Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
132 - 146
آیت ۱۱: قال توالت نعماءہ
 (اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا بندوں  پر جس کے انعامات مسلسل اور لگاتار ہیں):
قدکانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ ۴؎۔
بے شک تمھارے لئے حضرت ابراہیم اور ان اہل ایمان حضرات کی زندگیوں میں جو ان کے ساتھی تھے۔ بہترین  اقتداء ہے۔ (ت)
 (۴؎القرآن الکریم        ۶۰/ ۴)
آیت ۱۲: قال جل ذکرہ
( اللہ تعالٰی جس کا ذکر بڑا ہے۔ ارشاد فرمایا) :
لقد کان لکم فیھم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اﷲ والیوم الاخر ومن یتول فان اﷲ ھوا لغنی الحمید ۵؎۔
بے شک تمھارے لئے ان میں (یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں میں) بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی اور قیامت پریقین رکھتا ہو اور جو کوئی ہمارے حکم سے منہ پھیرے تو بیشک اللہ تعالٰی ہی بے پرواہ اور لائق تعریف ہے۔ (ت)
 (۵؎القرآن الکریم              ۶۰/ ۶)
ہر ذی علم جانتاہے کہ داڑھی بڑھاناملت ابراہیمی کا مسئلہ شریعت ابراہیمی کا طریقہ ہے اور ان آیات میں رب جل وعلا نے ہمیں ملت ابراہیم علی ابنہ الکریم وعلیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کی اتباع کا حکم دیا اور معاذاللہ اس سے اعراض کو سخت حماقت اور سفاہت فرمایا اور ان کی رسم وراہ اختیار کرنے کی کمال ترغیب دی اور آخر میں فرمادیا کہ جو ہمارے حکم سے پھرے تواللہ بے نیاز بے پرواہ ہے اور ہر حال میں اسی کے لئے حمد ہے۔
وجہ سادس ___ آیت ۱۳: قال تقدست اسماؤہ
(اللہ تعالٰی جس کے اسماء پاک ہیں، نے ارشاد فرمایا):
اولئک الذین ھدی اﷲ فبھداھم اقتدہ ۱؎۔
یہ انبیاء وہ ہیں جنھیں اللہ عزوجل نے راہ دکھائی تو تو انھیں کی راہ کی پیروی کر۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶/ ۹۰)
صدر کلام میں احمد ومسلم و ابوداؤد ونسائی وترمذی وابن ماجہ کی حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے گزری کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ۲؎ الحدیث۔
دس چیزیں شرائع قدیمہ مستمرہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ہیں ازانجملہ لبیں تر شوانی اور داڑھی بڑھانی۔ الحدیث۔
 (۲؎ سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب السواک من الفطرۃ         آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۸)
مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ داڑھی بڑھانی راہ قدیم حضرات رسل علیہم الصلوۃ والتسلیم ہے اور اللہ عزوجل نے فرمایا کہ راہ انبیاء کی پیروی کرو۔ یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ آیہ کریمہ
لاتأخذ بلحیتی ۳؎
 (میری داڑھی نہ پکڑو۔ ت) میں لحیہ کا فقط ذکر ہی نہیں بلکہ داڑھی بڑھانے کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی انبیائے کرام بلکہ بالخصوص ان اٹھارہ رسولوں میں ہیں جن کا نام پاک اس رکوع میں بالتصریح ذکر فرماکر ان کی اقتداء کا حکم ہوا،
 (۳؎ القرآن الکریم     ۲۰/ ۹۴)
قال سبحانہ ومن ذریتہ داؤد وسلیمٰن وایوب ویوسف وموسٰی وھٰرون و کذٰلک نجزی المحسنین ۴؎۔
