مسئلہ ۲۲۸: مسئولہ عزیز الحسن طالب علم مدرسہ اہلسنت شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
سر کے بال مونڈھے سے زیادہ بڑھالینا جس طرح کہ آج کل کے متصوفوں نے اختیار کیا ہے جائز ہے یانہیں؟
الجواب
صحاح احادیث میں لعنت فرمائی ان مردوں پر جو عورتوں کی وضع بنائیں اور عورتوں پر جو مردوں کی لہذا یہ حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: ابوبکر علی محمد نو روز چہارشنبہ ۳ رمضان المبارک ۱۳۳۴ھ
ایک شخص کھتری کا کام کرتا ہے اور کپڑے میں کنڈیں باندھنے کے لئے چند ناخون رکھوانے کی بہت ضرورت پڑتی ہے تو اب وقت ضرور ناخن رکھوانے کے لئے کیاحکم ہے۔ تحریر فرمائیں فقط۔
الجواب : چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں، بعد چالس روز کے گنہگار ہوں گے، ایک آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگا،
صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
وقت لنا لفظہ عنداحمد وابی داؤد و الترمذی والنسائی وقت لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط و حلق العانۃ ان لانترک اکثر من اربعین لیلۃ ۱؎۔
ہمارے لئے وقت مقرر فرمایا (مسلم شریف کے الفاظ) مسند احمد، ابوداؤد، جامع الترمذی اور سنن النسائی کے الفاظ یہ ہیں وقت لنا یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر بغل بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں سےکوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
(سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی اخذا لشارب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۱)
(سنن النسائی ذکر التوقیت فی ذٰلک نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۷)
(جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء فی تقلیم الاظفار امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰)
درمختار میں ہے:
کرہ ترکہ وراء الاربعین ۱؎۔
چالیس روز سے زیادہ چھوڑدینا مکروہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰)
ردالمحتار میں ہے:
ای تحریما لقول المجتبٰی ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید ۲؎۔
یہاں کراہت سے مکروہ تحریمی مراد ہے۔ المجتبٰی کے اس قول کی وجہ سے کہ چالس دن سے زیادہ دیر لگانے میں کوئی عذر (مقبول) نہیں، لہذا اگر ایسا کیا گیا تو پھر عذاب کی دھمکی کا مستحق ہے اھ (ت)
(۲؎ر دالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱)
پیتل وغیرہ کے ناخن بنواکر ایسے کہ انگلیوں پر چڑھ سکیں مثلا ایک پورے کے قدر انگلی کی شبیہ جسے انگلی میں پہن لیا جائے اور اس پر ناخن بنا ہو ان سے کام لیا جائے یہ سونے چاندی کے جائز نہیں۔ حتی کہ عورتوں کو بھی احتراز چاہئے کہ یہ صرف پہننا نہیں بلکہ دوسرے کام میں استعمال ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰: از شہر بریلی مسئولہ خورشید حسین ۲۵ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے ہاتھ میں رعشہ ہے وہ استرہ نہیں لے سکتا خوف زخمی ہونے کا ہے تو وہ کیا کرے۔
الجواب
نورہ استعمال کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱: مرسلہ مرزا عبدا لرحیم بیگ مدرس مدرسہ جماعت نارواڑی محلہ رنچھوڑ لین کراچی بندر ۲۷ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایک ہندو نومسلم ہوا ہے اب اس کا ختنہ کرنا شرع شریف سے کیا حکم ہے۔ آیا جائز ہے یانہیں؟ اگر جائز ہے تو کون سی دلیل ہے اور کس ترتیب سے ؟ اور اگر ناجائز ہے تو کس وجہ سے؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ)
الجواب
ہاں ختنہ کاحکم ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا:
الق عنک شعر الکفر واختتن ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اپنے آپ سے کفر کے بال دور کردے اور ختنہ کرے، اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارت باب الرجل یسلم یؤمر بالغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۵۲)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی کلیب رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۴۱۵)
مسئلہ ۲۳۲ و ۲۳۳: از موضع بھوٹا بہوٹی بسوٹولانڈ علاقہ جام نگر کاٹھیا واڑ مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صدیقی حنفی قادری ابن حاجی امیر میاں ۲۲ صفر المظفر ۱۳۳۶ھ
(۱) زید سوال کرتا ہے کہ اکثر عربستان میں لڑکیوں کو ختنہ کرنے کا رواج ہے۔ اور ہند میں کیوں رواج نہیں؟
(۲) مسلمان کو مونچھ بڑھانا یہاں تک کہ منہ میں آئے کیاحکم ہے؟ زید کہتاہے ترکی لوگ بھی مسلمان ہیں وہ کیوں مونچھ بڑھاتے ہیں؟
الجواب
(۱)لڑکیوں کے ختنہ کرنے کا تاکیدی حکم نہیں اور یہاں رواج نہ ہونے کے سبب عوام اس پر ہنسیں گے اور یہ ان کے گناہ عظیم میں پڑنے کا سبب ہوگا اور حفظ دین مسلمانان واجب ہے لہذا یہاں اس کا حکم نہیں۔
اشباہ میں ہے:
لایسن ختانھا وانما ھو مکرمۃ ۲؎۔
لڑکیوں کا ختنہ کرنا سنت نہیں بلکہ وہ ایک عمدہ کام ہے۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کرچی ۲/ ۱۷۰)
لڑکیوں کے حق میں ختنہ ایک عمدہ فعل ہے کیونکہ اس سے لذت جماع میں اضافہ ہوتاہے۔ (ت)
(۳؎ غمز عیون البصائر شرح الاشباہ ادارۃ القرآن کرچی ۲/ ۱۷۰)
درمختارمیں ہے:
ختان المرأۃ لیس سنۃ بل مکرمۃ للرجال وقیل سنۃ ۱؎ اھ وجزم بہ البزازی فی وجیزہ والحدادی فی سراجہ وقال فی الہندیۃ عن المحیط اختلف الروایات فی ختان النساء ذکر فی بعضھا انہ سنۃ ھکذا حکی عن بعض المشائخ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی فی ادب القاضی للخصاف ان ختان النساء مکرمۃ ۲؎ اھ
عورت کا ختنہ سنت نہیں بلکہ وہ مردوں کے لئے ایک اچھا طریقہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ سنت ہے اھ اور بزازی نے وجیز میں اس پر اظہار یقین کیا اور حدادی نے اپنی سراج میں اور فتاوٰی عالمگیری میں محیط سے نقل کیا ہے کہ عورتوں کے ختنہ میں اختلافات روایات ہے، چنانچہ بعض میں یہ ذکر کیا گیا کہ وہ سنت ہے۔ چنانچہ بعض مشائخ سے اسی طرح حکایت کی گئی، اور شمس الائمہ حلوانی نے خصاف کی ادب القاضی سے ذکر کیا کہ عورتوں کا ختنہ عمدہ فعل ہے اھ،
(۱؎ درمختار مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۰)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷)