(امام مالک نے داڑھی کا بیحد لمبا کرنا ناپسند فرمایاہے۔ ت)
(۴؎ و ۵؎ شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب السواک قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وحضرت عبداللہ بن عمر وحضرت ابوہرہ وغیرہما صحابہ وتابعین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کے افعال واقوال اور ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ ومحرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہما وعامہ کتب فقہ وحدیث کی تصریح سے اس کی حد یکمشت ہے۔ ابھی نصوص علماء سے گزرا کہ اس سے کم کرنا کسی نے حلال نہ جانا، قبضہ سے زائد کا قطع ہمارے نزدیک مسنون ہے بلکہ نہایہ میں بلفظ وجوب تعبیر کیا۔ تفصیل اس کی بحر ونہر و درمختار اور اس کے حواشی وغیرہا کتب فقہ اور مرقاۃ ولمعات ومنہاج وغیرہ کتب حدیث اور قوت القلوب واحیاء العلوم وغیرہا کتب سلوک میں دیکھئے قول عرب کہ اس ناقل ناعاقل نے لکھا اور نہ اس کا قائل جانا نہ مقولہ ہی ٹھیک نقل کیا اس میں اسی طول فاحش ومفرط کی ناپسندی ہے ورنہ نفس طول تو سبزہ آغاز ہوتے ہی حاصل کہ بال اگر چہ ذرہ بھر ہوآخر جسم ہے اور جسم بے طول ناممکن تو مطلق طول کے مذمت نفس لحیہ کی مذمت ہوگی حالانکہ تمام عالم جانتا ہے کہ عرب کی قدیم قومی وملکی ومذہبی عادت ہمیشہ داڑھی رکھنی رہی ہے وہ اس کے نہ ہونے کی مذمت کرتے اور اسے سخت عیب جانتے جس کا کچھذکر اقوال امام شریح واصحاب امام احنف سے گزرا،
قوت القلوب شریف میں امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
من عظمت لحیتہ جلت معرفتہ ۱؎۔
جس کی داڑھی عظیم یعنی بڑی ہو اس کی معرفت بڑی ہوگی۔ (ت)
(۱؎قوت القلوب لابی طالب المکی الفصل السادس والثلاثون دارصادر بیروت ۲/ ۱۴۳)
اس میں بعض ادیبوں سے نقل فرمایا:
فی اللحیۃ خصال نافعۃ منھا تعظیم الرجل والنظر الیہ بعین العلم والوقار ومنھا رفعہ فی المجالس والاقبال علیہ ومنھا تقدیمہ علی الجماعۃ وتعقیلہ ۲؎۔
داڑھی کے بہت فوائد ہیں جن میں سے (۱) ایک یہ کہ لوگوں میں داڑھی والے آدمی کی عزت ہوتی ہے (۲)لوگ اس کو عزت ووقار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں (۳) مجالس میں اسے اچھی نشست دی جاتی ہے۔ (۴) لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں (۵) جماعت میں اسے آگے کرتے ہیں (۶) داڑھی کے بغیر آدمیوں کے مقابلے میں داڑھی والے کو فضیلت دی جاتی ہے (ت)
(۲؎ قوت القلوب لابی طالب المکی الفصل السادس والثلاثون دارصادر بیروت ۲/ ۱۴۳)
اسی طرح احیاء العلوم میں ہے۔ یہ زنخداں کے دو تین بال جو اس خلیع العذار کے نزدیک حداعتدال عرب اسے منحوس ومذموم جانتے اور عجم کیا اچھا سمجھتے ہیں یہاں تک کہ اس پر مثلیں زباں زد ہوئیں اور ہر عاقل جانتاہے کہ:
خیر الامور اوسطھا ۳؎ قال تعالٰی : وکان بین ذٰلک قواما ۴؎ وقال تعالٰی: واتبع بین ذٰلک سبیلا ۱؎۔ وقال تعالٰی : عوان بین ذٰلک ۲؎۔
سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نیک بندے تنگی اور فراخی یعنی کنجوسی اور فضول خرچی کے درمیان راہ اعتدال پر رہتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان راستہ اختیار کرو، اللہ تعالٰی نے فرمایا: (وہ گائے) نہ بوڑھی ہونہ بچھیا بلکہ درمیانی عمر رکھتی ہو۔ (ت)کو سچ کے بارے میں امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اقوال ووقائع بیہقی نے مناقب میں روایت اور امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں زیر حدیث :
ایاکم والاشقر الارزق ۳؎
(لوگو ! گہری نیلی آنکھوں والے سے بچو۔ ت) ذکر کئے جسے دیکھنا ہو وہاں دیکھے۔
(۳؎ السنن الکبرٰی کتاب صلوٰۃ الخوف باب ماورد من التشدید فی لبس الخز دارصادر بیروت ۳/ ۲۷۳)
(۴القرآن الکریم )(۱؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۱۱۰) (۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۶۸)
(۳؎ المقاصد الحسنہ حرف الہمزۃ تحت حدیث ۲۷۴ دارالفکر بیروت ص۱۳۶)
