قسم سوم: وہ روایات جو خاص کیفیت مصافحہ میں وارد ہیں۔ یہ البتہ قابل لحاظ ہیں کہ اگر کچھ بوئے استناد نکل سکتی ہے تو انھیں میں ہے، یہ دو حدیثیں ہیں:
حدیث اول: جامع ترمذی میں ہے:
حدثنا احمد بن عبدۃ الضبی نا یحیی بن مسلم الطائفی عن سفین عن منصور عن خیثمۃ عن رجل عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال من تمام التحیۃ الاخذ بالید ۱؎۔
احمد بن عبدۃ الضبی نے یحیٰی بن مسلم سے اس نے سفین سے انھوں نے منصور انھوں نے منصور انھوں نے خیثمہ انھوں نے ایک شخص کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث روایت کی کہ حضور نبی پاک صلی اللہ تعلٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ پکڑنا کامل سلام میں سے ہے۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷)
اقول: یہ حدیث بھی لائق احتجاج نہیں۔
اولا اس کی سند ضعیف ہے۔ جس میں
عن خیثمۃ عن رجل۔
ایک مجہول واقع۔
ثانیا امام المحدثین محمد بن اسمعیل بخاری نے یہ حدیث تسلیم نہ فرمائی اور اس کے غیر محفوظ ہونے کی تصریح کی۔ یحیٰی بن مسلم طائفی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ جن پر اس حدیث کا مدارہے
کما فی الترمذی ۱؎
(جیسا کہ ترمذی میں ہے۔ ت) علماء محدثین ان کا حافظہ برا بتاتے ہیں
کما فی التقریب
(جیسا کہ تقریب میں ہے۔ت) امام بخاری کہتے ہیں میرے نزدیک یہاں بھی ان کے حفظ نے غلطی کی۔ انھوں نے سند مذکور سے حدیث :
لا سمرالا لمصل اومسافر ۲؎
(رات کی گفتگو صرف نمازی یا مسافر کے لئے جائز ہے۔ یعنی بعد نماز عشاء باتیں کرنا سمر کے معنی رات میں بات کرنا ہے۔ ت) سنی بھی بھول کر اس کی جگہ یہ روایت کرگئے حالانکہ یہ تو صرف عبدالرحمن بن یزید یا اور کسی شخص کا قول ہے
نقلہ الترمذی
(اسے ترمذی نے نقل کیا۔ ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷)
(۲؎جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷)
ثالثا اقول: وباللہ التوفیق اس سب سے درگزرئیے اور ذرا غور وتامل سے کام لیجئے۔ تو یہ حدیث دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کا پتا دیتی ہے کہ اس میں اخذ بالید بصیغہ مفرد کو تمامی تحیت کا ایک ٹکڑا رکھا ہے۔ نہ یہ کہ صرف اسی پر تمامی وانتہا ہے۔ تحیت کی ابتداء سلام اور مصافحہ تمام اور ایک ہاتھ ملانا اسی تمامی کا ایک ٹکڑا۔
لہذا جامع ترمذی میں حدیث ابوا امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ان لفظوں سے آئی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
تمام تحیتکم بینکم المصافحۃ ۳؎۔
تمھارا آپس میں تمامی تحیت کا مصافحہ ہے۔
یہاں "من" تبعیضیہ نہ لایا گیا کہ صرف ایک ہاتھ کا ذکر نہ تھا جو ہنوز تمامی کا بقیہ باقی ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
حدیث دوم: وہی حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ جس کی طرف امام ہمام فقیہ الانام قاضی خاں قدس سرہ نے اشارہ فرمایا ۔ جامع ترمذی میں ہے:
حدثنا سویدنا عبداﷲ ناحنظلۃ بن عبیداﷲ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رجل یا رسول اﷲ ا لرجل منا یلقی اخاہ او صدیقہ اینحنی لہ قال لا، قال افلیتزمہ ویقبلہ قال لا، قال فیاخذ بیدہ ویصافحہ قال نعم ۱؎۔
یعنی ایک شخص نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں کوئی آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو کیا اس کے لئے جھکے؟ فرمایا: نہیں۔ عرض کی کیا اسے گلے لگائے اور پیار کرے ؟ فرمایا: نہیں۔ عرض کی: اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ فرمایا: ہاں۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷)
