نص ۶ تا ۱۲: امام برہان الملۃ والدین فرغانی ہدایہ پھر امام زیلعی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق پھر علامہ نجم الدین طوری تکملہ بحرالرائق پھر علامہ شرنبلالی غنیہ پھر سید ابوالسعود ازہری فتح اللہ المعین حاشیہ کنز پھر علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ تنویر پھر علامہ سیدی محمد امین افندی ردالمحتار علی الدرالمختار سب علماء کتاب الجنایات مسئلہ جنایت بحلق لحیہ میں فرماتے ہیں:
یؤدب علی ذٰلک لارتکابہ المحرم (ھذا ھو الکل الا الطرفین فلفظھما) یؤدب علی ارتکاب مالایحل ۲؎۔
داڑھی مونڈنے والے کو سزادی جائے کہ وہ فعل حرام کا مرتکب ہوا (یہ سب کے الفاظ ہیں سوائے طرفین کے پس ان کے الفاظ یہ ہیں اسے ایسے کام کے کرنے پر سزادی جائے جوحلال نہیں۔ ت)
(۲؎ الہدایہ کتاب الدیات مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۸۴ وتبیین الحقائق ۶/ ۱۳۰ و بحرالرائق ۸/ ۳۳۱)
(غنیہ ذوی الاحکام مع الدرر کتاب الدیات ۲/ ۱۰۴ وطحطاوی علی الدرالمختار ۴/ ۲۸۰)
(فتح المعین ۳/ ۴۸۷ و ردالمحتار ۵/ ۳۷۰)
نص ۱۳ تا ۱۷:علامہ تورپشتی مصابیح پھر علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ پھر مولانا علی قاری مکی مرقاۃ پھر علامہ فتنی مجمع البحار پھر شیخ محقق لمعات میں فرماتے ہیں:
قص اللحیۃ کان من صنع الاعاجم وھوالیوم شعار کثیر من المشرکین کالا فرنج والھنود ومن لاخلاق لھم فی الدین من الفرق الموسومۃ بالقلندریۃ طھر اﷲ عنہم حوزۃ الدین ۱؎۔
داڑھی تراشنا پارسیوں کا کام تھا اوراب توبہت کافروں کا شعار ہے جیسے فرنگی، اور ہندو اور وہ فرقہ جس کا دین میں کچھ نہیں جو قلندریہ کہلاتے ہیں اللہ تعالٰی اسلامی حدود کو ان سے پاک کرے۔
(۱؎ لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواک مکتبۃ المعارف العلمیہ لاہور ۲/ ۶۷ و ۶۸)
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواک المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۴)
(شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواک ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۵۶)
نص ۱۸ و ۱۹ : کواکب الدراری شرح صحیح بخاری امام کرمانی ومجمع میں ہے:
فسبحٰنہ مااسخف عقول قوم طولوا الشارب واحفوا اللحی عکس ما علیہ فطرۃ جمیع الامم قد بدلوا فطرتھم نعوذ باﷲ ۲؎۔
سبحان اﷲ کس قدر پوچ عقل ہے ان لوگوں کی جنھوں نے مونچھیں بڑھائیں اور داڑھیاں پست کیں برعکس اس خصلت کے جس پر تمام امم الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی فطرت ہے انھوں نے اپنی اصل خلقت ہی بدل دی خدا کی پناہ۔
(۲؎ مجمع بحار الانوار باب الفاء مع الطاء تحت لفظ ''فطر'' مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴/ ۱۵۸)
نص ۲۰ تا ۲۲: اما م ابوالحسن علی ابن ابی بکر بن عبدالجلیل مرغینانی نے کتاب التجنیس والمزید میں اس کے عدم جواز کی تصریح فرمائی۔ لمعات شرح مشکوٰۃ ونصاب الاحتساب باب السادس میں ہے:
یعنی سوال ،کیا داڑھی منڈانا جائز ہے جیسے جھولا شاہی فقیر کرتے ہیں؟ جواب : ناجائز ہے ھدایہ کتاب الجنایات اور تجنیس کتاب الکراہیۃ میں اس کی تصریح ہے۔
(۳؎ لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواک مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۲/ ۶۷)
نص ۲۳ و ۲۴: تبیین المحارم وردالمحتارمیں ہے:
ازالۃ الشعر من الوجہ حرام الااذا نبت للمرأۃ لحیۃ اوشوارب فلا تحرم ازالۃ بل تستحب ۴؎۔
