درجہ دوئم: اب جو حدیثیں تدوین میں آئیں ان میں سے فرمائے کتنی باقی ہیں ، صد ہا کتابیں کہ ائمہ دین نے تالیف فرمائیں محض بے نشان ہوگئیں اور یہ آج سے نہیں ابتداء ہی سے ہے۔ امام مالک کے زمانے میں اسی (۸۰) علماء نے مؤطا لکھیں پھر سوائے مؤطائے مالک ومؤطائے ابن وہب کے اور بھی کسی کا پتا باقی ہے۔ امام مسلم کے زمانے کو ابوعبداللہ حاکم نیشاپوری صاحب مستدرک کے زمانے سے ایسا کتنا فاصلہ تھا۔ پھر بعض تصانیف مسلم کی نسبت امام ابن حجر نے حاکم سے نقل کیا کہ معدوم ہیں وعلی ھذہ القیاس صدہا بلکہ ہزارہا تصانیف ائمہ کا کوئی نشان نہیں دے سکتا ، مگر اتنا کہ تذکروں تاریخوں میں نام لکھا رہ گیا۔
درجہ سوم: اس سے بھی گزرئے جو کتابیں باقی رہیں ان میں سے اس خراب آباد ہند میں کَے پائی جاتی ہیں ذرا کوئی حضرت غیر مقلد صاحب اپنے یہاں کی کتب حدیث کی فہرست تو دکھائیں کہ معلوم ہوکہ کس پونجی پر یہ اونچا دعوٰی ہے۔
درجہ چہارم: اب سب کے بعد یہ فرمائیے کہ جو کتابیں ہندوستان میں ہیں ان پرحضرات مدعین کو کہاں تک نظر ہے اور ان کی احادیث کس قدر محفوظ ہیں۔
سبحان اﷲ! کیا صرف اتنا کافی ہے کہ جو مسئلہ پیش آیا اسے خاص اسی کے باب میں دو چار کتابوں میں جو اپنے پاس ہیں دیکھ بھال لیا اور اپنے زعم میں باطل میں کوئی حدیث نہ ملی تو بے ثبوت ہونے کا دعوٰی کردیا۔ جان برادر! بارہا واقع ہوگا کہ اس مسئلہ کی حدیث انھیں کتابوں میں ملے گی اور آپ کی نظر اس پر نہ پہنچے گی کہ اول تو ہر مطلب کے لئے محدثین نے تراجم وابواب وضع نہ کئے اور جس کے لئے وضع کئے ان کی مثبت بہت حدیثیں ایسی ہوں گی جو بوجہ دوسری مناسبت کے دیگر ابواب میں لکھ آئے یا لکھیں گے اوریہاں بخیال تکرار ان کے اعادہ واثبات سے باز رہے۔ اگر یوں نہ مانئے اور اپنی وسعت نظر واحاطہ علم کا دعوٰی ہی کیجئے تو حضرات بے امتحان نہیں سہی اپنے میں جس صاحب کوبڑا محدث جانئے معین کیجئے، ہم دس سوال کرتے ہیں کہ ان کی نسبت جو حکم احادیث میں واردہو ارشاد فرمائیں پھر دیکھئے ان شاء اللہ تعالٰی کیسے غوطے کھاتے ہیں۔اللہ عزوجل چاہے تو اکثر کاحکم نہ نکال سکیں گے، اور رب تبارک وتعالٰی کو منظور ہے تو انھیں کتابوں میں ان کی احادیث نکل آئیں گی، اس وقت معلوم ہوگا کہ دعوٰی اجتہاد کرنے والے کتنے پانی میں تھے۔ وائے بے انصافی ان لیاقتوں پرائمہ مجتہدین سے ہمسری کا دعوٰی ہیہات ہیہات ''چھوٹا منہ بڑی بات'' آدمی کو کتنی بھاتی ہے مگر امتحان دیتے وقت مزاآتاہے۔ ہاں ہاں یہ بات میں نے اس لئے نہیں کہی کہ سنئے اور اڑا جائے، نہیں نہیں ضرور اپنے کسی اعلٰی محدث کا نام رکھئے اور ہم جو سوالات کریں ان کا جواب ان سے بذریعہ احادیث لکھوائیے، ہم بھی تو دیکھیں کس برتے پرتتا پانی! جان برادر! حصر رواۃ ممکن نہیں، حصر رواۃ کیونکرممکن نہیں۔ ابراہیم بن بکر شیبانی کے ذکر میں امام ابن الجوزی نے کہا:
امام جلال شلدین سیوطی جیسے حافظ جلیل نے کتاب جامع صغیر میں ذکر فرمائی اور اس کا کوئی مخرج نہ بتاسکے کہ کس محدث نے اپنی کتاب میں روایت کی۔ان بعض علماء کے نام لکھ کر جنھوں نے بے سند اپنی کتابوں میں اسے ذکرکیا لکھ دیا کہ:
لعلہ خرج فی بعض کتب الحفاظ التی لم تصل الینا ۳؎۔
شاید وہ حافظان حدیث کی بعض کتابوں میں روایت کی گئی جو ہم تک نہ پہنچیں۔
ہذا بحسب مااطلع علیہ المصنف لاباعتبار مافی نفس الامر ۱؎ قالہ المناوی۔
یہ وہ اپنے علم کے اعتبار سے کہتے ہیں نہ یہ کہ واقع میں جس قدر حدیثیں ہیں سب کو جمع کرنا۔ (ت)