اس حدیث کو ترمذی نے حسن بتایا بخلاف اول کہ خود ترمذی نے امام بخاری سے اس کی تضعیف نقل کردی تھی۔ تو ثابت ہوگیا کہ حضرات مخالفین اگر سند لائیں گے تو اسی حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ، باقی خیریت___ لہذا مام ممدوح قدس سرہ نے اسی حدیث کی تخصیص فرمائی۔
اب بحمداللہ تعالٰی جواب جناب امام ہمام قدس سرہ کی توضیح سنئے___ ظاہر ہے کہ افراد ید سے اس حدیث خواہ کسی حدیث میں اگر نفی یدین پر استدلال ہوگا تو لاجرم بطریق مفہوم مخالف ہوگا اور وہ محققین کے نزدیک حجت نہیں جس کی بحث کتب ا صول میں ختم ہوچکی۔
اقول: وباللہ التوفیق
(میں کہتاہوں اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ ت)
اولا قرآن عزیز میں ہے :
بیدک الخیر انک علی کل شیئ قدیر ۲؎۔
تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے بیشک تو ہر چیز پر قدرت والا ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۲۶)
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ تیرے ایک ہی ہاتھ میں بھلائی ہے؟ معاذاللہ دوسرے میں نہیں۔
ثانیا احمد، بخاری، مسلم اور ترمذی حضرت سیدنا سعد بن مالک بن سنان رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے۔
حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالٰی یقول لاھل الجنۃ یا اھل الجنۃ فیقولون لبیک یاربنا وسعدیک والخیر فی یدیک الحدیث ۱؎۔
بیشک اللہ تعالٰی جنتیوں سے فرمائے گا: اے جنت والو۔ عرض کریں گے۔ لبیک اے رب ہمارے! ہم تیر ی خدمت میں حاضر ہیں، تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب التوحید کلا م الرب مع اہل الجنۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۱)
(صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واھلہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۷۸)
(جامع الترمذی ابواب صفۃ الجنۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۷۹)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۸۸)
اسی طرح تفسیر مقام محمود میں حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ نسائی نے بسند صحیح اور حاکم نے بافادہ تصحیح اور طبرانی اور ابن مندہ نے روایت کی ___ یوں آئی:
یجمع اﷲ الناس فی صعید واحد فلا تکلم نفس فاول مدعو محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیقول لبیک وسعدیک والخیر فی یدیک ۲؎ الحدیث۔
اللہ تعالٰی روز قیامت لوگوں کو ایک میدان میں جمع میں فرمائے گا تو کوئی کلام نہ کرے گا سب سے پہلے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ندا ہوگی، حضور عرض کریں گے : الٰہی! میں حاضر ہوں خدمتی ہوں تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہے۔
(۲؎ المطالب العالیۃ حدیث ۴۶۴۵ توزیع عباس احمد الباز (مکہ المکرمہ) ۴/ ۳۸۶)
(المستدرک للحاکم کتاب التفسیر ذکر المقام المحمود دارالفکر بیروت ۲/ ۳۶۳)
(مجمع الزوائد کتاب البعث باب منہ فی الشفاعۃ دارالکتاب بیروت ۱۰/ ۳۷۷)
ابن مندہ نے کہا:
حدیث مجمع علی صحۃ اسنادہ وثقۃ رجالہ ۳؎۔
اس حدیث کی صحت اسناد وعدالت روات پر اجماع ہے۔
(۳؎ المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۶۴۲)
یونہی حدیث بعث النار میں اللہ تعالٰی کا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ندا فرمانا ____ اور ان کا جواب میں