Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
48 - 146
اور دوسرے صاحب حضرت الانام علم الہدی شیخ الاسلام عبداللہ بن مبارک مروزی کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ عالم میں کون سا قدرے لکھا پڑھا ہے جو اس جناب کی جلالت شان ورفعت مکان سے آگاہ نہیں۔ وہ بھی اجلہ ائمہ تبع تابعین سادات محدثین ، کبرائے مجتہدین اور امام بخاری ومسلم کے استاذ الاساتذین اور ہمارے امام اعظم کے خاص شاگردان ومستفدین سے ہیں رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
علمائے دین فرماتے ہیں تمام جہاں کی خوبیاں اللہ تعالٰی نے ان میں جمع فرمادی تھیں
قالہ فی التقریب ۱؎
 (اسے تقریب میں بیان کیا گیا۔ ت اور فرماتے ہیں جہاں عبداللہ بن مبارک کاذکر ہوتا ہے وہاں رحمت الٰہی اترتی ہے
ذکرہ الزرقانی وغیرہ
 (اسے زرقانی وغیرہ نے ذکر کیا۔ ت) ان کا کچھ تذکرہ دیکھنا چاہو تو سردست شاہ عبدالعزیز صاحب کی بستان المحدثین ۲؎ ہی دیکھو۔
 (۱؎ تقریب التہذیب ترجمہ ۳۵۸۱ عبداللہ بن مبارک     ۱/ ۵۲۷ )

(۲؎ بستان المحدثین کتا ب الزہد والرقاق     ص۱۴۹ تا ۱۵۹)
ہم نے بحمداللہ خاص صحیح بخاری سے ایسے دو امام جلیل تبع تابعین سے دونوں ہاتھ کا مصافحہ ثابت کردیا۔ مخالف بھی تو کہیں سے ممانعت ثابت کرے یا ایسے حضرات تبع تابعین پر بھی معاذاللہ بدعت و مخالفت سنت کا گمان ہو گا یا اقرار کردیجئے گا کہ وہ بھی حدیث وسنت نہ جانتے تھے، محدث مجتہد جو کچھ ہیں بس آپ ہی تیرہ صدی  کی چھٹن چند جاہلان ہندی وطن
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
رابعا ان حضرات کا داب کلی ہے کہ جس امرپراپنی قاصر نظر ناقص تلاش میں حدیث نہیں پاتے اس پر بے اصل وبے ثبوت ہونے کاحکم لگادیتے اور اس کے ساتھ ہی صرف اس بناء پر اسے ممنوع وناجائز ٹھہرادیتے ہیں۔ پھر اس  طوفان بے ضابطگی کا وہ جوش ہوتاہے کہ اس اپنے نہ پانے کے مقابل علماء ومشائخ کی تو کیا گنتی حضرات عالیہ ائمہ مجتہدین رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے ارشادات بھی پایہ اعتبار سے ساقط اور ان کے احکام کو بھی یونہی معاذاللہ باطل وغیر ثابت بتاتے ہیں۔ یہ وہ جہالت بے مزہ ہے جسے کوئی ادنٰی عقل والا بھی قبول نہیں کرسکتا ان حضرات سے کوئی اتنا پوچھنے والا نہیں کہ ''کے آمدی وکے پیرشدی'' (کب آئے اور کب بوڑھے ہوئے۔ ت) بڑے بڑے اکابر محدثین ایسی جگہ "لم ار ولم اجد"  پر اختصار کرتے ہیں یعنی ہم نے نہ دیکھی ہمیں نہ ملی، نہ کہ تمھاری طرح عدم وجدان کہ عدم وجود کی دلیل ٹھہرادیں،
صاحبو! لاکھوں حدیثیں اپنے سینوں میں لے گئے کہ اصلا تدوین میں بھی نہ آئیں۔ امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں۔ اما م مسلم کو تین لاکھ، پھر صحیحین میں صرف سات ہزار حدیثیں ہیں۔ امام احمد کو دس لاکھ محفوظ تھیں مسند میں فقط تیس ہزار ہیں۔ خود شیخین وغیرہما ائمہ سے منقول کہ ہم سب احادیث صحاح کااستیعاب نہیں چاہتے۔ اور اگر ادعائے استیعاب فرض کیجئے تولازم آئے کہ افراد بخاری، امام مسلم اور افراد مسلم، امام بخاری اور صحاح افراد سنن اربعہ دونوں اماموں کے نزدیک صحیح نہ ہوں، اور اگر اس ادعا کو آگے بڑھائے تو یونہی صحیحین کی وہ متفق علیہ حدیثیں جنھیں امام  نسائی نے مجتبٰی میں داخل نہ کیا ا ن کے نزدیک حلیہ صحت سے عاری ہوں وھو کما تری (یہ وہ چیز ہے جسے تم جانتے ہو۔ ت) ___
صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
مامن اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احد اکثر حدیثا عنہ منی الاماکان من عبداﷲ بن عمرو فانہ کان یکتب ولااکتب ۱؎۔
