Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
140 - 146
حدیث ۴۶: ابوداؤد بسند حسن عبداللہ بن ابی ملیکہ سے راوی:
قال قیل لعائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ان امرأۃ تلبس النعل قالت لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء ۲؎۔
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہ عنھا سے عرض کی گئی کہ ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
 (۲؎سنن ابی داؤد     کتاب اللباس باب فی لباس النساء     آفتاب عالم پریس لاہور  ۲/ ۲۱۰)
حدیث ۴۷: امام احمد بسند صحیح ایک تابعی ہذیلی سے راوی میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں حاضر تھا ایک عورت کمان لٹکائے مردانی چال چلتی سامنے سے گزری عبداللہ نے پوچھا یہ کون ہے میں نے کہا ام سعید دختر ابوجہل، فرمایا میں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
لیس منا من تشبہ بالرجال من النساء ولا من تشبہ بالنساء من الرجال ۳؎ ورواہ الطبرانی عن عبداﷲ مختصرا۔
ہمارے گروہ میں سے نہیں وہ عورت کہ مردوں سے تشبہ کرے اور نہ وہ مرد کہ عوتوں سے (اور اسے طبرانی نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے مختصرا روایت کیا۔ ت)
(۳؎ مسند امام احمد بن حنبل     عن عبداللہ بن عمرو         المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۲۰۰)
حدیث ۴۸: امام احمد بسند حسن اور عبدالرزاق مصنف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مخنثی الرجال الذین یتشبھون بالنساء والمترجلات من النساء المتشابھات بالرجال  وراکب الفلاۃ وحدہ ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی زنانہ مردوں پر جو عورتوں کی صورت بنیں اور مردانی عورتوں پر جو مردوں کی شکل بنیں اور جنگل کے اکیلے سوار کو یعنی جو خطرہ کی حالت میں تنہا سفر کو جائے۔
 (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل     عن ابی ہریرہ      المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۸۹۔ ۲۸۷)
حدیث ۴۹: طبرانی کبیر میں بسند صالح حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث و الرجلۃ من النساء و مدمن الخمر ۲؎۔
تین شخص جنت میں کبھی نہ جائیں گے دیوث اور مردانی عورت اور شراب کا عادی.
 (۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتاب النکاح باب فیمن یرضی لاہلہ بالخبث     دارالکتاب بیروت    ۴/ ۳۲۷)
حدیث ۵۰: احمد، نسائی، حاکم حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاینظراﷲ الیھم یوم القیمۃ العاق لوالدیہ والمرأۃ المترجلۃ المتشبھۃ بالرجال (عہ) والدیوث ۳؎۔
تین شخصوں پر اللہ تعالٰی روز قیامت نظر رحمت نہ فرمائے گا ماں باپ کا نافرمان اور مردانی عورت مردوں کی وضع بنانے والی اور دیوث۔
عہ:  وفی طریقۃ لاحمد وروایۃ عبدالرزاق بعدھذا والمتبتلین الذین یقولون لانتزوج والمتبتلات اللاتی یقلن ذٰلک وراکب الفلاۃ وحدہ والبائت وحدہ ۴؎ ۱۲ منہ
امام احمد کی دوسری سند کے ساتھ اور مصنف عبدالرزاق کی روایت میں اس کے بعد یہ الفاظ مذکور ہیں وہ مرد جو عورتوں سے لاتعلق ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم شادی نہیں کرتے اور الگ تھلگ رہنے والی عورتیں جو یہی کچھ کہتی ہیں اور جنگل و بیابان میں اکیلا سفر کرنے والا سوار اور قوت مردمی کے باوجود تنہا رہنے والا مرد۔ (ت)
 (۳؎ مسند امام احمد بن حنبل     عن عبداللہ بن عمر     المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۱۳۴)

(سنن النسائی          کتاب الزکوٰۃ    ۱/ ۳۵۷)

(۴؎ مسند احمد بن حنبل     عن ابی ہریرہ      المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۲۸۹)
حدیث ۵۱: نسائی سنن اور بزار مسند اورحاکم مستدرک اور بیہقی شعب الایمان میں ان سے راوی:

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء ۱؎۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ سے عاق اور دیوث اور مردانی عورت۔
 (۱؎ شعب الایمان للبیہقی     باب فی الغیرۃ والمذاق     حدیث ۱۰۷۹۹     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۷/ ۴۱۲)

(سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۳۵۷     و المستدرک للحاکم     کتاب الایمان    ۱/ ۷۲)
عہ:  ھذا وعید اٰخر غیر مافی قرینۃ فالظاھر تعداد الورود ولا تغییر العبارۃ من الصحابی او راو بعد ہ واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ
یہ دوسری وعید ہے جو ساتھ والی روایت میں نہیں ہے بظاہر تعداد ورود مرا دہے صحابی سے تبدیلی عبارت مراد نہیں یا اس کے بعد کوئی اور راوی ہے اور اللہ تعالٰی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ (ت)
حدیث ۵۲: بیہقی شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اربعۃ یصبحون فی غضب اﷲ ویمسون فی غضب اﷲ المتشبھون من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال والذی یاتی البھیمۃ والذی یاتی بالرجل ۲؎۔
چار شخص صبح کریں تو اللہ کے غضب میں شام کریں تو اللہ کے غضب ہیں زنانی وضع والے مرد اور مردانی وضع والی عورتیں اور جو چوپائے سے جما ع کرے اور اغلامی
 (۲؎ شعب الایمان     باب فی تحریم الفروج     حدیث ۵۳۸۵     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴/ ۳۵۶)
حدیث ۵۳: طبرانی کبیر میں ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
اربعۃ لعنھم اﷲ فوق عرشہ وامنت علیھم ملئکۃ الذی یحصن نفسہ عن النساء ولایتزوج ولا یتسری لان لایولد لہ ولد الرجل یتشبہ بالنساء وقد خلقہ اﷲ ذکرا والمرأۃ تتشبہ بالرجال وقد خلقھا اﷲ انثی ومضل المسکین ۳؎ وفی اخری عنہ اربعۃ لعنوا فی الدنیا والاخرۃ وامنت الملئکۃ رجل جعلہ اﷲ ذکرا فانث نفسہ وتشبہ بالنساء وامرأۃ جعلھا اﷲ انثی فتذکرت وتشبھت بالرجال والذی یضل الاعمی ورجل حصور ولم یجعل اﷲ حصورا الایحٰیی بن زکریا علیہ السلام ۱؎۔
حاصل یہ کہ چا رشخصوں پر اللہ عزوجل نے بالائے عرش سے دنیا  وآخرت میں لعنت بھیجی اور ان کی ملعونی پر فرشتوں نے آمین کہی وہ مرد جسے خدائے تعالٰی نے نر بنایا اور وہ مادہ بنے عورتوں کی وضع بنائے اور عورت جسے خدانے مادہ بنایا اور وہ نر بنے مردانی وضع اختیار کرے اور اندھے کو بہکانے یا مسکین کو راستہ بھلانے والا اور وہ جو اولاد ہونے کے خوف سے نکاح نہ کرے نہ کنیز حلال رکھے راہبان نصاری کی طرح بن رہے۔
 (۳؎ المعجم الکبیر         حدیث ۷۴۸۹     المکتبہ الفیصلیۃ بیروت        ۸/ ۱۱۷)

(۱؎ المعجم الکبیر     حدیث ۷۴۸۹    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۸/ ۲۴۲)
حدیث ۵۴:ا بن عساکر ابن صالح وہ اپنے بعض شیوخ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الملئکۃ رجلا تانث وامراۃ تذکرت ۲؎۔ والعیاذ باللہ رب العالمین۔
اللہ عزوجل اور فرشتوں نے لعنت کی اس مرد پر جو عورت بنے اور اس عورت پر جو مرد۔
 (۲؎ کنز العمال     بحوالہ ابن عساکر عن ابن صالح حدیث ۴۳۹۸۳     موسسۃ  الرسالہ بیروت    ۱۶/ ۷۳)
دلیل سوم: داڑھی منڈا نا کتروانا شعا ر کفار میں ان سے تشبہ ہے اور وہ حرام۔

تنبیہ ہشتم کی متعدد احادیث میں گزرا کہ یہ خصلت شیعہ مجوس ویہود ومشرکین کی ہے اور نہم کے نصوص عدیدہ میں کہ مجوسیوں یہودیوں ہندؤوں فرنگیوں کی اور حدیث اول وسوم وچہارم میں گزرا مشرکوں کا خلاف کرو یہودیوں کی صورت نہ بنو اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
Flag Counter