Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
146 - 146
مسئلہ ۲۳۹:     ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی ایھا العلماء الکرام اندریں مسئلہ کہ مروی وماثور است کہ موئے مرغول سرآن سرور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بغیر از حلق بستہ کیفیت متکیف بودند یعنی گاہ بگوش وگاہ بدوش وگاہ از گوش فردو آمدہ و نزدیک بدوش رسیدہ آیا رجل امت اجابت آن تاجدار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رانیز لازم است کہ ہمیں جادہ مستقیم رااخذنمودہ سالک شوند باز وبرتقدیراول آیا کہدام صنف است از اصناف سنن ہدی ست کہ تارکش مستحق لوم و عتاب است یا زائد کہ تارکیش لائق ایں امر نبود چنانچہ در ر سالہ منارمی نویسند وھی نوعان سنۃ الھدی وتارکھا یستوجب اساءۃ کالجماعۃ و الاذان والزوائد وتارکھا لایستوجب اسائۃ کسیر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی لباسہ وقعودہ وقیامہ ۱؎ الخ رسالہ شرح نورالانوار قمر الاقمار۔
اے علماء کرام! اللہ تعالٰی تم پر رحمت کے پھول برسائے تمھاراکیا ارشاد ہے اس مسئلہ کے بارے میں کہ مروی اور منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سرمبارک کے (کسی قدر) گھنگھریالے مقد س بال منڈائے بغیر، تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت سے متصف تھے (۱) یعنی کبھی کانوں تک (۲) کبھی کندھوں تک (۳) اور کبھی کانوں سے نیچے لٹکے ہوئے اور کندھوں کے قریب پہنچے ہوئے تھے (اب سوال یہ ہے کہ) کیا تاجدار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی امت اجابت (یعنی امت مسلمہ) کے کسی مسلمان فرد کے لئے بھی یہی لازم اور ضروری ہے کہ وہ اسی ٹھیک طریقہ کواختیار کرکے اس پر چلے۔ نیز پہلی صورت میں یہ سنن ہدی میں سے کونسی قسم ہے کہ جس کا چھوڑدینے والا ملامت اور سرزنش کے لائق ہے یا سنت زائدہ ہے کہ جس کا ترک کرنے والا سزا مذکور کے لائق نہیں چنانچہ رسالہ ''منار''میں لکھتے ہیں سنت کی دو قسمیں ہیں (۱) ایک سنت ہدٰی، جس کا تارک مستحق اساءت ہے۔ جیسے نماز باجماعت اور اس کے لئے اذان۔ (۲) دوسری قسم سنت زوائد کہ جس کا تارک اساءت کا سزاوار نہیں جیسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک عادات، پہننے، بیٹھنے اور قیام میں الخ ۱۲ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار (از مولانا عبدالحکیم لکھنوی)۔ (ت)
 (۱؎نورا لانوار شرح المنار     بحث سنن الہدی والزوائد         مطبع علیمی دہلی    ص۱۶۷)
الجواب

عادت کریمہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بر تمام سرموئے داشتن است ا ز گوش تادوش درغیر حج وحجامت ہیچ گاہ حلق ثابت نیست امیرالمومنین مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم دائما حلق فرمودہ واز ان روکہ زیر ہر موجنابت ست مباد کہ آب بجائے نرسد و مے فرمود ومن ثم عادیت راسی ومن ثم عادیت راسی ومن ثم عادیت راسی ۲؎ وسنت خلفائے راشدین نیز سنت ست ہر چہ مناسب حال خود مبیند برآں عمل کنند موئے را اکرام باید فی الحدیث من کان لہ شعر فلیکرمہ ۳؎ اگر اکرام تواند و بحد اسراف نر ساند موئے داشتن بہتر ست ورنہ درحلق فارغ البال وبرہر چہ ازیں عمل کند مستحق لوم وعتابے نیست۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عادت عالیہ اپنے پورے سر مبارک پر بال رکھنے کی تھی اور یہ کیفیت کان سے کندھوں تک ہوتی، لہذا بغیر حج کبھی سر منڈوانا ثابت نہیں البتہ مومنوں کے امیر حضرت مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم ہمیشہ بال منڈواتے اس وجہ سے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں تک پانی نہ پہنچے، اور فرمایا کرتے یہی وجہ ہے کہ میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں، اسی وجہ میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بال رکھنے کا مخالف ہوں، اور خلفائے راشدین کی سنت بھی درجہ سنت رکھتی ہے لہذا جو بھی اپنے حال کے مناسب سمجھے وہی روش اختیار کرے، بہر حال بالوں کا احترام کرنا چاہئے، چنانچہ حدیث پاک میں مذکور ہے جس آدمی کے بال ہوں اسے ان کا احترام واکرام کرنا چاہئے لہذا اگر عزت توقیر کرسکے اور اسے اسراف کی حد تک نہ پہنچائے تو پھر بال رکھنے بہتر ہیں ورنہ منڈوا کر فارغ البال ہوجائے لہذا ان میں سے جو طریقہ اپنائے (اور اس پر عمل کرے) تو ملامت اورعتاب کا سزاوار نہ ہوگا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۳۳)

