Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
125 - 146
ولید پلید جس کی علمی لیاقت پرماشاء اللہ خود اسی تحریر کا ایک ایک فقرہ گواہ:

(۱) خاک برسر مضامین الفاط تک ٹھیک نہیں نثر، نثرہ نثار نظم نظم پردیں۔

(۲) عبارت ماثبت ترکہ ترجمہ جس کی حرمت۔

(۳) اصل عبارت خود مضر مقصود کہ ترک حلق یقینا قطعا متواتر بلکہ ضروریات دین سے ہے۔

(۴) ترجمہ دیکھئے تو دور موجود کہ حرام کی حدمیں حرمت ماخوذ۔
 (۵) سنن ابی داؤد شریف سے نقل عجب مضحکہ خیز جہل وسفاہت ازروئے چالاکی کچھ براہ جہالت اصل حدیث حسن متصل مسند کہ نہ صرف سنن ابی داؤد بلکہ صحیح مسلم وسنن نسائی وجامع ترمذی وسنن ابن ماجہ ومسند احمدوغیرہا اجلہ کتب مشہورہ میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی کہ خود حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم فرماتے ہیں: دس چیزیں اصل فطرت و شرائع قدیمہ مستمرہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والتحیۃ سے ہیں از انجملہ لبیں کتروانی داڑھی بڑھانی یہ حدیث جلیل جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں تخریج فرمایا، امام ابوداؤد نے سکوت کیا، امام ترمذی  نے
ھذا حدیث حسن ۱؎
 (یہ حدیث حسن ہے۔ ت) کہا، اس کی وقعت چھپانے کو سند تو سند یہ بھی نقل نہ کیا کہ کس کی روایت ہے۔ (ام المومنین) کس کا ارشاد ہے (حضور افضل المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وعلیہا وسلم) دوسری حدیث کہ خود نفس اسناد میں امام ابوداؤد نے اس کی سند میں ارسال یا انقطاع کاپتا بتاد یا تھا تابعی تک رکھتے ہیں تو مرسل ہوتی ہے۔ صحابی تک پہنچاتے ہیں تو منقطع ہوئی جاتی ہے۔ ناقل عاقل ابتداء سے اس کی سند نقل کرلایا۔ جب اس پر آیا صاف قطع کرکے الی اخرہ پر دہ چھپایا حالانکہ اہل علم کے نزدیک اسی قدر نقل اس کا حال جاننے کو بس تھی ارسال وانقطاع سے قطع نظر کیجئے خود سند مین سلمہ بن محمد مجہول اور علی بن جدعان شیعی ضعیف واقع،
 (۲؎ صحیح مسلم             کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۲۹)

(سنن ابی داؤد         باب السواک من الفطرۃ     آفتاب عالم پریس لاہور        ۱/ ۸)

(جامع الترمذی ابواب الادب     باب ماجاء فی تقلیم الاظفار         امین کمپنی کراچی    ۲/ ۱۰۰)
اصل عبارت سنن ابی داؤد یوں ہے:
حدثنا موسٰی بن اسمعیل وداؤد بن شبیب قالاحدثنا حماد عن علی بن زید(عہ۱)۔ عن سلمۃ(عہ۲) عن محمد بن عمار بن یاسر قال موسٰی عن ابیہ(عہ۳ ) وقال داؤد عن عمار بن یاسر (عہ۴) رضی اﷲ تعالٰی عنہما ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان من الفطرۃ المضمضہ والا ستنشاق فذکر نحوہ ولم یذکر اعفاء اللحیۃ زادوا الختان ۱؎ الخ۔
موسٰی بن اسمعیل اور داؤد بن شبیب نے ہم سے بیان کیا دونوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، اس نے علی بن زید، اس نے سلمہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے روایت کی، موسی نے کہا(عن ابیہ )یعنی اس نے اپنے باپ سے اسے روایت کیا ۔ داؤد نے کہا عن عمار بن یاسر یعنی اس نے عمار بن یاسر سے روایت کی (اللہ تعالٰی ان سب سے راضی ہو) حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امور فطرت میں سے ہیں: کلی کرنا۔ ناک میں پانی ڈالنا، پھر اس طرح حدیث بیان کی اور داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا اور ختنہ کرنے کااضافہ فرمایاالخ (ت)
عہ۱:  ضعیف من الرابعۃ ۱۲    (تقریب التہذیب ترجمہ ۴۷۵۰ علی بن زید     بیروت  ۱/ ۶۹۴)

