Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
130 - 146
بہر حال ان کی فضیلت و صلاح قبول حق پر باعث ہوئی سمجھ لیں اور اس کے بعد حدیث کو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتیں۔
کما رواہ البخاری ۱؎ من طریق عبدالرحمٰن بن عابس عنھا رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جیسا کہ امام بخاری نے عبدالرحمن بن عابس کے طریقہ سے۔ اس نے بی بی صاحبہ سے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اس کو روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎صحیح البخاری     کتاب اللباس باب الواشمہ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۷۹)
ابنائے زمانہ سے گزارش کرنی چاہئے کہ ع
دلامردانگی زین زن بیاموز
(اے دل ! اس عورت سے مردانہ جرأت سیکھ ۔ت)
؎     ولٰکن الھدایۃ لن تنالا     بلافضل من المولٰی تعالٰی
(لیکن تو ہر گز ہدایت نہں پاسکے گا اللہ تعالٰی کے فضل کے بغیر۔ ت)
ایک بار عالم قریش سے سید ناامام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مکہ معظمہ میں فرمایا: مجھ سے جو چاہو پوچھو میں قرآن سے جواب دوں گا۔ کسی نے سوال کیا: احرام میں زنبور کو قتل کرنے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم، مااتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتھوا وحدثنا سفٰین بن عیینہ عن عبدالملک بن عمیر بن ربعی بن حراش عن حذیفۃ بن الیمان عن النبی صلی اﷲ تعالٰی تعالٰی علیہ وسلم انہ قال اقتدوا بالذین من بعدی ابوبکر وعمر حدثنا سفین عن مسعر بن کدام عن قیس بن مسلم عن طارق بن شھاب عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ امر بقتل المحرم الزنبور ذکرہ الامام السیوطی فی الاتقان ۱؎''
بسم اللہ الرحمن الرحیم، جو کچھ تمھیں رسول کریم عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے تمھیں منع فرمائیں اس سے باز رہو ''اللہ عزوجل نے تو فرمایا کہ ارشاد رسول پر عمل کرو'' (ہم سے سفیان بن عیینہ نے فرمایاا س نے عبدالملک بن عمیر سے اس نے ربعی بن حراش سے اس نے حذیفہ بن یمان سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی۔ ت) کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہمیں حدیث پہنچی کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ان دو کی پیروی کرو جو میرے جانشین ہونگے۔ (ہم سے سفیان بن مسعر بن کدام نے بیان کیا انھوں نے قیس بن مسلم سے انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی) اور ہمیں امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث پہنچی کہ انھوں نے احرام باندھے ہوئےکو قتل زنبور کا حکم دیا (امام سیوطی علیہ الرحمۃ نے اسے الاتقان فی علوم القرآن میں ذکر فرمایا۔ ت)
 (۱؎ الاتقان فی علوم القراٰن للسیوطی     النوع الخامس والستون     مصطفی البابی مصر    ۲/ ۱۲۶)
وجہ ثانی: اقول: وباللہ التوفیق
(میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ ت)
آیت ۴: قال جل ذکرہ
 (اللہ جل جلالہ نے فرمایا:)
لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوااﷲ والیوم الاخر وذکر اﷲ کثیرا ۲؎۔
البتہ بیشک تمھارے لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چال طریقہ میں ا چھی ریت ہے اس کے لئے جو ڈرتاہو اللہ اور پچھلے دن سے اور بہت یاد کرے اللہ کی۔
 (۲؎ القرآن الکریم       ۳۳/ ۲۱)
اس آیہ کریمہ میں مولٰی جل وعلا اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کے طریق وروش پر چلنے کی ہدایت فرماتا اور مسلمانوں کو یوں جوش دلاتا ہے کہ دیکھو ہماری یہ بات وہ مانے گاجس کے دل میں ہمارا خوف ہماری یاد ہم سے امید قیامت سے دہشت ہوگی اور موافق مخالف حتی کہ نصارٰی ویہود ومجوس و ہنودوتمام جہاں جانتا ہے کہ اس سرورجہاں وجہانیاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت دائمہ مستمرہ داڑھی رکھنی تھی جس پر تمام عمر مداومت فرمائی محافظت فرمائی تاکید فرمائی ہدایت فرمائی معاذ اللہ کبھی تجویز خلاف نے گنجائش نہ پائی، ہم یہاں بعض احادیث جلیلہ کریمہ یاد کریں کہ ذکرحبیب نورعین وسرور جان و شادابی دل وسیرابی ایمان ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
