رسالہ
صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین (۱۳۰۶ھ)
(دونوں ہتھیلیوں سے مصافحہ ہونے میں چاندی کی تختیاں)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۲۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ جائز ہے یا نہیں؟ اور آج کل جو غیر مقلد لوگ ایک ہی ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں اور دونوں ہاتھ سے مصافحہ کو ناجائز و خلاف احادیث جانتے ہیں ان کایہ دعوٰی صحیح ہے یا غلط؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجرپاؤ)
الجواب: الحمدﷲ اللھم لک الحمد یا باسط الیدین بالرحمۃ تنفق کیف تشاء، تصافح حمدک بمز یدرفدک کما تعانق شکرک والعطاء، صل وسلم وبارک علی من یداہ بحر النوال ، ومتبعا الزلال وجنتا البلاء، وعلی الہ وصحبہ واھلہ وحزبہ ماتصافحت الایدی عنداللقاء واشھد ان لا الہ الا ﷲ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ الباسط کفیہ بالجود والصلۃ وعلی الہ وصحبہ اولی الود و الاخاء والفیض والسخاء فی العسر والرخاء الی تصافح الاحباب وتعانق الاخلاء۔ اٰمین الہ الحق امین۔
بیشک، دونوں ہاتھ سے مصافحہ جائز ہے۔ اکابر علماء نے اس کے مسنون ومندوب ہونے کی تصریح فرمائی اور ہر گز ہر گز نام کو بھی کوئی حدیث اس سے ممانعت میں نہ آئی۔ جائز شرعی کی ممانعت ومذمت پر اترنا شریعت مطہرہ پر افتراء کرنا ہے
والعیاذ باللہ رب العالمین۔
فقیر غفراللہ تعالٰی لہ قبل اس کے کہ اس اجمال کی تفصیل کرے، ایک واقعہ طیبہ ورؤیائے صالحہ ذکر کرتا ہے۔
وﷲ الحمد والمنۃ ومنہ الفضل والنعمۃ۔
یہ مسئلہ فقیر غفرلہ المولی القدیر سے روز جمعہ ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ کو بعد نماز پوچھا گیا۔ جواب زبانی بیان میں آیا اور از انجا کہ آج کل قدرے علالت اور بوجہ مشاغل درس قلت مہلت تھی قصد کیا کہ جمعہ آئندہ کی تعطیل ان شاء اللہ تعالٰی تحریر جواب کی کفیل ہوگی۔ اس اثناء میں سوال مذکور کا خیال بھی دل سے اتر گیا۔ ناگاہ شب سہ شنبہ ۲۳ ماہ مسطور کہ سر بشمال و روبقبلہ میں سوتا اور بخت بیدار تھا۔ خاص صبح کے وقت بحمداللہ دیکھا کہ سمت مدینہ طیبہ سے امام علام، مرشد الانام، قاضی البلاد ومفتی العباد، فقیہ النفس، مقارب الاجتہاد، امام اجل، ابوالمحاسن فخر الملۃ والدین ابوالمفاخر، حسن ابن امام بدرالدین منصور ابن امام شمس الدین محمود ابوالقاسم بن عبدالعزیز اوزجندی فرغانی معروف بہ امام قاضی خاں
(جن کے فتاوٰی کے لئے شرقا غربا اعلی درجہ کا اعتبار اور اشتہار اور ان کا امام مجتہد ، فقیہ النفس اعظم عمائد سے ہونا آشکار) فقیر کے سرہانے تشریف لائے، بلند بالا متوسط بدن، سفید پوشاک زیب تن، وسیع گھیر نیچے دامن، اور بزبان فارسی یہ دو جملے ارشاد فرمائے:
''مسند ایشاں حدیث انس است واو را مفہوم نیست''
اس کی دلیل حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ والی حدیث ہے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں۔ (ت)
لفظ یہی تھے یا اس کے قریب، معا جمال مبارک دیکھتے ہی قلب فقیر میں القاء ہوا کہ یہ امام قاضی خاں رحمہ اللہ تعالٰی ہیں۔ اور کلام مقدس سنتے ہی دل میں آیا کہ اسی مسئلہ مصافحہ کی نسبت ارشاد ہے
والحمدللہ رب العالمین۔
فقیر غفرلہ اللہ تعالٰی کو اس خواب مبارک کے ذکر سے مخالفین پر حجت لانا مقصودنہیں کہ وہ تو خواب کے اصلا قدر وقیمت نہیں رکھتے اگر چہ احادیث صحیحہ سے ثابت کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اسے امر عظیم جانتے اور اس کے سننے، پوچھنے، بتانے، بیان فرمانے میں نہایت درجے کا اہتمام فرماتے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نماز صبح پڑھ کر حاضرین سے دریافت فرماتے:
ھَلْ رَاٰی اَحَدُن اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا ۱؎۔
آج کے شب کسی نے کوئی خواب دیکھا؟ جس نے دیکھا ہوتا عرض کرتا۔ حضور تعبیر فرماتے۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الرؤیا امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۳)
(صحیح البخاری کتاب التعبیر باب تعبیر الرؤیا بعد صلوٰۃ الصبح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۴۳)
(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الرؤیا آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۸)
احمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی وابن ماجہ وطبرانی وحکیم ترمذی وابن جریر وابن عبدالبر وابن النجار وغیرہم محدثین کبار کے یہاں احادیث انس وابوہریرہ وعبادہ بن صامت وابوسعید خدری و عبداللہ بن عمر وعبداللہ بن عمرو عبداللہ بن مسعود وعبداللہ بن عباس وجابر بن عبداللہ وعوف بن مالک و ابورزین عقیلی وعباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان کی خواب نبوت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکرا (عہ) ہے'' ۲؎
عہ: حدیثیں اس بارے میں مختلف آئیں۔ چو بیسواں ، پچیسواں، چھبیسواں، چالیسواں، چوالیسواں، پینتالیسواں، چھیالیسواں، پچاسواں، سترھواں، چھہترواں ٹکڑا سب وارد ہیں۔ لہذا فقیر نے مطلق ایک ٹکرا کہاا ور اکثر احادیث صحیحہ میں چھیالیسواں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ ۱۲ منہ
(۲؎سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الرؤیا آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۹)
(صحیح البخاری کتاب التعبیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۳۴ و ۱۰۳۵)
صحیح بخاری میں ابوہریرہ اور صحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں عبداللہ بن عباس او ر احمد وابنائے ماجہ وخزیمہ وحبان کے یہاں بسند صحیح ام کر زکعبیہ ___ اور مسند احمد میں ام المومنین صدیقہ ___ اور معجم کبیر طبرانی میں بسند صحیح حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مروی
وھذا لفظ الطبرانی
(یہ الفاظ طبرانی کے ہیں۔ ت) حضور لامع النور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے پیارا معلوم ہو تو وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے چاہئے کہ اس پر اللہ تعالٰی کی حمد بجا لائے اور لوگوں کے سامنے بیان کرے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب التعبیر باب الرؤیا من اللہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۳۴)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۸)
فقیر بے نواکو اس سے زیادہ کیا پیارا ہوگا کہ ایک امام اجل، رکن شریعت، ہادی ملت اس پر اپنا پر تو اجلال ڈالے۔ اور محض اس کی امداد اور ارشاد کے لئے غریب خانہ پر بنفس نفیس کرم فرمائے اور بے سابقہ عرض و درخواست خود بکمال مہربانی مسئلہ دین ورد مخالفین تعلیم کرے۔ کیا وہ غریب خستہ فقیر دل شکستہ اس سے امید نہ کرے گا کہ باوجود میرے ان عظیم وشدید گناہوں کے میرا رؤف ورحیم مولٰی عزوجل وعلا میرے ساتھ ایک نظر خاص رکھتا ہے اور مجھ سے ذلیل۔ بے وقعت، خوار، بے حیثیت کا افتاء بھی اس بارگاہ رحمت میں گنتی شمار کے قابل ٹھہرائے۔
فالحمدﷲ الذی بنعمتہ وجلالہ تتم الصالحات والصلوٰۃ والسلام علی کنز الفقراء، حرز الضعفاء عظیم الرجاء، عمیم العطیات وعلی الہ و صحبہ اجمعین۔ والحمدﷲ رب العالمین۔
تمامی تعریف ثابت ہے اس معبود حقیقی کے لئے جس کی نعمت وعظمت کے طفیل نیکیاں تمام و کمال کو پہنچیں، اور درود وسلام نازل ہو اس ذات اقدس پر جو فقیروں کا خزانہ، کمزوروں کی پناہ گاہ، بڑی امید والے اور عام بخشش کرنے والے ہیں اور ان کے تمام آل واصحاب پر تمامی تعریف سارے جہاں کے پالنہار کے لئے ہے۔ (ت)
معہذا یہ بھی سنت صحابہ سے ثابت کہ جو خواب ایسا دیکھا گیا جس میں ان کے قول کی تائید نکلی اس پر ارشاد ہوئے اور دیکھنے والے کی توقیر بڑھادی، صحیحین ۲ میں ہے ابوحمزہ ضبعی نے تمتع حج میں خواب دیکھا
جس سے مذہب ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی تائید ہوئی، ابن عباس نے ان کا وظیفہ مقرر کردیا اور اس روز سے انھیں اپنے ساتھ تخت پر بٹھانا شروع کیا،
(۲؎ صحیح البخاری کتاب المناسک باب التمتع الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۳)
ان وجوہ پر نظر تھی کہ فقیر نے یہ خواب ذکر کی، خواب دیکھتے ہی آنکھ کھلی، نماز کاوقت تھا، وضو میں مشغول ہوا، اثنائے وضو ہی میں خیال کیا تو یاد آیا کہ انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث جامع ترمذی میں مروی کہ سائل نے عرض کی:
افیاخذ بیدہ ویصافحہ قال نعم ۱؎۔
یعنی یارسول اللہ ! جب مسلمان مسلمان سے ملے تو اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے۔ فرمایا ہاں۔
اس میں لفظ ''یدہ'' بصیغہ مفرد واقع ہوا لہذا ان صاحبوں کا محل استناد ٹھہرا۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷)
اب قبل اس کے کہ جواب امام علیہ الرحمۃ المنعام کی توضیح اور دیگر مباحث نفیسہ کی جو بحمداللہ قلب فقیر پر فائض ہوئے تصریح کروں، پہلے اس کا بیان کرنا ہے کہ امام ہمام قدس سرہ نے خاص حدیث انس کو کیوں ان کا مستند بنایا حالانکہ کلمہ یَد بصیغہ مفرد اس کے سوا اور بھی کئی حدیثوں میں آیا ، اس تحقیق کے ضمن میں ان شاء اللہ تعالٰی ان حدیثوں سے بھی جواب کھل جائے گا۔