اخبرنا محمد بن سلمۃ (ثقۃ ثبت) ثنا ابن وہب (ثقۃ حافظ عابد) عن حیوۃ بن شریح (ثقۃ ثبت فقیہ زاھد) وذکر اخرقبلہ عن عیاش بن عباس (القتبانی ثقۃ ) ان شییم بن بیتان (القتبانی ثقۃ) حدثہ انہ سمع رویفع بن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال یا رویفع لعل الحیاۃ ستطول بک بعدی فاخبر الناس انہ من عقد لحیتہ اوتقلد وترااواستنجی برجیع دابۃ او عظم فان محمدابرئ منہ ۱؎۔
محمد بن سلمہ نے ہم کو بتایا اور وہ معتبر اور عادل راوی ہے۔ ابن وہب نے ہم سے بیان کیا وہ مستند ، حافظ اور عبادت گزار راوی ہے اس نے حیوۃ ابن شریح سے روایت کی جبکہ وہ معتبر ، عادل، فقیہ اور زاہد یعنی دنیا سے بے رغبتی کرنے والا راوی ہے۔ دوسروں نے اسے عیاش بن عباس سے پہلے ذکر کیا ہے۔ یہ القتبانی ہے جو معتبر و مستند آدمی ہے شییم بن بیتان القتبانی مستند ومعتبر راوی ہے اس نے بتایا کہ اس نے رویفع بن ثابت کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ ت) یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا: اے رویفع! میں امید کرتاہوں کہ تو میرے بعد عمردراز پائے تو لوگوں کو خبر دینا کہ جو اپنی داڑھی باندھے یا کمان کاچلا گلے میں لٹکائے یا کسی جانور کی لید، گوبر یا ہڈی سے استنجاء کرے تو بے شک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس سے بیزار ہے۔
(۱؎سنن النسائی کتاب الزینۃ من السنن باب عقد اللحیۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۷۷۔ ۲۷۶)
حدیث ۱۲: سنن ابی داؤد شریف میں اس حدیث کو روایت کرکے فرمایا:
حدثنا یزید بن خالد (ثقۃ) نامفضل (ھو ابن فضالۃ المصری ثقۃ فاضل عابد) عن عیاش (ذاک ابن عباس الثقۃ) ان شییم بن بیتان اخبرہ بھذا الحدیث ایضا عن ابی سالم الجیشا نی (سفٰین بن ھانی محضرم وقیل لہ صحبتہ) عن عبداﷲ بن عمر و رضی اﷲ تعالٰی عنہما یذکر ذٰلک وھو معہ مرابط بحصن باب الیون ۲؎۔
یزید بن خالد نے ہم سے بیان کیا اور وہ معتبر و مستند راوی ہے۔ مفضل (جو فضالہ مصری کے بیٹے معتبر، فاضل اور عابد ہیں) نے ہم سے بیان کیا اس نے عیاش (وہ ابن عباس اور ثقہ ہے) سے شییم بن بیتان نے اسے یہ حدیث ابوسالم جیشانی کے حوالے سے بتائی (یعنی سفیان بن ہانی محضرم۔ یہ بھی کہاگیا کہ اس کے لئے شرف صحبت ثابت ہے) اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ وہ یہ حدیث بیان فرماتے تھے جبکہ یہ ان کے ساتھ ''باب الیون'' کے قلعہ میں قید تھا۔ (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب ماینہٰی عنہ ان یستنجی بہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۶)
یعنی اس طرح یہ حدیث حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالٰی عنہما نے روایت فرمائی، حضرت شیخ محقق ومولانا عبدالحق محدث دہلوی لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں:
عقد لحیتہ الاکثرون علی ان المراد تجعید اللحیۃ بالمعالجۃ وانما کرہ ذٰلک لانہ فعل من لیس من اھل الدین وتشبہ بھم وقیل کانوا یعقدون فی الحروب فی زمن الجاھلیۃ تکبراو تعجبافامروا بارسالھا وذٰلک من فعل الاعاجم وقال التورپشتی یقتلونھا کذا فی مجمع البحار والاول ھو الوجہ ۱؎ اھ مختصرا۔
داڑھی باندھنے سے مراد اکثر اہل علم کے نزدیک کسی دوا وغیرہ سے اسے پیوست کرنا یا جوڑنا ہے اور اسے بایں وجہ ناپسند فرمایا کہ یہ ان لوگوں کا فعل ہے اور طریقہ ہے جو دیندار نہیں اور ان کی مشابہت اختیار کرنی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت کے ایام گرمامیں ازراہ تکبر وعجب اپنی داڑھیوں کو باندھ دیا کرتے تھے اس لئے انھیں داڑھیاں کھلی اور آزاد چھوڑے رکھنے کا حکم دیا گیا اور یہ عجمیوں کی روش تھی اور طریقہ تھا اور علامہ تو رپشتی نے فرمایا لوگ ان کو مثل فتیلہ کے بٹ دیا کرتے تھے یونہی مجمع البحار میں مذکور ہے۔ اور پہلا قول ہی اصل سبب اور وجہ ہے عبارت مختصر مکمل ہوئی)۔ (ت)
(۱؎ لمعات التنقیح فی شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب آداب الخلا الفصل الثانی مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۲/ ۵۰)
علامہ طیبی حاشیہ مشکوٰۃ پھر علامہ طاہر مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں:
