کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایبض الوجہ کث اللحیۃ احمرالاماقی اھدب الاشفار، رواہا جمیعا ابن ۴؎ عساکر الکل مختصرا ۔
رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا منہ گورا، داڑھی گھنی، آنکھوں کے سرخی ،پلکیں دراز، (ان سب کو ابن عساکر نے مختصر طور پر روایت کیا ہے۔ ت)
(۴؎تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۲)
امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
کث اللحیۃ تملؤ صدرہ ۱؎۔
ریش مطہر گھنی سینہ منورہ کو بھرے ہوئے۔
(۱؎ الشفاء لحقوق المصطفٰی فصل ان قلت الخ عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۱/ ۳۸)
یہاں ''سینہ'' سے مراد اس کا بالائی کنارہ ہے کہ گلے کی انتہا ہے
صرح بہ الشراح وھوا لواضح الصراح
(شارحین نے اس کی تصریح فرمائی جو بالکل واضح اور صاف ہے۔ ت) اور عادت کریمہ تھی کہ کوئی امر کیسا ہی مرغوب وپسندیدہ ہو جب شرعا لازم ضروری نہ ہوتا تو بیان جواز کے لئے گاہے ترک بھی فرمادیتے یا قولا خواہ تقریرا جواز ترک بتادیتے اس لئے علمائے کرام نے سنت کی تعریف میں مع الترک احیانا اضافہ کیا یعنی جسے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اکثر کیا اور کبھی کبھی ترک بھی فرمادیا ہو۔ ولہذا محققین فرماتے ہیں کہ ایسی مواظبت دائمہ ہمیشہ دلیل وجوب ہے۔
محقق علی الاطلاق فتح القدیر باب الاذان میں فرماتے ہیںـ:
عدم الترک مرۃ دلیل الوجوب ۲؎۔
ایک مرتبہ بھی نہ چھوڑنا وجوب کی دلیل ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر باب الاذان مکتبہ نوریہ رضویہ پاکستان ۱/ ۲۰۹)
نیز باب الاعتکاف میں فرمایا: ؎
ھذہ المواظبۃ المقرونۃ بعدم الترک مرۃ لما اقتربت بعد الانکار علی من لم یفعلہ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کانت دلیل السنۃ والا کانت دلیل الوجوب ۳؎۔
یہ دوام یعنی ہمیشگی جو کبھی ایک دفعہ بھی نہ چھوڑنے سے مقرون ہوجب ان صحابہ کرام سے جنھوں نے اسے نہ کیا ہو ان سے عدم انکار پر مقترن ہو تو دلیل سنت ہے ورنہ دلیل وجوب ہے۔ (ت)
(۳؎فتح القدیر باب الاعتکاف مکتبہ نوریہ رضویہ پاکستان ۲/ ۳۰۵)
دوم طریق خصوص: اس میں بھی بحمداللہ تعالٰی فیض جلیل قرآن جلیل سے آیات کثیرہ عبدذلیل پر فائض برکات ہوئیں
فاقول: وباﷲ اتوفیق
(پس میں اللہ تعالٰی کی توفیق ومدد سے ہی کہتاہوں۔ ت) یہ نفیس طریق وجوہ عدیدہ رکھتا ہے جن سے احیائے لحیہ کا امر یا طلب یا اس کے خلاف پر وعید یا مذمت ثابت ہو۔
وجہ ثالث ___ آیت ۵: قال تعالٰی وتقدس:
وان یدعون الاشیطانا مریدا لعنہ اﷲ و لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا o ولاضلنھم ولا منینھم ولا مرنھم فلیبتکن اٰذان الانعام ولا مرنھم فلیغیرن خلق اﷲ ۱؎۔
کافر نہیں پوجتے مگر شیطان سرکش کوجس پر خدا نے لعنت کی اور وہ بولا میں ضرور لے لوں گا تیرے بندوں میں سے اپنا ٹھہرا ہوا حصہ اور میں ضرور انھیں بہکادوں گا اور ضرور خیالی لالچوں میں ڈالوں گا اور ضرور انھیں حکم دوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور بیشک انھیں حکم دوں گا کہ اللہ کی بنائی چیز بگاڑیں گےھ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۹،۱۲۰ )
یہی وہ آیہ کریمہ ہے جس کی رو سے حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے زنان مذکورہ پر لعنت فرمائی اور اس کی علت یہی خدا کی بنائی چیز بگاڑنی بتائی، بعینہٖ یہی کیفیت داڑھی منڈانے کی ہے۔ منہ کے بال نوچنے والیاں تغیر خلق اللہ کرتی ہیں یوں ہی داڑھی منڈوانے والے تو یہ سب اسی
فلیغیرن خلق اﷲ
(تو وہ اللہ تعالٰی کی بناوٹ میں تبدیلی کرینگے۔ ت) میں داخل اور شیطان کے محکوم اور اللہ ورسول کے ملعون ہیں۔