حدیث ۱: جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کثیر شعراللحیۃ۔ رواہ مسلم ۱؎ وعنہ عند ابن عساکر ۲؎کثیر شعر الراس واللحیۃ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ریش مبارک میں بال کثیر وانبوہ تھے (اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ ابن عساکر کے نزدیک انہی جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سر اور داڑھی مبارک کے بال زیادہ تھے۔ ت)
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الفضائل باب اثبات خاتم النبوۃ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۲۵۶)

(۲؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ  الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۳۲۲)
حدیث ۲: ہندبن ابی ہالہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فخما مفخما یتلالؤ وجہہ تلالؤالقمر لیلۃ البدر ازھر اللون واسع الجبین کث اللحیۃ رواہ الترمذی فی الشمائل والطبرانی فی الکبیر واللبیھقی فی الشعب و رواہ ایضا الرؤیانی والبیھقی فی الدلائل وابن عساکر فی التاریخ۔
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عظمت والے نگاہوں میں عظیم دلوں میں معظم تھے چہرہ مبارک ماہ دوہفتہ کی طرح چمکتا جگمگاتی رنگ، کشادہ پیشانی گھنی داڑھی (اس کو امام ترمذی نے شمائل نبوی میں امام طبرانی نے معجم کبیر میں، امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ نیز رؤیانی نے اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عساکر نے تاریخ میں روایت کیا ہے۔ ت)
 (۳؎ شمائل الترمذی جامع الترمذی     باب ماجاء فی خلق رسول اللہ     امین کمپنی دہلی        ص۲)
حدیث ۳: امیرالومنین مولٰی علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
بابی وامی کان ربعۃ ابیض مشربا بحمرۃ کث اللحیۃ رواہ ابن عساکر ۴؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
میرے ماں باپ ان پر قربان ، میانہ قد کے تھے، گورا رنگ جس میں سرخی جھلکتی ، گھنی داڑھی، (ابن عساکر نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۴؎ کنز العمال برمزکر ''عن ابی ہریرہ     حدیث ۱۸۵۶۰     موسسۃ  الرسالہ بیروت    ۷/ ۱۷۲)
حدیث ۴: وہی فرماتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ضخم الھامۃ عظیم اللحیۃ رواہ البیھقی ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سرمبارک بزرگ اور ریش بڑی تھی (اسے امام بیہقی نے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ دلائل النبوۃ للبیھقی     باب صفۃ راس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱/ ۲۱۶)
حدیث ۵: امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابیض اللون مشربا بحمرۃ ادعج العینین کث اللحیۃ ۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رنگ گورا، سرخی آمیز آنکھیں بڑی، خوب سیاہ داڑھی گھنی۔
 (۲؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر      باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۳۱۸)
حدیث ۶: انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احسن الناس قواما واحسن الناس وجھا واطیب الناس ریحا والین الناس کفا و کانت لہ جمۃ الی شحمۃ اذنیہ وکانت لحیتہ قد ملأت من ھھنا الی ھھنا وامرید یہ علی عارضیہ ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم پاک کی بناوٹ تمام جہان سے بہتر چہرہ تمام عالم سے خوب تر مہک سارے زمانے سے خوشبو تر، ہتھیلیاں اپنے رخساروں سے نرم تر، بال کانوں کی لو تک، پھر اپنے رخساروں پر اشارہ کرکے بتایا کہ) ریش مبارک یہاں سے یہاں تک بھری ہوئی تھی۔
 (۳؎تہذیب تاریخ ابن عساکر      باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱/ ۳۲۱)
Flag Counter