عقد ای جعدھا بالمعالجۃ ونھی عنہ لما فیہ من التشبہ بمن فعلہ من الکفرۃ ۲؎۔
یعنی داڑھی باندھنے سے مراد اس کا مجعد ومرغول بنانا ہے کہ یہ کافروں کا فعل ہے اور اس میں ان سے تشبہ ہے۔
(۲؎ مجمع بحار الانوار با ب العین مع القاف (عقد) مکتبہ دارالایمان ریاض ۳/ ۶۴۰)
داڑھی چڑھانے والے حضرات کو ڈھانے باندھ باندھ کر داڑھی مجعد ومرغول کرتے اور متکبر ٹھاکروں جاٹوں کی صورت بنتے ہیں ان صحیح حدیثوں کو جن کے ہر ہر راوی کی ثقاہت وعدالت ہم نے تقریب التہذیب امام خاتم الحفاظ ابن حجر سے نقل کردی یادرکھیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بیزاری و بے علاقگی کو ہلکا نہ جانیں اور داڑھی منڈانے کترنے والے زیادہ سخت عذاب وآفت کے منتظر رہیں جب داڑھی باقی رکھ کر اس کی صفت وہیئت میں کافروں سے تشبہ اس درجہ باعث بیزاری محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہوا تو سرے سے داڑھی قطع یاحلق کردینا اور پورے پورے مجوسیوں مچھندروں کی صورت بننا جس قدر موجب غضب وناراضی واحد قہار ورسول کردگار جل وجلالہ وصلی اللہ تعالٰی وسلم ہوبجاہے۔
الآثار:
حدیث ۱۳ و ۱۴: امام ابوطالب مکی قوت القلوب اور امام حکیم الامہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
رد عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ وابن ابی لیلی قاضی المدینۃ شھادۃ من کان ینتف لحیتہ ۱؎۔
یعنی امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ وعبدالرحمن بن ابی لیلی قاضی مدینہ طیبہ ( کہ اکابر ائمہ تابعین واجلہ تلامذہ امیر المومنین عثمان غنی و امیر المومنین مولی علی رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ہیں ان دونوں ائمہ ہدٰی نے) داڑھی چننے والے کی گواہی رد فرمادی۔
(۱؎ احیاء العلوم کتاب اسرار الطہارۃ النوع الثانی فصل فی اللحیۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۴)
حدیث ۱۵: یہی دونوں امام مکی وغزالی فرماتے ہیں:
شھد رجل عند عمر بن عبدالعزیز بشھادۃ وکان ینتف فینکیہ فرد شھادتہ ۲؎۔
ایک شخص نے سادس خلفاء راشدین امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ کے یہاں کسی معاملہ میں گواہی دی اور وہ اپنی داڑھی کا ایک خفیف حصہ جسے کوٹھے کہتے ہیں چناکر تاتھا امیر المومنین نے اس کی شہادت رد فرمادی۔
(۲؎احیاء العلوم کتاب اسرار الطہارۃ النوع الثانی فصل فی اللحیۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۴)
حدیث ۱۶ و ۱۷: امام محمد بن ابی الحسین علی مکی دقائق الطریقہ میں حضرت کعب احباروابی الجلد (جیلان بن فرادہ اسدی) رحمہم اللہ تعالٰی سے ذکرفرماتے ہیں:
آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ داڑھیاں کتریں گے وہ نرے بے نصیب ہیں یعنی ان کے لئے دین میں حصہ نہیں آخر ت میں بہرہ نہیں والعیا ذ باللہ رب العالمین (ہذا مختصرا)
(۳؎احیاء العلوم عن کعب الاحبار النوع الثانی فصل فی اللحیۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۵)
تنبیہ نہم: نصوص ائمہ کرام وعلمائے اعلام میں:
نص ۱ تا ۵: امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام فتح القدیر پھر علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق پھر علامہ ابوالاخلاص حسن بن عمار شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام ، پھر علامہ مدقق محمد بن علی دمشقی درمختار پھر علامہ سیدی احمد مصری حاشیہ مراقی الفلاح سب علماء کتاب الصوم میں فرماتے ہیں:
المعنی للکل واللفظ للحاشیۃ الدروالغرر الاخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما فعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد واخذ کلھا فعل مجوس الاعاجم والیھود والھنود بعض اجناس الافرنج ۱؎۔
(مفہوم سب کا ایک ہے البتہ الفاظ حاشیہ الدرروالغرر کے ہیں) یعنی جب داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیک حلال نہیں اور سب لے لینا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔
(۱؎ غنیہ ذوی الاحکام کتاب الصوم باب موجب الافساد مہری کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۸ وبحرالرائق ۲/ ۲۸۰)
(حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۳۷۲ ودرمختار ۱/ ۱۵۲ و فتح القدیر ۲/ ۲۷۰)