Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
47 - 146
اب رہا یہ کہ دو ہاتھ سے مصافحہ کا ثبوت کیا ہے۔
اقول: وباللہ التوفیق ، اولا
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا:
علمنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکفی بین کفیہ التشھد ۱؎ الحدیث۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے کر مجھے التحیات تعلیم فرمائی۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الاستیذان     باب المصافحۃ          قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۹۲۶)

(صحیح مسلم     کتاب الصلوٰۃ     باب التشہد فی الصلوٰۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۷۴)
امام المحدثین امام بخاری نے اپنی جامع صحیح کی کتاب الاستیذان میں مصافحہ کے لئے جو باب وضع کیا اس میں سب سے پہلے اسی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نشان دیا۔ پھر اس باب مصافحہ کے برابر دوسراباب وضع کیا
بَابُ الْاَخْذِ بِالیَدینِ
یعنی یہ باب ہے دونوں ہاتھ میں ہاتھ لینے کا ۔ اس میں بھی وہی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ مسندا روایت کی، اگر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰیٰ علیہ وسلم کا یہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ لینا مصافحہ نہ تھا تو اس حدیث کوباب المصافحہ سے کیا تعلق ہوتا۔ صحیح بخاری کی اس تحریر پر دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت۔ ہاں اگر حضرات منکرین جس طرح ائمہ فقہ کو نہیں مانتے اب امام بخاری کی نسبت کہہ دیں کہ وہ حدیث غلط سمجھتے تھے ہم ٹھیک سمجھتے ہیں۔ تو وہ جانیں اور ان کا کام۔
معہذا مصافحہ دونوں جانب سے صفحات کف ملانا ہے اور یہ معنی اس صورت کفّی بَیْنَ کفیہ (میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے۔ت) میں ضرور متحقق ، تو اس کے مصافحہ ہونے سے انکار پر کیا باعث رہا____ بعض جہلا ء کا کہنا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے تو ایک ہی ہاتھ تھا۔ یہ محض جہالت وادعائے بے ثبوت ہے۔ دونوں طرف سے دونوں ہاتھ ملائے جائیں توایک کا ایک ہی ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان ہوگا نہ کہ دونوں___
وَھٰذَا ظَاہِرجدًّا
 (اوریہ بہت زیادہ ظاہرہے۔ ت) اور جب حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے دونوں ہاتھ کا ثبوت ہوا تو ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف سے ثبوت نہ ہونا کیا زیر نظر رہا۔
ثانیا اکابر علماء عامہ کتب
مثل خزانۃ الفتاوٰی وفتاوٰی عالمگیریہ وفتاوٰی زاہدی ودرمختار ومنتقٰی شرح ملتقی ومنیۃ الفقہاء وشرح نقایہ ورسالہ علامہ شرنبلالی ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر و فتح اللہ المعین للعلامۃ السید ابی المسعود الازہری وحاشیہ طحطاوی وحاشیہ شامی وغیرہا
میں تصریح فرماتے ہیں کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے سنت ہے۔ ہندیہ میں ہے:
یجوز المصافحۃ والسنۃ فیہا ان یضع یدیہ علی یدیہ من غیر حائل من ثوب او غیرہٖ کذا فی خزانۃ الفتاوٰی ۱؎۔
مصافحہ جائز ہے۔ سنت اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طور پر رکھے کہ درمیان میں کوئی کپڑا یا اورکوئی چیز حائل نہ ہو، ایسے ہی خزانۃ الفتاوٰی میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراہیۃ الباب الثامن والعشرون     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۶۹)
شرح تنویر پھر حواشی الکنز للسید میں ہے:
فی القنیۃ السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ ۲؎۔
قنیہ میں ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھ سے سنت ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۴)
شرح متن الحلبی للعلامۃ العلائی پھر ردالمحتار میں ہے:
السنۃ ان تکون بکلتا یدیہ ۳؎۔
سنت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرے۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۴۴)
جامع الرموز میں ہے:
السنۃ فیہا ان تکون بکلتا یدیہ کما فی المنیۃ ۳؎۔
مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے کرے۔ جیسا کہ منیہ میں ہے۔ (ت)
 (۴؎ جامع الرموز     کتاب الکراہیۃ     مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۳/ ۳۱۶)
شرح علامہ شیخی زادہ قاضی رومی میں ہے:
السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ ۱؎
مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کرے۔ (ت)
