لوضاع لی عقال بعیر لوجدتہ فی کتاب اﷲ ذکرہ ابن ابی الفضل المرسی نقل عنہ فی الاتقان ۱؎۔
اگر میرے اونٹ کی رسی گم ہوجائے تو قرآن عظیم میں اسے پالوں (ابن ابی الفضل مرسی نےاسے ذکر فرمایا الاتقان میں ان سے نقل کیا گیا۔ (ت)
(۱؎ الاتقان فی علوم القرآن النوع الخامس والستون مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۲۶)
امیرالمومنین علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
لوشئت لاوقرت من تفسیر الفاتحۃ سبیعن بعیرا ۲؎۔
میں چاہوں تو سورہ فاتحۃ کی تفسیر سے ستر اونٹ بھروادوں۔
(۲؎الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۸۶)
ایک اونٹ کَے من بوجھ اٹھاتا ہے اور ہر من میں کَے ہزار اجزاء حساب سے تقریبا پچیس لاکھ جزآتے ہیں۔ یہ فقط سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے پھر باقی کلام عظیم کی کیا گنتی۔ پھریہ علم علم علی ہے۔ اس کے بعد علم عمر، اس کے بعد علم صدیق کی باری ہے ''ذھب عمر بہ تسعۃ اعشار العلم'' عمر علم کے نوحصے لے گئے۔ کان ابوبکر اعلمنا ہم سب میں زیادہ علم ابوبکر کو تھا پھر علم نبی تو علم نبی ہے۔ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غرض قرآن عظیم وفرقان کریم میں سب کچھ ہے جسے جتنا علم اتنی ہی فہم، جس قدر فہم اسی قدر علم۔
ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں مگر انھیں صرف علم والے ہی سمجھ سکتے ہیں (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲۹/ ۴۳)
کہاوتیں ارشاد تو سب کے لئے ہوئی ہیں پر ان کی سمجھ انھیں کو ہے جو علم والے ہیں۔ پھر علم کے مدارج بے حد متفاوت
وفوق کل ذی علم علیم ۴؎
( ہر علم والے کے او پر ایک علم والا ہے۔ ت)
(۴؎القرآن الکریم ۱۲/ ۷۶)
عالم ا مکان میں نہایت نہایات حضور سید الکائنات علیہ وعلی آلہ افضل الصلوٰۃ والسلام والتحیات۔
ولہذا ارشاد ہوا:
اناانزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اﷲ ۵؎۔
ہم نے آپ کی طرف سچی کتاب اتاری تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو کچھ آپ کو اللہ تعالٰی دکھا دیا ہے اس کی روشنی میں (ت)
(۵؎القرآن الکریم ۴/ ۱۰۵)
تو حضور کا جو کچھ حکم جو کچھ رائے جو کچھ طریقہ جو کچھ ارشاد ہے سب قرآن عظیم سے ہے
ان الی ربک المنتہی ۱؎
(یقینا تمھارے پروردگار کی طرف ہی ہر کام کی انتہاء ہے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵۳/ ۴۲)
سب قرآن عظیم میں ہے
ان ھو الا وحی یوحی ۲؎
(وہ تو صرف وحی ہے جو ان پر کی گئی ۔ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۵۱/ ۴)
مگر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے علم تام وشامل سے جانا کہ آخر زمانہ میں کچھ بددین مکار بدلگام فاجر ایسے آنے والے ہیں کہ ہمارا جو حکم اپنی اندھی آنکھوں سے بظاہر قرآن میں نہ پائیں گے منکر ہوجائیں گے۔
بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولما یأتھم تاویلہ کذٰلک کذب الذین من قبلھم فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین ۳؎۔
بلکہ انھوں نے اس کو جھٹلایا جس کو بذریعہ علم وہ احاطہ نہ کرسکے حالانکہ ابھی ان کے پاس اس کی کوئی تاویل نہیں آتی تھی۔ یونہی ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا پھر، دیکھو ظالموں کا کیسا (عبرتناک) انجام ہوا۔ (ت)
(۳؎القرآن الکریم ۱۰/ ۳۹)
لہذا حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرمایا:
الاانی اوتیت القراٰن ومثلہ معہ الا یشک رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القراٰن فما وجد تم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجدتم فیہ من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اﷲ کما حرم اﷲ رواہ الائمۃ احمد والدرامی ۴؎ وابوداؤد والترمذی و ابن ماجۃ بالفاظ متقاربۃ عن المقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
سن لو مجھے قرآن عطا ہوا اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل۔ خبردار نزدیک ہے کہ کوئی پیٹ بھرا اپنے تحت پرپڑا کہے یہی قرآن لئے رہو اس میں جوحلال پاؤ اسے حلال جانو جو حرام پاؤ اسے حرام جانو، حالانکہ جو چیز رسول اللہ نے حرام کی وہ اسی کی مثل ہے جو اللہ نے حرام فرمائی۔ (ائمہ کرام مثلا امام احمد، دارمی، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے تقریبا ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ ت)
