Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
43 - 146
فاقول:  وباللہ التوفیق وہ احادیث مصافحہ جن میں لفظ ید بصیغہ مفرد واقع تین قسم ہیں:

قسم اول: احادیث فضائل جن میں مصافحہ کی ترغیب اور اس کی خوبیوں کا بیان ہے____مثلا:

حدیث حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہما جسے طبرانی نے معجم اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں بسند صالح روایت کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَالْقِیَ الْمُؤْمِنَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ وَاَحَذَبَیَدِہٖ فَصَافَحَہ تَنَاثَرَتْ خَطَایَا ھُمَا کَمَا تَنَا ثَرَوَرَقُ الشَّجَرِ ۲؎۔
جب مسلمان سے مسلمان مل کر سلام کرتا اور ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتا ہے ان کے گناہ جھڑپڑتے ہیں جیسے پیڑوں کے پتے۔
 (۲؎ المعجم الاوسط         حدیث ۲۴۷         مکتبۃ المعارف ریاض    ۱/ ۱۸۴)

(شعب الایمان     فصل فی المصافحہ حدیث ۸۹۵۱     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۶/ ۴۷۳)
حدیث سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ معجم کبیر طبرانی میں بسند حسن مروی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اِنَ الْمُسْلِمِ اِذَلَقِیَ اَخَاہ المسلم فاخذ بِیَدَہٖ تَحَاتَتْ عَنْھُمَا ذُنُوْبُھُمَا ۱؎۔
مسلمان جب اپنے بھائی سے مل کر اس کا ہاتھ پکڑتاہے ان کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔
 (۱؎ المعجم الکبیر     حدیث ۶۱۵۰         المکتبہ الفیصلیۃ بیروت    ۶/ ۲۵۶)
حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ امام احمد نے ایسی سند سے جس کے سب رجال سوا میمون بن موسٰی مرئی بصری صدوق مدلس کے ثقات عدول ہیں اور نیز ابویعلی وبزار نے روایت کی:
عَنَ النَّبِیْ صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَامِنْ مُسْلِمیْنِ الْتَقِیَا فَاَخَذَ اَحَدُ ھُمَا بَیَدِ صَاحِبِہٖ الاَّ مَاکَانَ حَقّاً عَلَی اﷲِ عَزَّوَ جَلَّ اَنْ یَّحْضر دُعَا ئَھُمَا وَلَا یُفَرِّقُ بَیْنَ اَیْدِیْھُمَا حَتّٰی یَغْفِرَ لَھُمَا ۲؎۔
جب دو مسلمان ملاقات کے وقت ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اللہ تعالٰی پر حق ہے کہ ان کی دعا قبول فرمائے اور ان کے ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں کہ ان کے گناہ بخش دے۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل     عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۳/ ۱۴۲)

(الترغیب والترھیب     بحوالہ احمد والبزار وابی یعلٰی     الترغیب فی المصافحہ حدیث ۴     مصطفی البابی مصر    ۳/ ۴۳۲)
حدیث براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ احمد نے مسند اور ضیاء نے مختارہ میں بسند صحیح روایت کی حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ایما مسلمین التقیا فاخذ احد ہما بید صاحبہ و تصافحا وحمداﷲ جمیعا تفرقا لیس بینھما خطیئۃ ۳؎۔
جو دو مسلمان آپس میں مل کر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اور مصافحہ کریں اور دونوں حمد الٰہی بجالائیں بیگناہ ہو کر جدا ہوں۔
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل     عن براء بن عازب     المکتبۃ الاسلامی بیروت    ۴/ ۲۹۳ و ۲۹۴)
نیز حدیث براء رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ بیہقی نے بطریق یزید بن براء تخریج کی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لایلقی مسلم مسلما فیر حب بہ ویاخذ بیدہ الاتناثرت الذنوب بینھما کما یتناثر ورق الشجر ۱؎۔
جو مسلمان مسلمان سے مل کر مرحبا کہے اور ہاتھ ملائے ان کے گناہ برگ درخت کی طرح جھڑ جائیں۔
 (۱؎ شعب الایمان     حدیث ۸۹۵۷     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۶/ ۴۷۵)
اقول : اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ الفاظ وحدت ید میں ہیں تاہم ان دونوں حدیثوں میں منکرین کےلئے حجت نہیں۔ ہر عاقل جانتاہے کہ مقام ترغیب وترھیب میں غالبا ادنٰی کو بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب اس قدر پر یہ ثواب یا عقاب ہے تو زائد میں کتنا ہوگا۔ اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس سے زائد مندوب یا محذور نہیں۔ ترھیب کی مثال تو یہ لیجئے۔
ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اعان علی قتل مومن بشطر کلمۃ لقی اﷲ مکتوبا بین عینیہ ایس من رحمۃ اﷲ ۲؎۔
جو کسی مسلمان کے قتل پر آدھی بات کہہ کر اعانت کرےاللہ سے اس حالت پر ملے کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہو خدا کی رحمت سے ناامید۔
 (۲؎ سنن ابن ماجہ     ابواب الدیات     باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلما     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۹۱)
کیا اس کے یہ معنٰی ہیں کہ آدھی بات کہہ کر اعانت کرے تو مستحق عذاب اور ساری بات سے مدد کرے تونہیں؟

