(پھر میں اللہ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ کہتا ہوں ۔ت) میں موارد استعمال اور مواقع خاصہ سے استدلال کرتا ہوں وہ قاعدہ ہی کیوں نہ ذکر کروں جو خاص اسباب میں ائمہ عربیت نے وضع کیا اور ایسے الفاظ میں تثنیہ وافراد یکساں ہونے کا ہمیں عام ضابطہ دیا علامہ زین بن نجیم مصری قدس سرہ نے جہاں خطبہ اشباہ میں فرمایا:
اعملت بدنی اعمال الجد مابین بصری ویدی وظنونی ۱؎۔
میں اپنے بدن کو کوشش کے کام میں لایا جو میری آنکھ، ہاتھ اور گمان کے درمیان ہے۔
(۱؎ الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۹)
اس پر علامہ ادیب سید احمد حموی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:
اطلق الید واراد الیدین لانہ اذا کان الشیئان لایفترقان من خلق اوغیرہ اجزأ من ذکرھما ذکراحد ھما کالعین تقول کحلت عینی وانت ترید عینیک ومثل العینین المنخرین (عہ) والرجلین والخفین والنعلین تقول لبست خفی ترید خفیک کذا فی شرح الحماسۃ ۲؎۔
یعنی مصنف نے لفظ ید بولا اور مراد دونوں ہاتھ ہیں کہ دو چیزیں جب آپس میں جدا نہ ہوتی ہوں خواہ اصل پیدا ئش میں (جیسے ہاتھ۔ پاؤں، آنکھ، کان) یا اور طرح (جیسے موزے، جوتے، دستانے کہ جوڑا ہی مستعمل ہے) تو ان میں ایک کا ذکر دونوں کے ذکر کا کام دیتا ہے۔ کہتے ہیں آنکھ میں سرمہ لگایا اور مراد دونوں آنکھوں میں لگاناہوتا ہے یوہیں نتھنے، قدم، موزے، کفش، تو کہتاہے میں نے موزہ پہنا اور مراد یہ کہ دونوں موزے پہنے۔ اسی طرح شرح حماسہ میں ذکر کیا۔
منخزین میرے غمز کے نسخہ میں اسی طرح ہے، ظاہریہ ہے کہ مرفوع ہونا چاہئے۔ (ت)
(۲؎ غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۹)
میں کہتاہوں یہ محاورہ نہ فقط عرب بلکہ فارس ۔ ہند میں بھی بعینہا رائج ، جیسا کہ مطالعہ اشعار سابقین ولاحقین سے واضح ولائح، خیر یہ تو ایک خاص قاعدہ تھا۔ علامہ ممدوح نے اس سے چند سطر اوپر اس سے عام تر تصریح فرمائی کہ:
(ان ممدوحین کے بعد آنکھ گویا اس کی پتلیاں کاٹنے سے پھوڑدی گئی ہیں تو وہ اندھی ہوکر آنسو بہارہی ہیں۔ ت
(۴؎غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۹)
دیکھو، اس نے ایک آنکھ کہا اور دونوں مراد لیں___لہذا حداق کو جمع لایا ورنہ ایک آنکھ میں چند حدقے نہیں ہوتے، اب تو اوہام جاہلانہ کا کوئی محل ہی نہ رہا۔ اور حدیث سے استناد کا بھرم کھل گیا۔
والحمدللہ رب العالمین۔
ثم اقول: وباللہ التوفیق
سب سے قطع نظر کیجئے اور بفرض غلط مان ہی لیجئے کہ لفظ''اَلْیَدْ'' کا مفہوم مخالف نفی یدین ہوتی ہے تاہم حدیث مذکور محل استناد منکرین یعنی حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ میں اس مفہوم کی گنجائش نہیں کہ وہاں تو لفظ ید بصیغہ مفرد کلام امجد سید اوحد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں ہے ہی نہیں۔ سائل کے کلام میں ہے اس نے ایک ہاتھ سے مصافحہ کاحکم پوچھا:
فیاخذ بیدہ ویصافحہ۔
کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے؟
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سوال کا جواب ارشاد فرمادیا کہ ہاں جائز ہے۱؎۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ امین کمپنی کراچی ۲/ ۹۷)
یہاں نہ دو ہاتھ سے مصافحہ کا ذکر ہے نہ اس سے سوال، پھر اس کلام سے اس کی نسبت نفی نکالنا محض خیال محال، دنیا بھر کے مفہوم مخالف ماننے والے بھی یہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ کلام کسی سوال کے جواب میں نہ آیا ہو ورنہ بالاجماع نفی ماعدا مفہوم نہ ہوگی ____
صَرحَ بَہٖ اَئِمَّۃُ الْاُصَوْلِ
(ائمہ اصول نے اس کی صراحت کردی ہے۔ ت)___مثلا کوئی سائل سوال کرے صبح کی نماز میں قرأت جہری ہے یا نہیں؟ مجیب کہے ہاں۔ اس سے کوئی عاقل یہ نہ سمجھے کہ ماورائے صبح میں جہر نہیں۔ بلکہ جس قدر سے سوال تھا اسی قدر سے جواب دیا گیا۔ یہ بحمداللہ تعالٰی دوسرے معنٰی ہیں کلام امام قاضی خاں قدس سرہ کے کہ ''او ر امفہوم نیست'' یعنی اس حدیث میں مفہوم مخالف کا سرے سے محل ہی نہیں۔
وباللہ التوفیق ثم اقول :
(اللہ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ پھر میں کہتاہوں ۔ت) یہ اس وقت ہے کہ حدیث مذکور کو قابل احتجاج مان بھی لیں ورنہ اگر نقد وتنقیح پر آئے تو وہ ہر گز نہ صحیح نہ حسن بلکہ ضعیف منکر ہے مداراس کا حنظلہ بن عبداللہ سدوسی پر ہے اور حنظلہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ امام یحیٰی بن سعید قطان نے کہا:
ترکتہ عمدا کاان قد اختلط ۲؎
میں نے اسے عمدا متروک کیا صحیح الحواس نہ رہا تھا___ امام احمد نے فرمایا: ضعیف منکر الحدیث ہے
اگر کہئے کہ امام ترمذی نے جو اس حدیث کی تحسین کی___ اقول: ائمہ ناقدین نے امام ترمذی پر اس بارے میں انتفادات کئے ہیں اور وہ قریب قریب ان لوگوں میں ہیں جو تصحیح وتحسین میں تساہل رکھتے ____ امام عبدالعظیم منذری کتاب الترغیب میں فرماتے ہیں:
انتقد علیہ الحفاظ تصحیحہ لہ بل و تحسینہ ۵؎۔
حفاظ نے ان کی تصحیح پر بلکہ تحسین پر بھی تنقید کی ہے۔ (ت)
(۵؎ الترغیب والترہیب کتاب الجمعہ حدیث۲۴ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۹۴)
ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں:
وَلھٰذا لایعتمد العلماء علی تصحیح الترمذی ۶؎۔
اسی لئے ترمذی کی تصحیح پر علماء اعتماد نہیں کرتے۔ (ت)
یہاں تک امام محدث ابوالخطاب ابن دحیہ نے جنھیں شاہ ولی اللہ دہلوی نے
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین میں الحافظ المحدث المتقن ۱؎
کہا۔ تحسین ترمذی کی نسبت وہ کچھ تحریر فرمایا جو امام فخر الدین زیلعی نے
''نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ''
میں نقل فرماکر مقرر رکھا۔
حیث قال قال ابنُ دِحْیَۃ فی العلم المشہور وکم حسن الترمذی فی کتابہ من احادیث موضوعۃ واسانید واھیۃ منھا ھذاالحدیث ۲؎ اھ یعنی حدیث عمرو بن عوف المزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی عدد تکبیرات العیدین۔
جہاں انھوں نے فرمایا کہ ابن دحیہ نے ''العلم الشہور'' میں کہا ہے کہ ترمذی نے اپنی کتاب میں کتنی ہی موضوع احادیث اور کمزور سندوں کو حسن قرار دیا ہے انہی میں سے یہ حدیث ہے یعنی حدیث عمرو بن عوف المزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ عیدین کی تکبیرات کی تعداد کے بیان میں۔ (ت)
(۱؎ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین فصل سوم المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۰۰)
(۲نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ العیدین مکتبہ نوریہ رضویہ لاہور ۲/ ۲۲۵)
اور قاطع نزاع یہ ہے کہ خود اسی حدیث حنظلہ کو امام ائمہ المحدثین حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے تصریحا فرمادیا کہ منکر ہے___ امام ذہبی تہذیب میں لکھتے ہیں:
حنظلۃ بن عبداﷲ ویقال ابنُ عبیداﷲ و قیل ابن ابی صفیۃ السدوسی و امام مسجد بنی سدوس بالبصرہ ابوعبیدالرحیم عن انس قال یحیٰی القطان ترکتہ کان قد اختلط وضعفہ احمد وقال یروی عن انس مناکیر منھا قلنا أینحنی بعضنا لبعض ۳؎ اھ ملخصا۔
حنظلہ بن عبداللہ اور ابن عبیداللہ اور ابن ابی صفیہ السدوس بھی ان کو کہا گیا ہے یہ بصرہ میں بنی سدوس کی مسجد کے امام ہیں کنیت ابوعبدالرحیم ہے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں یحیٰی بن قطان نے کہا میں نے ان کو متروک قرار دیا ہے کہ اختلاط ہوگیا تھا اور امام احمد نے ان کو ضعیف کہا ہے اور فرمایا یہ حضرت انس سے منکرات لاتے ہیں انہی میں سے ہے کہ ہم نے کہا کیا ہم آپس میں ایک دوسرے کے لئے جھکا کریں اھ ملخصا (ت)
(۳؎ تہذیب التہذیب للذہبی من اسمہ حنظلہ حنطلۃ بن عبداللہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد دکن ۲/ ۶۲)
امام ہمام مرجع ائمہ الحدیث کی تضعیف کے مقابل امام ترمذی کی تحسین کب مقبول ہوسکتی ہے۔
بالجملہ بحمدہٖ تعالٰی آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ منکرین کے ہاتھ میں اصلا کوئی حدیث نہیں جس میں ان کے قول کی بو بھی نکل سکے۔ ثبوت ممانعت تو بڑی چیز ہے اورا گر یہ حدیثیں اور ان جیسی ہزار اور ہوں اور وہ بالفرض سب صحاح وحسان ہوں تاہم تحقیقات بالانے روشن کردیا کہ اصلا مفید انکار نہ ہوں گی__ یہ کسی حدیث میں دکھائیں کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تالٰی علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے کو منع فرمایا یا ارشاد ہوا کہ ایک ہی ہاتھ سے مصافحہ کیا کرو۔ بغیر اس کے ثبوت ممانعت کا دعوٰی محض ہوس پکانا ہے یاجنون خام۔