نص ۵۳ تا ۵۵: لمعات سے گزرا کہ داڑھی باندھنے والے سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی بیزاری اس وجہ سے ظاہر فرمائی کہ اس میں بے دینوں سے تشبہہ ہے۔ ۳؎ علامہ طیبی وعلامہ طاہر سے گزرا کہ وجہ نہی مشابہت کفا رہے ۴؎۔
(۳؎ لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواک مکتبہ المعارف العلمیہ ۲/ ۶۸)
(۴؎ شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواک ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۵۶)
نص ۵۶ و ۵۷: بدائع امام ملک العلماء وشرح منسک متوسط میں ہے:
حلق اللحیۃ تشبہ بالنصارٰی ۱؎۔
داڑھی منڈانی نصارٰی کی سی صورت بنانی ہے۔
(۱؎بدائع الصنائع کتاب الحج فصل واما الحلق والتقصیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۴۱)
(المنسک المتوسط علی لباب المناسک مع ارشاد الساری دارالکتب العربی بیروت ص۱۵۲)
نص ۵۸: جب درمختار میں فرمایا داڑھی نہ رکھنا یہود وہنود کا کام ہے ۲؎ علامہ طحطاوی نے فرمایا:
التشبہ بھم حرام ۳؎
ان سے تشبہ حرام ہے۔
(۲؎ درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۶۰)
نص ۵۹ و ۶۰: علامہ اسمعیل بن عبدالغنی حاشیہ درر وغرر پھر علامہ عبدالغنی بن اسمعیل حاشیہ طریقہ محمدیہ نوع ثامن آفات لسان میں فرماتے ہیں:
لبس زی الافرنج کفر علی الصحیح ۴؎ اھ مختصرا۔
فرنگیوں کی وضع پہننی صحیح مذہب میں کفر ہے اھ مختصرا۔
(۴؎ الحدیقہ الندیہ النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۳۰)
حدیث ۵۵: صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اللہ عزوجل کوسب سے زیادہ دشمن تین شخص ہیں حرم شریف میں الحاد و زیادتی کرنے والا اور اسلام میں جاہلیت کی سنت چاہنے والا اور ناحق کسی کی خونریزی کے لئے اس کے قتل کی تلاش میں رہنے والا۔
(۵؎ صحیح البخاری کتاب الدیات باب من طلب دم الخ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۲/ ۱۰۱۶)
علامہ طیبی سے مجمع البحار میں ہے:
اذا ترتب ھذا الوعید علی طالبہ فعلی المباشر اولی ۶؎۔
جب سنت جاہلیت کی طلب پر یہ وعید ہے تو برتنے والا بدرجہ اولٰی۔
(۶؎ مجمع بحار الانوار باب السنن مع النون تحت لفظ السنن مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۳/ ۱۳۲)
حدیث ۵۶ و ۵۷: بخاری تعلیقا اور احمدوابویعلی وطبرانی کاملا حضرت عبداللہ بن عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور جملہ اخیرہ ابوداؤد ان سے اور طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن حضرت حذیفہ صاحب سر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جعل الذل والصغار علی من خالف امری ومن تشبہ بقوم فھو منھم ۱؎۔
رکھی گئی ذلت اور خواری اس پر جو میرے حکم کا خلاف کرے اور جو کسی قوم سے تشبہ کرے وہ انھیں میں سے ہے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الجہاد باب ماقیل فی الرماح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۰۸)
(مسنداحمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۵۰ و ۹۲)
(سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳)
(المعجم الاوسط حدیث ۸۳۲۳ مکتبہ المعارف ریاض ۹/ ۱۵۱)
علامہ طیبی سے مجمع وغیرہ میں ہے:
ای من تشبہ بالکفارفی اللباس وغیرہ فھو منھم ۲؎ اھ باختصار۔
یعنی جو کافروں سے لباس وغیرہ میں مشابہت کرے وہ انھیں کافروں میں سے ہے اھ باختصار
(۲؎ مجمع بحار الانوار باب الشین مع الباء مکتبہ دارالایمان مدینہ المنورۃ ۳/ ۱۷۸)
حدیث ۵۸: ترمذی وطبرانی حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من تشبہ بغیر نا لاتشبھوابالیھود ولا بالنصاری فان تسلیم الیھود الاشارۃ بالاصابع وتسلیم النصاری الاشارۃ بالاکف ۳؎۔
ہم میں سے نہیں جو ہمارے غیر سے تشبہ کرے، نہ یہود سے تشبہ کرو نہ نصرانیوں سے کہ یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور نصارٰی کا ہتھیلیوں سے۔
(۳؎ جامع الترمذی ابواب الاستیذان والآداب باب ماجاء فی تبلیغ الاسلام آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۹۴)
حدیث ۵۹: مسند الفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من عمل بسنۃ غیرنا۴؎۔
جوہمارے غیر کی سنت پر عمل کرے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔
(۴؎ الفردوس بما ثور الخطاب عن ابن عباس حدیث ۵۲۶۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/ ۴۱۵)
حدیث ۶۰: ابن حبان اپنی صحیح میں ابوعثمان سے راوی ہمارے پاس پیشگاہ خلافت فاروقی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمان والا شرف صدور لایا جس میں ارشاد ہے:
