Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
134 - 146
حدیث ۲: احمد مسند، مسلم صحیح، طحاوی آثار، ابن عدی کامل، طبرانی اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جزوا الشوارب وارخوااللحی خالفوا المجوس ۲؎۔
مونچھیں کتراؤ اور داڑھیاں بڑھنے دوآتش پرستوں کا خلاف کرو۔
 (۲؎ صحیح مسلم         کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۲۹)

(مسند احمد بن حنبل     عن ابی ہریرۃ             المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۳۶۲)
امام احمد کی روایت میں ہے:
قصوا الشوارب واعفوا اللحی ۳؎۔
مونچھیں ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
(۳؎مسند احمد بن حنبل     عن ابی ہریرۃ             المکتب الاسلامی بیروت   ۲/ ۲۲۹)
طبرانی کی روایت میں ہے:
وفرواللحی وخذوا من الشوارب ۴؎۔
کثیر کرو داڑھیاں اور مونچھوں میں سے لو۔
 (۴؎ المعجم الاوسط للطبرانی     حدیث ۵۰۵۸     المکتبۃ المعارف ریاض        ۶/ ۲۹)
دوسری روایت میں زائد کیا۔
وانتفوا الابط وقصوا الاظافیر ۵؎۔
اور بغلوں کے بال اکھاڑو اور ناخن کاٹو۔
 (۵؎ کنز العمال بحوالہ طس     عن ابی ہریرہ حدیث ۱۷۲۴۳ موسسۃ  الرسالہ بیروت        ۶/ ۶۵۶)
ابن عدی کی روایت ہے:
واعفوا الشوارب واعفوا اللحی ۶؎۔
مونچھیں خوب کٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
 (۶؎ الکامل لابن عدی     ترجمہ حفص بن واقد بصری     دارالفکر بیروت        ۲/ ۷۹۹)
حدیث ۳: امام ابوجعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ولا تشبھوا بالیھود ۱؎۔
مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیوں کو معافی دو۔ یہودیوں کی سی صورت نہ بنو۔
 (۱؎ شرح معانی الآثار     کتاب الکراہیۃ باب حلق الشارب     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲/ ۳۶۷)
حدیث ۴: امام احمد مسند، طبرانی کبیر ، بیہقی شعب الایمان ضیاصحیح مختارہ ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قصوا سبالکم ووفروا عثانینکم وخالفوا اھل الکتاب ۲؎۔
مونچھیں کترواؤ اور داڑھیوں کو کثرت دو۔ یہودونصارٰی کا خلاف کرو۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل  عن ابی امامہ بیروت ۵/۲۶۵    وشعب الایمان حدیث ۶۴۰۵     بیروت    ۵/ ۲۱۴)
حدیث ۵: طبرانی کبیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اوفوا اللحی وقصوا الشوارب ۳؎۔
پوری کرو داڑھیاں اور تراشو مونچھیں۔
 (۳؎ المعجم الکبیر  حدیث ۱۱۳۳۵ و ۱۱۷۲۴  المکتبہ الفیصلیۃ بیروت   ۱۱/ ۱۵۲ و ۲۷۷)
حدیث ۶: ابن حبان صحیح میں اور طبرانی اور بیہقی میمون بن مہران سے راوی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا:
ذکر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المجوس فقال انھم یوفرون سبالھم ویحلقون لحاھم فخالفوھم ۴؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مجوسیوں کا ذکر فرمایا وہ اپنی لبیں بڑھاتے اور داڑھیاں مونڈتے ہیں تم ان کا خلاف کرو۔
 (۴؎ السنن الکبرٰی     کتاب الطہارۃ باب کیف الاخذ من الشارب     دارصادر بیروت    ۱/ ۱۵۱)
حدیث ۷: ابن عدی کامل۔ بیہقی شعب الایمان میں حضرت عبداللہ بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
احفواالشوارب واعفوا اللحی ۵؎۔
مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیاں خوب بڑھاؤ۔
 (۵؎ شعب الایمان  حدیث ۶۴۳۰   ۵/ ۲۱۹ و الکامل لابن عدی ترجمہ حفص بن واقد بصری   ۲/ ۷۹۹)
حدیث ۸: ابوعبید اللہ محمد بن مخلد دوری اپنے جزء حدیثی میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خذوا من عرض لحاکم واعفوا طولھا ۱؎۔
داڑھیوں کے عرض سے لو اور ان کے طول کو معاف رکھو،