(۳؎ سنن ابی داؤد     کتاب الرجل باب فی اصلاح الشعر     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۲۱۸)

(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ     کتاب اللباس الفصل الثانی     المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ    ۸/ ۲۳۰)
مسئلہ ۲۴۰: از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضا خاں صاحب رضوی ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ داڑھی منڈایا کترنے والا یا داڑھی چڑھانے والا میلاد شریف پڑھ سکتے ہے یانہیں اور داڑھی چڑھا کر نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:   ان لوگوں سے میلاد شریف نہ پڑھوایا جائے، تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۱؎۔
اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ لوگوں پر شرعی طور پر اس کی توہین ضروری ہے۔ (ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الصلوٰۃ باب الدعا منہ والحدث فی الصلوٰۃ     مکتبہ الکبرٰی مصر    ۱/ ۱۳۴)
نماز پڑھنا بہرحال فرض ہے اس میں داڑھی چڑھی رکھنا مکروہ ہے۔ کس قدر بیباکی ہے کہ عین حاضری دربار میں صورت مخالف حکم ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱: از فیروز آباد ضلع آگرہ جامع مسجد مسئولہ جناب محمد ناظم علی صاحب ۲۱ رجب المرجب ۱۳۳۹

علمائے دین وفضلائے واثقین ومفتیان شرع دین متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ داڑھی کتنی نیچی رکھنا چاہئے اور ریش مبارک حضور سرور عالم صلعم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ ورضی اللہ تعالٰی عنہ نیز باقی اصحابہ کبائر رضوان اللہ تعالٰی عنہم کی کس قدر نیچی تھی؟ جواب سے معہ حوالہ کتب بہت جلد معزز فرمائیے، بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب

ایک مشت نیچی رکھنا واجب ہے اور اس کا تارک فاسق ۔ فتح القدیرودرمختار میں ہے:
اماالاخذ منھا وھی دون ذٰلک (ای القبضۃ) کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ ۲؎۔
داڑھی جب مشت بھر سے کم ہو تو اسے تراشنا اور کترنا جیسا کہ بعض اہل مغرب اور ہیجڑہ صفت مرد کرتے ہیں کسی نے اس کو مباح نہیں کہا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار         کتاب الصوم             مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۵۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وامیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کی ریش مبارک اوائل سینہ تک تھی۔ امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ریش مبارک زیادہ  تھی۔ ریش تراشی کی مذمت میں ہمارا رسالہ
لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی
شائع ہوچکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم  کے نام پاک کے ساتھ صلعم یا ص یا ء م یا صللم وغیرہا رموز لکھنا ممنوع اور سخت بیدولتی ہے امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں پہلا شخص جس نے ایسا اختصار کیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا، درود پورا لکھنا لازم ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
_______نوٹ_______

جلد ۲۲ داڑھی وحلق وقصر وختنہ و حجامت کے بیان پر ختم ہوگئی۔

جلد ۲۳ اِن شاء اللہ نماز وطہارت کے عنوان سے شروع ہوگی۔

_______________________________
Flag Counter