اصحاب نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں کسی نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مجھ سے زیادہ حدیثیں روایت نہ کیں سوا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما کے کہ وہ لکھ لیا کرتے اور میں نہ لکھتا۔
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب العلم         باب کنایۃ العلم     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۲)
دیکھو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ صاف فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان سے زیادہ احادیث روایت فرمائیں۔ حالانکہ تصانیف محدثین میں ان کی حدیثیں ان کی احادیث سے بدرجہاکم ہیں۔ عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صرف سات سو حدیثیں پائی گئیں اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پانچ ہزار تین سو۔
علامہ قسطلانی ارشادمیں ارشاد فرماتے ہیں:
یفھم منہ جزم ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بانہ لیس فی الصحابۃ اکثر حدیثا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم منہ الا عبداﷲ بن عمرو  ومع ان الموجود عن عبداﷲ بن عمرواقل من الموجود المروی عن ابی ھریرۃ باضعاف لانہ سکن مصر وکان الواردون الیھا قلیلا بخلاف ابی ھریرۃ فانہ استوطن المدینۃ وھی مقصد المسلمین من کل جھۃ ورویَ عنہ فیما قالہ المؤلف نحو من ثمان مائۃ رجل و روی عنہ من الحدیث خمسۃ الاف وثلاث مأۃ حدیث ووجد لعبداﷲ سبع مأۃ حدیث۔۶؎۔
اس سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا جزم ویقین سمجھ میں آتا ہے کہ صحابہ کرام میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کسی نے اتنی کثیر تعداد میں حدیثیں روایت نہیں کیں سوائے عبداللہ بن عمرو کے، مگر اس کے باجود عبداللہ بن عمرو کی مرویات ابوہریرہ سے کئی گنا کم ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عبداللہ بن عمرو مصر میں سکونت پذیر تھے اور احادیث کریمہ کی تلاش و جستجو کرنے والوں کا ورود وہاں بہت کم ہوتا تھا بخلاف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے آپ کا تو مدینہ میں ہی قیام تھا جو ہر چہار جانب سے مسلمانوں کا مرجع تھا۔ حضرت مولف علیہ الرحمہ کا کہنایہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرنیوالے لگ بھگ آٹھ سو افراد تھے، اور حضرت ابوہریرہ سے کل پانچہزار تین سو حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی سات سو حدیث ملتی ہیں۔ (ت)
 (۲؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری    کتاب العلم         باب کنایۃ العلم     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۲۰۶)
اب کہئے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وہ ہزاروں حدیثیں کیا ہوئیں۔ اور کتب حدیث میں ا ن میں سے کتنی ہاتھ آئیں۔ بس اسی پرقیاس کرلیجئے اور یہیں سے ظاہر کہ ائمہ اربعہ خصوصا امام الائمہ مالک الازمہ سراج الامہ ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مذہب پر اگر ان کتب میں حدیثیں نہ ملیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے مذہب پر واقع میں حدیث نہیں بلکہ اگر بخاری ومسلم اور ان کے امثال تصریح بھی کردیں کہ فلاں مذہب امام ابوحنیفہ یا مام مالک پر کوئی حدیث نہیں تو بھی منصف ذی عقل کے نزدیک ان کے پاک مبارک مذہبوں میں ا صلا قادح نہیں ہوسکتا۔ آخر بخاری ومسلم کا علم محیط نہ تھا، کیا جو کچھ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور صحابہ نے امت مرحومہ تک پہنچایا اس سب کا علم بخاری ومسلم کو حاصل تھا۔ خود اجلہ صحابہ کرام جو گاہ بگاہ سفر وحضر میں دائما بارگاہ عرش جاہ حضور رسالت پناہ علیہ وعلیہم صلوات اللہ میں حاضر رہتے یہاں تک کہ حضرات خلفائے اربعہ وحضرت عبداللہ بن مسعود وغیرھم رضی اللہ تعالٰی عنہم بھی یہ دعوٰی نہیں کرسکتے تھے، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کل اقوال وافعال پر ہمیں اطلاع ہے، کتب احادیث پر جسے نظر ہے وہ خوب جانتاہے کہ بعض باتیں ان حضرات پر بھی خفی رہیں
