Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
45 - 146
رابعا فرماتاہے:
بیدہ ملکوت کل شیئ ۲؎۔
اسی کے ہاتھ میں ہے قدرت ہر چیز کی۔کیا معاذاللہ دوسرے ہاتھ میں مالکیت ومقدرت نہیں؟
 (۲؎القرآن الکریم            ۳۶/ ۸۳)
خامسا دیلمی کی حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یداﷲ مبسوطۃ ۳؎۔
اللہ کا ہاتھ کشادہ ہے۔
 (۳؎ کنوز الحقائق من حدیث خیر الخلائق     برمز ''فر''  حدیث ۱۰۱۲۵ دارالکتب العلمیہ بیروت  ۲/ ۳۷۵)
کیا معاذاللہ ا س کا یہ مفہوم کہ ایک ہی ہاتھ کشادہ ہے
قال اللہ تعالٰی: بل یدہ مبسوطتان ینفق کیف یشاء ۴؎۔
بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں خرچ فرماتاہے جیسے چاہے۔
 (۴؎ القرآن الکریم           ۵/ ۶۴)
سادسا حدیث میں ہے :
یداﷲ ملاٰی ۵؎۔
اللہ تعالٰی کا ہاتھ غنی ہے۔کیا دوسرے ہاتھ سے غنا منفی ہے؟
 (۵؎ صحیح البخاری     کتاب التفسیر سورہ ہود ۲/ ۶۷ و کتاب التوحید ۲/ ۱۱۰۲)
سابعا حدیث شریف میں ہے:
یداﷲ ھی العلیا ۶؎۔
اللہ ہی کا ہاتھ اونچا ہے۔کیا عیاذا باللہ ایک ہی ہاتھ بلند وبالا ہے؟
 (۶؎ مسند احمد بن حنبل     المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۴۴۶ و  ۳/ ۴۷۳ و ۴/ ۱۳۷)
ثامنا قال اللہ تعالٰی:اذا اخرج یدہ لم یکد یراھا ۱؎۔
کافر ایسی اندھیری میں ہے کہ اپنا ہاتھ نکالے تو نظر نہ آئے۔

کیا اس کے یہ معنٰی کہ دونوں ہاتھ نکالے تو نظر آئیں گے۔
 (۱؎ القرآن الکریم          ۲۴/ ۴۰)
تاسعا قال اللہ تعالٰی:خذبیدک ضغثا فاضرب بہ ولاتحنث ۲؎
۔ اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے کر مار اور قسم جھوٹی نہ کر۔
 (۲؎ القرآن الکریم      ۳۸/ ۴۴)
علماء فرماتے ہیں یہ حکم اب بھی باقی ہے یعنی اگر مثلا کسی نے غصے میں قسم کھائی کہ زید کو سو لکڑیاں ماروں گا۔ اب غصہ فرو ہوا چاہتاہے کہ قسم بھی سچی ہو اور زید ضرب شدید سے بچے بھی تو جھاڑو وغیرہ کی سو شاخیں جمع کرکے اسی طرح زید کے بدن پر مارے کہ وہ سب جسم پر جدا جدا پہنچیں کیااگر دونوں ہاتھ میں جھاڑو لے کرماریں تو اس ارشاد کا خلاف ہوگا؟
عاشرا قال تعالٰی : یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صاغرون ۳؎۔
جزیہ دیں ہاتھ سے ذلیل ہوکر ۔

کیا اگر دونوں ہاتھ سے دیں تو تعمیل حکم نہ ہو۔
 (۳؎القرآن الکریم    ۹/ ۲۹)
حادی عشر:  بخاری، ابوداؤد اورنسائی حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہماا ور احمد ترمذی ونسائی وحاکم ابن حبان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی: حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہٖ ۴؎۔
مسلمان وہ ہے کہ مسلمان اس کے زبان اور ہاتھ سے امان میں رہیں۔

کیا اس کے یہ معنی کہ ایک ہاتھ سے امان میں ہوں اور دوسرے سے ایذا میں!
 (۴؎ صحیح البخاری         کتاب الایمان     باب المسلم من سلم المسلمون الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۶)