پاک پروردگار نے ارشادفرمایا اور ان کی اولاد میں سے داؤد ، سلیمان،ایوب، یوسف،موسٰی اور ہارون علیہم السلام ہوئے ہیں یونہی نیکی کرنیوالوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں (ت)
 (۴؎القرآن الکریم      ۶/ ۸۴)
وجہ سابع___ آیت ۱۴: قال جل ثناؤ ہ
 (اللہ تعالٰی بہت زیادہ تعریف کا حق رکھنے والی ذات، جس کی تعریف بڑی ہے۔ نے ارشاد فرمایا):
ومن یشا قق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدٰی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ماتولی ونصلہٖ جھنم وساءت مصیرا ۱؎۔
جوخلاف کرے رسول کا حق واضح ہوئے پر اور چلے راہ مسلمانان کے سوا راہ ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں اور جہنم میں ڈالیں اور کیا بری پلٹنے کی جگہ۔
 (۱؎ القرآن الکریم       ۴/ ۱۱۵)
مسلم تو مسلم کفار تک جانتے ہیں کہ رو ز ازل سے مسلمانوں کی راہ داڑھی رکھنی ہے۔ اہلبیت کرام وصحابہ عظام وائمہ اعلام اور ہر قرن وطبقہ کے اولیائے امت وعلمائے ملت بلکہ قرون خیر میں تمام مسلمان داڑھی رکھتے تھے یہاں تک کہ ازالہ تو ازالہ اگر خلقۃً کسی کی داڑھی نہ نکلتی اس پر سخت تاسف کرتا اور یہ ہر عیب سے بد تر عیب سمجھاجاتا علمائے کرام علامات قیامت میں گناکرتے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ داڑھیاں منڈائیں کتروائیں گے۔ اس پیشگوئی کے مطابق یہ داڑھی منڈوں مخرشوں مترشوں کی تراشیں خراشیں کافروں مشرکوں کی دیکھا دیکھی مدتہا مدت کے بعد مسلمانوں میں آئیں وہ بھی رندواوباش وبدوضع لوگوں میں، پھر ان میں بھی جو ایمان سے حصہ رکھتے ہیں اب تک اپنی اس حرکت کو مثل اورمعاصی وکبائر کے برا جانتے ہیں اور طریقہ اسلامی سے جدا سمجھتے بلکہ ان میں بعض خوش عقیدہ اپنے معظمین دینی کے سامنے لجاتے انھیں منہ دکھاتے شرماتے ہیں۔ الحمدللہ یہ ان کے ایمان کی بات ہے شامت نفس سے گناہ کریں لیکن اسے گناہ وقبیح جانیں مگر چوری سرزوری والوں سے خدا کی پناہ کہ داڑھی رکھنے پر قہقہے اڑا کر شعار اسلام کے ساتھ نفس اسلام وایمان بھی مونڈ کر پھینک دیں۔ امام اجل عارف باللہ سیدی محمد بن علی بن عباس مکی قدس سرہ الملکی کتاب مستطاب طریق المرید للوصول الی مقام التوحید پھر امام ہمام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
وھذالفظ المکی قال فی ذکر سنن الجسد ذکر ما فی اللحیۃ من المعاصی والبدع المحدثۃ قد ذکر فی بعض الاخبار  ان ﷲ تعالٰی ملئکۃ یقسمون والذی زین بنی آدم باللحی وفی وصف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان کث اللحیۃ وکذٰلک ابوبکر وکان عثمان طویل اللحیۃ دقیقھا وکان علی عریض اللحیۃ قد ملأت مابین منکبیہ ووصف بعض بنی تمیم من رھط الاحنف بن قیس قال (وعبارۃ الاحیاء قال اصحاب الاحنف بن قیس) وددنا انا اشترینا للاحنف اللحیۃ بعشرین الفافلم یذکر حنفہ فی رجلہ ولا عورہ فی عینہ وذکر کراہیۃ عدم لحیتہ وکان عاقلا حلیما وقدروینا من غریب تاویل قولہ تعالٰی یزید فی الخلق مایشاء قال اللحی وذکر عن شریح القاضی قال (ولفظ الاحیاء قال شریح) وددت لو ان لی لحیۃ بعشرۃ اٰلاف ففی اللحیۃ من خفایا الھوٰی ودقائق اٰفات النفوس ومن البدع المحدثۃ ثنتا عشرۃ خصلۃ من ذٰلک النقصان منھا وذٰلک مثلۃ وذکر عن جماعۃ ان ھذا من اشراط الساعۃ ۱؎ اھ ملخصا۔