عہ۲:  مجھول من الخامسۃ ۱۲  (تقریب التہذیب ترجمہ ۲۵۱۷ سلمہ بن محمد        بیروت ۱/ ۳۷۹)

عہ۳:  مقبول من الثالثۃ ۱۲ (تقریب التہذیب ترجمہ ۷۰۴۱ موسٰی بن ابی موسٰی       بیروت ۲/ ۲۲۹)

عہ۴:  روایتہ عن جدہ مرسلہ ۱۲ میزان۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب السواک من الفطرۃ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۸)
(۶) پھر اس حدیث کو اس کے مخالف سمجھنا کیسی جہالت بیمزہ اس میں تو خود من تبعیضیہ موجود ہے کہ فرمایا خصال فطرت سے بعض چیزیں یہ ہیں خود معلوم ہواکہ بعض اور بھی ہیں۔ تو داڑھی بڑھانےکا اس میں ذکر نہ آنا حدیث ام المومنین کا کب مخالف ہوسکتا ہے اور یہ تو جاہلوں سے کیا کہا جائے اہل علم جانتے ہیں کہ ایسی جگہ عدد میں بھی حصر مقصود نہیں ہوتا بلکہ اعانت ضبط وحفظ کے لئے صرف مذکورات کا شمار کرنا، ولہذا ہم اس حدیث دوم کی زیادات یعنی ختان وانتضاح کو بھی خصال فطرت سے مانتے ہیں اور حدیث اول کو بآنکہ اس میں عدد مذکور ہے اس کا نافی نہیں جانتے عشر من الفطرۃ (دس کام فطرت میں سے ہیں۔ ت) نہیں الفطرۃ عشر ( فطرتی کام دس ہیں۔ ت) ہوتا جب بھی زیادہ کے منافی نہ تھا ولہذا ابوبکر ابن العربی نے شرح ترمذی میں خصال فطرت کا عدد تیس تک پہنچایا،
اتحاف السادۃ المتقین میں ہے:
مفہوم العدد لیس بحجۃ لانہ اقتصر فی حدیث ابی ھریرۃ علی خمس وفی حدیث ابن عمر علی ثلث وفی حدیث عائشۃ علی عشر مع ورود غیر ھا وقد تقدم انھا الثلثۃ عشر واوصلھا ابوبکر بن العربی الی ثلثین ۱؎۔
عدد کا مفہوم حجت نہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں صرف پانچ کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث میں تین پر اور ام المومنین سیدہ عائشہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) کی حدیث میں دس کا ذکر ہے حالانکہ ان کے علاوہ بھی امور وارد ہوئے ہیں (لہذا اگر مفہوم عدد حجت ہوتا تو ایسانہ ہوتا ۔ مترجم) اور اس سے قبل ذکر ہوا کہ امور فطرت تیرہ ہیں۔ علامہ ابوبکر ابن عربی نے انھیں تیس تک پہنچایا ہے۔ (ت)
 (۱؎ اتحاف السادۃ المتقین     کتاب اسرار الطہارۃ فصل فی اللحیۃ عشرالی آخرہٖ     دارالفکر بیروت    ۲/ ۴۲۹)
فتاوٰی فقیر کے مجلد رابع میں مسئلہ بوجوہ افضیلت حضور سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور تفصیل بازغ دیکھنی ہو تو فقیر کا رسالہ البحث الفاحص عن طرق احادیث الخصائص ملاحطہ کیجئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بھی فرمایا:
فضلت علی الانبیاء بست، مسلم۲؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
میں چھ باتوں میں تمام انبیاء پر فضیلت دیا گیا۔ (مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
 (۲؎ صحیح مسلم         کتاب المساجد         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۹۹)
کہیں فرمایا:
اعطیت خمسا لم یعطھن احد من قبلی۔ الشیخان ۱؎ عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
مجھے پانچ چیزیں وہ عطاہوئیں کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں (امام بخاری ومسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب التمیم         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۸)
ایک حدیث میں ہے:
فضلت علی الانبیاء بخصلتین۔ البزار ۲؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
میں انبیاء پردوباتوں میں فضیلت دیا گیا۔ (بزار نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راویت کیا۔ ت)
 (صحیح مسلم     کتاب المساجد      قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۹۹)
دوسری میں ہے:
ان جبرئیل بشرنی بعشر لم یؤتھن نبی قبلی ۳؎۔ا بن ابی حاتم وعثمان الدارمی وابونعیم عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جبریل نے مجھے دس چیزوں کی بشارت دی کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں۔ (ابن ابی حاتم وعثمان الدارمی وابونعیم نے عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ البزار     کتاب النبوۃ باب عصمۃ من القرین     دارالکتاب بیروت    ۸/ ۲۲۵)
طرفہ یہ کہ ان سب احادیث نہ صرف عدد کہ معدود بھی مختلف ہیں کسی میں کچھ فضائل شمار کے گئے کسی میں کچھ کیا یہ حدیثیں معاذا للہ باہم متعارض سمجھی جائیں گی یا دو یا دس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی فضیلتیں منحصر، حاش ﷲ ان کے فضائل نامقصور اور خصائص نامحصور، بلکہ حقیقۃً ہر کمال ہر فضل ہر خوبی میں عموما اطلاقا انھیں تمام انبیاء مرسلین وخلق اﷲ اجمعین پر تفضیل تام وعام مطلق ہے کہ جو کسی کو ملا وہ سب انھیں سے ملا اور جو انھیں ملا وہ کسی کو نہ ملا ، ع
آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہا داری
 ( یارسول اللہ! جو جوخوبیاں تمام انبیاء کو دی گئیں وہ تمام تنہاآپ کو دے دی گئیں۔ ت)

