Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
128 - 146
 اب گنتی کے وہ احکام رہ گئے جن کی صاف تصریح کتاب اللہ میں ہے ان کے سوا سب اخلاق سے خارج تہذیب واخلاق کے ہزاروں احکام جن میں کوئی ذی عقل نزاع نہ کرسکے معاذاللہ اسلام کے نزدیک مہمل ومعطل اور تمامی دین باطل ومختل، مثلا مردوں کا داڑھی مونچھ منڈواکر بال بڑھاکر چوٹی گندھواکر ہاتھ پاؤں میں مہندی رچا کر زنانہ کپڑے گوٹہ پھٹے مسالے کے پہن کر سرسے پاؤں تک جڑاؤں گہنوں سے بن ٹھن کر ہزاروں کے مجمع میں ناچنا بھاؤ بتانا کس آیت میں حرام لکھا ہے اعضائے رجولیت کٹاکر زنخنہ بنناناک پر انگلی رکھ کر تالیاں بجانا کس سورۃ میں منع آیا ہے۔ وعلی ہذا القیاس ہزاروں افعال وسواس خناس اب منکر متکبر سے پوچھا جائے کہ ان افعال اور ان کے امثال کو معاذاللہ ملت اسلام میں حلال بتاکر دین کو عیاذا باللہ سخت بیہودہ ونامہذب بنائے گا یا شرما شرمی حرام ٹھہراکر نصوص قرآنیہ خالی پاکر معاذاللہ قرآن عظیم کوناقص ناتمام بتائے گا ایسے حضرات کی تمام جدید تحقیقات شقیہ کا اندرونی بخاروہی پادریوں کو خفیہ اعانت دینا اوردین متین کامضحکہ اڑانا ہوتاہے
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۲؎
(عنقریب ظالم  جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم       ۲۶/ ۲۲۷)
بہت اچھا اگر داڑھی منڈانا حرام نہیں کہ قرآن عظیم میں اس کے احکام نہیں تو جہاں اس پر عمل ہے یہ پوری شرافت کے افعال بھی برت کر دکھادیں کہ ان کی تحریم بھی قرآن میں کہیں نہیں۔ پوری ہی گائے نہ کھائیے کہ دین نیچر کے کامل مومن کہلائیے، اچھا نہ سہی قرآن میں کہیں ناک کٹانا بھی حرام نہیں لکھا الانف بالانف ( ناک کے بدلے ناک۔ ت) میں دوسرے کی ناک کاٹنے پر سزا ہے اپنی قطع کرانے کا ذکر کیا ہے ایک کاٹ کردوسری کہاں سے لائیے گا کہ الانف بالانف کا محل پائیے گا جہاں داڑھی منڈائی ہے۔ یہ اونچی گوٹ آنکھوں کی اوٹ جس نے ناحق چہر ہ ناہموار کررکھا ہے اسے بھی دھتابتائیں لوگ چار ابرو کا صفایا بولتے ہیں یہ  پانچوں گانٹھ کمیت ہوجائیں خیر آپ اس پر عمل نہ کریں مگر آپ کی تحریر تو ضرور ہانکے پکارے کہے گی کہ دین اسلام ایسا ناقص دین ہے جس میں ناک کٹانا حرام نہیں یا قرآن عظیم ایسی کتاب ہے جس میں ایسے جرموں پر کچھ الزام نہیں۔
تنبیہ سوم :  منکر متکبر کا اثبات حرمت میں قرآن عظیم کے ساتھ حدیث متواترومشہور کانام لے دینا محض عیاری ودنیا سازی یاعجب کورانہ تناقض بازی ہے ہم پوچھتے ہیں جو کسی حدیث متواتر یا مشہور میں آئے قرآن عظیم میں بھی موجود ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو حدیث کی کیا حاجت، اور اس تردید سے کیا منفعت اور اگر نہیں توا ب پوچھا جائےگا کہ وہ حکم داخل اخلاق ہے یانہیں۔ اگر ہے تو قرآن عظیم احکام اخلاقی سے خالی اور دین معرض نقص وبے کمالی، اورنہیں تو تمھارا مطلب حاصل کہ ایسے حکم کا شرعی ہونا باطل ۔ بہت ہو تو مچھلی کا ساشکار سہی، حرمت فرضیت کس نے کہی، مسلمانو! دیکھتے جاؤ کہ ان حضرات کے تمام خیالات کا حاصل بے حاصل وہی ابطال شرع مطہر و اکمال بیقیدی اہل نیچر ہے وبس،