منہ کے بال دورکرنا حرام ہے مگر جب کسی عورت کے داڑھی یا مونچھ نکل آئے تو اسے حرام نہیں بلکہ مستحب ہے۔
(۴؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر والمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۹)
نص ۲۵ و ۲۶: مفہم شرح صحیح مسلم للعلامۃ القرطبی پھر اتحاف السادۃ المتقین میں ہے:
لایجوز حلقہا ولانتفھا ولاقص الکثیر منھا ۱؎۔
داڑھی کانہ مونڈنا جائز نہ چننا نہ زیادہ کترنا۔
(۱؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرار الطہارۃ واما السنن فعشرۃ دارالفکر بیروت ۲/ ۴۱۹)
(المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ دارابن کثیر بیروت ۱/ ۵۱۲)
نص ۲۷؛ امام شمس الائمہ کردری وجیزمیں فرماتے ہیں:
لایحل للرجل ان یقطع اللحیۃ ۲؎۔
مرد کو حلال نہیں کہ داڑھی کاٹے۔
(۲؎ درمختار بحوالہ البزازیہ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰)
نص ۲۸ تا ۳۰: بعینہٖ یہی الفاظ امام ابوبکر نےفرمائے اور ان سے نوازل اور نوازل سے نصاب الاحتساب باب ثامن میں منقول ہوئے۔
نص ۳۱ و ۳۲: درمختار میں ہے:
فیہ (ای المجتبٰی) قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت فی البزازیۃ ولو باذن الزوج لانہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ والمعنی الموثر التشبہ بالرجال ۲؎۔
یعنی مجتبٰی شرح قدوری میں ہے عورت اپنے سر کے بال کاٹے تو گنہ گاروملعونہ ہوجائے، بزازیہ میں فرمایا کہ اگر چہ شوہر کی اجازت سے اس لئے کہ خدا کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں اسی لئے مرد پر داڑھی کا ٹنا حرام ہے اور علت گناہ مردوں کی وضع بنانی ہے یعنی عورت کو موئے سرتراشنے کی حرمت میں یہ علت ہے کہ یہ مردانی وضع ہے جس طرح مردکو ریش تراشنی حرام ہونے کی علت کہ عورتوں سے تشبہہ ہے اور وہ دونوں ناجائز۔
(۳؎درمختار بحوالہ البزازیہ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰)
نص ۳۳: علامہ علی قاری شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
حلق اللحیۃ منھی عنہ ۴؎۔
داڑھی مونڈنے کی شرع میں ممانعت ہے۔
(۴؎ شرح الشفاء للقاری علی ہامش نسیم الریاض فصل واما نظافۃ جسمہ دار الفکر بیروت ۱/ ۳۴۳)
نص ۳۴: علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
(۱؎ اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۲)
ص ۳۶: اسی میں ہے:
حلق کردن لحیہ حرام ست درویش فرنج وہنود جوالقیان ست کہ ایشاں راقلندریہ گویند ۲؎
داڑھی مونڈنا حرام ہے اور یہ فرنگیوں ، ہندیوں اور جھولا شاہیوں جو قلندریہ کہلاتے ہیں، کا طریقہ اور روش ہے۔ (ت)
(۲؎ اشعۃ اللمعات ترجمہ مشکوٰۃ کتاب الطہارۃ باب السواک مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲)
نص ۳۷: فتح المعین بشرح قرۃ العین میں ہے:
یحرم حلق لحیۃ ۳؎
داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
(۳؎ فتح المعین شرح قرۃ العین مسائل الاکتحال والخضاب الخ مطبعۃ عامر الاسلام پور ہرس ص۲۱۹)
فائدہ: جس طرح داڑھی مونڈنا کتروانا بالاتفاق حرام وگناہ ہے یونہی ہمارے ائمہ وجمہور علماء کے نزدیک اس کا طول فاحش کہ بےحد بڑھایا جائے جو حد تناسب سے خارج وباعث انگشت نمائی ہو مکروہ وناپسند ہے۔
امام قاضی عیاض پھر امام ابوزکریا نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
تکرہ الشھرۃ فی تعظیمھا کما تکرہ فی قصھا وجزھا ۴؎۔
داڑھی کو حد شہرت تک بڑھانا یعنی بہت زیادہ طویل کرنا مکروہ ہے جیسا کہ اس کا کتروانا اور کاٹنا مکروہ ہے۔ (ت)
اسی میں ہے: