ورأیتنی کتبت علیہ ای فیکون مستحبا وھو عند الشافعیۃ واجب فلا یترک مااقلہ الاستحباب مع احتمال الوجوب لکن الھنود لایعرفونہ ولو فعل احد یلومونہ و یسخرون بہ فکان الوجہ ترکہ کیلا یبتلی المسلمون بالاستھزاء بامر شرعی وھذ ا نظیر ماقال العلماء ینبغی للعالم ان لایرسل العذبۃ علی ظھرہ وان کان سنۃ اذا کان الجھال یسخرون منہ ویشبھون بالذنب فیقعون فی شدید الذنب ھذا واحتج البزازی علی استنانہ بان لوکان مکرمۃ لم تختن الخنثی لاحتمال ان یکون امرأۃ ولکن لا کالسنۃ فی حق الرجال ۱؎ اھ وتعقبہ العلامۃ ش فقال ختان الخنثی لاحتمال کونہ رجلا وختان الرجل لایترک فلذا کان سنۃ احتیاطا ولایفید ذٰلک سنیتہ للمرأۃ تأمل ۲؎ اھ و کتبت فیما علقت علیہ اقول: کان یتمشی ھذالولم یختن منھا الا الذکر اذ لامعنی لختان الفرج قصدا الی الختان لاحتمال الرجولیۃ وقد صرح فی السراج ان الخنثٰی تختن من کلا الفرجین ولا شک ان النظر الی العورۃ لاتباح لتحصیل مکرمۃ ۳؎ اھ
مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر تحریر کیا ہے کہ عورتوں کا ختنہ کرنا مستحب ہے لیکن شافعیوں کے نزدیک واجب ہے لہذا یسے کام کو نہ چھوڑا جائے جو کم سے کم مستحب ہے باوجود یہ کہ اس میں وجوب کا احتمال ہے لیکن ہمارے ہاں کے ہندی لوگ اس کو نہیں پہچانتے، لہذا اگر یہاں کوئی ایسا کرے تو لوگوں اس کو ملامت کریں گے اور اس کا مذاق اڑائیں گے۔ لہذا عمدہ وجہ اسے چھوڑدینا ہے تاکہ لوگ ایک حکم شرعی کے ساتھ ہنسی مذاق میں مبتلا نہ ہوجائیں، اور اس کی نظیر (مثال) وہ ہے کہ علمائے کرام نے ارشاد فرمایا کہ عالم کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی پیٹھ پر (دستار کا) شملہ نہ چھوڑے اگر چہ یہ کام سنت ہے ۔ اگر ناواقف لوگ (اس فعل سے) مذاق اڑائیں اوراس کو دم سے تشبیہ دیں۔ پھر اس طرح کی حرکت سے شدید گناہ میں پڑ جائیں۔ اور امام بزازی نے (ختنہ کے) سنت ہونے پر استدلال کیا( اور دلیل پیش کی) اگر یہ کام صرف عمدہ اور اعزازی ہوتا تو پھر ہیجڑے کا ختنہ نہ کیا جاتا اس احتما ل پر کہ شاید عورت ہو لیکن یہ اسی طرح نہیں جیسے مردوں کے حق میں سنت ہے۔ اھ علامہ ''ش'' نے بزازی کاتعاقب کیا اور فرمایا کہ ہیجڑے کا ختنہ کرنا اس کے مرد ہونے کے احتمال پر ہے۔ اور مرد کا ختنہ کبھی متروک نہیں، پھر اس لئے یہ احتیاطی سنت ہے۔ اور یہ بات عورت کے لئے سنیت کا فائدہ نہیں دیتی، غور اور سوچ کیجئے اھ میں نے اپنی تعلیق میں اس کے متعلق تحریر کیا ہے۔ میں کہتاہوں کہ یہ بات چل سکتی تھی جبکہ ان میں سے سوائے مرد کے کسی کا ختنہ نہ کیا جاتا کیونکہ فرج (شرمگاہ) کے قصدا ختنہ کرنے کا صرف اس کی مردانگی (رجولیت) کے احتمال پر کوئی مفہوم اور مطلب نہیں۔ اور سراج میں یہ صراحت کی گئی کہ ہیجڑے کے دونوں فرجوں (شرمگاہوں) کا ختنہ کیا جائے، اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ محل ستر (عورۃ) کو کسی عمدہ کام کے حصول کے لئے دیکھنا مباح نہیں ہوسکتا اھ
لکن ھذا ھو نص الحدیث فقد اخرج احمد عن والدابی الملیح والطبرانی فی الکبیر عن شداد بن اوس وکابن عدی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم بسند حسن حسنہ الامام السیوطی ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال الختان سنۃ للرجال ومکرمۃ للنساء ۱؎ اقول: و لایندفع الاشکال بما فعل الامام البزازی فانہ ان فرض سنۃ فلیست کل سنۃ یباح لھا النظر الی العورۃ ومسھا الاتری ان الاستنجاء بالماء سنۃ ولا یحل کشف العورۃ فان لم یجد سترا وجب علیہ ترکہ وانما ابیح لہ ذٰلک فی ختان الرجل لانہ من شعائر الاسلام حتی لو ترکہ اھل بلدۃ قاتلھم الامام کما فی فتح القدیر یرو التنویر وغیرہما ولیس ھذا منھا فان الشعار یظھر والخفاض مأمور فیہ بالاخفاء فسقط الاحتجاج ولا مخلص الا فی قصر ختانھا علی الذکر خلافالما فی السراج الا ان یحمل علی مااذ اختنت قبل ان تراھق۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