(۴؎ جامع الترمذی ابواب العلم ۲/ ۹۱ وسنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب لزوم السنۃ ۲/ ۲۷۶)
(مسند احمد بن حنبل عن المقدام ۴/ ۱۳۱ وسنن ابن ماجہ مقدمۃ الکتاب ص۳)
(سنن الدارمی باب السنۃ قاضیۃ علی کتاب اﷲ دارالمحاسن القاہرہ ۱/ ۱۱۷)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لاالفین احدکم متکئا علی اریکتہ یاتیہ الامر مما امرت بہ اونھیت عنہ فیقول لاادری ماوجدنا فی کتاب اﷲ اتبعناہ۔ رواہ احمد ۱؎ وابوداؤد والترمذی و ابن ماجۃ والبیھقی فی الدلائل عن ابی رافع رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
خبردار! میں نہ پاؤں تم میں کسی کو اپنے تخت پر تکیہ لگائے کہ میرے حکم سے کوئی حکم اس کے پاس آئے جس کا میں نے امر فرمایا یا اس سے نہی فرمائی ہو، تو کہنے لگے میں نہیں جانتا ہم تو جو کچھ قرآن میں پائیں گے اسی کی پیروی کریں گے۔ (امام احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اس کو حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب العلم ۲/ ۹۱ و سنن ابی داؤد کتاب السنۃ ۲/ ۲۷۹ وسنن ابن ماجہ مقدمۃ الکتاب ص۳)
اور ایک حدیث میں ہے حضور والا صلوٰۃ اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ نے فرمایا:
ایحسب احدکم متکئا علی اریکتہ قدیظن ان اﷲ لم یحرم شیئا الا مافی ھذا القراٰن الا وانی واﷲ قدامرت ووعظت ونھیت عن اشیاء انھا لمثل القراٰن اواکثر، رواہ ابوداؤد۲؎ عن العرباض بن ساریۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
کیا تم میں سے کوئی اپنے تخت پر تکیہ لگائے گمان کرتا ہے کہ اللہ نے بس یہی چیزیں حرام کی ہیں جو قرآن میں لکھی ہیں سن لو خدا کی قسم میں نے حکم دئے اور نصیحتیں فرمائیں اور بہت چیزوں سے منع فرمایا کہ وہ قرآن کی حرام فرمائی اشیاء کے برابر بلکہ بیشتر ہیں (امام ابوداؤد نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا۔ ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الخراج والامارۃ باب التعشیر اہل الذمۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۷۶)
اس منکر کا داڑھی بڑھانے کے حکم کو کہنا قرآن میں کہیں نہیں اور اسی بناء پر احادیث صحیحہ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو یہ کہہ کر رد کردینا کہ داڑھی بڑھانا اخلاق میں ہوتا تو قرآن میں کیوں نہ آتا وہی پیٹ بھرے بے فکرے بے نصیبے بے بہرے کی بات ہے جس کی پیشگوئی حضور عالم ماکان ومایکون فرما چکے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
سچ فرمایا رب جل وعلانے :
فلاوربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لایجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ۱؎۔
تمھارے پروردگار کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک وہ آپس کے جھگڑوں میں تمھیں حاکم تسلیم نہ کرلیں۔ پھر تمھارے فیصلہ سے اپنے دلوں میں ذرا سی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ اسے دل وجان سے بغیر کسی کھٹک کے مان لیں۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۶۵)
قرآن عظیم قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اے نبی ! جب تک تیری باتیں دل سے نہ مان لیں ہرگز مسلمان نہ ہوں گے طوطے کی طرح زبان سے لاکھ کلمہ رٹے جائیں کیا ہوتاہے۔
تنبیہ دوم: مسلمانو! یہ گمراہ قوم جن کی پیشگوئی احادیث مذکورہ میں گزری صرف حدیثوں ہی کے منکر نہیں بلکہ حقیقۃً قرآن عظیم کو عیب لگانے والے اور دین متین کوناقص وناتمام بتانے والے ہیں حدیثیں تو یوں چھوڑ دیں کہ انبیاء صرف درستی اخلاق کے لئے آتے ہیں حدیثوں کی باتیں اخلاق سے ہوتیں۔ تو قرآن میں کیوں نہ آتیں ورنہ قرآن اخلاقی احکام سے خالی اور دین ناقص ٹھہرتا ہے۔ جب مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیثیں یوں بیکار گئیں پھر اور کسی کی بات کا کیا ذکر ۔
فبای حدیث بعدہ یومنون ۱؎
(پھر وہ اس کے بعد ( قرآن مجید کے بعد) اور کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ ت)