتے ہیں کسی نے ان امام اعمش سے کچھ مسائل پوچھے ہمارے امام اعظم امام الائمہ مالک الازمہ سراج الامہ سیدنا ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (کہ اس زمانے میں انھیں اما م اعمش سے حدیث پڑھتے تھے) حاضر مجلس تھے، امام اعمش نے وہ مسائل ہمارے امام اعظم سے پوچھے امام نے فورا جواب دئے۔ امام اعمش نے کہا یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کئے، فرمایا: ان حدیثوں سے جو میں نے خود آپ ہی سے سنی ہیں۔ اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرمائیں۔ امام اعمش نے کہا:
حسبک ماحدثتک بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انک تعمل بہذہ الاحادیث یامعشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیاد لہ وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین ۱؎۔
بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سو دن میں آپ کوسنائیں آپ ایک گھڑی میں مجھے سنائے دیتے ہیں مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کرتے ہیں۔ اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور ہم محدث لوگ عطارہیں اور اے ابوحنیفہ! تم نے فقہ وحدیث دونوں کنارے لئے۔ والحمدللہ۔
 (۱؎ الخیرات الحسان     الفصل الثلاثون فی سندہ فی الحدیث     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۴۴)
یہ تو یہ خود ان سے بھی بدرجہا اجل واعظم ان کے استاد ا کرم واقدم امام عامر شعبی جنھوں نے پانچ سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو پایا، حضرت امیر المومنین مولی علی وسعد بن ابی وقاص و سعید بن زید وابوھریرہ وانس بن مالک وعبداللہ بن عمر وعبداللہ بن عباس وعبداللہ بن زبیر وعمران بن حصین وجریر بن عبداللہ ومغیرہ بن شعبہ وعدی بن حاتم وامام حسن وامام حسین وغیرہم بکثرت اصحاب کرام رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے استادہیں جن کا پایہ رفیع حدیث میں ایسا تھا کہ فرماتے ہیں بیس سال گزرے ہیں کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تک ایسی نہیں پہنچی جس کا علم مجھے اس سے زائد نہ ہو، ایسے امام والامقام با آں جلالت شان فرماتے:
انا لسنا بالفقہاء ولکنا سمعنا الحدیث فرویناہ الفقہاء من اذا علم عمل۔ نقلہ الذہبی فی تذکرۃ الحفاظ ۲؎۔
ہم لوگ فقیہ ومجتہد نہیں ہمیں مطالب حدیث کی کامل سمجھ نہیں ہم نے تو حدیثیں سن کر فقہیوں کے آگے، روایت کردی ہیں جو ان پر مطلع ہو کر کارروائی کریں گے، (اسے ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں نقل کیاہے۔ ت)
 (۲؎ تذکرۃ الحفاظ     ترجمہ ۷۷ عامر بن شرحبیل الشعبی     دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن    ۱/ ۷۹)
مگر آج کل کے نامشخص حضرات کو اپنی یاد وفہم اور اپنے دو حرفی نام علم پروہ اعتماد ہے جو ابلیس لعین کو اپنی اصل آگ پر تھا کہ دو حرف رٹ کر ہر امام امت کے مقابل
انا خیر منہ
 (میں اس سے بہترہوں۔ ت) کی بینٹی گھمانے کے سوا کچھ نہیں جانتے،
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
خامسا بالفرض مان ہی لیجئے کہ حدیث واقع میں مروی نہ ہوئی پھر کہاں عدم نقل اور کہاں نقل عدم، یعنی اگر کسی فعل کا کرنا حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور نے کیا ہی نہ ہو، اس کا حاصل اتناہوگا کہ حدیث میں اس فعل کا نہ ہونا آیا ان دونوں عبارتوں میں جو فرق ہے ذی عقل پر پوشیدہ نہیں۔ امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
عدم النقل لاینفی الوجود ۱؎۔
کسی مسئلہ کا منقول نہ ہونا وجود کی نفی نہیں کرتا (ت)
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۲۰)
شاہ ولی اﷲ دہلوی حجۃ اللہ البالغہ میں اسی عدم نقل ونقل عدم میں تمیز نہ کرنے کو جہل وتعصب کے مفاسد سے کہتے ہیں:
حیث قال وجدت بعضہم لایمیز بین قولنا لیست الاشارۃ فی ظاہر المذہب وقولنا ظاہرا لمذہب انھا لیست و مفاسد الجھل والتعصب اکثر من ان تحصی ۲؎۔
میں نے بعض حضرات کو یہاں تک دیکھا کہ وہ ہمارے
قول لیست الاشارۃ فی ظاہر المذہب
(ظاہر مذہب میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں) اور ہمارے
قول ظاہر المذہب انھا لیست
(ظاہر مذہب اس کے برخلاف ہے) والے اصولی قول میں امتیاز ہی نہیں کرتے جہالت وتعصب کے مفاسد تو بیشمار ہیں۔ (ت)
 (۲؎ حجۃاللہ البالغہ     الامور التی لابدمنہا فی الصلوٰۃ     المکتبہ السلفیہ لاہور    ۲/ ۱۲)
سادسا یہ بھی سہی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس فعل کا نہ کرنا اور بات ہے اور منع فرمانا اور بات، ممنوع وہ چیز ہے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع کی، نہ کہ وہ چیز جو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ کی، قرآن عظیم نے یوں فرمایا:
مااٰتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتہوا ۳؎۔
رسول جوتمھیں دے لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۵۹/ ۷)
یوں نہیں فرمایا ہے کہ:
مَافَعَلَ الرَّسُوْلْ فَخَذُوْہُ وَمَالَمْ یَفْعَلْ فَانْتَھُوْا
جو رسول نے کیا کرواور جونہ کیا اس سے باز رہو۔

امام محق علی الاطلاق فتح القدیر میں نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نفل کی نسبت یہ تحقیق فرما کر کہ نہ ان کا فعل حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہ کسی صحابی سے ثابت، ارشاد فرماتے ہیں:
الثابت بعد ہذا ہو نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراہۃ فلا الا ان یدل دلیل اٰخر ۱؎۔
ان سب سے یہ ثابت ہوا کہ مستحب نہیں رہی کراہت وہ ثابت نہ ہوئی، اس کے لئے دوسری دلیل چاہئے۔
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الصلوٰۃ باب النوافل         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۳۸۹)
Flag Counter