یعنی یہ ذکر ہے کہ ان معصیتوں اور نو پیدا بدعتوں کا جولوگوں نے داڑھی میں نکالیں حدیث میں ہے اللہ عزوجل کے کچھ فرشتے ہیں کہ قسم یوں کھاتے ہیں اس کی قسم جس نے فرزند ان آدم کو داڑھی سے زینت بخشی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حلیہ شریف میں سے ریش مبارک گھنی تھی اور ایسے ہی ابوبکر صدیق وعثمان غنی کی داڑھی دراز وباریک مولٰی علی کی داڑھی چوڑی سارا سینہ بھرے ہوئے رضی اللہ تعالٰی عنہم، احنف بن قیس (کہ اکابر ثقات تابعین وعلماء وحکمائے کاملین سے تھے زمانہ رسالت میں پیدا ہوئے ۶۷ھ؁ یا ۷۲ھ؁ میں وفات پائی ) عاقل وحلیم تھے (پاؤں میں کج تھا ایک آنکھ جاتی رہی تھی داڑھی خلقۃً نہ نکلی تھی) ان کے اصحاب نہ اس کج پر افسوس کرتے نہ یک چشمی پر بلکہ داڑھی نہ ہونے کی کراہت ذکر کرتے اور کہتے ہمیں تمنا ہے کاش اگر بیس ہزار کو ملتی تو احنف کیلئے داڑھی خریدتے۔ اور تفسیروں سے یہ آیۃ یزید فی الخلق مایشاء کی تفسیر میں ہمیں روایت پہنچی کہ اللہ تبارک وتعالٰی بڑھاتاہے صورت میں جو چاہے اس سے داڑھی مرا دہے۔ شریح قاضی (کہ اجلہ ائمہ واکابر تابعین سے ہیں زمانہ رسالت میں ولادت پائی بلکہ کہاگیا صحابی ہیں امیر المومنین عمر فاروق پھر امیر المومنین مولی علی کی سرکار میں قاضی تھے امیر المومنین علی فتاوٰی میں ان سے رائے لیتے ۸۰؁ہجری سے پہلے یا بعد انتقال ہوا داڑھی خلقۃ نہ تھی) وہ فرماتے کہ مجھے آرزو ہے کہ کاش دس ہزار دے کر داڑھی مل جاتی تو داڑھی میں شیطانی خواہشوں کے خفایا اور نفسانی آفتوں کے دقائق اور نو پیدا بدعتوں سے بارہ باتیں لوگوں نے ایجاد کی ہیں ازانجملہ داڑھی کم کرنی اور یہ مثلہ یعنی صورت بگاڑنی ہے اور ایک جماعت علماء سے مروی ہواکہ یہ قیامت کی نشانیوں سے ہے۔ انتہی۔
 (۱؎ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب     الفصل السادس والثلاثون     دار صادر بیروت     ۲/۱۴۲ تا ۱۴۴)

(احیاء العلوم     النوع الثانی فیما یحدث فی البدع الخ     مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ۱/ ۱۴۴)
مدارج شریف میں ہے:
آوردہ اند کہ لحیہ امیر المومنین علی پر میکرد سینہ را وہمچنیں لحیہ امیر المومنین عمر وعثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ودرحلیہ حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نوشتہ اند کہ کان طویل اللحیۃ عریضہا ۱؎۔
منقول ہے کہ امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کی داڑھی مبارک ان کے سینہ اقدس کو ڈھانپ دیتی تھی یا ڈھانپے ہوئی تھی۔ اور اسی طرح امیر المومنین عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہم کی مبارک داڑھیاں تھیں کہ بڑی اور گنجان ہونے کی وجہ سے ان کے سینوں کو ڈھانپ دیتی تھیں۔ اور حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حلیہ مبارک میں تحریر کیا گیا ہے کہ آپ کی ریش مبارک دراز اور چوڑی تھی صلی اللہ تعالٰی علی ابیہ الکریم وعلیہ وبارک وسلم۔ (ت)
 (۱؎ مدارج النبوۃ         باب اول         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۱۵)
Flag Counter