Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
41 - 146
حدیث دوازدہم: ابن عبدربہ کتاب بہجۃ المجالس میں مختصرا اور ریاض نضرہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہماسے مطولا صدیق اکبر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ابتدائے اسلام میں اظہار اسلام اور کفار سے ضرب وقتال فرمانا اور ان کے چہرہ مبارک پر ضرب شدید آنا اس سخت صدمہ میں بھی حضور اقدس سید المحبوبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا خیال رہنا۔ حضو رپر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالارقم میں تشریف فرماتھے اپنی ماں سے خدمت اقدس میں لے چلنے کی درخواست کرنا مفصلا مروی یہ حدیث بتمامہ ہماری کتاب مطلع القمر ین فی ابانۃ العمرین میں مذکور، اس کے آخر میں ہے:
حتی اذاھدأت الرجل وسکن الناس خرجتابہ یتکیئ علیھما حتی ادخلتاہ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قالت فانکب علیہ فقبلہ وانکب علیہ المسلمون ورق لہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رقۃ شدیدۃ الحدیث ۲؎۔
یعنی جب پہچل موقوف ہوئی اور لوگ سو رہے ان کی والدہ ام الخیر اور حضرت فاروق اعظم کی بہن ام جمیل رضی اللہ تعالٰی عنہما انھیں لے کر چلیں بوجہ ضعف دونوں پر تکیہ لگائے تھے یہاں تک کہ خدمت اقدس میں حاضر کیا دیکھتے ہی پروانہ وار شمع رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر گر پڑے اور بوسہ دینے لگے اور صحابہ غایت محبت سے ان پر گرے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے لئے رقت فرمائی الحدیث۔
 (۲؎ الریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ     چشتی کتب خانہ فیصل آباد    ۱/ ۷۹)
حدیث سیزد ہم: حافظ ابوسعید شرف المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
صعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسم علی المنبر ثم قال این عثمان بن عفان، فوثب وقال ھا انا ذا یارسول اﷲ فقال ادن منی فدنا منہ فضمہ الی صدرہ و قبل بین عینیہ ۱؎ الحدیث
حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم منبر پرتشریف فرماہوئے پھر فرمایا: عثمان کہاں ہیں۔ عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ بے تابانہ اٹھے اور عرض کی: حضور! میں حاضر ہوں یا رسول اللہ! فرمایا: پاس آؤ۔ پاس حاضر ہوئے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں سینے سے لگایا اور آنکھوں کے بیچ میں بوسہ دیا۔ الحدیث۔
 (۱؎ اشرف النبی (فارسی)     باب بست ونہم     مطبوعہ تہران         ص۲۸۸ و ۲۹۰)
حدیث چہاردہم: حاکم صحیح مستدرک بافادۃ الصحیح اور ابویعلٰی اپنی مسند اور ابونعیم فضائل صحابہ میں اور برہان خجندی کتاب اربعین مسمٰی بالماء المعین اور عمر بن محمد ملا سیرت میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
قال بینانحن مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی نفر من المھاجرین منہم ابوبکر وعمر وعثمان وعلی وطلحۃ والزبیر و عبدالرحمٰن بن عوف وسعدبن ابی وقاص فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لینھض کل رجل الی کفؤہ فنھض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی عثمان فاعتنقہ وقال انت ولی فی الدنیا والاخرۃ ۲؎۔
ہم چند مہاجرین کے ساتھ خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے، حاضرین میں خلفاء اربعہ(ابوبکر، عمر، عثمان، علی) وطلحہ و عبدالرحمن بن عوف وسعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہم تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں ہر شخص اپنے جوڑ کی طرف اٹھ کر جائے، اور خود حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف اٹھ کر تشریف لائے اور ان سے معانقہ کیا اور فرمایا : تو میرا دوست ہے دنیاوآخرت میں۔
 (۲؎ المستدرک  باب فضائل عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ      دارلفکر بیروت    ۳/ ۹۷)
حدیث پانزدہم: ابن عساکر تاریخ میں حضرت امام حسن مجتبٰی وہ اپنے والد ماجد حضرت مولی علی کرم اللہ وجوھہما سے راوی:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عانق عثمن بن عفان فقال قدعانقت اخی عثمان فمن کان لہ اخ فلیعا نقہ ۳؎۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے معانقہ کیااور فرمایا میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا جس کے کوئی بھائی ہو اسے چاہئے اپنے بھائی سے معانقہ کرے۔
 (۳؎ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر     حدیث ۳۶۲۴۰     مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۳/ ۵۷)
اس حدیث میں علاوہ فعل کے مطلقا حکم بھی ارشاد ہوا کہ ہر شخص کو اپنے بھائیوں سے معانقہ کرنا چاہئے:
حدیث شانزدہم: حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہراء سے فرمایا: عورت کے حق میں سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کی کہ نامحرم شخص اسے نہ دیکھے، حضور نے گلے سے لگالیا اور فرمایا:
ذریۃ بعضہا من بعض ۱؎۔
یہ ایک دوسرے کی نسل ہے۔(ت)
اوکما ورد صلی اﷲ تعالٰی علی الجیب واٰلہ وبارک وسلم۔
جیسا کہ حدیث میں وارد ہواہے اللہ تعالٰی کی رحمت وبرکت او ر سلام ہو اس کے حبیب مکرم اور ان کی سب آل پر۔ (ت)
 (۱؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب النکاح الباب الثالث     دارالفکر بیروت    ۵/ ۳۶۲)
بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارد۔ اور تخصیص سفر محض بے اصل وفاسد، بلکہ سفر وبے سفر ہر صورت میں معانقہ سنت، اور سنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تا وقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحا نہی ثابت نہ ہو یہاں تک کہ خود امام مانعین مولوی اسمعیل دہلوی اپنے رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مقر کہ معانقہ روز عید گوبدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔
حیث قال ہمہ اوضاع از قران خوانی وفاتحہ خوانی وطعام خورانیدن سوائے کنند چاہ وامثالہ دعا واستغفار واضحیہ بدعت است گوبدعت حسنہ بالخصوص ست مثل معانقہ عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر ۲؎ انتہی۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
چنانچہ مولوی اسمعیل دہلوی نے کہا ہے۔ قرآن خوانی فاتحہ خوانی اور کھانا کھلانے کے تمام طریقے بدعت ہیں سوائے کنواں کھدوانے اور اسی نوع کے دوسرے کام، قربانی کرنے اور دعااستغفار کرنے کے۔ گویہ بدعت حسنہ بالخصوص ہیں جیسے عید کے دن گلے ملنا اور نماز فجر اور نماز عصر کے بعد مصافحہ کرنا انتہی اللہ تعالٰی سب کچھ جانتاہے اور اس شان والے کا علم سب سے زیادہ کامل اور سب سے زیادہ پختہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ زبدۃ النصائح (رسالہ نذور)
Flag Counter