Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
139 - 146
حدیث ۳۶: طبرانی کبیر میں حضرت یعلٰی بن مرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتمثلوا بعباداﷲ ۳؎
اللہ کے بندوں کو مثلہ نہ کرو۔
(۳؎ المعجم الکبیر     حدیث ۶۹۷ و ۶۹۸     المکتبہ الفیصلیۃ بیروت    ۲۲/ ۲۷۲)
حدیث ۳۷ و ۳۸: ابن عساکر وابن النجار حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور ابن ابی شیبہ مصنف میں عطا سے مرسلا راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاامثل بہ کذا فیمثل اﷲ بی یوم القیمۃ ۴؎۔
حاصل یہ کہ جو یہاں مثلہ کرے گا روز قیامت اسے اللہ تعالٰی مثلہ بنائے گا۔
 (۴؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر وابن النجار حدیث ۱۳۴۴۷      مؤسسۃ  الرسالہ بیروت    ۵/ ۴۰۸)

(المصنف لابن ابی شیبہ     کتاب المغازی     حدیث ۱۸۵۸۶     ادارۃ القرآن کراچی    ۱۴/ ۳۸۷)
حدیث ۳۹: بیہقی سنن میں صالح بن کیسان سے حدیث طویل میں راوی حضرت خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سیدنا صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہما کو سپہ سالاری پر بھیجتے وقت وصیت میں فرمایا:
لاتغدرولا تمثل ولا تجبن ولا تغلل ۱؎۔
نہ عہد توڑنا، نہ مثلہ کرنا، نہ بزدلی نہ خیانت۔
 (۱؎ السنن الکبرٰی         کتاب السیر     باب ترک قتل من لا قتال فیہ  من الرھبان الخ     دارصادر بیروت     ۹ /۹۰ )
حدیث ۴۰: سیف کتاب الفتوح میں متعدد شیوخ سے راوی، امیر المومنین صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے صوبہ ملک یمامہ مہاجربن ابی امیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرمان بھیجا جس میں ارشاد ہے:
ایاک والمثلۃ فی الناس فانھا ماثم ومنفرۃ الا فی قصاص ۲؎۔
لوگوں کو مثلہ کرنے سے بچو کہ وہ گناہ ہے اور نفرت دلانے والا مگر قصاص وعوض میں۔
 (۲؎ تاریخ الامم والملوک للطبری ذکر خبر حضرموت  فی ردتہم     دارالقلم بیروت    ۳/ ۲۷۷)
اللہ اکبر! جب چوپایوں سے مثلہ حرام ، چوپائے درکنار کٹکھنے کتے سے ناجائز کتے سے بھی گزرئیے حربی کافر سے بھی منع، تو مسلمان کا خود اپنے منہ کے ساتھ مثلہ کرنا کس درجہ اشد حرام وموجب لعنت وانتقام ہے
والعیاذ باللہ تعالٰی۔
حدیث ۴۱: طبرانی معجم کبیر میں بسند حسن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مثلہ بالشعر فلیس لہ عنداﷲ خلاق ۳؎۔
جوبالوں کے ساتھ مثلہ کرے اللہ عزوجل کے یہاں اس کا کچھ حصہ نہیں۔
 (۳؎ المجعم الکبیر  للطبرانی  حدیث ۱۰۹۷۷  المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۴۱)
والعیاذ باللہ رب العالمین ____
یہ حدیث خاص مسئلہ مثلہ مو میں ہے بالوں کا مثلہ یہی جو کلمات ائمہ سے مذکور ہوا کہ عورت سر کے بال یا مرد داڑھی یا مرد خواہ عورت بھنویں
کما یفعلہ کفرۃ الھند فی الحداد
 (جیسے ہندوستان کے کفار لوگ سوگ مناتے ہوئے ایسا کرتے ہیں۔ ت) یا سیاہ خضاب کرے
کما فی المناوی والعزیزی والحفنی شروح الجامع الصغیر،
یہ سب صورتیں مثلہ مومیں داخل ہیں اور سب حرام۔
دلیل دوم: داڑھی منڈانا ، زنانی صورت بنانا اور عورتوں سے تشبہ پیدا کرنا ہے اور مرد کو عورت عورت کو مرد سے کسی لباس وضع، چال ڈھال میں بھی تشبہ حرام نہ کہ خاص صورت وبدن میں ظاہر کہ عورت ومرد کا جسم ظاہر میں مابہ الامتیاز یہی چوٹی داڑھی ہے۔ اسی طرح تسبیح ملائکہ میں اشارہ وارد ہوا۔ امام زیلعی تبیین الحقائق علامہ اتقانی غایۃ البیان علامہ طوری تکملہ بحر، سب علماء کتاب الجنایات اور امام حجۃ الاسلام محمد غزالی کیمیائے سعادت میں ذکر کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ﷲ ملئکۃ تسبیحھم سبحن من زین الرجال باللحی والنساء وبالقرون والذوائب ۱؎ (لیس عند الاتقانی فی نسختی لفظ القرون)
  بے شک اللہ عزوجل کے کچھ فرشتے ہیں جن کی تسبیح یہ ہے پاکی ہے اسے جس نے مردوں کو زینت دی داڑھیوں سے اور عورتوں کو گیسوؤں سے، بلکہ داڑھی چوٹی سے بھی زیادہ وجہ امتیاز  ہے کہ مرد چوٹی بناسکتا ہے اور عورت داڑھی نہیں نکال سکتی۔ (میرے نسخہ میں اتقانی کے نزدیک ''قرون'' کا لفظ نہیں ہے)۔ (ت)
(۱؎ تبیین الحقائق     کتا ب الجنایات ۶/ ۱۳۰     و بحرالرائق کتاب الجنایات    ۸/ ۳۳۱)
ولہذا نص ۵۰ و ۵۱: امامین جلیلین قوت واحیاء میں فرماتے ہیں:
اللحیۃ من تمام خلق الرجال وبھا تمیز الرجال من النساء فی ظاہر الخلق ۲؎۔
داڑھی  آفرینش مرد کی تمامی سے ہے اور اسی سے متمیز ہوتے ہیں مرد عورتوں سے ظاہری صورت میں۔
 (۲؎ قوت القلوب الفصل السادس والثلاثون ۲/ ۱۴۲ و احیاء العلوم     النوع الثانی    ۱/ ۱۴۴)
لاجرم بزازیہ ودرمختار وردالمحتار کے نصوص گزرے کہ عورت کو موئے سر مرد کو داڑھی کا قطع کرنا حرام ہے کہ اس میں ایک کادوسرے سے تشبہ ہے۔
نص ۵۲: سیدی عارف باللہ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
الحکمۃ فی تحریم تشبہ الرجل بالمرأۃ وتشبہ المرأۃ بالرجل انھما مغیرات لخلق اﷲ ۳؎۔
مردعورت کا باہم تشبہ حرام ہونے کی حکمت یہ ہے کہ وہ دونوں اس میں خدا کی بنائی چیز بدلتے ہیں۔