امام جلال الدین سیوطی اکلیل فی استنباط التنزیل میں زیر آیہ کریمہ فرماتے ہیں:
یستدل بالاٰیۃ علی تحریم الخصاء والوشم وما یحری مجراہ من الوصل فی الشعر وبردالاسنان والتنمص وھو نتف الشعر من الوجہ ۲؎۔
آیۃ مذکورہ سے استدلال کیاجاتاہے کہ خصی کرنے، بدن گودنے اور ان جیسے دیگر اعمال مثلا بال جوڑنے، دانتوں میں کشادگی پیدا کرنے اور چہرے کے بال نوچنے کی حرمت پر۔ (ت)
فلیغیرن خلق اﷲ بالخصاء اوالوشم او تغیر الشیب بالسواد والتخنث اھ ۳؎ باختصار۔
اللہ تعالٰی کی بنائی ہوئی صورت کو تبدیل کریں گے یعنی خصی کرنے، بدن گدوانے سفید بالوں کو سیاہ کرنے اور زنانہ اوصاف اپنانے میں۔ (مختصرا عبارت مکمل ہوئی)۔ (ت)
شیخ محقق اشعۃ اللمعات میں زیر حدیث مذکور المغیرات خلق اﷲ (اللہ کی بناوٹ کو بدلنے والی عورتیں ۔ ت) فرماتے ہیں:
علت وحرمت مثلہ وحلق لحیہ وامثال آں نیز ہمیں ست ۱؎۔
مثلہ یعنی حلیہ بگاڑنا اور داڑھی مونڈنے یا منڈوانے اور اس قسم کے دوسرے کام کرنے کے حرام ہونے کی یہی علت اور سبب ہے۔ (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۲)
وجہ رابع___ آیت ۶: قال مجدہ:
ذٰلک ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوٰی القلوب ۲؎۔
بات یہ ہے اور جو بڑائی کرے دین الٰہی کے شعاروں کی تو وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۲)
آیت ۷: قال عزشانہ،: یاایھاالذین اٰمنوا الاتحلوا شعائر اﷲ ۳؎۔
اے ایمان ولو! حلال نہ ٹھہرا لو دین خدا کے شعاروں کو۔
(۳؎القرآن الکریم ۵/ ۲)
شک نہیں کہ داڑھی شعار دین اسلام سے ہے۔ امام بدرمحمود عینی عمدۃ القاری شرح بخاری میں ختنہ کی نسبت نقل فرماتے ہیں:
انہ شعائر الدین کالکلمۃ وبہ یتمیز المسلم من الکافر ۴؎۔
ختنہ کرنا کلمہ شریف کی طرح شعائر اسلام میں سے ہے اس سے مسلمان اور کافر میں باہم امتیاز ہوتاہے۔ (ت)
(۴؎ عمدہ القاری شرح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲/ ۴۵)
جب ختنہ حالانکہ امر خفی کلمہ طیبہ کے شعائر دین اور وجہ امتیاز مومنین وکافرین قرار پایا یہاں تک کہ مسلمانان ہند نے اس کا نام بھی''مسلمانی'' رکھ لیا۔ تو داڑھی کہ امر ظاہر ہے اورپہلی نظر اسی پر پڑتی ہے بدرجہ اولٰی شعائر الاسلام ومابہ الامتیاز کرام ولیام ہے اور بعض کفار کا اس میں شریک ہونا منافی شعاریت اسلام نہیں جس طرح ختنہ کرنے میں یہود شریک مسلمین ہیں خو د نفس آیات کریمہ ہی میں دیکھئے مورد نزول جانوران ہدی میں کہ حرم محترم کو قربانی کے لئے بھیجے جاتے ہیں انھیں شعار دین الٰہی فرمایا حالانکہ تمام مشرکین عرب اس فعل میں شریک تھے اور جب داڑھی شعار دین ہے اور بے شک یونہی ہے تو بحکم قرآن اس کے ازالہ کو حلال ٹھہرالینا حرام اور اس کی تعظیم تقوٰی قلوب کا کام۔
وجہ خامس___ آیت ۸: قال عزمجدہ:
واوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا ۱؎۔
میں نے تمھاری طرف وحی بھیجی کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کے دین کو اپناؤ (یعنی دین ابراہیمی کی پیروی کرو) جو ہر قسم کے باطل سے الگ تھلگ رہنے والے تھے (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۲۳)
ۤ
آیت ۹: قال سبحانہ وتعالٰی:قل بل ملۃ ابراھیم حنیفا ۲؎۔
تم فرماؤ بلکہ ہم ابراہیم کا دین لیتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۳۵)
آیت ۱۰: قال جلت الاؤہ
(اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ جس کی بڑی بڑی نعمتیں ہیں۔ ت):
ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم الا من سفہ نفسہ ۳؎۔
اور ملت ابراہیمی سے کون بے رخی کرسکتا ہے سوا اس کے جس کو اس کے نفس نے بیوقوف بناڈالا ہو۔ (ت)