 (۱؎ کنز العمال         حدیث ۱۷۲۲۵     بحوالہ ابی عبداللہ محمد بن مخلد فی جزئہ     موسسۃ  الرسالہ بیروت    ۶/ ۶۵۳)
حدیث ۹: خطیب بغدادی ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایاخذن احدکم من طول لحیتہ ۲؎۔
ہر گز کوئی شخص اپنی داڑھی کے طول سے کم نہ کرے۔
 (۲؎ تاریخ بغداد         ترجمہ ۲۶۴۱ احمد بن الولید     دارالکتب العلمیہ بیروت         ۵/ ۱۸۷)
حدیث ۱۰: ابن سعد طبقات میں عبداللہ بن عبداللہ سے مرسلا راوی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لکن ربی امرنی ان احفی شاربی واعفی لحیتی ۳؎۔
مگر مجھے میرے رب نے حکم فرمایا کہ میں اپنی لبیں پست کروں اور داڑھی بڑھاؤں۔
 (۳؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اخذ الرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من شاربہ     دارصادر بیروت    ۱/ ۴۴۹)
اس حدیث کا واقعہ وہ ہے جو کتاب الخمیس فی احوال الانفس نفیس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے کہ جب حضور پر نور سیدیوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہدایت اسلام کے فرامین بنام سلاطین جہاں نافذ فرمائے قیصر ملک روم نے تصدیق نبوت کی مگر بجہت دنیا اسلام نہ لایا مقوقش بادشاہ مصر نے شقہ والا کی کمال تعظیم کی اور ہدایا حاضر بارگاہ رسالت کئے سگ ایران خسرو پرویز قتلہ اللہ نے فرمان اقدس چاک کردیا اور باذان صوبہ یمن کو لکھا دو مضبوط آدمی بھیج کر انھیں یہاں بلائے۔ باذان نے اپنے داروغہ بانویہ اور ایک پارسی خرخسرہ نامی کو مدینہ طیبہ روانہ کیا۔
انھما حین دخلا علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانا قد حلق لحاھما واعفیا شواربھما فکرہ النظر الیھما وقال ویلکما من امرکما بھذا قالا ربنا یعنیان کسرٰی فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لکن ربی امرنی باعفاء لحیتی وقص شواربی ۱؎۔
یہ دونوں جب بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے داڑھیاں منڈائے اور مونچھیں بڑھائے ہوئے تھے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ان کی طرف نظر فرماتے کراہت آئی اور فرمایا خرابی ہو تمھارے لئے کس نے تمھیں اس کاحکم دیا۔ وہ بولے ہمارے رب یعنی خسرو پرویز خبیث نے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مگر مجھے میرے رب نے داڑھی بڑھانے اور لبیں تراشنے کا حکم فرمایا۔
 (۱؎ تاریخ الخمیس         کتاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الی کسرٰی     مؤسسۃ  شعبان بیروت        ۲/ ۳۵)
مسلمان اس حدیث کو یاد رکھیں کہ بانویہ خرخسرہ اس وقت تک نہ اسلام لائے تھے نہ احکام اسلام سے آگاہ تھے ان کی یہ وضع دیکھ کر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی صورت دیکھنے سے کراہت کی تو جو مسلمان احکام حضور جان بوجھ کر مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلاف مجوسیوں کے موافق ایسی گندی صورت بنائے وہ کس قدر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کراہیت وبیزاری کا باعث ہوگا۔ آدمی جس حال پر مرتا ہے اسی حال پر اٹھتا ہے۔ اگر روزقیامت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ مجوس کی صورت دیکھ کر نگاہ فرمانے سے کراہیت فرمائی تو یقین جان کہ تیرا ٹھکاناکہیں نہ رہا، مسلمان کی پناہ، امان ،نجات، رستگاری جو کچھ ہے ان کی نظر رحمت میں ہے، اللہ کی پناہ اس بری گھڑی سے کہ وہ نظر فرماتے کراہیت لائیں۔ والعیاذ باللہ ارحم الراحمین، اس کے بعد حدیث میں معجزہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ظہور خسرو پرویز مردود کا ہلاک باذان وبانویہ وخرخسرہ و غیرہم بہت اہل یمن کا مشرف باسلام ہونا مذکو رہے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
Flag Counter