(جامع الترمذی ابواب الایمان     باب المسلم من سلم المسلمون الخ          امین کمپنی دہلی        ۲/ ۸۷)
ثانی عشر احمد وبخاری مقداد بن معد یکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااکل احدطعاما قط خیرامن ان یاکل من عمل یدہٖ ۱؎
کسی نے کبھی کھانا اس سے بہتر نہ کھایا کہ اپنے ہاتھ کے کسب سے کھائے۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہ بیدہ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۷۸)

(مسند احمد بن حنبل     عن مقدام بن معدیکرب     المکتب الاسلامی بیروت    ۴/ ۱۳۱ و ۱۳۲)
اور احمد بسندصحیح اور طبرانی وحاکم حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ اور نیزطبرانی حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اطیب الکسب عمل الرجل بیدہ ۲؎۔
سب سے بہتر کمائی آدمی کی اپنے ہاتھ کا کسب ہے کیا اگر دونوں ہاتھ کا کسب ہو تو وہ کھانا اس فضل سے باہر ہے!
 (۲؎ کنز العمال بحوالہ حم، طب ، ک عن رافع بن خدیج حدیث ۹۱۹۶     مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۴/۴)
ثم اقول:  بلکہ بارہا لفظ ید بصیغہ مفرد لاتے ہیں اور دونوں ہاتھ مراد ہوتے ہیں:
 (۱) یداﷲ مبسوطۃ
(اللہ تعالٰی جل مجدہ کا دست قدرت کشادہ ہے)
 (۲) یداﷲ ملاٰی
 (دست قدرت بھرا ہواہے)
 (۳) یداﷲ ھی العلیا
 (دست قدرت ہی بلند وبرتر ہے)
 (۴) المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہٖ ۳؎
 ( مسلمان وہ ہے جس کی زبان وہاتھ سے مسلمان محفوظ رہے) میں یہی معنٰی مراد ہیں۔
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۶)

(صحیح مسلم   کتاب الایمان  باب جامع اوصاف الاسلام             قدیمی کتب خانہ کراچی      ۱/ ۴۸)
(۵) حدیث عمل یدیہ (اس کے دونوں ہاتھ کا کسب ) بھی ایسے ہی موقع پر وارد کہ غالبا کسب انسان دونوں ہاتھ سے ہوتاہے اسی حدیث مقدام کی اسی صحیح بخاری میں دوسری روایت من عمل بیدہٖ ہے۔

(۶) اسی طرح حاکم وغیرہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے:
اللھم انی اسئلک من کل خیر خزائنہ بیدک واعوذبک من کل شر خزائنہ بیدک ۱؎۔
الٰہی! میں تجھ سے مانگتاہوں ان سب بھلائیوں سے جن کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں اور تیری پناہ مانگتاہوں ان سب برائیوں سے جن کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں۔

یہ حدیث دونوں جگہ دونوں طورپر مروی ہوئی بیدک اور بیدیک۔
 (۱؎ المستدرک للحاکم     کتاب الدعاء     دارالفکر بیروت    ۱/ ۵۲۵)
 (۷) صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان داؤد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان لایاکل الا من عمل یدہٖ ۲؎۔
داؤد نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نہ کھاتے تھے مگر اپنے ہاتھ کے عمل سے۔
 (۲؎ صحیح البخاری         کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہٖ بیدہٖ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۷۸)
اور یوہیں حدیث مقدام کے تتمہ میں احمد وبخاری نے روایت کیا:
ان نبی داؤد کان یاکل من عمل یدہٖ۳؎۔
بے شک داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہاتھ کے عمل سے ہی کھاتے تھے۔
 (۳؎صحیح البخاری         کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہٖ بیدہٖ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۷۸)
سیدنا داؤد علیہ الصلوٰۃوالسلام کا عمل قرآن عظیم سے معلوم ہے کہ زر ہیں بنانا تھا اور وہ دوہی ہاتھ سے ہوتاہے۔

لہذا صحیح بخاری میں دونوں حدیثوں کی دوسری روایتیں بلفظ ''یدہ'' آئیں___ پس ثابت ہوا کہ بہت جگہ یدو یَدَین میں کچھ فرق نہیں کرتے۔ اور بے تکلف تثنیہ کی جگہ مفرد لاتے ہیں اور ایک ہی امر میں کبھی تثنیہ کبھی مفرد بولتے ہیں پھر افراد کو نفی تثنیہ کی دلیل سمجھا کس قدر عقل سے بعید ہے۔
Flag Counter