بلکہ انصافا جو کسی کو ملا آخر کس سے ملا، کس کے ہاتھ سے ملا، کس کے طفیل سے ملا، کس کے پرتوسے ملا، 

سی اصل ہر فضل ومنبع ہر جود وسرا ایجادو تخم وجود سے۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
ع     فانما اتصلت من نورہ بھم
 (اس کے نور سے ہی یہ سب کچھ ان تک پہنچا ہے۔ ت)
؎     انمامثلو اصفاتک للناس     کما مثل النجوم الماء
 (تمھاری صفات لوگوں کے لئے منعکس ہوگئیں جیسے ستارے پانی میں منعکس ہوجاتے ہیں۔ ت) [ یعنی اصل صفات تو آپ کو بفضلہ تعالٰی عطا ہوئیں البتہ دیگر اہل فضل وکمال میں آپ کی صفات کا پرتو اورعکس ہے جیسا کہ پانی میں اس کے صاف وشفاف ہونے کی وجہ سے ستاروں کا عکس دکھائی دیتاہے۔ مترجم]

یہ تقریر فقیر نے اس لئے ذکر کی یہ حدیث خمس من الفطرۃ (پانچ کام فطرت سے ہیں۔ت) یا الفطرۃ خمس (فطرتی کام پانچ ہیں۔ ت) یا قول ابن عباس خمس کلھا فی الرأس (پانچ کام سب سر کے متعلق ہیں ۔ ت) دیکھ کر سفہا کو سودا نہ اچھلے۔
Flag Counter