''تا بد یگرے چہ رسد''
 (دوسروں تک کیا پہنچے۔ ت) پھر بخاری ومسلم وغیرہما کیونکر علم کل کا دعوٰی کرسکتے ہیں۔ اگر وہ نفی کریں بھی تو اس کا محصل صرف اپنے علم کی نفی ہوگا یعنی ہمیں نہیں معلوم پھر اس سے واقع میں حدیث نہ ہونا درکنار ، یہ بھی لازم نہیں آ ۤتا کہ ابوحنیفہ ومالک کو بھی اپنے مذہب پر حدیث نہ معلوم ہو ان کا زمانہ زمانہ اقدس سے قریب تر تھا اور اس وقت تک زمانہ خیر القرون تھا۔ بوجہ قلت کذب و کثرت خیر سندیں نظیف اور وسائط کم تھے، یہ ممکن کہ جو حدیثیں ابوحنیفہ ومالک کے پاس تھیں بخاری ومسلم کو نہ پہنچیں، ممکن کہ جو حدیثیں ان کے پاس بسند صحیح تھیں ان تک بذریعہ روایت ضعاف پہنچیں۔ پھر کیونکر ان کا نہ جاننا ان کے نہ جاننے پر قاضی ہوسکتاہے۔ امام اجل ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (جنھیں محدثین اہل جرح وتعدیل بھی بآنکہ ان میں بہت کو حضرات حنفیہ کرام سے ایک تعنت ہے تصریحا
صاحب حدیث منصف فی الحدیث واتبع القوم للحدیث
لکھتے ہیں ۔ بلکہ اپنے زعم میں امام الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ سے بھی زیادہ محدث وکثیر الحدیث جانتے ہیں امام ذہبی شافعی نے اس جناب کو حفاظ حدیث میں شماراور کتاب تذکرۃ الحفاظ میں بعنوان
الامام العلامۃ فقیہ العراقین
ذکر کیا) یہ ارشاد فرماتے ہیں : بارہا ہوتا کہ امام ایک قول ارشاد فرماتے کہ میری نظر میں حدیث کے خلاف ہوتا میں جانب حدیث جھکتا۔ بعد تحقیق معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام نے اس حدیث سے فرمایا ہے جو میرے خواب میں بھی نہ تھی،
امام ابن حجر مکی شافعی خیرات الحسان میں فرماتے ہیں:
عن ابی یوسف ما رأیت احدا اعلم بتفسیر الحدیث ومواضع النکت التی فیہ من الفقۃ من ابی حنیفۃ وقال ایضا ماخالفتہ فی شیئ قط فتدبرتہ الارایت مذہبہ الذی ذہب الیہ انجٰی فی الاخرۃ وکنت ربما ملت الی الحدیث فکان ہو ابصر بالحدیث الصحیح منی وقال کان اذا صمم علی قولہ درت علی مشائخ الکوفۃ ھل اجد فی تقویۃ قولہ حدیثا اواثرا فربما وجدت الحدیثین والثلاثۃ فاتیتہ بھا فمنہا مایقول فیہ ہذا غیر صحیح اوغیر معروف فاقول لہ وما علمک بذٰلک مع انہ یوافق قولک فیقول انا عالم بعلم اھل الکوفۃ ۱؎۔
حضرت ابویوسف سے روایت ہے کہ میں نے احادیث کی تشریح اور فقہ کی نکتہ آفرینی میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے زیادہ جانکار شخص نہیں دیکھا نیز انھوں نے فرمایا میں نے جب بھی کسی مسئلہ میں ان سے مخالفت کی پھر میں نے اس میں غور وخوض کیا تو مجھے یہی محسوس ہوا کہ آخرت میں نجات دینے والا وہی مذہب ہے جس کی طرف امام ابوحنیفہ گئے ہیں۔ مجھ سے زیادہ حدیثوں پر ان کی نظر تھی۔ نیز فرمایا جب وہ کسی بات پر اڑ جاتے ہیں تو میں کوفہ کے مشائخ کے پاس اس غرض سے حاضر ہوتا کہ اس قول کی تقویت میں مجھے کوئی حدیث یا اثر ملے تو بسااوقات مجھے دو تین حدیثیں مل جاتیں، تو میں ان کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتا۔ آپ فرماتے اس میں یہ فلاں حدیث صحیح نہیں ہے یا غیر معروف ہے۔ میں عرض کرتا حضور! یہ آپ کو کیسے معلوم ہوگیا حالانکہ یہ حدیثیں توآپ کے قول کی تائید میں ہیں۔ تو فرماتے کوفہ والوں کے علم ہی سے تو مجھے علم ہوا ہے۔ (ت)

خیر ایک درجہ تویہ ہوا۔
 (۱؎ الخیرات الحسان     الفصل الثلاثون فی سندہ فی الحدیث     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۴۳)
Flag Counter