(۷) کمال سفاہت یہ کہ ایک سند کے سب راویوں کو جدا جدا شمار کرکے حکم لگادیا ان نودس رواۃ نے یوں روایت کی حالانکہ سلسلہ سند میں اگر یکے از دیگرے ہزار تک عدد رواۃ پہنچے تو وہ ایک ہی راوی کی روایت ہے اس میں تعدد نہیں ہوسکتا جب تک مرتبہ واحدہ میں متعدد رواۃ نہ ہوں ورنہ سند عالی سے نازل اشرف ہو خصوصا ان کے نزدیک جو کثرت رواۃ سے ترجیح مانتے ہیں حالانکہ یہ بالبداہۃ باطل، وہ تو خیر گزری کہ یہ شخص خود سلمہ تک کوئی سند متصل نہ رکھتا تھا ورنہ آپ سمیت کوئی تیس چالیس گن دیتا کہ اتنے راویوں نے اعفاء ذکر نہ کیا۔
(۸) کچھ پڑھا لکھا ہوتا تو اپنی ہی نقل کردہ عبارت دیکھتا کہ ابوداؤد نے
لم یذکر اعفاء اللحیۃ
(اس نے داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا۔ ت) بصیغہ واحد فرمایا ہے کہ اس راوی نے اعفاء لحیہ کاذکر نہ کیا یا
لم یذکروا بصیغہ جمع ظاہرا
اپنی نقل میں جو
لم یذکر وااعتقاء اللحیۃ
واقع ہوا اور واؤ طفہ کو واو جمع سمجھا اور سابق ولاحق کے تمام صیغ مفردہ
ذکر زاد قال لم یذکر
سے آنکھیں بند کرکے صاف
''لم یذکروا''
بنالیا کہ تمام رجال سند کو شامل ہو۔
(۹) لطیف تر یہ کہ ان سب رواۃ نے یہ روایت کی کہ آنحضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس حدیث میں داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا بے علم بے چارہ ''قولھم'' کے معنی بھی نہیں جانتا اور ناحق وناروا آثار موقوفہ ومقطوعہ کہ قول رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ٹھہرائے دیتا ہے۔ ابن عباس صحابی ہیں اور مجاہد وبکر وطلق تابعین یہ آثار خود انھیں حضرات کے اپنے قول ہیں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وسلم کے ارشاد۔
تنبیہ: طلق سے ان کا قول بھی دونوں طرح مروی۔ نسائی ۱ نے بسند صحیح ان سے دس کامل روایت کیں جن میں توفیر اللحیہ موجود۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الزینۃ باب من السنن الفطرۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۲۷۴)
(۱۰) لطف برلطف یہ کہ ان سب نے اس کی جگہ مانگ روایت کی۔ اللہ اللہ اتنا بے ادراک اور ایسا بیبیاک ، ذرا کسی ذی علم سے عبارت ابی داؤد کا ترجمہ کراکر دیکھئے کہ وہ مانگ کا ذکرصرف اثرابن عباس میں بتاتے ہیں یا ان سب کی روایت یہی ٹھہراتے ہیں۔ بے علم کے نزدیک گویا عدم ذکر اعفاء لحیہ کے معنی ہی یہ ٹھہرے ہیں کہ اس کی جگہ مانگ کا ذکر کیا۔
(۱۱) جب جہالت کی یہ حالت تو اس کی کیا شکایت کہ اپنے اس زعم باطل میں فرق واعفاء کا ذکر وشمار میں تبادل سمجھ کر دونوں کا حکم یکساں ٹھہرادیا۔ ایسا ہوتا بھی تو اس کاحاصل صرف اتنا نکلتا کہ جس بات کا یہاں تذکرہ ہے یعنی خصال فطرت سے ہونا، اس میں دونوں شریک ہیں نہ یہ کہ سب احکام میں یکساں ہیں۔
واللفظ للخطیب ھذا الخصال منھا ماھو واجب کالختان وما ھومندوب ولا مانع من اقتران الواجب بغیرہ کما قال تعالٰی
کلوا من ثمرہ اذا اثمر واتواحقہ یوم حصادہ فایتاء الحق واجب والاکل مباح ۲؎۔
الفاظ خطیب بغدادی کے ہیں ان خصائل میں سے بعض واجب ہیں جیسے ختنہ، اور بعض مستحب ہیں، اور کسی واجب کو دوسرے کے ساتھ جوڑنے اور ملانے میں کوئی مانع نہیں جیسا کہ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: کھاؤ ان کا پھل جب وہ پھل لائیں اور کٹائی کے دن ان کا حق ادا کرو (یہاں آیت میں ) حق ادا کرنا واجب ہے جبکہ کھانا مباح ہے (یہاں واجب ، غیر واجب دونوں کا یکجا ذکر ہوا) ۔ (ت)
(۲؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب دارالکتاب العربی بیروت ۸/ ۴۶۲)
(۱۲) پھر چالاکی یہ کہ اس کے متصل جوا مام ابوداؤد نے دوسری حدیث مرفوع حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم او ر ایک اثر امام ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ذکر کیا کہ ان میں بھی داڑھی بڑھانے کو شمار فرمایا: ناقل عاقل اسے اڑا گیا۔
عبارت سنن یہ ہے:
وفی حدیث محمد بن عبداﷲ بن ابی مریم عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی تعالٰی علیہ وسلم واعفاء اللحیۃ عن ابراھیم النخعی نحوہ وذکر اعفا اللحیۃ والختان ۱؎۔