یہاں محل ترغیب ہے زیادہ مثالیں اسی کی سنئے، مثلا اگر کوئی یوں کہے کہ جو شخص اللہ تعالٰی کی راہ میں ایک پیسہ دے اللہ تعالٰی اس پر رحمت فرمائے اس کے یہ معنٰی نہ ہوں گے کہ دو پیسے دے گا تو رحمت نہ ہوگی۔

بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور امام مالک مؤطا میں بطریق سعید بن یسار مرسلا اور طبرانی وابن حبان ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور معجم کبیر میں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی:
وھذا حدیث ابن حبان فی صحیحہ عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان اﷲ لیربی لاحد کم التمرۃ واللقمۃ کما یربی احد کم فلوہ اوفصیلہ حتی یکون مثل احد ۱؎۔
یعنی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو ایک چھوہارا یا ایک نوالہ اللہ کی راہ میں دے اللہ تعالٰی اسے ایسا بڑھاتااور پالتا ہے جیسے آدمی اپنے بچھرے یا بوتے کو پرورش کرے یہاں تک کہ بڑھ کر کوہ احد کے برابر ہوجاتاہے۔
 (۱؎ موارد الظمان الی زوائد ابن حبان     حدیث ۸۱۹     المطبعۃ السلفیہ     ص۲۰۹)
اور صحاح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لفظ یوں ہیں:ـ
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من تصدق بعدل تمرۃ من کسب طیب ولا یقبل اﷲ الاالطیب فان اﷲ یتقبلھا بیمینہٖ ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو ایک چھوہارے برابر پاک مال سے خیرات کرے اور اللہ تعالٰی قبول نہیں کرتا مگر پاک کو، تو رب عزوجل اسے اپنے داہنے دست قدرت سے قبول فرماتاہے۔
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الزکوٰۃ باب الصدقہ من کسب طیب         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۸۹)

(صحیح مسلم     کتاب الزکوٰۃ    باب بیان اسم الصدقہ یقع علی کل نوع من المعروف  قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۳۲۶)

(جامع الترمذی     ابوب الزکوٰۃ         باب ماجاء فی فضل الصدقۃ     امین کمپنی دہلی        ۱/ ۸۴)
کوئی احمق سے احمق بھی ان حدیثوں سے یہ معنی نہ سمجھے گا کہ ایک چھوہارے یا ایک ہی نوالہ کی خصوصیت ہے ایک دے گا تو قبول بھی ہوگا اور ثواب بھی بڑھے گا، جہاں دو یا زائد دے پھر نہ قبول کی توقع نہ ثواب کی ترقی____ نہیں نہیں، بالیقین یہی معنٰی ہیں کہ ایک لقمہ یا ایک خرما بھی ان نیک جزاؤں کا باعث ہے۔ یوں ہی ان احادیث کا یہ مضمون نہیں کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ ہوگا تو وہ ثواب ملے گا دو ہاتھ سے کیا تو ناجائز ہوا یا اجر گیا۔ بلکہ برتقدیر (عہ) مذکور ان کا اسی قدر مفاد کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ بھی اس جزائے نیک کے لئے کافی ہے۔
عہ: یعنی اس تقدیر پر کہ وہ الفاظ ارادہ وحدت ید میں فرض کرلئے جائیں۔
قسم دوم: وہ احادیث جن میں وقائع جزئیہ کی حکایت ہے یعنی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا فلاں صحابی نے فلاں شخص سے یوں مصافحہ فرمایا۔ 