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱؎
(وہ لوگ جو ظالم ہیں انھیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ پلٹا کھانے والے ہیں۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۲۶/ ۲۲۷)
تنبیہ چہارم: بعینہٖ اسی دلیل سے اجماع بھی باطل، پھر قیاس کس گنتی شمار میں رہے، اور امر قرآنیہ منکر نے
اذاحللتم فاصطادوا ۲؎
 (جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو۔ت) سے اس کا جواب بھی گھڑدیا ۔
 (۲؎ القرآن الکریم    ۵ /۲)
ہر امر میں یہی احتمال قائم ، کیا معلوم کہ یہ انھیں احکام میں ہو جن کا نہ کرنا عقاب درکنار موجب عتاب بھی نہیں پھر ایک یہی چلتا فقرہ تمام نواہی قرآنیہ کو بس ہے کہ جس طرح امر کبھی اباحت کے لئے ہوتا ہے یونہی نہی بھی ارشادی  ہوتی ہے غرض ایک ہی کرشمے میں شریعت محمدیہ کے تمام اوامر ونواہی بیکار اور معطل ہو کر رہ گئے۔ سچ ہے انسانی آزادی اس کی منادی قید ملت کہاں کی علت، مگر افسوس یہ آنکھوں کے اندھے عقل کے اوندھے سمجھے کہ آزاد ہوئے اور حقیقت دیکھو تو برباد ہوئے۔ اللہ واحد قہار کی بندگی سے سر نکالا اور ابلیس لعین کاپٹا گلے میں  ڈالا بندگی تو ہر حال رہی اللہ کی نہیں ابلیس کی سہی ع
ببیں کہ از کہ بریدی وباکہ پیوستی
 ( دیکھو تو سہی کہ تم نے کس سے تعلق توڑا اور کس سے جوڑا یعنی کس سے کٹ کر جدا ہوگئے اور کس سے وابستہ ہوکر مل گئے۔ ت)
تنیبہ پنجم: مخالفت مشرکین کے وہ معنی لینا اورداڑھی رکھنے منڈانے دونوں میں مخالفت بتانا کلام پاک حضور سید لولاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کھلا استہزاء وتمسخر ہے۔ اللہ اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد اطہر اور ایک ناپاک بیباک بے ادراک کا کہنا کہ فیہ نظر (اس میں ایک اعتراض واشکال ہے۔ ت) پھر اسے دیدہ ودانستہ بازیچہ بنانا
یحرفون من بعد ماعقلوہ وھم یعلمون ۱؎
 (وہ لوگ کتاب کو سمجھنے کے بعد اسے بدل ڈالتے ہیں جبکہ وہ (اس حقیقت کو) اچھی طرح جانتے ہیں۔ ت) کا شیوہ دکھانا۔
 (۱؎ القرآن الکریم       ۲/ ۷۵)
اولا دنیا میں کون اندھے سے اندھا خلاف مشرکین کا یہ مطلب سمجھے گا کہ مشرکین روٹی کھاتے ہیں تم بھوکے رہو، وہ پانی پیتے ہیں تم پیاسے مرو، خلاف مشرکین شعار مشرکین میں ہے نہ یہ کہ کوئی مشرک ہمارے بعض افعال اختیار کرے، یا جس فعل کو ہماری شرع مطہر نے پسند فرمایا وہ کسی فرقہ مشرکہ سے بھی واقع ہو تو ہم چھوڑدیں۔

ثانیا یہی معنی مراد ہوتے تو معاذاللہ حکم کس قدر فضول ومہمل تھا۔ جوبات ایک کام کرو تو بھی حاصل نہ کرو تو بھی حاصل، اس کے لئے اس کام کاحکم دینا تحصل حاصل۔

ثالثا ترجیح بلا مرجح اس کے عکس کا کیوں نہ حکم ہوا کہ خلاف مشرکین اس میں بھی تھا۔

رابعا بلکہ ترجیح مرجوح کہ داڑھی منڈے مشرک مہینوں کی راہ دور ایران وغیرہ میں تھے اور داڑھی والے اہل عرب اپنے ہی وطن میں اپنے ہی شہروں میں۔ تو خلاف مشرکین انھیں کے خلاف ظاہر ہوتا یوں تو کوئی ایرانی کبھی اتفاق سے آجاتا تو اپنی مخالفت پاتا پھر بھی خلاف مذہبی نہ سمجھتا بلکہ قومی و ملکی کہ اس ملک کے مسلم وکافر سب کو اپنے خلاف دیکھتا۔