ایاکم وزی الاعاجم ۱؎
پارسیوں کی وضع سے دور رہو،
(۱؎ کشف الخفاء بحوالہ ابن حبان تحت حدیث ۱۰۱۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۸۳)
تذییل حدیث ۶۱: ابن ماجہ حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یعمل بسنتی فلیس منی ۲؎۔
جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔
(۲؎ سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴)
حدیث ۶۲: ابن عساکر حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من رغب عن سنتی فلیس منی ۳؎۔
جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ میرے گروہ سے نہیں۔
(۳؎ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ابی ایوب حدیث ۱۸۱۴۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۹۸)
حدیث ۶۳: خطیب حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خالف سنتی فلیس منی ۴؎۔
جو میری سنت کا خلاف کرے وہ میرے زمرے سے نہیں۔
(۴؎ تاریخ بغداد الخطیب ترجمہ ۳۶۷۸ دارالکتب العربی بیروت ۷/ ۲۰۹)
حدیث ۶۴: ابن عساکر حضرت ابن الفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ بسنتی فھو منی ومن رغب عن سنتی فلیس منی ۵؎۔
جومیری سنت اختیار کرے وہ میرا اور جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ میرا نہیں۔
(۵؎ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۹۳۴ ۱/ ۱۸۴ و حدیث ۲۲۷۵۴ ۸/۲۴۴ موسسۃ الرسالہ بیروت )
حدیث ۶۵: بیہقی شعب میں عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بسند صحیح راوی: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان لکل عمل شرۃ ولکل شرۃ فترۃ فمن کانت فترتہ الی سنتی فقد اھتدی ومن کانت الی غیر ذٰلک فقد ھلک ۱؎۔
یعنی ہر کام کا ایک جوش ہوتاہے اور ہر جوش کو ایک فتور توجو فتور کے وقت بھی میری سنت ہی کی طرف رہے ہدایت پائے اور جو دوسری جانب ہو ہلاک ہوجائے۔
(۱؎ کنز العمال بحوالہ ھب عن ابن عمرو حدیث ۴۴۴۳۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۲۷۶)
ربنا بقدرتک علینا وعجز نا لدیک وبغناک عنا وفا قتنا الیک لاتھلکنا بذنوبنا ولا تواخذنا بما عملنا ولا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین ربنا انک رؤف رحیم اٰمین والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا و مولانا محمد شفیع المذنبین والہ و صحبہ اجمعین، اٰمین۔
اے ہمارے پروردگار! ہم پرجو تجھے قدرت کاملہ حاصل ہے اس کا واسطہ دے کر سوال کرتاہوں اور ہمارا تیری بارگارہ میں عجز ونیاز اور تیری ہم سے بے نیازی اور ہمارا تیری طرف احتیاج، ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہ کرنا اور جو کچھ ہم نے کیا اس پر ہماری گرفت نہ کرنا اور ہمیں ظالموں کے لئے آزمائش نہ بنانا، اے ہمارے پروردگار ! یقینا تو بڑی شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ہماری دعا قبول فرما (آمین)، سب تعریف اس اللہ تعالٰی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا مالک وپروردگا رہے اور ہمارے آقا ومولٰی پر اللہ تعالٰی کی بے پایاں رحمتیں ہوں جو (حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ) روزقیامت گناہگاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں اور ان کی تمام اولاد اور سب ساتھیوں پر ، مولا! اس دعا کو قبول فرما، آمین! (ت)
خاتمہ
رزقنا اﷲ حسنھا
(اللہ تعالٰی اسے (یعنی خاتمہ کو) حسن وجمال سے نوازے۔ ت)اب کہ بحمداللہ تعالٰی کلام اپنے منتہٰی کو پہنچا اکثر ابنائے زماں کی ہمت اور دین وعلم کی جانب رغبت معلوم کسی دینی تحریر کے چند ورق دیکھنے بھی ان پربارگراں اور راستانوں دیوانوں کے دفتر الٹ جائیں سیری کہاں، لہذا ہم بعض مضامین رسالہ کا ایک جدول میں خلاصہ لکھتے ہیں جنھیں اللہ ورسول پر ایمان اور روز قیامت پر ایقان ہے ملاحطہ کریں کہ قرآن وحدیث ونصوص ائمہ وعلمائے کرام قدیم وحدیث میں داڑھی منڈانے کتروانے پر کیا کیا ہولناک سزائیں وعیدیں، مذمتیں، تہدیدیں واردہیں، ایمانی نگاہ کو یہ جدول ہی کافی۔ اور جو تفصیل چاہے تو یہ فتوٰی وافی اب جس میں عذاب الٰہی کی طاقت ہو نیچریان عنود کی بات سنے، مجوس وہنود کی صورت بنے، ان جانگزاآفتوں کو گوارا کرے اور جسے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے محبت ہواپنا منہ اسلامی بنائے شعائر اللہ کی حرمت بجالائے شعائر کفر سے کنارہ کرے۔
واﷲ الھادی وولی الایادی
(اللہ تعالٰی ہی سیدھی راہ دکھانے والا گوناگوں احسانات وانعامات کا مالک ہے۔ ت)