یہ اشارہ ہے اسی آیۃ کریمہ
فلیغیرن خلق اﷲ ۴؎
کی طرف،یہ تو آیت تھی اب بتوفیق اللہ تعالٰی احادیث لیجئے۔
(۳؎ الحدیقہ الندیہ     ومن الآفات اضاعۃ الرجل اولادہ     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/ ۵۵۸)

(۴؎ القرآن الکریم         ۴/ ۱۱۹)
حدیث ۴۲: امام احمد ودارمی وامام بخاری وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجۃ وطبرانی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشابھات من النساء بالرجال ۱؎۔
اللہ کی لعنت ان مردوں پر جو عورتوں کی وضع بنائیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی۔
 (۱؎صحیح البخاری     کتاب اللباس ۲/ ۸۷۴۔ سنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲/ ۲۱۰۔ جامع الترمذی ۲/ ۱۰۲)

(سنن ابن ماجہ     ابواب النکاح باب فی المخنثین     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۳۸)

(مسند احمد بن حنبل     عن ابن عباس     المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۳۳۹)
طبرانی کی روایت یوں ہے:
ان امرأۃ مرت علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم متقلدۃ قوسافقال لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ایک عورت شانے پر کمان لٹکائے گزری، فرمایا: اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو مردانی وضع بنائیں اور ان مردوں پر جو زنانی۔
 (۲؎ الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترھیب من تشبہ الرجل بالمرأۃ الخ     مصطفی البابی مصر    ۳/ ۱۰۳)
حدیث ۴۳: بخاری، ابوداؤ وترمذی انھیں سے راوی:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المخنثین من الرجال والمترجلات من النساء وقال اخرجوھم من بیوتکم ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی زنانہ مردوں اور مردانی عورتوں پر۔ اور فرمایا انھیں اپنے گھروں سے نکال باہر کرو۔
 (۳؎ صحیح البخاری         کتاب اللباس ۲/ ۸۷۴ و سنن ابی داؤد     کتاب الادب ۲/ ۳۱۸ جامع الترمذی ابواب الادب  ۲/ ۱۰۲)
حدیث ۴۴: بخاری، ابوداؤد، ابن ماجہ ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اخرجوا المخنثین من بیوتکم ۴؎۔
زنانوں کو اپنے گھروں سے نکال باہر کرو۔
 (۴؎ سنن ابن ماجہ ابواب الحدود     باب المخنثین      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۹۱)

(کنز العمال بحوالہ احمد خ، د ، ھ     حدیث ۴۵۰۶۶     موسسۃ  الرسالہ بیروت    ۱۶/ ۳۹۶)
حدیث ۴۵: ابوداؤد ونسائی، وابن ماجہ وابن حبان بسند صحیح ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الرجل یلبس لبسۃ المرأۃ والمرأۃ تلبس لبسۃ الرجل ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اس مرد پر کہ عورت کا پہناوا پہنے اور اس عورت پر کہ مرد کا۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب اللباس باب فی لباس النساء     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۲۱۰)
Flag Counter