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر     کتا ب الکراہیۃ فصل فی احکام النظر     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۵۴۱)
شیخ محقق مولاناعبدالحق محدث دہلوی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
مصافحہ سنت است نزد ملاقات وباید کہ بہردو دست بود ۲؎۔
ملاقات کے وقت مصافحہ سنت ہے اور چاہئے کہ دونوں ہاتھوں سے ہو۔ (ت)
 (۲؎ اشعۃ اللمعات     شرح مشکوٰۃ المصابیح کتا ب الآداب باب المصافحہ     نوریہ رضویہ سکھر    ۴/ ۲۰)
مخالفین کا یہ دعوٰی ہے کہ فقہاء کی جو بات ہم اپنے زعم میں حدیث کے خلاف سمجھیں گے اسے نہ مانیں گے یہاں تک کہ ان کے ارشادات کو اصلا کسی حدیث کے مخالف نہیں بتاسکتے۔ نہ ماننے کی وجہ کیا ہے مگریہ کہے کہ فقہ وفقہاء سے خاص عداوت ہے کہ اگر چہ ان کی بات میں ادعائے مخالف حدیث کی راہ نہ پائیں تاہم قابل تسلیم نہیں جانتے۔
ثالثا صحیح بخاری شریف کے اسی باب مذکور میں ہے:
صافح حماد بن زید ابن المبارک بیدیہ ۳؎۔
امام حماد بن زید نے امام اجل عبداللہ بن مبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔
 (۳؎ صحیح البخاری         کتاب الاستیذان باب الاخذ بالیدین         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۹۲۶)
تاریخ امام بخاری میں ہے:
حدثنی اصحابنا یحٰیی وغیرہ عن اسمعیل بن ابراہیم قال رأیت حماد بن زید وجاء ہ ابن المبارک بمکۃ فصافحہ بکلتا یدیہ ۴؎۔
یعنی مجھ سے میرے اصحاب یحیٰی ابوجعفر بیکندی وغیرہ اسمعیل بن ابراہیم سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حماد بن زید کو دیکھا اور ابن المبارک ان کے پاس مکہ معظمہ میں آئے تھے تو انھوں نے ان سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔
(۴؎ التاریخ البخاری     باب اسمعیل     ترجمہ ۱۰۸۴         دارالبازمکہ المکرمہ     ۱/ ۳۴۳)
یہ امام اجل حماد بن زید ازدی بصری قدس سرہ اجلہ ائمہ تبع تابعین سے ہیں۔ انس بن سیرین و ثابت بنانی وعاصم بن بہدلہ وعمرو بن دینار ومحمد بن واسع وغیرہم علمائے تابعین شاگردان حضرت انس بن مالک وعبداللہ بن عمر و عبداللہ بن عباس وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم سے علم حاصل کیا۔ اور اجلہ ائمہ محدثین و علمائے مجتہدین مثل امام سفیان ثوری وامام یحیٰی بن سعید قطان وامام عبدالرحمن بن مہدی وامام علی بن مدینی وغیرہم کہ امام بخاری وامام مسلم کے اساتذہ واساتذۃ الاساتذہ تھے اس جناب کے شاگرد ہوئے امام عبدالرحمن بن مہدی فرمایا کرتے:
ائمۃ الناس فی زمانھم اربعۃسفٰین بالکوفۃ ومالک بالحجاز والاوز اعٰی بالشام وحماد بن زید بالبصرۃ ۱؎
مسلمانوں کے امام اپنے زمانے میں چار ہیں۔ کوفہ میں سفیان۔ حجاز میں مالک، شام میں اوزاعی، بصرۃ میں حماد بن زید۔
 (۱؎ تہذیب التہذیب     من اسمہ حماد بن زید     دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن     ۲/ ۱۰)
اور یہ بھی فرماتے :
مارأیت اعلم من مالک وسفین وحماد بن زید ۲؎۔
میں نے مالک وسفیان وحماد بن زید سے زیادہ کوئی علم والا نہ دیکھا۔
 (۲؎ تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید     دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن     ۲/ ۱۰)
اوریہ بھی فرماتےکہ :
مارأیت بالبصرۃ افقہ منہ ولم ار احدا اعلم بالسنۃ منہ ۳؎۔
میں نے بصرے میں ان سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہ دیکھا اور میں نے ان سے زیادہ حدیث جاننے والا کوئی نہ پایا۔
 (۳؎ تہذیب التہذیب     من اسمہ  حماد بن زید     دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن     ۲/ ۱۰)
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:
حماد بن زید من ائمۃ المسلمین ۴؎۔
حماد بن زید مسلمانوں کے اماموں میں سے ہے:
 (۴؎ تہذیب التہذیب     من اسمہ حماد بن زید     دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن     ۲/ ۱۰)
اس جناب نے ماہ رمضان ۱۷۹ھ میں وفات پائی، جس دن انتقال ہوا یزید بن زریع بصری کو خبر پہنچی فرمایا:
الیوم مات سید المسلمین ۵؎
آج مسلمانوں کے سردار نے انتقال کیا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔
ذکر کل ذٰلک الامام الذھبی فی تہذیب التھذیب۔
امام ذہبی نے ان میں سے ہر ایک کو تہذیب التہذیب میں ذکر فرمایا۔ (ت)
 (۵؎ تہذیب التہذیب     من اسمہ حماد بن زید     دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن     ۲/ ۱۰)
Flag Counter