(۱؎ التسیر شرح الجامع الصغیر خطبہ مؤلف مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۵)
وہ اپنے نہ پانے پر یوں فرماتے ہیں کہ شاید یہ حدیث ان کتب ائمہ میں تخریج ہوئی جو ہمیں نہ ملیں۔ او رپھر یہ دیکھئے ہوا بھی ایسا ہی، عبارت مذکورہ بعد علامہ مناوی صاحب تیسیر شرح جامع صغیر نے لکھ دیا
الامر کذٰلک ۲؎
یعنی واقع ایسا ہی ہے۔ پھر اس کی تخریج بتائی کہ بیہقی نے مدخل اور دیلمی نے مسندالفردوس میں بروایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما روایت کی۔ اور اس حدیث کی سند پر نہ صرف امام سیوطی بلکہ اکثر ائمہ کو اطلاع نہ ہوئی،
(۲؎التسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اختلاف امتی الخ مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۴۹)
امام خاتم الحفاظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
زعم کثیر من الائمۃ انہ لااصل لہ۳؎
بہت سے اماموں نے یہی زعم کیا کہ اس کے لئے کوئی سند نہیں۔
(۳؎ اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ ابن حجر کتاب العلم الباب الثانی دارالفکر بیروت ۱/ ۲۰۵)
پھر امام عسقلانی نے اس کی بعض تخریجیں ظاہرفرمائیں۔
حدیث الوضوء علی الوضوء نور علی نورٍ
(وضوء پر وضو کرنا نور علی نورہے۔ ت) کی نسبت امام عبدالعظیم منذری نے کتاب الترغیب اور امام عراقی نے تخریج احادیث الاحیاء میں تصریح کردی کہ
لم نقف علیہ ۴؎
ہمیں اس پر اطلاع نہیں۔ حالانکہ وہ مسند امام رزین میں موجود ۔
(۴؎ الترغیب والترھیب الترغیب فی المحافظۃ علی الوضو، مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۶۳)
(المغنی عن حمل الاسفار للعراقی مع احیاء العلوم کتاب الطہارۃ باب فضیلۃ الوضوء مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۳۵)
تیسیر میں ہے:
حدیث الوضوء علی الوضوء نورعلی نور اخرجہ رزین ولم یطلع علیہ العراقی کالمنذری فقالا لم یقف علیہ ۵؎۔
وضو ء پر وضوء کرنا نور علی نورہے۔ یہ وہ حدیث ہے جس کی تخریج حضرت رزین نے کی ہے اور منذری کی طرح امام عراقی اس پرمطلع نہیں ہیں تو انھوں نے کہاہم اس پر واقف نہیں ہیں(ت)
(۵؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من توضا علی طہر مکتبۃ الامام شافعی ریاض ۱/ ۱۲۔ ۴۱۱)
اس سے عجیب تر سنئے۔
حدیث حضر ت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ انھوں نے رکوع میں دونوں ہاتھ ملا کر زانوں کے بیچ میں رکھے اور بعد نماز کے فرمایا:
ہکذا فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
ایسا ہی کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کی نسبت امام ابوعمر بن عبدالبر نے فرمایا؛ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت صحیح نہیں۔ محدثین کے نزدیک صرف اس قدر صحیح ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے ایسا کیا۔ اور امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سے تو کتاب الخلاصۃ میں سخت ہی تعجب خیز بات واقع ہوئی کہ فرمایا صحیح مسلم شریف میں بھی صرف اسی قدر ہے کہ ابن مسعود نے ایسا کیا اوریہ نہیں کہ ہکذا فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حالانکہ بعینہٖ یہی الفاظ صحیح مسلم میں موجود، امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
