وجہ ثامن ___ آیت ۱۵، ۱۶ : قال تبارک شانہ فی البقرۃ وفی الانعام
(اللہ تعالٰی جس کی شان بابرکت ہے۔ نے سورۃ بقرہ اور سورۃ انعام میں ارشاد فرمایا):
ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدومبین ۲؎۔
شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بیشک شیطان وہ تمھارا دشمن ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۶۸)
آیت ۱۷: قال عزوعلا
( اللہ تعالٰی غالب اور بزرگ وبرتر ذات نے ارشاد فرمایا):
یا ایھاالذین اٰمنوا لاتتبعوا خطوات الشیطن ومن یتبع خطوات الشیطن فانہ یامر بالفحشاء والمنکر ۳؎۔
اے ایمان والو! شیطان کے رستے پر نہ چلو اور جو شیطان کی راہ چلے تو وہ یہی بے حیائی اور بری بات کاحکم کرتاہے۔
(۳؎القرآن الکریم ۲۴/ ۲۱)
آیت ۱۸: قال عزمن قائل
(کہنے والوں پر جو غالب اور حاوی ہے اس نے ارشادفرمایا):
یا ایھاالذین اٰمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولاتتبعوا خطوات الشیطن انہ لکم عدو مبینo فان زللتم من بعد ماجاء تکم البینت فاعلموا ان اﷲ عزیز حکیم o ھل ینظرون الا ان یاتیھم اﷲ فی ظلل من الغمام والملئکۃ و قضی الامر والی اﷲ ترجع الامور ۱؎۔
اے ایمان والو! پورے اسلام میں داخل ہو اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو یقینا وہ تمھاراصریح بدخواہ ہے پھر اگر اس کی طرف جھکو بعد اس کے کہ تمھارے پاس آچکیں الٰہی حجتیں توجان رکھو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے یہ لوگ کس انتظار میں ہیں مگر یہ کہ آئے ان پرعذاب خدا کا بادل کی گھٹائیں اور فرشتے اور ہوجائے ہونیوالی اور اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں سب کام۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۰۸ تا ۲۱۰)
جلالین میں ہے:
نزل فی عبداﷲ بن سلام واصحابہ لما عظموا السبت وکرھوا الا بل بعد الاسلام یا ایھاالذین اٰمنوا ادخلوا فی السلم الاسلام کافۃ حال من السلم ای فی جمیع شرائعہ فان زللتم ملتم عن الدخول فی جمیعہ عزیز لا یعجزہ شیئ عن انتقامہ منکم ھل ینظرون ینتظر التارکون الدخول فیہ قضی الامر تم امر اھلاکھم ۲؎۔
یعنی جب حضرت عبداللہ سلام اور ان کے ساتھی رضی اللہ تعالٰی عنہم کہ اکابر علمائے یہود سے تھے مشرف بہ اسلام ہوئے عادت سابقہ کے باعث تعظیم روز شنبہ کا ارادہ کیا اور گوشت شتر کھانے سے کراہت ہوئی، رب عزوجل نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے ایمان والو! اسلام لائے ہو تو پورا اسلام لاؤ اسلام کی سب باتیں اختیار کرو، یہ نہ ہو کہ مسلمان ہو کر کچھ عادتیں کافروں کی رکھو، اور اگر نہ مانا تو خوب جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے تم پر عذاب لاتے اسے کوئی روک نہیں سکتا پھر فرمایا جو مسلمان ہو کر بعض کفری خصلتیں اختیار کریں وہ کاہے کا انتظار کررہے ہیں یہی ناکہ آسمان سے ان پر عذاب اترے اور ہونے والی ہوچکے یعنی ہلاک وہ تمام کردئے جاہیں۔ والعیاذ باللہ تعالٰی۔
ان آیات میں رب العزت جلا وعلا نے خصلت کفار اختیار کرنے پر کیسی تہدید اکید و وعید شدید فرمائی، اور شک نہیں کہ داڑھی منڈانا کترنا خصلت کفار ہے۔ عنقریب بعونہٖ تعالٰی بکثرت احادیث معتمدہ سے اس کا بیان آتاہے۔ اور خود بیان کی حاجت کیا ہے کہ امر آپ ہی واضح اور نیز تقریرات سابقہ سے لائح، اصل میں یہ خصلت ملعونہ مجوس ملا عنہ کی تھی ان سے اور کفار نے سیکھی، جب عہد معدلت مہد امیر المومنین غیظ المنافقین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں عجم فتح ہوا اور کسرٰی خبیث کا تخت ہمیشہ کے لئے الٹ دیا گیا۔ مجوس منحوس کچھ اسلام لائے کچھ بقبول جزیہ رہے کچھ پریشان وسرگرداں دارالکفر ہندوستان میں آنکلے یہاں کے راجہ نے ان سے تعظیم گاؤ وتحریم مادرودختروخواہر کا عہد لے کر جگہ دی ہنود بے بہبود نے داڑھی منڈانا نوروز ومہرگان بنام ہولی ودیوالی منانا، ان میں آگ پھیلانا وغیرہ ذٰلک من الخصال الشنیعہ ان سے اڑایا مجوس ایران کہ مسلمان ہوئے تھے ان میں بہت بد باطن اپنی تباہی ملک و افسر وتاراج مال ودختر کے باعث دلوں میں حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کینہ رکھتے تھے مگر مسلمان کہلا کر اسلام کی عزت وشوکت اسلام کی قوت ودولت اسلام کے تاج ومعراج یعنی امیر المومنین کی شان میں گستاخی کی کیا مجال تھی جب ابن صبا یہودی خبیث نے مذہب رفض ایجاد کیا اور شدہ شدہ یہ ناشدنی مذہب ایرانیوں تک پہنچا ان آتش پرست مغبچوں کی دبی آگ نے موقع پایا کہ اہااسلام میں بھی ایسا مذہب نکلا کہ امیر المومنین پر تبرا کہے اور خاصے مومنین بنے رہئے۔ انھوں نے بہزار جان لبیک کہی اور نئے دین کی تاصیل تفریع بڑھ چلی، باپ دادا کی قدیم سنتیں اپنا رنگ لائیں۔ نوروز منائے، داڑھیاں کتروائیں، اتیان ادبارواباحت واعارت واجارت فرج کی کیاگنتی نکاح محارم تک منظور رہا مگر پردہ حریر (عہ) میں مستور رہا۔