تنبیہ دہم: بقیہ دلائل تحریم میں دلیل اول داڑھی منڈانا مثلہ یعنی صورت بگاڑنا ہے اور مثلہ حرام ۔ اب کتب فقہیہ سے کتاب الحج کا احرام باندھئے۔
نص ۳۸: ہدایہ میں ہے:
حلق الشعر فی حقہا مثلۃ کخلق اللحیۃ فی حق الرجال ۴؎۔
عورت کا بال مونڈنا مثلہ یعنی حلیہ بگاڑنے کے مترادف ہے جیسا کہ مردوں کا داڑھی مونڈنا (ت)
(۴؎ الہدایہ کتاب الحج فصل وان لم یدخل المحرم الخ المکتبہ العربیہ کراچی ۱/ ۲۳۵)
(احرام کھولتے وقت) عورت سر کے بال نہ مونڈے بلکہ چوٹی سے کچھ بال کتر ڈالے کیونکہ بال مونڈنا ا سکے حق میں بمنزلہ مثلہ ہے اور مثلہ حرام ہے۔ سرکے بال عورت کی زینت ہیں جیسے داڑھی مرد کے لئے زینت ہے۔ جس طرح احرام کی پابندی سے آزاد ہونے کے لئے مرد کو داڑھی مونڈنے کا حکم نہیں اسی طرح عورت کے لئے سر کے بال مونڈنے کا حکم نہیں۔ (ت)
(۵؎ کافی شرح وافی)
نص ۴۰ و ۴۱: امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاسانی بدائع پھر علامہ قاری مسلک متقسط میں فرماتے ہیں:
حلق اللحیۃ من باب المثلۃ ۱؎۔
داڑھی مونڈنا از قسم مثلہ کے ہے۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الحج فصل واما الحلق والتقصیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۴۱)
(المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری دارالکتب العربی بیروت ص۱۵۲)
نص ۴۲ و ۴۳: تبیین الحقائق وابوالسعود مصری:
حلق راسہا مثلۃ کحلق اللحیۃ فی الرجل ۲؎۔
کسی عورت کا اپنے سر کے بال مونڈنا مُثلہ ہے (حلیہ بگاڑنا ہے) جیسے مرد کا داڑھی مونڈنا (ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الحج فصل من لم یدخل مکہ الخ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر ۲/ ۳۹)
(فتح المعین کتاب الحج فصل مسائل شتی تتعلق بافعال الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۴۹۶)
نص ۴۴: نیز تبیین میں ہے:
لایاخذ من اللحیۃ شیئا لانہ مثلۃ ۳؎۔
مردداڑھی کا کوئی ضروری حصہ نہ کترائے کیونکہ ایسا کرنا مثلہ کے زمرے میں آتاہے۔ (ت)
(۳؎؎ تبیین الحقائق کتاب الحج باب الاحرام المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۲ /۳۳)
نص ۴۵ و ۴۶: بحرالرائق وطحطاوی علی الدرواللفظ للبحر: لاتحلق لکونہ مثلۃ کحلق اللحیۃ ۴؎۔
کوئی عورت بال نہ مونڈے اس لئے کہ ایسا کرنا مثلہ ہے جیسے مرد کے لئے داڑھی مونڈنا مثلہ ہے۔ (ت)
(۴؎ بحرالرائق کتاب الحج فصل من لم یدخل مکۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۵۵)
نص ۴۷: برجندی شرح نقایہ: حلق الرأس فی حقھا مثلۃ کحلق اللحیۃ فی حق الرجل۔ ۵؎
عورت کے لئے اپنے سرکے بال مونڈنا مثلہ ہے جیسے مرد کے لئے داڑھی مونڈنا ۔ (ت)
(۵؎ شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الحج نولکشور لکھنؤ ۱/ ۲۴۳)
نص ۴۸: شرح لباب:اما المرأۃ فلیس لھا الاالتقصیر لما سبق من ان حلق رأسھا مثلۃ کحلق الرجل اللحیۃ ۱؎۔
عورت کے لئے صرف بال کترنے جائزہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ عورت کا اپنے سر کے بال مونڈنا مرد کے داڑھی مونڈنے کے مترادف ہے اورا یساکرنا مثلہ ہے۔
(۲؎ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب الفصل السادس والثلاثون دارصادر بیروت ۲/ ۱۴۳)
ان سب عبارات کاحاصل یہی ہے کہ مرد کے کو داڑھی منڈاناکترنا مثلہ ہے جیسے عورت کو سر منڈانا، یہ مسئلہ واضحہ جلیلہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام خواص وعوام اس سے آگاہ ہیں ہر ذی عقل مسلم جانتاہے کہ جیسے عورت کے حق میں گیسوبریدہ گالی ہے یونہی مرد کے لئے داڑھی منڈا، ہاں ناپاک طبائع کا ذکر نہیں، بہتیر ے مرد زنانے بنتے محافل میں ناچتے۔ اپنی ماں بہن کے پیچھے طبلہ بجاتے ہیں اور ان حرکات سے اصلا عار نہیں رکھتے جس طرح داڑھی رکھنا افعال قدیمہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ہے یونہی یہ اشارہ بھی اقوال قدیم رسل عظام سے:
اذا لم تستحی فاصنع ماشئت۳؎
بیحیاباش وہر چہ خواہی کن۔
جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو مرضی آئے کرتے رہو۔ (ت)