لیکن یہ صراحۃً حدیث ہے کہ امام احمد نے ابوالملیح کے والد کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں شداد بن اوس کی سند سے جیسا کہ ابن عدی نے سند حسن کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے نیز امام سیوطی نے اس کی تحسین فرمائی (یعنی اس کو حدیث حسن قرارد یا) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ختنہ مردوں کے حق میں سنت ہے اور عورتوں کے لئے ایک عمدہ کام ہے۔ میں کہتاہوں کہ امام بزازی کی کارروائی سے اشکال دفع نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس کام کو سنت بھی فرض کرلیا جائے تو بھی نظر الی الفرج کا جواز کیسے ہوگا) اس لئے ہر سنت میں بھی یہ گنجائش نہیں کہ اس کی وجہ سے محل ستر (عورۃ) کو دیکھنا اور مس کرنا مباح ہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ پانی سے استنجا کرنا سنت ہے لیکن اگر کوئی باپردہ جگہ نہ ہو تو پھر بر سرعام کھلی جگہ ستر ننگا کرکے استنجا کرناجائز اورمباح نہیں۔ بلکہ اس صورت میں ترک استنجا واجب ہے۔ اور مردوں کے ختنہ میں اس کی اس لئے اجازت دی گئی کہ یہ کام شعائر اسلام میں سے ہے حتی کہ اگر کسی شہروالے اسے چھوڑ دیں تو امام ان سے جنگ لڑے (تاکہ وہ اسے قائم کرنے پر آمادہ ہوجائیں) جیسا کہ فتح القدیر اور تنویر اور ان دو کے علاوہ دوسری کتابوں میں ہے۔ اور یہ اس میں سے نہیں۔ اور شعار کو ظاہر کیا جاتاہے۔ اور اس میں اخفاء کا حکم دیا گیا ہے اور استنجا کرنے میں بصورت پستی شرمگاہ چھپانے کا حکم دیا گیا لہذا استدلال ساقط ہوگیا۔ اور اس سے کوئی چارہ کار نہیں کہ ختنہ کرنا، مرد پر بند رکھا جائے بخلاف اس کے جو کچھ سراج میں ہے ، مگر یہ کہ اس کا قول اس پر حمل کیا جائے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ لڑکی کا ختنہ اس کے قریب البلوغ ہونے سے پہلے کرلیا جائے ۔ اور اللہ تعالٰی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔ (ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل حدیث اسامۃ الہذلی ۵/ ۷۵ والمعجم الکبیر ۷۱۱۲ و ۱۱۳ ۷ ۷/ ۷۴۔ ۲۷۳)
(۲) مونچھیں اتنی بڑھانا کہ منہ میں آئیں حرام وگناہ وسنت مشرکین ومجوس ویہود ونصارٰی ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعلٰی درجہ کی حدیث صحیح میں فرماتے ہیں:
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ولاتشبھوا بالیہود۔ رواہ الامام الطحاوی ۱؎ عن انس بن مالک ولفظ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما جزوا الشوارب وارخوااللحی وخالفوا المجوس ۲؎۔
مونچھیں کتر کر خوب پست کر اور داڑھیاں بڑھاؤ یہودیوں اور مجوسیوں کی صورت نہ بنو۔ (امام ابوجعفر طحاوی نے حضرت انس بن مالک سے اس کو روایت کیا ہے۔ اور مسلم شریف کے الفاظ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہیں: ____ مونچھیں کترو اور داڑھیاں چھوڑو اور مجوس کی مخالفت کرو۔ ت)