فی صحیح مسلم عن علقمۃ والاسودا نھما دخلا علی عبداﷲ فقال أصلی من خلفکما قالا نعم فقام بینھما فجعل احدہما عن یمینہ والاخر عن شمالہ ثم رکعنا فوضعنا ایدینا علی رکبنا ثم طبق بین یدیہ ثم جعلھما بین فخذیہ فلما صلی قال ھکذا فعل رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ابن عبدالبر لایصح رفعہ والصحیح عندھم الوقف علی ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔ وقال النووی فی الخلاصۃ الثابت فی صحیح مسلم ان ابن مسعود فعل ذٰلک ولم یقل ہکذا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یفعلہ قیل کانھما ذھلافان مسلما اخرجہ من ثلث طرق لم یرفعہ فی الاولین ورفعہ فی الثالثۃ وقال ہکذا فعل الخ ۱؎۔
صحیح مسلم میں حضرت علقمہ اور اسود سے روایت ہے یہ دونوں حضرات عبداللہ ابن مسعودکے پاس آئے کہا کیا دوسروں نے نماز پڑھ لی ہے۔ دونوں نے عرض کی ہاں حضور، پھر آپ دونوں کے بیچ میں کھڑے ہوگئے ایک کو داہنے طرف دوسرے کو بائیں طرف کرلیا، پھر ہم سبھوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پررکھ لیا۔ پھر دونوں ہاتھ کو ملایا، پھر انھوں نے دونوں رانوں کے بیچ میں رکھ دیا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے توآپ نے فرمایا:ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا، ابن عبدالبر نے کہا: اس روایت کا حضور تک پہنچنا ثابت نہیں۔ ان کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث عبداللہ ابن مسعود تک موقوف ہے۔ امام نووی نے خلاصہ میں کہا کہ صحیح مسلم میں یہ روایت ثابت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود نے ایسا کیا۔ انھوں نے یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ان دونوں سے ذہول ہوگیا کیونکہ امام مسلم نے تین طریقوں سے اسے تخریج فرمایا، پہلی دو روایتیں مرفوع نہیں البتہ تیسری روایت میں انھوں نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے اور فرمایا اسی طرح کیا الخ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الصلوٰۃ باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۹)
میں یہاں اگر اس کی نظیر یں جمع کرنے پر آؤں کہ خبر وحدیث میں مشہور ومتداول کتابوں یہاں تک خود صحاح ستہ سے اکابرمحدثین کو کیسے کیسے ذہول واقع ہوئےہیں تو کلام طویل ہوجائے، بعض مثالیں اس کی فقیر نے اپنے رسالہ
نور عینی فی الانتصار للامام العینی
میں لکھیں یہاں مقصود اسی قدر کہ مدعی آنکھ کھول کر دیکھے کہ کس بضاعت پر کمال علم واحاطہ نظر کا دعوٰی ہے۔ کیا ان ائمہ سے غفلت ہوئی اور تم معصوم ہو؟___ کیا نہیں ممکن کہ حدیث انھیں کتابوں میں ہواورتمھاری نظر سے غائب رہے؟__ مانا کہ ان کتابوں میں نہیں کیا سب کتابیں تمھارے پاس ہیں؟___ ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جو اور بندگان خدا کے پاس دیگر بلاد میں موجود ہیں ___ مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا اسی قدر کتابیں تصنیف ہوئی تھیں ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جومعدوم ہوگئیں مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا تمام احادیث کتابوں میں مندرج ہوگئی تھیں؟___ ممکن کہ ان احادیث میں ہو جو علماء اپنے سینوں میں لے گئے ___ پھر ''ہلدی کی گرہ پر پنساری بننا کس نے مانا'' اپنے نہ پانے کو نہ ہونے کی دلیل سمجھنا اور عدم علم کو علم بالعدم ٹھہرا لینا کیسی سخت سفاہت ہے۔ خاص نظیر اس کی یہ ہے کہ کوئی شخص ایک چیز اپنی کوٹھری کی چار دیواری میں ڈھونڈھ کر بیٹھ رہے اور کہدے ہم تلاش کرچکے تمام جہاں میں کہیں نشان نہیں کیا اس بات پرعقلاء اسے مجنون نہ جانیں گے!___