احادیث لیجئے کہ امید کرتاہوں مجموعا اس تحریر کے سوا شاید نہ ملیں:
حدیث ۱۸: امام احمد وبخاری ومسلم و نسائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن اﷲ من مثل بالحیوان ۵؎۔
اللہ کی لعنت اس پر جو کسی جاندار کے ساتھ مثلہ کرے۔
(۵؎ صحیح البخاری کتاب الذبائح ۲/ ۸۲۹ و مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر ۱/ ۳۳۸)
طبرانی نے بسند حسن ان سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من مثل بالحیوان فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین ۱؎۔
جو کسی جاندار کے ساتھ مثلہ کرے اس پر اللہ و ملائکہ وبنی آدم سب کی لعنت۔
(۱؎ کنز العمال بحوالہ طب عن ابن عمر حدیث ۳۹۹۷۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۳۸)
حدیث ۱۹: شافعی ، احمد، دارمی، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، طحطاوی ، ابن حبان، بیہقی، ابن الجار وحضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے سپہ سالار کو وصیت فرماتے:
اغزوا بسم اﷲ فی سبیل اﷲ قاتلوا من کفر باﷲ اغزوا ولاتغلوا ولا تغدروا ولاتمثلوا ولا تقتلوا ولیدا ۲؎۔
جہاد کرو اللہ کے نام پر اللہ کی راہ میں قتال کرو۔ اللہ کے منکروں سے جہاد کرو اور خیانت نہ کرو۔ نہ عہد توڑو، نہ مثلہ کرو۔ نہ کسی بچے کو قتل کرو۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الجہاد ۲/ ۸۲ و سنن ابی داؤد کتا ب الجہاد ۱/ ۳۵۲)
(جامع الترمذی ابواب الدیات ۱/ ۱۶۹ ابواب السیر ۱/ ۱۹۵ وسنن ابن ماجہ کتاب الجہاد ص۲۱۰)
(مسند احمد بن حنبل ۴/ ۲۴۰ و ۵/ ۳۵۸)
حدیث ۲۰: امام احمد مسند اور ابن ماجہ سنن اورقاضی عبدالجبار بن احمد اپنی امالی میں حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا فرمایا:
سیروابسم اﷲ وفی سبیل اﷲ قاتلوا من کفر باﷲ ولا تمثلوا ولا تغدرواولاتغلوا ولاتقتلوا ولیدا ۳؎۔
چلو خدا کے نام پر خدا کے راہ میں جہاد کرو خدا کے منکروں سے اور نہ مثلہ کرو نہ بدعہدی نہ خیانت نہ بچے کا قتل۔
(۳؎ سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ص ۲۱۰ و مسند احمد بن حنبل ۴/ ۲۴۰)
حدیث ۲۱: حاکم مستدرک میں حضرت ابن الفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
خذ فاغز فی سبیل اﷲ فقاتلوا من کفر باﷲ لاتغلوا ولا تمثلوا ولاتقتلوا ولیدا فھذا عھد اﷲ وسیرۃ نبیہ ۱؎۔
لے خدا کی راہ میں لڑ منکران خدا سے جہاد کرو، خیانت نہ کرو نہ مثلہ نہ بچوں کو قتل کہ یہ اللہ تعالٰی کا عہد اور اس کے نبی کا شیوہ ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
(۱؎ کنزالعمال برمزک عن ابن عمر حدیث ۱۱۲۸۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۳۴)
(المستدرک للحاکم کتاب الفتن دارالفکر بیروت ۴/ ۵۴۱)
حدیث ۲۲: بیہقی سنن میں امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ سے حدیث طویل میں راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب کوئی لشکر کفا ر پر بھیجتے فرماتے:
لاتمثلوا باٰدمی ولا بھیمۃ ۲؎۔
مثلہ نہ کرو نہ کسی آدمی کو نہ چوپائے کو۔
(۲؎ السنن الکبرٰی کتاب السیر باب ترک قتل من اقتال فیہ الخ دارصادر بیروت ۹/ ۹۱)
حدیث ۲۳ تا ۲۵: احمد وبخاری حضرت عبداللہ بن زید اور احمد وابوبکر ابن ابی شیبہ حضرت زید بن خالد اور طبرانی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن النھبۃ والمثلۃ ؎۔
رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لوٹ اور مثلہ سے منع فرمایا۔
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الذبائح باب مایکرہ من المثلہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۳۹)
(مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن زید انصاری المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۰۷)
حدیث ۲۶ و ۲۷: ابن ماجہ ابوسعید خدری اور امام ابوجعفر طحاوی وسلیمان بن احمد طبرانی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولفظ الطحاوی سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ینھٰی ان یمثل بالبھائم ۴؎۔
(رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا اور طحاوی کے الفاظ ہیں کہ میں نے سنا ہے۔ ت) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے چوپایوں کو مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔
(۴؎ سنن ابن ماجہ کتاب الذبائع باب النہی عن صبرالبہائم وعن المثلۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۷)
(شرح معانی الآثار کتا ب الجنایات باب کیفیۃ القصاص ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۱۷)
حدیث ۲۸ تا ۳۰: ابوبکر بن ابی شیبہ وامام طحاوی وحاکم حضرت عمران بن حصین اور اولین وطبرانی حضرت مغیرہ بن شعبہ اور صرف اول حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی:
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن المثلۃ ۱؎ ھذا حدیث الحاکم عن عمران ومثلہ لفظ الطبرانی عن ابن عمر وحدثنا المغیرۃ واسماء۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ نے مثلہ سے منع فرمایا۔ (حضرت عمرا ن کے حوالے سے یہ حاکم کی روایت ہے اور اس جیسے الفاظ امام طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمر کے حوالے سے روایت کئے ہیں اور حضرت مغیرہ اورسیدہ اسماء نے ہم سے بیان فرمایا۔ ت)
حدیث ۳۲ و ۳۳: ابن قانع وطبرانی وابن مندہ بطریق موسٰی بن ابی حبیب حضرت حکم بن عمیروحضرت عائد بن قرط رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حدیث ۳۴ و ۳۵: ابوداؤد وطحاوی حضرت سمرہ بن جندب اور بخاری ومسلم قتادہ سے مرسلا راوی:
کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یحثنا علی الصدقۃ وینھانا عن المثلۃ وھذا لفظ ابی داؤد۴ ولفظ الطحاوی قلما خطب خطبۃ الا امرنا فیھا بالصدقۃ ونھانا فیہا عن المثلۃ ۱؎ ولفظھما فی حدیث العرینین عن قتادۃ بلغنا ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان بعد ذٰلک یحث علی الصدقۃ وینھٰی عن المثلۃ ۲؎ وبمعناہ لابن ابی شیبہ والطحاوی عن عمران فی الحدیث المار۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صدقہ کرنے کی ترغیب دیا کرتے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے، یہ ابوداؤد کے الفاظ ہیں۔ اور امام طحاوی کے یہ الفاظ ہیں کہ کوئی ایسا خطبہ نہیں ہوتا تھا جس میں صدقہ کرنے کا حکم نہ فرماتے ہوں اور مثلہ کرنے سے منع نہ کرتے ہوں ان دونوں کے الفاظ حدیث ''عرینین'' میں بحوالہ حضرت قتادہ یہ ہیں: ہمیں یہ اطلاع پہنچی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بعدازیں صدقہ کرنے کی ترغیب دلاتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے۔ اور اسی کی ہم معنی ابن ابی شیبہ اور طحاوی کی گزشتہ حدیث بروایت حضرت عمران مذکور ہے۔ (ت)
(۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی النہی عن المثلۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۶)
(۱؎ شرح معانی الاثار للطحاوی کتاب الجنایات باب کیفیۃ القصاص ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۱۷)
(سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی النہی عن المثلۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۶)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب المغازی باب قصہ عکل وعرینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۰۲)