فوجی جاہل ترکوں کا فعل حجت ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ۔ واللہ تعالٰی اعلم
(۱؎ شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراہیۃ باب حلق الشارب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۶۷)
(۲؎صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
مسئلہ ۲۳۴ـ: از علی گڑھ کٹرہ سعید خاں مرسلہ حافظ سعید احمد صاحب لکھنوی معرفت حافظ محمد عمرصاحب مسجد عطا شہید ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
طحطاوی حاشیہ درمختار جلد رابع میں ہے:
ورد فی بعض الآثاۤر النھی عن قص الاظافر یوم الاربعاء فانہ یورث البرص ۱؎۔
بعض آثار میں بدھ کے دن ناخن کترنے کی ممانعت آئی ہے کہ اس کام سے مرض برص (پھلبہری) پیدا ہوتاہے۔ ت)
(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۰۲)
اس کی سند کیا ہے اور یہ روایت کس درجہ کی ہے۔ اور یہ روایت بظاہر معارض ہے روایت دیلمی کی:
ومن قلمھا یوم الاربعاء خرج منہ الوسواس والخوف دخل فیہ الامن والشفاء ۲؎۔
جس نے بدھ کے روز ناخن کاٹے اس سے شیطانی وسوسے اور خوف نکل جائیں گے اور اس میں امن اور شفاء داخل ہوجائیں گی (ت)
(۲؎ الموضوعات لابن الجوزی دارالفکر بیروت ۳/ ۵۳)
تو ان دونوں روایتوں میں تطبیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہوگا؟ در صورت امتناع حافظ ابن حجر کے
قول انہ یستحب کیفما احتاج الیہ
(بال کاٹنے مستحب ہیں جس کیفیت (اور نوعیت سے) اس کی ضرورت پڑے ۔ت) کی صحت کی کیا صورت اور در صورت استحباب حافظ کے قول:
ولم یثبت فی کیفیتہ شیئ ولا فی تعیین یوم لہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۳؎۔
ناخن کترنے کی کیفیت (کہ کس طریقے اور ترتیب سے کترے جائیں) اور کس دن کترے جائیں اس بارے میں حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ ثابت اور مروی نہیں۔(ت)
کی صحت کی کیا صورت ہوگی؟
(۳؎ المقاصد الحسنہ حدیث ۷۷۲ ص۳۶۲)
الجواب
اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ کیف مااتفق مستحب ومسنون ہے اور دن کی تعیین یا منع میں کوئی حدیث ثابت نہیں ، یوم الاربعاء ممانعت کی حدیث دونوں ضعیف ہیں، اگر روز چہارشنبہ وجوب کا دن آجائے مثلا انتالیس ۳۹ دن سے نہیں تراشے تھے آج بدھ کو چالیسواں دن ہے اگرآج بھی نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے اور یہ ناجائز ومکروہ تحریمی ہے
کما فی القنیۃ والہندیۃ وغیرہما
(جیسا کہ قنیہ اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ ت) تو اس پر واجب ہوگا کہ بدھ کے دن تراشے لیکن اگر حالت سعت واختیار کی ہے تو بدھ کے دن نہ تراشنا مناسب کہ جانب خطر کو ترجیح رہتی ہے۔ اور حدیث اگر چہ ضعیف ہے مگر حدیث صحیح صحیح بخاری وقد قیل ۱؎ (اور بیشک اس بارے میں کہا گیا ہے۔ ت) اس کی مؤید ہے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹)
امام ابن الحاج مکی علیہ الرحمہ نے بدھ کے دن ناخن تراشنے چاہے پھر خیال کیا کہ حدیث میں ممانعت آئی ہے پھر کہا یہ سنت حاضرہ ہے اور حدیث ضعیف، تراش لئے فورا مبتلائے برص ہوگئے۔ شب کو زیارت اقدس سے مشرف ہوئے سرکار میں فریاد کی، ارشاد ہوا کیا تمھیں حدیث نہ پہنچی تھی؟ عرض کی حضور میں نے خیال کیا کہ یہ سنت حاضرہ ہے اور حدیث ضعیف، ارشاد ہوا کیا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے فرمایا ہے۔پھر دست اقدس ان کے بدن پر مس فرمایا کہ فورا اچھے ہوگئے اٹھے تو اچھے تھے، واللہ تعالٰی اعلم۔