عہ: اہلسنت شیعہ رابعضے مسائل قبیحہ طعن میکردند جمعے از علمائے مذہب ایشاں تدبیر دفع بایں صورت کردہ اند کہ از کتب خود آں مسائل محونمودند وکتب قدیمہ رامخفی ساختند مثل لواطت بامملوک وبامادر وخواہر لف حریر ۱؎ ۱۲ تحفہ اثنا عشریہ ملخصا۔
شیعان کے بعض قبیح مسائل پر اہلسنت طعن کرتے ہیں تو ان کے مذہبی علماء کے ایک گروہ نے ان باتوں کے جواب کے لئے یہ صورت اختیار کی کہ اپنی کتابوں سے ان مسائل کو حذف کردیا (یعنی نکال دیا) اور پرانی کتابوں کو چھپالیا۔ اپنے غلام کے ساتھ بدکاری کرنا، ماں بہن کے ساتھ ریشم لپیٹ کر ہمبستری کرنا وغیرہ جیسے مسائل ۱۲ تحفہ اثنا عشریہ کی تلخیص۔
ادھر اسلامی فاتحوں کی شیرانہ تاخت نے سیاہان ہند کے منہ سپید کردئے ہزاروں مارے لاکھوں قید کئے یہاں تک کہ ہندو کے معنی ہی غلام ٹھہر گئے۔ یہاں کے نو مسلم مسلم تو ہوگئے مگر ہزاروں اپنے آبائی خصال کے پابند رہے۔ داڑھیاں منڈائیں، بسنت منائیں، سادنی کریں، چنریاں رنگائیں، عورتیں بد لحاظی کے کپڑے پہنیں، کنبے بھر کی سب غیریں سامنے آنے کے واسطے نہیں، شادیوں میں معاذ اللہ فحش، سالی بہنوئی میں ہنسی کی ریت، یہاں تک کہ بہت پوربی اضلاع میں چھوت اور چوکا تک مشہود، اور اکثر دیہات میں ہولی دیوالی، بلکہ اس سے زائد شیطنت موجود، پھر اس عملداری میں شیوع نیچریت بے قیدی شرع آزادی نفس کے لئے سونے میں سہاگہ، کچھ اتباع فرنگ، کچھ زنانی امنگ صفائی رخسار کا نصیب جاگا۔ لاجرم اس حرکت کے عادیوں کو چند حال سے خالی نہ پائے گا۔ نسلا مجوسی یا مذہبا رافضی یا پوربی تہذیب کا دلدادہ نیچری یا جھوٹے متصوفہ یا مبتلائے رفض خفی یا باپ داداہندونومسلم غافل یا ان صحبتوں کا بگڑا آوارہ نیچری بہر حال اس کا مبدا، ومنبع ومرجع وہی خصلت کفار جس سے خدا ناراض رسول بیزار، جس پر قرآن عظیم میں وہ سخت وعید وہ قاہر مار، آئندہ ماننے نہ ماننے کا ہر شخص مختار،
والتوفیق باللہ العزیز الغفار۔
تنبیہ ہشتم: احادیث میں:
حدیث ۱: امام مالک واحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ وطحاوی حضرت عبداللہ بن عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خالفوا المشرکین احفواا لشوارب واوفروا اللحیۃ ۱؎۔
مشرکوں کا خلاف کرو مونچھیں خوب پست اور داڑھیاں کثیرووافر رکھو۔
یہ لفظ صحیحین میں ہے صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے:
انھکوا الشوارب واعفوا اللحی ۲؎۔
مونچھیں مٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵)
(صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵)
مسلم ،ترمذی ابن ماجہ، طحاوی کی ایک روایت میں ہے:
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ۳؎۔
خوب پست کرو ومونچھیں اور چھوڑ رکھو داڑھیاں۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی اعفاء اللحیۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰)
روایت امام مالک وابی داؤد۔ اور ایک روایت مسلم وترمذی میں ہے:
ان رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امر باحفاء الشوارب واعفا اللحی ۱؎۔
بے شک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم دیا مونچھیں خوب پست کرنے اور داڑھیاں معاف رکھنے کا۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الطہارت باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹ )
(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی اعفاء اللحیۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰)
(سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی اخذالشارب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۱)