محمد بن عبداﷲ بن ابن مریم کی حدیث میں بواسطہ ابو سلمہ حضرت ابوہرہرہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمائی اور داڑھی بڑھانا، ابراہیم نخعی سے اسی طرح کی روایت ہے ، انھوں نے داڑھی بڑھانا اور ختنہ کرنا دونوں کاذکر فرمایا۔ (ت)
(۱؎سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواک من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸)
(۱۳) کمال جہالت دیکھئے کہ اپنے مقام اجتہاد سے تنزل کرکے داڑھی بڑھانے کو فرض منڈانے کو حرام تسلیم کرتا اور اس تسلیم کی تقدیر پرامراباحت کے لئے ہونے سے جواب دیتا ہے بے عقل سے کون کہے کہ جب حرمت تسلیم پھراباحت کہاں۔
(۱۴، ۱۵، ۱۶) اللہ عزوجل کے پاک مبارک رسولوں سے استہزاء انھیں بے اعتدالی کا مرتکب بتانا شرع مطہر کو بے اعتدالیوں کا پسند کرنے والا ٹھہرانا، موسٰی کلیم اللہ وہارون نبی اللہ علیہما الصلوٰۃ والسلام کی نسبت وہ ملعون الفاظ کہ دشمن نے بڑھی داڑھی، الخ۔ ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ریش مطہر بڑی ہونا قرآن عظیم سے ثابت جان کر پھروہ ناپاک ملعون شعر دو تین بال پر اعتدال بند اور شریعت وانبیاء کو بڑھانا پسند، ان باتوں کا جواب کفر ستان ہند میں کیا ہوسکتاہے۔ مگر صبح قیامت قریب ہے۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منلقب ینقلبون ۲؎۔ قال اباﷲ وایتہ ورسولہ کنتم تستھزؤن ۳؎ والذین یؤذون رسول اﷲ لھم عذاب عظیم ۴؎۔
عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹ جایا کرتے تھے یا انھیں کس کروٹ پر پلٹنا ہوگا۔ فرمادیجئے کیا اللہ تعالٰی اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ ہنسی مزاح کرتے ہو اور جو لوگ اللہ تعالٰی کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)(۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۶۵)(۴؎القرآن الکریم ۹/ ۶۱)
جب جہل و جہالت وشیوہ جاہلیت وبقیدی وجرأت کی یہ نوبت تو کلام وخطاب کا کیا محل اور حق کے حضور گردن جھکانے کی کیا امل مگرقرآن عظیم نے جہاں اعراض کاحکم بتایا
فاصدع بما تؤمر ۵؎
(کھول کر بیان کردو جیسا کہ تم کوحکم دیا جاتا ہے۔ ت)
لتبیننہ للناس ۶؎
(لوگوں کے لئے واضح طور پر) بیان کردو، ت) بھی ارشاد فرمایا،
(۵؎القرآن الکریم ۱۵/ ۹۴) (۶؎القرآن الکریم ۳/ ۱۸۷)
لہذا ایضاح حق وازاحت باطل واستیصال شبہات و استحصال دلائل کے لئے یہ چند تنبیہیں مکتوب او رمسلمانوں کے حق میں حضرت حق سے حق پر استقامت مطلوب،
و ماتوفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب،
(مجھے توفیق نہیں ہوسکتی سوائے اللہ تعالٰی کے فضل وکرم کے، اور میرا اسی پر بھروسا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتاہوں ۔ ت)
تنبیہ اول: مسلمانو ! تمھارے رسول کریم سید عالم عالم اعلم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو رب عزوجل نے علم اولین وآخرین عطا فرمایا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پرقرآن عظیم اتارا تبیانا لکل شیئ ہر چیز کا روشن بیان
تفصیل کل شیئ
ہر شیئ کی کا مل شرح،
مافرطنا(عہ) فی الکتب من شیئ ۳؎
ہم نے کتاب میں کچھ اٹھانہ رکھا۔ اس میں تمام احکام جزئیہ تفصیلیہ ہی نہیں بلکہ ازلا ابدا جمیع کوائن وحوادث بالاستیعاب موجود ہیں ،
عہ: ذکرالامام السیوطی ھذہ الایۃ فی النوع الخامس والستین من کتابہ الاتقان مفید ان المراد بالکتاب القراٰن ۱۲۔
امام سیوطی نے اپنی مشہور تفسیر الاتقان فی علوم القراٰن کی پینسٹھویں نوع میں اس آیت کریمہ کاذکر فرمایا ہے اور یہ فائدہ بیان فرمایا کہ (یہاں) آیت میں کتاب سے قرآن مجید مرادہے۔ ۱۲ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۸۹)(۲؎ القرآن الکریم ۱۲/ ۱۱۱)(۳؎ القرآن الکریم ۶/ ۳۸)
امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ سے مروی کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب اﷲ فیہ نبأ ماقبلکم وخبر مابعد کم وحکم مابینکم رواہ الترمذی ۴؎۔
قرآن اس میں خبر ہے ہر اس چیز کی جو تم سے پہلے ہے اور ہر اس شے کی جو تمھارے بعد ہے اور حکم ہے ہر اس امر کا جو تمھارے درمیان ہے۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا۔ ت)
(۴؎ جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۱۲/ ۱۱۴)