Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
129 - 146
تنبیہ ششم: فرض وواجب اور اسی طرح حرام ومکروہ تحریمی میں فرق دربارہ اعتقاد ہے کہ فرض وحرام کا منکر کافر ٹھہرتا ہے۔
امامطلقا کما علیہ ظواھر کلمات الفقہاء الامجاد اوعلی تفصیل فیہ کما علیہ الاعتماد۔
یا مطلقا جیسا کہ بزرگ فقہاء کرام کے ظاہری کلمات اس پر دلالت کرتے ہیں یا اس میں تفصیل ہے جیسا کہ اس پراعتماد ہے۔ (ت)

بخلاف اخیرین، مگر عمل میں دونوں کا ایک حکم مخالف میں گناہ واثم امتثال میں رجائے ثواب خلاف میں استحقاق غضب وعذاب۔
کما صرح فی کل کتاب
 (جیسا کہ تمام کتب میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ ت) اہل اسلام اپنے رب کے غضب سے ڈریں اور ان گمراہان گر کی چرب زبانیوں پر تو جہ نہ کریں بالفرض اصطلاح حنفی میں "ف ر ض یا ح را م" کا اختلاف نہ ہوا تو یہ فرض اصطلاحی تمھارے کس کام آئے گا جبکہ غضب جبار وعذاب نار کا استحقاق بہر حال موجود
والعیاذ باللہ الغفور الودود،
یقین جانو اس دن کو داڑھی منڈا واحد قہار کے حضور تمھارا حمایتی نہ بنے گا وہ آپ اپنی بھڑکائی آگ میں جلے بھنے گا آئندہ اختیار بدست مختار، مسلمانو! اس کی ٹھیک مثال یہ ہے کہ کوئی گندہ ناپاک بھینس کا گوبر گدھے کی لید کھایا کرے۔ جب اس سے کہا جائے تو (۔۔) کھاتا ہے کہے اسے (۰۰)(۰۰) نہیں کہتے یہ تولید گوبر ہے اس نجس سے یہی کہا جائے گا کہ یونہی سہی مگر ہرطرح تیرے منہ میں تو گندگی رہی، مسلمانو! مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ سہی مگر بعد اصرار کبیرہ اور ہلکا جانتے ہی فورا اشد کبیرہ۔ حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاصغیرۃ مع الاصرار۱؎ رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما
اصرار سے کوئی گناہ چھوٹا نہیں ہوجاتا (بلکہ بڑا ہوجاتاہے) دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عبداللہ ابن عباس سے اس کو روایت کیا ہے اللہ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو۔ (ت)
 (۱؎ الفردوس بماثور الخطاب للدیلمی     حدیث ۷۹۴۴ ابن عباس     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۵/ ۱۹۹)
پھریہ ظالمین براہ چالاکی حرام حرام کی اصطلاح لئے ہوئے ہیں حقیقۃ مباح محض شیر مادر جانتے ہیں جب تو
اذا حللتم فاصطادوا ۲؎
 (جب تم حلال ہوجاؤ یعنی احرام کی پابندی ختم ہوجائےاور احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم     ۵/ ۲)
[یعنی حدود حرم سے باہر شکار تمھاری پسند اور چاہت پر موقوف ہے مترجم] کی مثال اور عقاب درکنار عتاب بھی نہ ہونے کا خیال ہے۔ شیطان کے بڑھاوے ایسے ہی ہوتے ہیں۔
یعدھم ویمنیھم ومایعدھم الشیطن الاغرورا ۱؎۔
شیطان ان سے وعدہ کرتاہے اور انھیں امید دلاتاہے اور شیطان ان سے سوائے دھوکے اور فریب کے کوئی وعدہ نہیں کرتا (یعنی اس کا ہر وعدہ سبز باغ اور فریب ہوتاہے)۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم                ۴ / ۱۲۰)
انتباہ: سنا گیا کہ اس منکر متکبر کی طرح کوئی اور حضرت بھی اس مسئلہ میں مخالفت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر تلے ہوئے ہیں اس نے اباحت محضہ کا ڈنڈا پکڑا اور وہ اپنے زور زور میں اور راہ چلے ہیں کہ داڑھی منڈا نا حرام نہیں۔ اور مکروہ تحریمی میں خود اختلاف ہے کہ وہ حرمت سے قریب ہے یا حلت سے نزدیک مسلمانو! راہ فریب سے دور
لا یغرنکم باﷲا لغرور ۲؎
 (اور ہر گز تمھیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی )
 (۲؎ القرآن الکریم                ۳۵ / ۵)
یہ ان قائل صاحب کا محض افترائے گندہ وایجاد بندہ ہے آج تک جہاں میں کسی عالم نے مکروہ تحریمی کو قریب بحلت نہ بتایا تمام کتب مذہب موجود ہیں حضرات شیخین وامام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہم میں یہ اختلاف بتایا جاتاہے کہ ان کے نزدیک مکروہ تحریمی عین حرام ہے اور ان کے نزدیک اقرب بحرام۔
تنویرالابصار وغیرہ عامہ اسفار میں ہے:
کل مکروہ حرام عند محمد وعندھما الی الحرام اقرب ۳؎۔
امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک ہر مکروہ حرام ہے جبکہ امام صاحب اور امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک حرام سے قریب تر ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار     کتاب الحظرولاباحۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۵)
اور عند التحقیق یہ بھی صرف اطلاق لفظ کا فرق ہے معنی سب کا ایک مذہب خود امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ناقل کہ انھوں نے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کی:
اذاقلت فی شیئ اکرہ فما رأیک فیہ
جب آپ کسی شیئ کو مکروہ فرمائیں تو اس میں آپ کی کیا رائے ہوتی ہے؟ قال التحریم فرمایا حرام ٹھہرانا
ذکر فی ردالمحتار عن شرح التحریم للامام ابن امیر الحاج عن مبسوط الامام محمد رحمہم اﷲ تعالٰی
(فتاوٰی شامی میں اس کو شرح التحریر کے حوالے سے ذکر فرمایا جو امام ابن امیر الحاج کی تصنیف ہے انھوں نے مبسوط امام محمد سے نقل فرمایا (اللہ تعالٰی ان سب پر رحم فرمائے۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار           کتاب الحظرولاباحۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۱۴)
تنبیہ ہفتم: آیات قرآنیہ میں۔ حق فرمایا ہمارے رب جل وعلا نے :
فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ۱؎۔
ہے یوں کہ آنکھیں نہیں اندھی ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۲۲/ ۴۶)
ان بے بصیرتوں کو اگر کبھی کھلی آنکھوں سے قرآن عظیم کی زیارت نصیب ہوتی تو جانتے کہ داڑھی بڑھانے کی طرف اشارہ اس میں ایک دو نہیں بلکہ بکثرت آیات کریمہ میں موجودہے اس میں دو طریق ہیں:

 اول طریق عموم: یہ دو وجہ پر ہے:

وجہ اول :کہ صحابہ کرام وائمہ اعلام رضی اللہ تعالٰی عنہم امثال مقام میں استعمال فرماتے رہے۔
آیت ۱: قال اﷲ عزوجل: مااٰتکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا ۲؎۔
جو کچھ یہ رسول کریم تمھیں دے اختیار کرو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
 (۲؎ القرآن الکریم    ۵۹/ ۷)
آیت ۲: قال تعالٰی: یایھاالذین امنوا اطیعوااﷲ واطیعوا الرسول واولی الامرمنکم ۳؎۔
اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی اور اپنے علما کی۔
(۳؎القرآن الکریم       ۴/ ۵۹)
آیت ۳: قال عزوجل: من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ ۴؎۔
جو رسول کے فرمانے پر چلا اس نے اللہ کاحکم مانا۔
 (۴؎القرآن الکریم                 ۴/ ۸۰)
رب تبارک وتعالٰی ان آیات اور ان کے امثال میں نبی کا حکم بعینہٖ اپنا حکم اور نبی کی اطاعت بعینہٖ اپنی اطاعت بتاتا ہے تو تمام احکام کہ احادیث میں ارشاد ہوئے سب قرآن عظیم سے ثابت ہیں جو اخلاقی حکم حدیث میں ہے  کتاب اللہ اس سے ہر گز خالی نہیں اگر چہ بظاہرتصریح جزئیہ ہماری نظر میں نہ ہو۔

احمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ سب ائمہ اپنی مسند وصحاح میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ انھوں نے فرمایا:
لعن اﷲ الواشمات والمستوشمات و المتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات لخلق اﷲ۔
اللہ کی لعنت بدن گود نے والیوں اور گدوانے والیوں اور منہ کے بال نوچنے والیوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں کھڑکیاں بنانے والیوں اللہ کی بنائی چیز بگاڑنے والیوں پر۔

یہ سن کر ایک بی بی خدمت مبارک میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: میں نے سنا ہے آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ____فرمایا:
مالی لا العن من لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو فی کتاب اﷲ۔
مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اور جس کا بیان قرآن عظیم میں ہے۔

ان بی بی نے کہا: میں نے قرآن اول سے آخر تک پڑھا اس میں کہیں اس کا ذکر نہ پایا__ فرمایا:؎
اِنْ کُنتِ قَراْتِیْہِ لَقَدْ وَجَدْتِیْہ اما قراتِ مااتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا۔
اگر تم نے قرآن پڑھا ہوتا یہ بیان اس میں ضرور پاتیں۔ کیا تم نے یہ آیت نہ پڑھی کہ جو رسول تمھیں دے وہ لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔

انھوں نے عرض کی: ہاں ____ فرمایا: فانہ قد نھی عنہ ۱؎ تو بے شک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان حرکات سے منع فرمایا:

منکر دیکھے کہ اس کا خیال وہی ان بی بی کا خیال اور ہمارا جواب بعینہٖ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا جواب ہے یانہیں۔ یہ بی بی ام یعقوب اسدیہ ہیں کبارتابعین وثقات مصالحات سے ہونے میں توکلام نہیں اور حافظ الشان نے فرمایا: صحابیہ سے معلوم ہوتی ہیں۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۴۳۴)

(صحیح البخاری         کتاب اللباس باب الموصولۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۷۹)

(سنن ابی داؤد         کتاب الترجل باب صلۃ الشعر     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۲۱۸)

(جامع الترمذی     ابواب الادب باب ماجاء فی الواصلۃ الخ     امین کمپنی دہلی        ۲/ ۱۰۲)

(سنن نسائی         کتاب الزینۃ        نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۲/ ۲۹۲)
Flag Counter