حدیث حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کہ سنن ابی داؤد میں بروایت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مروی:
کانت اذا دخلت علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قام الیھا فاخذ بیدہا فتقبلھا و اجلسھا فی مجلسہ وکان اذا دخل علیہا قامت الیہ فاخذتہ بیدہ فتقبلتہ واجلستہ فی مجلسھا ۱؎۔
جب حضرت زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا خدمت حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوتیں حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قیام فرماتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے اور جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حضرت زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں تشریف لے جاتے وہ حضور کے لئے قیام کرتیں اور دست اقدس لے کر بوسہ دیتیں اور حضور والا کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہما وبارک وسلم۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الادب باب فی القیام     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۲۸)
حدیث معجم طبرانی کبیر:
عن ابی داؤد الا عمٰی قال لقینی البراء بن عازب فاخذ بیدی وصافحنی و ضحک فی وجھی فقال تدری لما اخذت بیدک قلت لا الا انی ظننت انک لم تفعلہ الالخیر۔ فقال ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقینی ففعل بی ذلک ۲؎۔ الحدیث
یعنی ابوداؤد اعمی نے کہا حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ مجھے ملے میرا ہاتھ پکڑا اور مصافحہ کیا اور میرے سامنے ہنسے پھر فرمایا: تو جانتا ہے میں نے کیوں تیرا ہاتھ پکڑ ا؟ میں نے عرض کی : نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ آپ نے کچھ بہترہی کے لئے ایسا کیا، فرمایا: بیشک  نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مجھ سے ملے تو حضور نے میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمایا۔
 (۲؎ الترغیب والترہیب     بحوالہ الطبرانی الترغیب فی المصافحۃ حدیث ۳ مصطفی البابی مصر    ۳/ ۴۳۲)

(مجمع الزوائد       بحوالہ الطبرانی   باب المصافحۃ الخ     دارالکتاب بیروت    ۸/ ۳۷)
اقول: یہ بھی اصلا قابل استناد نہیں۔ قطع نظر اس سے یہ حدیث طبرانی پایہ اعتبار سے ساقط ہے۔ ابی داؤد اعمٰی رافضی سخت مجروح متروک ہے۔ امام ابن معین نے اسے کاذب کہا، اور حدیث حضرت زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا میں ممکن کہ ہاتھ پکڑنا بوسہ دینے کے لئے ہو۔

بہر حال ان میں نہیں مگر وقائع جزئیہ کی حکایت اور عقلا ونقلا مبرہن وثابت کہ وہ حکم عام کومفید نہیں ہزار جگہ ائمہ دین کو فرماتے سنئے گا۔
واقعۃ حال لاعموم لھا قضیۃ عین فلا تعم۔
واقعہ حال کے لئے عموم نہیں اور قضیہ معین عام نہیں ہوتا۔ (ت)
خلاصہ یہ کہ ان سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوا یا ہمیشہ ایسا ہی ہونا چاہئے بلکہ صرف اتنا مستفاد کہ اس بار ایسا ہوا پھر کسی واقعے میں دو امروں سے ایک کا وقوع کبھی یوں ہوتا ہے کہ یہ جو واقع ہوا دوسرے سے افضل تھا بوجہ فضیلت اسے اختیار کیا کبھی یوں کہ دونوں مساوی تھے، ایک مساوی کرلیا، کبھی یوں کہ وہ دوسرا ہی افضل تھا اوراس واقعے میں بیان جواز کے لئے یہ مفضول صادر ہوا۔ کبھی یوں کہ اس پر کوئی ضرورت حائل تھی۔
الی غیر ذٰلک من الاحتمالات الکثیرۃ الشائعۃ التی لاتبقی للاستدلال علینا ولا اثرا۔
اس کے علاوہ بہت سے احتمالات مشہور ہیں جو ہمارے خلاف استدلال کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ (ت)

اسی لئے جو لوگ مفہوم مخالف کے قائل ہیں وہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ واقعہ جزئیہ میں نہ ہو، ورنہ بالاجماع ماعدا سے نفی کو مفید نہ ہوگا
کما نص عَلَیْہِ عُلَمَاءُ الاْصُوْل
 (جیسا کہ علمائے اصول نے اس پر نص قائم کی ہے۔ ت)
Flag Counter