مسئلہ ۲۳۵: ازقادر گنج ضلع بیربھوم ملک بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسین حسینی قادری رزاقی ۲۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
تمام سرکامنڈا ناجائز ہے یانہیں؟ اگر جائزہے تو حضور سرورکائنات یا حضرت مولائے کائنات سیدنا امام علی مرتضی یا حضرت امامین مطہرین یا حضرات صحابہ کرام یا اولیائے عظام ان حضرات نے سر منڈایا ہے یانہیں؟ اور اس کا جواز فقہ سے ثابت ہے یانہیں؟
الجواب
سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت تمام سرکے بال رکھنا ہے اور امیرالمومنین مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کی سنت سارا سرمنڈانا۔
وقد روی رضی تعالٰی عنہ ان تحت کل شعرۃ جنابۃ ۲؎ ثم قال من ثم عادیت راسی من ثم عادیت راسی من ثم عادیت راسی ۳؎۔
بلا شبہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راویت کی ہے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے لہذا اس وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں ۔ (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ۱ /۳۳ وجامع الترمذی ابواب الطہارۃ ۱/ ۱۶)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۳)
دونوں صورتیں جائز ہیں آدمی اپنے لئے جس میں مصلحت سمجھے، اور اول اولٰی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶: از جونپور محلہ ملاٹولہ مرسلہ شاہ نظام الحق یکم شعبان ۱۳۳۶ھ
مردوں کو مثل عورتوں کے لمبے بال کندھے سے نیچے رکھنے جائز ہیں یانہیں؟
الجواب
حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال، رواہ الائمۃ احمد ۱؎ و البخاری وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
اللہ کی لعنت ان مردوں پر کہ کسی بات میں عورتوں سے مشابہت پیدا کریں اور ان عورتوں پر کہ مردوں سے، (ائمہ حدیث مثلا امام احمد ، بخاری، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما) سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۲۵۴)
(صحیح البخاری کتاب اللباس باب المتشبھین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۴)
(سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰)
(جامع الترمذی کتاب الآداب باب ماجاء فی المتشبہات امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۲)
ایک عورت مردوں کی طرح کمان کندھے پر لگائے جاتی تھی اسے دیکھ کریہ فرمایا۔
رواہ الطبرانی فی الکبیر ۲؎ عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اسے روایت فرمایا۔ ت)
(۲؎ مجمع الزوائد کتاب الادب باب فی المتشبہین الخ دارالکتاب بیروت ۸/ ۰۳۔۱۰۲)
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے عرض کی گئی کہ ایک عورت مردانہ خود پہنتی ہے فرمایا:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء رواہ ابوداؤد ۱؎ عن ابن ابی ملکیۃ عنھا رضی اﷲ تعالٰی عنھا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اس عورت پر کہ کوئی وضع مردانی اختیار کرے۔ (امام ابوداؤد نے ابن ابی ملیکہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت فرمائی ۔ ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰)
کمان یا جوتا اجزائے بدن نہیں۔جب ان میں مشابہت پر لعنت فرمائی تو بال کہ اجزائے بدن ہیں ان میں مشابہت اور کس درجہ سخت تر ہوگی۔ ولہذا عورت کو حرام ہے کہ اپنے بال تراشے کہ اس میں مردوں سے مشابہت ہے یوہیں مردوں کو حرام ہے کہ اپنے بال عورتوں کی طرح بڑھائیں اور وجہ دونوں جگہ وہی مشابہت ہے کہ حرام وموجب لعنت ہے۔
درمختار میں ہے:
قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت و المعنی المؤثر التشبہ ۲؎۔
کسی عورت نے اپنے سر کے بال کاٹے تو وہ اس کا م کی وجہ سے گناہگار ہوگی اور اس پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہوگی اور اس میں معنی موثر ''تشبہ '' ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰)
ردالمحتار میں ہے:
ای العلۃ الموثرۃ فی اثمھا التشبہ بالرجال فانہ لایجوز کالتشبہ بالنساء حتی قال فی المجتبٰی یکرہ غزل الرجل علی ھیأۃ غزل النساء ۳؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
عورت کے گناہگار ہونے میں اثر انداز ہونے والی علت مردوں سے مشابہت ہے اس لئے کہ وہ جائز نہیں۔ جیسے مردوں کی عورتوں سے مشابہت درست نہیں۔ یہاں تک کہ ''المجتبٰی'' میں فرمایا کہ مردوں کا عورتوں کی ہیئت پر سوت کاتنا مکروہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱)
مسئلہ ۲۳۷: از موضع سران ڈاکخانہ بشندور تحصیل وضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لحیہ دارز کو چار انگل زنخدان سے نیچے رکھ کر کٹانی چاہئے یا قبضہ مع استخوان لحیین رکھ کر کٹائی جائے؟
الجواب
مستر سل چار انگل چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸: داڑھی کی حد شریعت نے کہاں تک مقرر کی ہے اور اگر کوئی شخص حد مقررہ سے کم رکھے تو کیا وہ منڈانے کے برابر ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ، اجر پاؤ۔ ت)
الجواب
داڑھی کم از کم چار انگل چھوڑنا واجب ہے۔ اور اس سے کم رکھنا جائز نہیں حرام ہونے میں یہ بھی منڈانے کے مثل ہے اگر چہ منڈانا خبیث تر ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