خامسا اللہ اکبر اگر حدیث فقط اس قدر ہوتی کہ
خالفوا المشرکین
مشرکوں کا خلاف کرو۔
تو شایدکسی کچے جنونی پکے مجنونی کو ایسے جنون جاگتے مجنون لے بھاگتے، مگر حدیث میں تو صراحۃً خود اس خلاف کی شرح فرمادی تھی۔
اعفوا الشوارب واعفوا اللحی مشرکین
کا یوں خلاف کرو کہ لبیں ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ اس کے یہ معنٰی لینا کہ ان کا خلاف کرکے بڑھاؤ خواہ ان کی مخالفت کرکے منڈاؤکیسی کھلی تحریف اور کیسا صریح استہزا ء ہے۔ اللہ اکبر مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی وسعت علم جس طرح عجائب قرآن عظیم غیر متناہی ہیں یوہیں عجائب حدیث کی حد نہیں۔ کریمہ :
لاتزروازرۃ وزر اٰخرٰی وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا ۱؎
 (کوئی بندہ کسی دوسرے بندے کا بوجھ (بروز قیامت ) نہیں اٹھائے گا اور ہم جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے یعنی اتمام حجت کے بغیر مبتلائے عذاب نہیں کرتے۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم   ۱۷ /۱۵)
کے لطائف سے امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے شمار فرمایا کہ دونوں جملے دو ہمشکل مسائل مختلف فیہا کا فیصلہ فرماتے ہیں۔ پہلا مسئلہ اطفال مشرکین اور دوسرا اہل فترت پر دلیل شافی ہے ان دونوں کا ایک جگہ ارشاد ہونا نظم قرآنی کے عجب دقیقہ سے ہے
ذکرہ فی رسالۃ فی الابوین الکریمین
(امام سیوطی نے حضورا کرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے والدین کریمین کے اسلام کے موضوع پر جور سالہ تحریر فرمایا۔ اس میں اس کا ذکر فرمایا۔ت) فقیر کہتا ہے امام احمد وطبرانی وضیاء نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تسرولواوائتزوا وخالفوا اھل الکتاب قصوا سبالکم ووفروا عثانینکم وخالفوا اھل الکتاب ۲؎۔
پاجامہ پہنواور تہبند باندھو اور یہود ونصارٰی کا خلاف کرو اور لبیں ترشواؤ اور داڑھیاں وافر کرو  یہود ونصارٰی کا خلاف کرو۔
 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل    حدیث ابی امامہ باہلی     المکتب الاسلامی بیروت    ۵/ ۶۵۔ ۲۶۴)
یہود ونصارٰی کے یہاں ستر کچھ ضروری نہیں ان کی قومیں اب تک ننگے نہانے کی عادی ہیں حدیث میں ان دوجملوں کا ایک جگہ ارشاد ہونا ایسے گمراہوں گمراہ پرستوں کے جنون کا کافی علاج ہے جس طرح داڑھی میں مخالفت اہل کتاب کے وہ معنی تراشے یونہی پاجامہ وتہبند میں یہی مطلب پہنائے کہ اہل کتاب ستر عورت کرتے بھی ہیں تو چاہے اس عادت کا خلاف کرکے پاجامہ پہنو چاہے اس کی مخالفت سے ننگے پھرواور پورے مہذب جنٹلمین بنو۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۳؎
 (عنقریب ظالم جان جائیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
 (۳؎القرآن الکریم   ۲۶/ ۲۲۷)
Flag Counter